بےکار کی شرم ساری

(مقصود حسنی, قصور)
یہ ہی کوئی پچیس تیس سال پہلے کی بات ہے۔ یہاں اللہ بخشے مولوی دین محمد ہوا کرتے تھے۔ بڑے ہنس مکھ اور خوش طبع تھے۔ کھانے پینے کے معاملہ میں بڑے سادہ اور فراخ مزاج واقع ہوئے تھے۔ پہلے کتنا بھی کھا چکے ہوتے اس کے بعد بھی جو ملتا بسم اللہ کرکے ہڑپ جاتے۔ اس ذیل میں انکار نام کی چیز سے بھی ناآشنا تھے۔ اولاد بھی اللہ نے انہیں کافی سے زیادہ دے رکھی تھی۔

ان کی رن حد درجہ کی کپتی تھی۔ عزت افزائی کرتے آیا گیا بھی نہ دیکھتی تھی۔ گویا وہ مولوی صاحب کی لہہ پہا کے لیے موقع تلاشتی رہتی تھی۔ بعض اوقات بلاموقع بھی بہت کچھ منہ سے نکال جاتی تھی۔ انسان تھے چھوٹی موٹی غلطی ہو ہی جاتی بس پھر وہ شروع ہو جاتی۔ سب جانتے تھے کہ حد درجہ کی بولار ہے۔ ہاں اس کے بولارے سے مولوی صاحب کے بہت سے پوشیدہ راز ضرور کھل جاتے۔ مولوی صاحب نے کبھی اسے ذلیل کرنے کے لیے موقع کی تلاش نہ کی تھی۔ ہاں البتہ خود بچاؤ کی حالت میں ضرور رہتے تھے۔

انسان تھے آخر کب تک برداشت کرتے‘ انہوں نے بھی اسے ذلیل کرنے کی ٹھان لی۔ ایک مرتبہ ان کے گھر میں بہت سے مہمان آئے ہوئے تھے۔ کھرے میں دھونے والے کافی برتن پڑے ہوئے تھے‘ انہیں دھونے بیٹھ گئے اور ساتھ میں مولویانہ انداز میں آواز لگائی کہ کوئی اور برتن موجود ہو تو دے جاؤ۔ ان کی بیوی نے نوٹس لیا اور گرج دار آواز میں کہنے لگی کیوں ذلیل کرنے پر اتر آئے ہو پہلے تم دھوتے ہو۔ پھر اس نے زبردستی انہیں وہاں سے اٹھا دیا۔ مولوی نے اس کے ہارے ہارے سے طور کو خوب انجوائے کیا۔

کچھ ہی دنوں بعد ایک اور ایسا واقعہ پیش آیا۔ اندر پانچ سات عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں یہ کپڑے دھونے کے انداز میں بیٹھ گئے اور آواز لگائی کوئی اور دھونے والا کپڑا پڑا ہو تو دے جاؤ مجھے کہیں جانا ہے۔ کوئی رہ گیا تو مجھے نہ کہنا۔ مولویانی پر پہلے کی کیفیت طاری ہو گئی اور اس نے انہیں کھرے سے اٹھا دیا کہ کیوں ذلیل کرتے ہو۔

مولوی صاحب کا خیال تھا کہ ان کی رن عورتوں میں ذلیل ہو جائے گی اور سب اسے توئے توئے کریں گے لیکن معاملہ الٹ ہو گیا۔ عورتوں میں مشہور ہو گیا کہ مولوی صاحب کے پہلے کچھ نہیں رہا تب ہی تو اتنا تھلے لگ گیا ہے۔ پاگل تھیں کہ اگر مولوی صاحب کے پلے کچھ نہ ہوتا تو اتنے بچے کیسے ہو گئے۔ رشتہ داروں میں جاتے یا گلی سے گزرتے تو عورتٰیں انہیں دیکھ کر ہنستیں۔ وہ کیسے ان سب کو یقین دلاتے کہ وہ ٹھیک ہیں انہوں نے تو یہ سب ان کے ساتھ ہونی کا بدلا اتارنے کے لیے کیا تھا۔

اتنے خوش طبع مولوی صاحب سنجیدہ سے ہو گئے۔ اسی طرح لوگوں کے ہاں سے کھانے پینے کے مواقع بھی بےکار کی شرم ساری کی لحد میں اتر گئے۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کوئی کیا کرتا ہے اس کو مت دیکھو تم ہمیشہ اچھا کیا کرو کیوں کہ اچھا کرنے میں ہی خیر اور اچھائی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 117080 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 421

Comments

آپ کی رائے