کسی غیر کو لفٹ دینا صحیح یا غلط

(Shahid Raza, Karachi)
بے شک ہم سب مسلمان ہیں ہمارے دل اﷲ نے بہت نرم بنائے ہیں اگر کوئی ہم سے مدد مانگے تو دل چاہتا ہے کے اُس کی مدد کریں لیکن مددکب ،کہاں اور کیسے کرنی ہے اس کو سمجھنے کے لئے کل رات 15-2-2017 موسمیات چورنگی کے پاس کا ایک واقعہ ضرور پڑھ لیں:
’’کل رات میں موسمیات چورنگی کے پاس جانے کے لئے یونیورسٹی کے سامنے سے گذر رہا تھا کے میں نے دیکھا کے ایک 15 یا16 سال کا بچہ ڈرا ئیونگ سیٹ پر سے باہر آ گیا تھا اور کوئی دوسرا شخص گاڑی چلا رہا تھا،پھر میں نے دیکھا کے اُس ڈرائیور نے رکشہ اور گاڑیوں کے ساتھ سائنڈ مارنا شروع کر دی پھر ایک بائیک والے نے روکنا چاہا تو اُس کو بھی ٹکر ماری پھر آگے روڈ خراب تھی اُس نے اُس پر گاڑی چلا دی کے کسی طرح اُس بچے کو گرا دے اور ہائی روف لے کر بھاگ جائے لیکن سلام ہے اُس بچے پر جس نے آخری وقت تک گاڑی کو نہیں چھوڑا ،اﷲ کا کرنا ایسا ہوا کے آگے ایک بڑا کھڈا آ گیا اور گاڑی اُس میں جا کر رک گئی پھر لوگوں نے بچے کو دیکھا تو وہ بچہ لہو لہان تھا ،ہسپتال روانہ کیا پھر ہماری پاکستانی عوام نے کیا خوب پٹائی کی اُس بندے کی جو حقیقت میں دیکھنے کے لائق تھی اُس بچے سے پوچھا کے یہ ماجرا کیا ہے تو اُس نے بتایا کے میں گاڑی پر آ رہا تھا کے اس بندے نے ہاتھ دیا میں رک گیا کہنے لگا موسمیات تک مجھ کو چھوڑ دیں میں نے کہا بیٹھ جائیں پھر اُس نے اپنی کاروائی کی اور گاڑی چھیننے کی کوشش کی‘‘

اس واقعے سے ہمیں درس لینا چاہئے کے کبھی ہم بائیک پر ہوتے ہیں، کبھی گاڑی پر اور اکثر لوگ ہم سے لفٹ مانگ لیتے ہیں تو اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہئے ۔یہ بات اور ہے کے اگر کوئی مدد مانگے تو مدد کرنی چاہئے لیکن کہتے ہیں نا:
’’تالاب میں ایک مچھلی گندی ہو تو پورے تالاب کو گندا کرتی ہے‘‘

یہ ایک خاص گروپ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جب کوئی لڑکی کسی نوجوان سے لفٹ مانگتی ہے تو فوراً وہ خوشی خوشی لفٹ دیتا ہے پھر بعد میں موبائیل،پیسے اور بائیک وغیرہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ،میں نے اپنی زندگی میں یہ سمجھا ہے کے اگر کوئی لڑکا لفٹ مانگے تو نہ دو اور اگر کوئی لڑکی لفٹ مانگے تو بالکل نہ دو کیوں کے سو فیصد وہ آپ کو کنگال کر دے گی جانتے ہیں کیوں کیونکہ شریف لڑکی پیدل اپنے گھر چلی جائے گی لیکن کبھی کسی غیر سے لفٹ نہیں مانگے گی۔کسی کی مدد کرنا ثواب ہے لیکن ایسی مدد جس میں خطرہ ہو وہاں احتیاط کرنا لازمی ہے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 357 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 113561 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: