دوسری رائے

(Tanvir Sadiq, Lahore)
سیانے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے دو یا تین رائے لینی بہت ضروری ہوتی ہے۔مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی میں نے اس اصول سے انحراف کیا، مجھے نقصان ہی ہوا۔ پچھلے ہفتے میری گاڑی میں کچھ خرابی تھی۔ گاڑ ی جب آہستہ چلتی تو جانے کیوں اس طرح کانپتی جیسے رقص کر رہی ہو۔میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ٹھوری سی مشقت کے نتیجے میں ہاتھ پا ؤں کانپنے لگتے ہیں مگر یہ نئی گاڑی مجھے بھی مات کر رہی تھی۔ اتفاق سے ایسی جگہ سے گزرا جہاں بہت سی آٹو ورکشاپس تھیں۔ انہی ورکشاپس کے درمیان میرے ایک جاننے والے کی سپیئر پارٹس کی دکان ہے۔میں اس دکان پر رک گیا۔ دکاندار بڑے تپاک سے ملا۔ میں نے پوچھاکہ بھائی کوئی اچھا ورکشاپ والا جو بتائے کہ میری گاڑی مجھے جھولے کیوں دے رہی ہے اور اس نقص کو دور بھی کر دے۔

وہ صاحب فوراً کھڑے ہو گئے۔ سینے پر ہاتھ رکھا، تھوڑا جھکے اور کہا ، آپ کا حکم ، ابھی بلا کر لاتا ہوں۔ دو منٹ کے بعد بمع ایک مستری کے واپس تشریف لائے اور گاڑی کے پاس کھڑے ہو کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بتایا کہ یہ میرے عزیز ہیں جن کی یہ گاڑی ہے۔ گاڑی کو نیچے سے چیک کروکہ کیا نقص ہے اور یہ کیوں کانپتی ہے۔پھر مجھے پوچھنے لگے کہ مستری صاحب چلا کر دیکھیں گے۔ ان کے ساتھ آپ جائیں گے کہ میں چلا جاؤں۔ میں نان ٹیکنیکل آدمی مجھے کیا پتہ چلنا تھا۔ میں نے کہا ،آپ چلیں جائیں۔ انہوں نے گاڑی میں مستری کے ساتھ ایک چکر لگایا۔ آتے ہی بڑے اداس لہجے میں گویا ہوئے ۔کمال ہے ، آپ نے پرواہ ہی نہیں کی اور بچوں نے گاڑی اس بری طرح چلائی ہے کہ تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ میں نے کہا۔ یہ گاڑی بچوں ہی کی ہے میں تو ریٹائرڈ آدمی ہوں گاڑی کی ضرورت جب بھی ہوجو میسر ہو لے آتا ہوں اور تم جنہیں بچے سمجھتے ہو وہ اب بچے نہیں بلکہ بچوں والے ہیں۔یہ بتاؤ کہ اتنی بڑی خرابی کیا ہو گئی ہے۔

جواب میں مستری صاحب تیزی سے بتانے لگے ، گوڈے خرا ب ہیں، بش لگیں گے، بوٹ پھٹ گئے ہیں۔ پلیٹیں نئی ڈالنی ہوں گی اور پتہ نہیں کیا کیا اس نے بتایا۔اور خوشخبری سنائی کہ کچھ زیادہ نہیں فقط دس بارہ ہزار میں بالکل نئی جیسی ہو جائے گی۔

