دشُمنوں کے منصوبے مٹی میں ملا دیں گے

(Karamat Masih, Lahore)
فروری 2017ء میں پاکستان کی سر زمین ایک بار پھر لہولہو ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کا ہر شہری نہایت غم زدہ ہے ہر مذہب، ہر نسل اور ہر عمر کے لوگ حا لیہ دہشتگردی کی کاروائیوں سے صدمے کی حالت میں ہے کیونکہ یہ واقعات پے درپے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملکی فضاء سوگ وار ہے ابھی لاہور میں مال روڑ پر ہونے والے بم دھماکے کے درد کو نہیں بھولے تھے کہ کے پی کے میں دہشتگردی ہو گئی اور یکے بعد دیگرے سندھ میں سہون شریف مزار پر پھر چار سدہ میں اور اک بار پھر لاہور زیڈ بلاک ڈیفنس میں دہشتگردوں نے اپنی وحشیانہ کاروائی کر دی ابھی ہم گزشتہ دہشتگردی کے واقعات سے باہر نہیں نکلے تھے کہ ایک بار پھر ملک پر قیامت ٹوٹ گئی ابھی قوم اے پی ایس،گلشن پارک،یوحناآباد،مناواں،کوئٹہ میں زائرین پر حملہ اور کراچی میں دہشتگردی کے واقعات کے صدمات کو نہیں بھول پا رہی ہے کہ اوپر سے نئے زخم ملتے جارہے ہیں پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے کبھی وانا آپریشن کی صورت میں،کبھی شمالی اور جنوبی وزیرستان آپر یشن کی صورت میں اورکبھی آپریشن ضرب عضب کی صورت میں مگر یہ دہشتگردی ایسا نا سور ہے جوکہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔آخریہ کون لوگ ہیں جوکہ انسانیت کے بد ترین دشمن بن گئے ہیں ان کا مقصد کیا ہے؟ دراصل یہ پاکستان کے ا من کے دشمن ہیں، ان دشمنوں کو اک لمحے کیلئے بھی پاکستان کی امن و سلامتی اور خوشحالی برداشت نہیں ہوتی ہے اس لیے وہ ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ پاکستان کے سکون کو برباد کیا جائے اک عرصے کے بعد ملک پاکستان میں پی ایس ایل کو لے کرکرکٹ کی بحالی کیلئے فائنل میچ لاہور میں کروانے کا اعلان ہوا تو پاکستان کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر دشمن عناصر کو اک لمحہ کیلئے بھی پاکستانی عوام کی خوشی نہ برداشت ہو سکی اور ملک میں دہشتگردوں نے بزدلانا حملے کردیئے جسکی وجہ سے سینکڑوں معصوم لوگ شہیدہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے ان بزد لانا حملوں میں پولیس کے جوانوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران بھی شہید ہوئے مگر اس تحریر کی وساطت سے بیان کرتا چلوں کہ پاکستان کی تمام فورسز اور عوام باحوصلہ اور بہادر قوم ہے جو ہر طرح کے چیلنچز سے نمٹنا جانتی ہے اس میں چاہے زلزلے ہوں،سیلاب ہو یا پھر دہشتگردی ہو۔میرے خیال میں دہشتگرد انسان کے روپ میں بھیڑیئے ہیں جن کا نہ تو کوئی مذہب ہے اورنہ ہی دور دور تک انسانیت سے کوئی ناطہ ہے یہ درندہ صفت انسان ہیں جو نہتے معصوم لوگوں کے خون کو بہا رہے ہیںیہ ابلیس ہیں جو عورتوں ،مردوں اور معصوم چھوٹے بچوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کرتے ہیں ابھی تک کئی گھروں کے چراغ بجھ چکے ہیں کئی رشتوں کے سہارے ٹوٹ گئے ہیں کئی زخمی ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں خدا انکو کامل صحت عطا فر مائے ۔حکومت پاکستان اس سلسلے میں بہت ایکٹو دکھائی دے رہی ہے اور اس بار مذمت کے ساتھ ساتھ ایکشن بھی کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ لاہور سے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیاجا رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج پاکستان کیلئے خدا کی بہت بڑی نعمت ہے پاک فوج ہمہ وقت دشمن کے ناپاک عزائم کو مٹی میں ملانے کیلئے تیار ہے ۔ پاک فوج نے ملک بھر میں کاروائیاں شروع کر دی ہیں اور درجنوں دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے اسی طرح بڑی کاروائی کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشتگردں کو ہلاک کیا اور افغان بارڈر پر بھاری نفری بمعہ جنگی آلات کے تعینات کر دیا گیا ہے پاکستان کی عوام بھی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ پاک فوج کے ہوتے ہوئے دشمن کے ناپاک ارادے کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گئے کراچی میں پہلے ہی رینجر ز فورس موجود ہے جبکہ دہشتگردی کے پیش نظر حکومت پنجاب نے بھی صوبے میں رینجرز فورس کی خدمات حاصل کر لی ہیں تاکہ ملک پاکستان کے امن کو برقرار رکھا جا سکے کیونکہ جب ملک میں امن و سلامتی ہو گی تو ملک ترقی کرے گا ۔ ملک پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبے تکمیل کے قریب ترین ہیں جن میں سی پیک منصوبہ سر فہرست ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں اور وہ اپنا کو ئی وار خالی نہیں جانے دے رہاہے۔مگر دشمن کو اندازہ نہیں ہے کہ ہم دشمن کے خلاف متحدہیں اور دشمن کو خدا کے فضل وکرم سے شکست دیں گے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے دشمن کے ناپاک ارادواں کا منہ توڑ جواب دیں گے پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاک فوج کی نگرانی میں ملک پاکستان کو خوشحالی،سلامتی اور امن کا گہوارہ بنائیں گے خداوند کریم سے دعا ہے کہ وہ ملک پاکستان کو تا قیامت سلامت وآباد رکھے آمین
پاکستان پائندہ آباد
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Karamat Masih

Read More Articles by Karamat Masih: 30 Articles with 10528 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Feb, 2017 Views: 220

Comments

آپ کی رائے