پرانے کھلاڑی چلتے نہیں اور نئے کھلاڑی ملتے نہیں ۔اب کیا کیاجائے ؟

(Aslam Lodhi, Lahore)
کرکٹ کے میدان میں ہماری پے درپے ناکامیوں کی آخر وجہ کیا ہے ۔ کرکٹ بورڈ کی تنخواہوں پر پلنے والے ارباب اختیار نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ کہ آسٹریلیااور نیوزی لینڈ میں بدترین شکستوں کے بعد پاکستان سپر لیگ ٹو میں بھی پاکستانی اسٹارز قابل ذکرکارکردگی دکھانے سے کیوں محروم رہے ۔ اس میں شک نہیں کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی وجہ سے ہی سپر لیگ کامیاب ٹھہری لیکن میں اسے مکمل طور پر کامیاب نہیں کہہ سکتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف و ہراس کے ماحول میں کون کھیل سکتا ہے ۔

نجم سیٹھی جن کی وفاداری پاکستان سے زیادہ بھارت کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے ابتدائء میں جوئے کا الزام لگا کر ہر پاکستانی کرکٹر کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ۔ میڈیا نے جلتی کام کرتے ہوئے اس ایشو کو کچھ اس طرح اچھالا کہ ہر کھلاڑی مشکوک ہوکر رہ گیا۔ چندایک کرکٹر سے میری بات ہوئی تو زار و قطار رو پڑے اور کہنے لگے کہ نجم سیٹھی نے ہر کھلاڑی کو مشکوک بنا دیا۔اگر ایسا ہوا بھی تھا۔ تو نجم سیٹھی کو نہایت راز داری سے دونوں کھلاڑیوں کو سپر لیگ کی ٹیم سے الگ کر دینا چاہیئے تھااور سپرلیگ کی فضا کو خوشگوار رکھا جاتا اور ٹورنامنٹ کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کر لیاجاتا لیکن شک زدہ اور ٹینس ماحول میں کوئی بھی پاکستانی کرکٹر اپنے قدرتی کھیل کامظاہرہ نہیں کرسکا ۔ اس کا ذمہ دار میں نجم سیٹھی کو ہی سمجھتا ہوں ۔

میری صوابدید کے مطابق عماد وسیم ، عمر اکمل ،اظہر علی، محمد حفیظ ، شہزاد احمد یونس خان اور مصباح الحق دنیاکے بہترین کھلاڑی ہیں ان میں کھیلنے کی ٹیکنک اور مہارت بھی کمال کی ہے لیکن ہر کھلاڑی کے سر بورڈ کی تلوار لٹکاکرنے ماحول کو خوشگوار نہیں رہنے دیا ۔ نجم سیٹھی بتائیں کہ کتنے نوجوان اورباصلاحیت کرکٹر سپر لیگ ٹو سے ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔ جواب یقینا صفر میں ہے ۔ایک جانب کرکٹ بورڈ نے تلوار ہر کھلاڑی کی گردن پر تان رکھی ہے تو دوسری جانب پاکستانی میڈیا ہر کرکٹر پر بے جا تنقید کرکے ان کو ناکام بنانے میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے۔ اس کی مثال مصباح الحق ہیں جو نہ صرف ٹیسٹ ٹیم کی کامیاب ترین کپتان رہے ہیں بلکہ بااعتماد بیٹسمین بھی ہیں انہوں نے اپنے دور میں بہترین کرکٹ کھیلی اور دنیا کے ہر ملک میں جاکر ان کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا ان کی ہی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے دنیا کی نمبر ون ٹیم کا اعزاز حاصل کیا اور بہترین کرکٹ ٹیم کی ٹرافی آئی سی سی کی جانب سے حاصل کی ۔دنیا میں کونسا انسان ہے جو ہر میچ جیتتا ہے جس نے کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھا ۔ لیکن ہمارے ہاں عجیب ہی دستور ہے جو شخص ایک دن سب سے بہترین قرار پاتا ہے تو دوسرے دن وہی شخص میڈیا کی نظر میں بدترین بن جاتاہے ۔ جب مصباح الحق نے ریٹائرمنٹ لینے کی بات کی تھی تو سب یہی کہہ رہے تھے کہ مصباح جیسا عظیم کھلاڑی دوبارہ پیدا نہیں ہوگا اس لیے بورڈ نے بھی واضح پیغام دیا کہ مصباح کو ریٹائرمنٹ کے بارے میں ابھی سوچنا نہیں چاہیئے ۔اس کے برعکس اب جب مصباح خود کہہ رہا ہے کہ میں ابھی خود کو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے فٹ محسوس کرتا ہوں اور میں ویسٹ انڈیز جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں تو میڈیا نے ایک نہ ختم ہونے والا پروپیگنڈا شروع کررکھا ہے کہ اس بوڑھے کھلاڑی کو اب ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیئے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے جگہ خالی کردینی چاہیئے ۔یہ کس قدر تکلیف دہ امر ہے ۔

یہی حالت پاکستان کے ایک اور عظیم بیٹسمین یونس خاں کی ہے جس کے مثالی بیٹسمین ہونے میں کوئی شک ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے لیے بے شمار کارہائے نمایاں انجام دیئے لیکن اس عظیم کھلاڑی کوبھی بورڈ اور میڈیا نے مشق ستم بنا رکھا ہے ۔ یہ عظیم بلے باز حقیقت میں مردبحران ثابت ہوتا ہے جس کی کارکردگی کسی بھی شک و شبے سے بالاتر ہوتی ہے ۔اظہر علی کتنا اچھا کھلاڑی ہے ، یہ بات سب جانتے ہیں ۔ بغیر مانگے ون ڈے میچز کی کپتان کا سہرا اس کے سر پر زبردستی باندھ دیا گیا پھر جب پے درپے ناکامی کا سامنا پڑا اور وہ بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تو ان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والا پروپیگنڈا شروع ہوگیا حالانکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی کارکردگی میعار کے مطابق تھی ۔کپتانی تو ا ن کی ختم ہوچکی ، اب انہیں بیٹسمین کی حیثیت سے کھلانا بھی معیوب سمجھاجارہا ہے ۔ کبھی وہ لاہورکی ٹیم کے مرکزی کردار ہوا کرتے تھے اس بار بھی انہیں لاہور قلندر ٹیم میں شامل تو کیاگیا لیکن کسی میچ انہیں نہ کھلا کر نہ صرف ان کی توہین کی گئی بلکہ انہیں ذہنی طور پر مفلوج کردیاگیا ۔کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ اگر ایسا بیہودہ سلوک کیاجائے تو اسے کرکٹ کے ساتھ نفرت ہونے لگتی ہے کیونکہ معاشرے میں اس کے چاہنے والے اس سے بار بار یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ٹیم میں شامل کیوں نہیں ہوئے ،آپ نے پاکستان سپر لیگ کے میچز کیوں نہیں کھیلے ۔میں ذاتی طورپر ان کے کھیل کا مداح ہوں ۔وہ نہایت دیکھ بھال کے کھیلنے والے اچھے کھلاڑی ہیں ۔ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم میں وہ ون ڈاؤن پوزیشن پر کئی بار اچھے سکور کرچکے ہیں لیکن وہ بھی ناقدین کی نظروں میں اس حد تک کھٹکنے لگے ہیں کہ اب انہیں قابل اعتماد بلے باز بھی نہیں سمجھاجارہا ۔