میں نے پہلی ذاتی گاڑی اسی(80) کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں خریدی تھی اور ہر چار پانچ سال بعد پرانی بدل لیتا ہوں۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ یہ ہزار سی سی سے بڑی جاپانی گاڑیاں ڈیڑھ دو لاکھ کلومیٹر تک کسی بڑی خرابی کا شکار نہیں ہوتیں۔میری پندرہ سو سی سی کی نئی گاڑی جو فقط پنتیس ہزار کلو میٹر چلی ہے۔ اتنے بے شمار مسائل کا شکار کیسے ہو گئے۔مجھے ان کی نیت کچھ ٹھیک نہ لگی۔میں وہاں سے جانے لگا مگرمیرے جاننے والے اور مستری دونوں،جو لگتا تھا ، جلدی میں تھے کہنے لگے کہ کام شروع کرا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ حضور ایک تو جیب میں آج دس بارہ ہزار نہیں۔ میرے جاننے والے نے پھر سینے پر ہاتھ رکھا، سر کو جھکایا اور بولا، سر پیسوں کی فکر کیوں، میں ہوں نا۔ میں نے کہا دوسری بات یہ ہے کہ آج وقت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے متبادل گاڑی کی پیشکش کر دی۔ میں نے بچاؤ کی خاطر نیا بہانہ تراشا کہ بچوں کے مشورے کے بغیر میں گاڑی نہیں دے سکتا۔وہ کہتے رہے کہ اس گاڑی کو چلانا خطرناک ہے آپ غلط کر رہے ہیں مگر میں کہ خطروں کا کھلاڑی، خود کو ان سے کسی طرح بچا لایا۔

میرے والد مرحوم ایک کہاوت سنایا کرتے تھے کہ کسی نے ایک دکاندار سے پوچھا، بھائی آج کیا نفع ہوا۔ دکاندار نے منہ لٹکا کر جواب دیا، آج کوئی گاہک ایسا نہیں آیا جو میرا پرانا واقف ہو اوراس واقفیت کی بنا پر مجھ پرپورا اعتبار کرتا ہواور نہ ہی کوئی ایسا گاہک آیا ہے کہ جو غیر ضروری بحث کرنے کی بجائے ہر چیز میرے ایمان پر چھوڑ دیتا،کیا نفع ملنا تھا۔مجھے لگتا ہے میرا جاننے والا دکاندار بھی ایسی ہی واردات ڈالنے کے موڈ میں تھا۔

راستے میں ایک ناواقف کی دوسری ورکشاپ پر رک کر اس سے رائے لی۔ اس نے گاڑی کو پورے ٹھوک بجا کر دیکھا اور کہاکہ میرے خیال میں گاڑی میں کوئی خرابی نہیں۔ البتہ ٹائر کچھ ٹیڑھے لگتے ہیں۔ہماری کمپنیاں جو ٹائر ڈالتی ہیں وہ پینتس(35)چالیس(40)ہزار سے زیادہ نہیں چلتے۔ آپ پہلے ٹائر بدل لیں پھر بھی کوئی مشکل ہو تو آ جائیں ، دیکھ لیں گے۔ مجھے بات معقول لگی۔

اب دو تین رائے جاننے کے لئے میں نے ٹائروں کی کئی دکانوں پر ٹائر چیک کرائے اور ان سے پتہ کیا کہ A کلاس ٹائروں میں سب سے سستے ٹائروں کا ریٹ کیا ہے۔ ہر ایک نے ٹائر ٹیڑھے قرار دئیے اورہر ایک A کلاس میں سب سے سستی برانڈ کا ریٹ چوبیس ہزار بتا رہا تھا۔ میں نے اپنے ایک رشتے میں بھانجے کو فون کیا کہ بیٹا تمھاری ٹائروں کی دکان ہے۔ فلاں ٹائرکتنے کے ہیں ۔ جواب ملا چوبیس ہزارکے۔آپ کو اپنے لئے ضرورت ہے تو میری خرید انیس ہزار ہے، لے لیں۔پانچ ہزار بہت زیادہ منافع ہے مگر یہ ان کی یونین کا متفقہ فیصلہ ہے، جسے ہر ایک کو ماننا ہے۔جونہ مانے اسے جرمانہ دینا پڑتا ہےْ۔ مگر یہ ہماری گھر کی بات تھی اسلئے برخوردار کی مہربانی۔ اس وقت وہ نئے ٹائرانیس ہزار میں میری گاڑی کا حصہ ہیں اور گاڑی شاندار چل رہی ہے۔ سوچتا ہوں میرے اس بھانجے کو ابھی دکانداری نہیں آئی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 437 Articles with 221084 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
17 Feb, 2017 Views: 294

Comments

آپ کی رائے