زیرِ خنجر می رقصم

(Tariq Hussain Butt, UAE)
کبھی کبھی کسی عظیم اور مہان انسان کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ تاریخ کے کٹہرے میں سچ ثابت ہو جاتے ہیں ۔صدیوں پہلے لعل شہباز قلندر کی غزل کے چند اشعار کہ زیر خنجر می رقصم نے کئی صدیاں گزر جانے کے بعد اس طرح حقیت کا جامہ پہنا کہ لعل شہباز قلندر کے مزار میں سو سے زیادہ افراد شہید ہوگئے جبکہ کئی سو افراد شدید زخمی ہو گئے۔حیران کن بات یہ ہے کہ دھشت گردی کا شکار ہونے والے افراد شاعر کی کہی گئی وجدانی کیفیت کے مطابق حالتِ رقص میں تھے اور من کی تھاپ پر ناچ رہے تھے۔وہ روح کی بالیدگی اور سرشاری کے جس احساس سے اپنی ذات کیلئے سکون، فرحت اور بے خودی کو تلاش کرر ہے تھے وہی لمحہ اس دنیا سے ان کی روانگی کا لمحہ ٹھہرا لیکن حالتِ رقص میں نہ تو انھیں کوئی خوف دامن گیر تھا اور نہ ہی رنج و ملال کا کوئی سایہ ان کے چہروں پر رقم تھا۔وہ لعل شہباز قلندر کے مزار کے روبرو اپنے من کی اجلتا کی اجلی تصویر تھے ۔سچائی کی خاطر موت کو گلے لگانے کا ایسا اظہارپہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ تاریخ کے اوراق سچائی کی خاطر سرِ دار جھول جانے کی بے شمار داستانوں سے روشن ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملہ سفاکیت اور درندگی کی ایسا مظا ہرہ ہے جس پر انسانیت تڑپ اٹھی ہے۔ معصوم،نہتے اور اور بے گنا انسانوں کو اسلام کے نام پر موت کے حوالے کرنا اسلام اور نسانیت کی پیشانی پر ایسا بد نما داغ ہے جسے کبھی بھی دھویا نہیں جا سکے گا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قلندر اپنی علیحدہ دنیا رکھتے ہیں اور ان کی سجائی گئی دنیا حر ص و طمع سے بالا تر ہوتی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ وہ روزِ جزا کو بھی حالتِ رقص میں ہی اٹھا ئے جائیں کیونکہ وہ اس دنیا سے حالتِ رقص میں اٹھا ئے گئے تھے؟ان کا رقص چونکہ ان کی بے خودی کا آئینہ دار تھا لہذا وہ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ سارے پیکرِ صفا تھے۔کیا اس سے بڑی خوش قسمتی اور بھی ہو سکتی ہے کہ جب انسان اس دنیا سے رخصت ہو تو وہ صرف خالقِ کائنات کی رضا کی علامت ہو؟رقص ہو، گیت ہو،مناجات ہو یا کوئی التجا ہو انسان جب حسنِ ازل کی ذات کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے تو پھر وہ پیکر خا کی نہیں رہتا بلکہ پیکرِ نورونکہت ہو جاتا ہے اور لعل شہباز قلندر کے مزار پر محوِ رقص افراد اس وقت ایسی ہی کیفیت کے اسیر تھے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔،۔

لعل شہباز قلندر ایک عظیم صوفی شاعر تھے اور امن و آشتی کے عظیم علمبردار تھے۔ان کی ذات عشق و محبت کی ایسی لازوال علامت ہے جو صدیوں سے انسانوں میں عشق و مستی کے جذبوں کی محرک ہے۔ان کا مزار امن و محبت کا گہوارہ ہے اور شکستہ دلوں کیلئے ایسا مرحم ہے جو انھیں زندگی کے مصائب سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے ۔ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے کہ لعل شہباز قلندر کا مزار بھی دھشت گردوں کی دھشت گردی سے محفوظ نہ رہ سکا اور امن کی آماجگاہ بالآخر لہو سے لال ہو گئی ۔ لعل شہباز قلندر کے مزار پراس حملے نے پاکستان کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن باعثِ حیرت ہے کہ دھشت گردی کی اس سنگین واردات کے بعد عوام پھر پہلے کی طرح لعل شہباز قلندر کے مزار پر زیرِ خنجر میں رقصم کا مظا ہرہ کر رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ لعل شہباز قلندر کی محبت نے انھیں موت کے خوف سے آزاد کر رکھا ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دہشت گردی کے اس سنگین واقعہ کے بعد عوام ڈر کر گھروں میں محصور ہو جاتے اور لعل شہباز قلندر کا مزار ویرانگی کا منظر پیش کرنے لگ جاتا لیکن ایسا ہونے کی بجائے لعل شہباز قلندر کا مزار ایک دفعہ پھر رقص کے دائروں سے مزین ہو گیا ہے ۔محبت موت سے کب سرنگوں ہوئی ہے جو اس حملے کے بعد سرنگوں ہو جاتی۔محبت کی سرشت میں مر جانا ہے جھک جانا نہیں ہے۔جو کوئی محبت کو جھکانے نکلتا ہے وہ خود مٹ جاتا ہے جبکہ محبت زندہ و پائیندہ رہتی ہے۔لعل شہباز قلندر کی ذات سے عوام کو جو عشق ہے وہ کسی کی خوشنودی یا انعام و اکرام کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ دل سے دل کی ہمکلامی کا ایسا دلفریب منظر ہے جو خوف کی کیفیت سے کوسوں دور ہے۔دھشت گرد آئے سینکڑوں انسانوں کو شہید اور زخمی کر کے رخصت ہو گئے لیکن من کی تال پر رقص کرنے والے دیوانے اب بھی حالتِ رقص میں اپنی محبت کی گواہی کیلئے اسی جگہ موجود ہیں جہاں پر ۱۶ فروری کو بارود کی ہلاکت خیز بو پھیلی ہوئی تھی ۔آفاقی محبت کے استعاروں کو ملیا میٹ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔عاشقوں کا کام سرِ دار جھول جانا ہوتا ہے۔عا شق موت کی پرواہ کرنے لگ جائیں تو یہ دنیا عشق و محبت سے خالی ہو جائے۔دنیا کا حسن اس کی دلکشی اور اس کی جاذبیت عا شقوں کی مرہونِ منت ہے۔یہی ہیں وہ لوگ ہیں جو اس دھرتی کا سچا حسن ہیں اور جن کے بغیر اس دنیا میں کوئی جاذبیت اور کشش نہیں ہے ۔محبت مٹ جائے تو پھر یہ دنیا کس کام کی ہے۔یہ دنیا اسی لئے حسین لگتی ہے کہ اس کا خمیر عشق سے اٹھا یا گیا ہے۔ آب و گل کے اس جہاں میں دھڑکتی مچلتی آرزوئیں ہی زندگی کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں جو بالآخر عشق کے بحرِ بے کراں سے ہم آغوش ا ہو جاتی ہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ عشق زندگی ہے اور زندگی عشق ہے۔اور ان دونوں کی یکجائی اس کائنات کا حسن ہے۔،۔

چند سال قبل داتا گنج بخش کے مزار،اما م بری کے مزار اور غازی عبداﷲ شاہ کے مزار پر بھی ایسی ہی دھشت گردانہ کاروائی ہو چکی ہیں لیکن ان مزارات پر عوام کا جمِ غفیر کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ عوام آفاقی محبت کے ان زندہ استعاروں سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔ ہزراروں سالوں سے ان مقدس مزارات پر محبت کی جس فضا نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس کا قتل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔کیا کرنیں بھی کبھی قتل ہوئی ہیں ؟ جسم مٹی میں مل کر مٹی ہو سکتے ہیں ۔ان کی ہڈ یاں بوسیدہ ہو سکتی ہیں لیکن روح کو موت سے ہمکنار نہیں کیا جا سکتا۔جب تک دل کی دھڑکن اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہے گی رقص کے دائرے سدا زندہ رہیں گے۔ رقص دھڑکن کو آشکارا کرنے کا ایک عمل ہے۔ ایک ایسا عمل جس سے انسانی ذات کی بے کرانی کو دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔َپاکستانی عوام کا خمیر ایمان کے ایسے خمیر سے اٹھا ہے جس میں خوف و ہراس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔خوف زدہ ہونا عاشقوں کا نہیں بلکہ بزدلوں کا کام ہو تا ہے لہذا جن کے سینے ایمان کی دولت سے منور ہوتے ہیں وہ موت سے بھلا کب ڈرتے ہیں۔وہ موت کو دہلیز پر جا کر موت کوللکارتے ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی روح کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔لبیک کہنے کا یہ انداز رقص کی شکل اختیار کرلے تو پھر موت و زیست کا سارا فلسفہ رقص کا روپ دھار لیتا ہے۔حالتِ رقص میں نہ موت موت رہتی ہے اور نہ زندگی زندگی رہتی ہے بلکہ یہ آرزو کا ایسا حالہ تراش لیتی ہے جس میں رقاص اپنا سب کچھ ہار جاتا ہے۔زیر خنجر می رقصم بے خوفی کا ایک ایسا ہی ستعارہ ہے جس کا پیغام یہی ہے کہ دنیا بھر کی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جاؤ خود جھکنے کی بجائے انھیں جھکا دو کہ یہی قلندر کا کل اثاثہ ہے ۔ قلندر مٹ تو سکتا ہے لیکن جبر کے سامنے جھک نہیں سکتا کیونکہ اسے جھکنا آتا ہی نہیں ہے ۔ دھشت گردی کا علاج اس کے سامنے ڈٹ جانے اور بے خوفی میں ہے۔دھشت گردی کی یہ جنگ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے لیکن پاکستانی عوام پوری جرات سے اس کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔اگر کوئی دوسری قوم ہوتی تو کب کی ان سفاک رہزنوں کے سامنے سر نگوں ہو جاتی لیکن درسِ خودی میں رنگی ہوئی یہ قوم آگے بڑ کر ان دھشت گردوں کو للکار رہی ہے اور جہاں جہاں ان کی دھشت گردانہ کاروائیوں کے نشانات ملتے ہیں اسی جگہ پر کھڑی ہو کر انھیں آزماتی ہے۔لعل شہباز قلندر کے مزار پر دوسرے ہی دن اسی مخصوص جگہ محوِ رقص ہونا کیا کسی بزدل قوم کے افراد کا کام ہو سکتا ہے؟ بالکل نہیں۔

یا د رکھو زندہ قوم دھشت گردوں سے ہار نا نہیں جانتی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دھشت گرد ایسی قوم کے سورموں کی بسالتوں کے سامنے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور پاکستان میں بھی ایک دن ٰیسا ہی ہونا ہے۔،۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Hussain Butt

Read More Articles by Tariq Hussain Butt: 531 Articles with 228077 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Feb, 2017 Views: 421

Comments

آپ کی رائے