پردیس میں ہمارے بچے

(Tanvir Sadiq, Lahore)
گاڑی بالکل نئی تھی۔ابھی اس کی سکرین پر لگے سٹکرز بھی نہیں اتارے گئے تھے۔یہ گاڑی میں نے کسی کمپنی کو فون کرکے منگوائی تھی۔ ڈرائیور سے چند لمحے پہلے موبائل پر بات ہوئی تھی ۔پاکستانی تھا۔ میں نے اپنے ہوٹل کا بتایا کہ اس کے گیٹ پر منتظر ہوں۔اگلے چند منٹوں میں وہ میرے پاس تھا۔ پتلا، دبلا، لمبا قد، میرے خیال میں اس کی عمر بیس (20)یا بائیس (22)سال کے لگ بھگ ہو گی۔میں اس کے ساتھ ہی اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔مجھے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانا تھا۔گاڑی چلی تو بات چیت شروع ہو گئی۔ وہ نوجوان پچھلے چھ ماہ سے پاکستان نہیں گیا تھا اسلئے پاکستان کے بارے بہت کچھ پوچھتا رہا ، کچھ میرے بارے بھی سوال کئے اور میں اس کے سوالات کا جواب دیتا رہا۔
ڈرائیورچپ ہوا تو میری باری آئی۔ میں نے پوچھا،بیٹا کب سے یہاں ہو۔
جی تقریباً پچھلے بارہ سال سے۔
کیا دس سال کی عمر میں یہاں آگئے تھے۔

ڈرائیور نے قہقہہ لگایا۔آپ کو میں بیس سال کا لگتا ہوں نا۔ بس سب مجھے پتلا دبلا دیکھ کر یہی سمجھتے ہیں۔ میں بیس سال کا تھا جب یہاں آیا تھا۔ میرے جسم کی ساخت میں پچھلے بارہ سال میں کوئی فرق نہیں آیا۔ میں شادی شدہ ہوں تین بچے ہیں۔دو بیٹے اور ان سے چھوٹی ایک بیٹی ہے جس کی عمر ڈیڑھ سال ہے۔ میں انٹرنیٹ کے ذریعے روز اس سے بات کرتا ہوں ۔ وہ بول نہیں سکتی مگر مجھے دیکھ کر غوں غوں کرکے اپنی خوشی کا بھرپور اظہار کرتی ہے۔ دوسرے بچے اور میری بیوی بھی بات کرتے ہیں مگر مجھے اپنی بیٹی سے بہت پیار ہے اور اس سے بات کرکے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔

ماں باپ حیات ہیں، میں نے پوچھا۔

الحمدﷲ، دونوں حیات ہیں۔ میرے دادا ، جن کی عمر اس وقت ایک سو دس سال کے لگ بھگ ہے وہ بھی بہت تندرست اور توانا ہیں۔ میں نے ایک فارم بنایا ہوا ہے ۔ بہت سی گائے اور بھینسیں ہیں۔ میرے والد اور میرے دادا دونوں سارا دن فارم پر گزارتے ہیں۔ گائے اور بھینسوں کی دیکھ بھال کے علاوہ جو زرعی رقبہ میں نے خریدا ہے اس پر کاشت بھی کرتے ہیں۔ اپنے کھیت اور اپنے ڈنگرہمارے علاقے میں بڑے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے مزدوروں کی زندگی گزاری ہے مگر اب وہ زمیندار ہیں جو ہمارے لئے بڑی بات ہے۔ میرے والدبھی استاد تھے مگر آپ کی طرح یونیورسٹی کے نہیں، ایک پرائمری سکول کے معمولی ٹیچر تھے۔ بڑے نامساعد حالات میں انہوں نے ہمیں پڑھایا۔ایک وقت تھا وہ گھر میں بھینس رکھنا چاہتے تھے مگر وسائل نہ تھے۔معمولی تنخواہ تھی جس سے ہم گھر کے سب مکینوں کے پیٹ کی آگ بمشکل بجھتی تھی پھر بھی ان کی خواہش تھی کہ میں مزید پڑھوں مگر میں ان پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔ ان کی مرضی کے خلاف میں کسی طرح یہاں آگیا۔میں نے بہت محنت کی۔پندرہ سے بیس گھنٹے بھی گاڑی چلائی اور آج میرے پاس اپنی چارگاڑیاں ہیں۔ نئی گاڑی میں خود چلاتا ہوں اورباقی گاڑیوں کے لئے ڈرائیور ہیں۔بڑا معقول کام ہے اور میں خوش ہوں۔ مجھے اپنے والد سے سب سے زیادہ پیار ہے۔ میں نے بچپن میں محسوس کیا کہ والد صاحب ہماری خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام خواہشات قربان کر دیا کرتے تھے۔ میں نے اپنی یادوں میں جو کچھ محفوظ تھا اس کے مطابق والد صاحب کو ہر چیز لے کر دی ہے۔یہاں میں سب سے زیادہ اپنے والد کی کمی محسوس کرتا ہوں۔ میں انہیں یاد کرکے کبھی کبھی رو پڑتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔ اس نے تیزی سے آنکھوں کو صاف کیااور کہنے لگا۔کبھی مجھے میرے والد اس شدت سے یاد آتے ہیں کہ میں سب کام چھوڑ کر دو تین دن کے لئے پاکستان ان سے ملنے چلا جاتا ہوں۔ ان کا دو تین دن کا پیار اور شفقت مجھے ایک نیا ولولہ، اک نئی امنگ دیتے ہیں اور میں واپس آکر کچھ ماہ بہت مطمن گزار لیتا ہوں ۔

اس کے بعد وہ حکومت پاکستان کے بارے گلے شکوے کرنے لگا اس کے خیال میں حکومت اپنے شہریوں سے زر مبادلہ حاصل کرنے میں تو بہت دلچسپی لیتی ہے مگر ہماری حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دیتی۔ سعودیہ میں پاکستانیوں سے کہیں بھی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ معمولی باتوں پر سپاہی جیل بھیج دیتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ میڈیا میں کوئی بات آ جائے تو جاگ اٹھتے ہیں۔ وگرنہ ہماری ایمبیسی کے لوگوں کو عام لوگوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کاش ہمارے ملکی حالات اس قابل ہو جائیں کہ ہمیں اپنے پیاروں سے کبھی بچھڑنا نہ پڑے۔ آپ سوچ ہی نہیں سکتے کہ پردیس میں اپنے پیاروں کی یاد کس قدر تکلیف دہ ہوتی ہے۔
 
اس وقت کل پچاسی (85) لاکھ سے زیادہ پاکستانی دوسرے ممالک میں کام کر رہے ہیں جن میں 22 لاکھ سعودی عرب اور 13 لاکھ متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں۔ سال 2014-15 میں انہوں نے 18.4 بلین روپے زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان بھیجے۔ اس زرمبادلہ میں ہر سال 16 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ہم دعوے کرتے ہیں کہ ان ممالک سے ہمارے تعلقات بھائی چارے پر مبنی ہیں۔ حکمرانوں کی حد تو یہ بات ضرور ٹھیک ہے مگر عام لوگوں کی حد تک صورتحال انتہائی خراب ہے۔ہمارے شہری وہاں تیسرے درجے کے شہریوں کی طرح گزارتے ہیں۔ ان حالات میں بہتری کے لئے حکومت اور ہمارے سفارتی عملے کو متحرک ہونا ہو گا۔اپنے شہریوں کو تحفظ اور ان کے معاملات میں پوری دلچسپی سے ہی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 436 Articles with 219859 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
15 Feb, 2017 Views: 474

Comments

آپ کی رائے