بورڈ کی بدترین پالیسیوں کی وجہ سے اندرون ملک کرکٹ کاڈھانچہ زمین بوس ہوچکا ہے ۔ تمام کرکٹ گراؤنڈ کھنڈر کی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔کرکٹ ایسوسی ایشنز پر نجم سیٹھی کے پٹھو قبضہ کرچکے ہیں ان حالات میں اندرون ملک جتنے بھی ٹورنامنٹ کروا لیے جائیں ۔سب بیکار نظر آتے ہیں ۔ ایک جانب نئے کھلاڑی ابھر کر سامنے نہیں آرہے تو دوسری جانب جو کھلاڑی اس وقت موجود ہیں ان کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیاجارہا ہے جس سے وہ اپنا روایتی کھیل پیش نہیں کرپارہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر اظہر علی ناکام کپتان تھے تواس بات کی کیا ضمانت ہے کہ سرفراز انتہائی کامیاب کپتان ثابت ہوں گے ۔ہر میچ کی جیت کا سہرا ٹیم کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہوتا ہے اگر کھلاڑی ہی اچھا کھیل نہ پیش کرسکیں تو کپتان کو مشق ستم نہیں بنانا چاہیئے۔

شعیب ملک کو انتہائی کم عمری میں کپتان بنا یا گیا -پھر فالتو کھلاڑی بناکے فارغ بھی کر دیاگیا ۔ یہ تو شعیب کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی کی بنا پر ایک بار پھر قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وگرنہ بورڈ اور میڈیا کے ڈسے ہوئے کھلاڑی کبھی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے ۔ کراچی کنگز کی ٹیم میں عماد وسیم ، محمد عامر ، شعیب ملک جیسے عظیم کھلاڑی شامل تھے لیکن اس ٹیشن زدہ ماحول میں کوئی ایک کھلاڑی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا ۔ جس پر جتنا افسوس کیا جائے، کم ہے ۔اس میں شک نہیں کہ سپرلیگ ٹو میں کوئی اچھا کھلاڑی ابھرکر سامنے نہیں آسکا تو اس ناکامی کی وجہ کرکٹ کا اندورنی بوسیدہ ڈھانچہ ہے ۔پہلے ہر شہر میں سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیزکے باہمی کرکٹ مقابلے ہواکر تے تھے۔ اب یہ مقابلے یکسر ناپیداور کرکٹ کے میدان ویران ہوچکے ہیں ۔ پہلے پاکستانی کرکٹر انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے جایا کرتے تھے جس کا فائدہ یہ تھا کہ ہمارے کھلاڑی تیز وکٹوں پر کھیلنے کے ماہر ہوجاتے ۔یہی کھلاڑی آسٹریلیا ،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ میں جاکر مقامی ٹیموں کو شکست سے ہمکنار کرتے ۔ظہیر عباس ، آصف اقبال ، عمران خان، وقار یونس ،وسیم اکرم جیسے نامور کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کے ہی شاہکار تھے ۔اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے ۔پاکستان کی ڈیڈ اور بے جان وکٹوں پر کھیل کھیل کر کھلاڑی سنچریاں کرتے ہیں لیکن جب کسی بین الاقوامی ٹیم کا سامنا ہوتا ہے تو پندرہ بیس سکور پر ہی آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ جاتے ہیں۔ جاوید میاں داد ،وسیم حسن راجہ جسے کھلاڑیوں نے اپنے ابتدائی میچوں میں اس قدرشاندار کارکردگی کامظاہرہ کیا کہ دنیائے کرکٹ میں ان کا نام بہت اعزاز سے لیا جانے لگا ۔ آج بھی ان کے بنائے ہوئے ریکارڈ پر دنیا ناز کرتی ہے ۔ماجد خان جنہیں ٹیسٹ میچ میں لنچ سے پہلے سنچری بنانے کامنفرد اعزاز حاصل ہے ان کا شمار بھی سپر سٹار کھلاڑیوں میں ہوتا رہا ہے ۔ یہی کھلاڑی جنوبی افریقہ ، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے ساتھ کھیلتے تو ان کی چھکے چھڑا دیتے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں نئے ٹیلنٹ کے لیے کوئی کمی نہیں ہے ۔

اس وقت حالت یہ ہے کہ نہ نئے کھلاڑی مل رہے ہیں اور پرانے کھلاڑیوں کو میڈیا اور بورڈ باہم مل کر ذہنی طور پر مفلوج کررہا ہے ۔میری نظر میں پاکستانی کرکٹ کے زوال کی یہی وجہ ہے ۔ اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ ہم ٹینشن زدہ ماحول فراہم کرکے عماد وسیم ، اظہر علی ، محمدعامر ، محمد حفیظ ، شہزاد احمد ، شعیب ملک ، عمر اکمل اور مصباح الحق کو بھی ضائع کررہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ کے کندھوں پر سوار عہدیداروں کی فوج مسلط کرنے کی بجائے ان سے نئے کھلاڑیوں کی تربیت کا کام لیاجائے ۔ قومی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے لیے کاؤنٹی کرکٹ لازمی قرار دیا جائے تاکہ انہیں انگلش ملکوں کی تیز وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوسکے ۔ مزید برآں بورڈ کے زیر اہتمام ملک کے قابل ذکر شہروں میں نہ صرف معیارکے مطابق کرکٹ گراؤنڈ بنائے جائیں بلکہ سکول ٹو سکول کالج ٹو کالج اور یونیورسٹی ٹو یونیورسٹی ٹورنامنٹ کا اہتمام بھی کیاجائے ۔سب سے اہم شعبہ فیلڈنگ کا ہے جس میں پاکستان کے تمام کرکٹر صفر دکھائی دیتے ہیں ۔ جن دنوں آسٹریلیا میں کرکٹ میچز ہورہے تھے تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کے ہاتھ سے ایک بار گیند ٹچ ہو جائے پھر وہ کہیں نہیں جاسکتی ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ میچ سے پہلے اپنے ہاتھوں پر صمد بونڈ لگا لیتے تھے اور گیند ٹچ ہوتے ہی چپک جاتاتھا۔ اس کے برعکس ہمارے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں آئی ہوئی سیدھی گیند بھی اچھل کر دور جاگرتی ہے ۔کرکٹ بورڈ نے غیرملکی کوچز بھی اس مقصد کے لیے مقرر کیے لیکن رزلٹ پھر بھی صفر ہی رہا ۔ میری صوابدید کے مطابق قومی ٹیم میں شامل کرنے سے پہلے ہر کھلاڑی کی پہلے فیلڈنگ کو پرکھا جائے اگر وہ اچھا فیلڈر ہے تو پھر وہ اچھا بیٹسمین بھی ہوسکتا ہے اور اچھا باولر بھی ۔ کیچ ہی تو میچ ہوتے ہیں ۔بین الاقوامی ٹیموں کے کھلاڑی کا ایک کیچ بھی مخالف ٹیم کو بہت بھاری پڑتا ہے لیکن ہمارے کھلاڑی تو ون ڈے ہو یا ٹیسٹ ہر میچ میں کیچ گرانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ جب سے قومی ٹیم میں پے درپے تبدیلیوں اور کارکردگی میں بحران پیدا ہوا ہے جتنے بھی نئے اور پرانے کھلاڑی ابھر کر سامنے آئے تمام کے تمام ہی کیچ لینے کی صلاحیت سے یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں ۔ پاکستان کاشایدہی کوئی وکٹ کیپرایسا ہو جو وکٹوں کے پیچھے یقینی طور پر کیچ پکڑسکے ۔ کوئی وقت تھا جب کامران اکمل بطور وکٹ کیپر کھلا کرتے تھے وہ بیٹسمین تو بہترین تھے لیکن کیپنگ میں کوئی نہ کوئی ایسا کیچ چھوڑ دیتے جو ان کی ناکامی اور بدنامی کا باعث بنتا۔ پھر ان چھٹی کروا کر عمراکمل کو آزمایا گیا اس کے باوجودکہ عمر اکمل بہترین بیٹسمین ہے لیکن ان سے وکٹ کیپنگ کرواکرنظر سے گرا دیا گیا ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عمر اکمل نہ تو اچھے وکٹ کیپر رہے ہیں اور نہ ہی قابل اعتماد بیٹسمین ۔ اس کے باوجود کہ ان میں قدرتی ٹیلنٹ بے حساب موجود ہے ،وہ نیچرل سٹروک پلیئر ہیں لیکن کوئی بھی کوچ انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا کہ وہ شارٹ کھیلنے سے پہلے بری گیند کا انتظار کر لیاکریں ۔ جیسے وہ قدرتی ٹیلنٹ کے حامل کھلاڑی ہیں اسی طرح وہ انتہائی جلد باز بھی ہیں وہ پہلے ہی اوور میں سینچری کرنے کے موڈ میں رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پانچ چھ میچوں میں وہ صرف ایک آدھ میچ میں ہی کارکردگی دکھاپاتے ہیں اور باقی میں آؤٹ کر اس طرح گراؤنڈ سے باہر جارہے ہوتے ہیں جیسے انہیں غلط شارٹ کھیلنے پر بہت ندامت ہوئی ہے لیکن اگلے میچ میں پھر ان کا رویہ ایسا ہی ہوتاہے۔

عماد وسیم ایک منجھے ہوئے بیٹسمین ہی نہیں بہترین باولر بھی ہیں لیکن نہ جانے کیوں ان کی کارکردگی میں اب تسلسل نہیں رہا ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ کوچ اور کپتان انہیں وہ ماحول فراہم نہیں کرپا رہے جس کی ایک اچھے کھلاڑی کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے ۔ شعیب ملک منجھے ہوئے اور تجربہ کار آل راؤنڈر ہیں لیکن ٹیم میں ان کی شمولیت ہمیشہ سوالیہ نشان ہی بنی رہتی ہے ۔ شہزاد احمدمیں اﷲ تعالی نے جتنی اچھی ٹیکنک عطا کی ہے اس کو بھی بے جا تنقید کانشانہ بنا کر ضائع کیاجارہا ہے ۔ اظہر علی بھی ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں جو انتہائی اعتماد سے ٹیسٹ میچ اور ون ڈے میچز میں کھیلتے ہیں اور کئی سنچریاں بھی کرچکے ہیں اور بحیثیت بیٹسمین وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار ہر جگہ کرچکے ہیں لیکن جب سے ان کے گلے میں کپتان کا طوق ڈالا تھااس وقت سے پے درپے ناکامیاں اس کا مقدر ایسے بنی کہ اب وہ ٹیم میں فالتو چیز بن کر رہ گیا ہے ۔ اگر اسی طرح ان پر تنقیدکے نشتر برسائے جاتے رہے تو مجھے ڈر ہے کہ ہم اظہر علی کی شکل میں ایک بہت ہی اچھااور بااعتماد کرکٹر بھی کھو دیں گے۔محمد عامر بھی ایک بااعتماد فاسٹ باؤلر ہے نہ جانے کیوں قسمت اس سے بھی روٹھ گئی ہے ۔ کبھی وہ وقت بھی تھا جب مخالف بیٹسمین اس کے نام سے ہی کانپ جایا کرتے تھے لیکن درمیان میں ایک ایسی غلطی نے اسے آسمان سے زمین پر لاکھڑا کیا اب پھر وہ اپنے وجودکو کرکٹ کے میدان میں منوانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں لیکن حالات اور قسمت ساتھ نہیں دے رہی ۔

قصہ مختصر یہ کہ جتنی توجہ کھلاڑیوں کی اچھی تربیت اور ٹیکنک پر مرکوز ہونی چاہیئے اس سے زیادہ توجہ بورڈ اپنے عہدیداروں کی فوج پر دے رہا ہے ۔ پاکستان سے کرکٹ کیوں دور ہوچکی ہے اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں۔ بورڈ اور پولیس ہے۔ جو غیر ملکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو سیکورٹی فراہم نہیں کرسکے جس کا وہ مستحق تھے ۔ اب پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں کروانے کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ جس کی کامیابی ہی مستقبل میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی وجہ بن سکتی ہے ۔ اﷲ نے چاہا اور حالات بھی ٹھیک رہے تو اگلے سال پاکستان سپر لیگ کے تمام میچز پاکستان میں کروانے کی تیاری اب سے ہی شروع کر دینی چاہیئے اور اس مقصد کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں بورڈ کی جانب سے کرکٹ کیمپ لگانے چاہیئں ۔ جن میں اٹھارہ سے بائیس سال تک کے مضبوط جسمانی ساخت کے حامل، دراز قد نوجوان کھلاڑیوں کو دو ہفتے کیمپ میں فیلڈنگ ، بیٹنگ ، باؤلنگ کی ٹریننگ فراہم کرکے بہترین کوچنگ کرنے والے کوچ ، سابق سپر سٹار کھلاڑی اور دنیا کے بہترین فیلڈرز کو بطور خاص مدعو کرکے ان سے نئے کھلاڑیوں کی تربیت دلوائی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے بین الاقوامی قوانین سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے جوئے کی لعنت کے خلاف اقدامات سے آگاہ کیا جائے ۔ پھر ان میں سے جو کھلاڑی واقعی بین الاقوامی معیار کے مطابق ابھرتے ہوئے نظر آئیں انہیں لاہور میں بورڈ کی کرکٹ اکیڈیمی کے لیے منتخب کرلیا جائے ۔بورڈ کے زیر اہتمام یہ کرکٹ کیمپ بطور خاص کراچی ، حیدر آباد ، سکھر ، لاڑکانہ ، کوئٹہ ، چاغی ، خضدار ، بہاولپور ، ملتان ، رحیم یار خان ، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان ، ساہیوال ، قصور ، لاہور ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد ، جھنگ ، سرگودھا ، میانوالی ، اٹک ، جہلم ، گجرات ، بھکر ، راولپنڈی ، مظفر آباد آزاد کشمیر ، ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، گلگت ، سکردو ، صوابی ، چار سدہ ، نوشہرہ ، پشاور ، رسالپور ، بنوں ،کوہاٹ ، ڈیرہ اسعیل خان ، مہمند ایجنسی ، جنوبی وزیر ستان ، شمالی وزیر ستان ، منیگورا سوات ، باجوڑ ، چترال میں لگائے جائیں۔یہاں سے جو کھلاڑی کارکردگی کے اعتبار سے نمایاں نظر آئیں ۔ مزید تربیت کے بعد انکی الگ الگ چار پانچ ٹیمیں بنا کر باہمی میچز کروائے جائیں پھر ان کھلاڑیوں کو انگلینڈ ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، سری لنکا، بنگلہ دیش میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے اور وہاں کی مقامی سپر لیگ اور پرئیمر لیگ کھیلنے کا اہتمام کیا جائے ۔ اگر ایسا ہوگیا تو اگلے چند سالوں میں پاکستان ایک ایک پوزیشن پر کھیلنے والے دس دس بہترین کھلاڑی تیار کرنے میں کامیاب ہوجائیگا ۔ مزید برآں جوئے کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے کھلاڑیوں پر پہرہ لگانے اور ان کے خلاف سخت سزاؤں کی بجائے ٹیم منیجر ،کوچ اور کپتان کو سزا دی جائے جن کی نگرانی میں یہ کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ میچز میں حصہ لیتے ہیں ۔کسی نے کیا خوب کہاہے کہ چور کونہ مارو ۔ چور کی ماں کو مارو ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 281580 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے