بِہار سے بَہار تک

(Shahid Raza, Karachi)
بِہارکالونی کراچی میں ایک پس ماندہ علاقہ ہے جہاں کے اکثر لوگ غریب اور خانہ بدوش ہیں ،یہ میں نہیں کہہ رہا میں نے ایسا سُنا تھا لیکن ایک دن اتفاق سے مجھ کو بِہار کالونی کسی اہم کام سے جانا پڑا وہاں کے لوگوں سے ملاقات ہوئی،تو مجھ کو وہ کہاوت یاد آئی:
’’ہیرا کوئلے کی کان سے نکلتا ہے‘‘یہ بہار کالونی لیاری کے نزدیک ہے ابھی آپ کو یاد ہو گا کے پاکستان کی فٹ بال ٹیم جس نے دنیا میں اپنا نام پیدا کیا اُس میں زیادہ تر لڑکے لیاری اور بِہار کے تھے،میں نے وہاں دیکھا کے بچے غریب ہیں لیکن اُن میں ایک خاصیت نظر آئی کے جو بچے مثال کے طور پر میٹرک میں ہیں وہ اپنے سے چھوٹے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ سُن کر حیرت ہوئی وہ فیس بھی لیتے ہیں ’’100 ‘‘
روپے۔میں نے سوچا کے اگر ہمارے ملک کا ہر پڑھا لکھا فرد اسی طرح تعلیم کو عام کرے تو یقیناً معاشرہ کتنا ترقی کر سکتا ہے ،ہم لوگوں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے بڑی بڑی فیسیں،بڑی بڑی ٹیوشن فیسیں،ماں باپ سُن کر گھبرا جاتے ہیں اگر ہم سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور تعلیم عام کریں تو یقیناً فرق آئے گا۔ہماری حکومت کی نظروں میں ڈیفنس اور کلفٹن آتا ہے ان علاقوں کی طرف بھی آنے کی زحمت کریں کیوں کے یہاں سے آپ کو’’ لعل و گوہر‘‘ ملیں گے،اچھا ایک خاص بات جو میں نے دیکھی یہاں کی لڑکیاں اکثر شرعی پردے میں نظر آئیں تو مجھ کو یاد آیا کے وہ افراد جن کو معاشرے والے’’Burger ‘‘ کہتے ہیں جن کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں،پیسہ ،عزت، دولت، شہرت، مقام، حیثیت، طاقت، سب کچھ ہے ،جہاں جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہننا لڑکیاں لازمی سمجھتی ہیں ،کیا اﷲ کی نگاہ میں ’’با پردہ اور بے پردہ‘‘ برابر ہیں،کیا اﷲ کی نگاہ میں عالم اور جاہل برابر ہیں ۔بِہار کالونی کے لڑکے اور لڑکیاں کھیل کے ساتھ ساتھ ’’علم لینے اور دینے‘‘ دونوں میں آگے آگے نظر آئے اور میں صرف بِہار کالونی اور لیاری کی بات نہیں کر رہا ایسے علاقے پورے پاکستان میں موجود ہیں ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں،کوئی غریب نہیں ہوتا کوئی امیر نہیں ہوتا،کوئی پوش علاقہ نہیں ہوتا کوئی پس ماندہ علاقہ نہیں ہوتا ،اﷲ کی نگاہ میں سب برابر ہیں اﷲ صرف انسان کے خلوص کو دیکھتا ہے جو جتنا خلوص والا ہو گا اُتنا ہی اﷲ اُس کو عطا کرے گا۔جو بھی دنیا میں محنت کرے گا انشاء اﷲ وہ ضرور کامیاب ہو گا اور اُس کے پڑھائے ہوئے بچے ملک و قوم کا نام ضرور روشن کریں گے۔

اس آرٹیکل کو لکھنے کا مقصد اپنی صوبائی و وفاقی حکومتوں سے درخواست کرنا ہے کے پاکستان کے ان علاقوں کی طرف بھی توجہ دیں یہ بھی ہمارے پاکستانی بھائی ہیں اگر ہماری حکومت یہ نہ کہے ’’یہ ہمارا ہے یہ تمہارا ہے‘‘ تو پھر آپ دیکھیں گے بِہار سے بَہار کیسے آتی ہے۔
اسے سمجھاؤ تو کوئی جا کر بَہار آتی ہے کچھ انتظار کے بعد
اس طرح پھولوں کا سودا نہیں کرتے خزاں کو دیکھ کر۔
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 332 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 113290 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: