مردم شماری میں مادری زبان کا خانہ ۔ کیا لسانیت کا فروغ ؟

(Qadir Khan, Lahore)
دنیا میں بنگلہ دیش واحد ملک شمار کیا جاتا ہے جو زبان کی بنیاد پر بنا۔ ورنہ نئے ممالک ، مختلف نظریات کی بنیاد پر بنتے رہے ہیں ، پاکستان ، دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام ( دین؍مذہب) کی بنیاد پر تشکیل ہوا ۔ کچھ احباب اسرائیل کو بھی مذہب کی بنیاد پر تشکیل کی وجوہ قرار دیتے ہیں ، لیکن صہیونی ریاست کی بنیادی وجہ برطانیہ کی عالمی منصوبہ بندی کا ایک حصہ اور مسلمانوں کے خلاف، دشمنی کا کندھا استعمال کرکے یہودیوں کی چال بازیوں سے اپنی حکومتوں کو بچانے کی ایک سازش تھی ، جس کو وقت کیساتھ ساتھ مسلم علاقوں پر قبضہ کرکے یہودیوں کو دنیا بھر سے آباد کئے جانے لگا ۔

دنیا کی ہر قوم اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ چین ، جاپان ، جرمن ، فرانس ، روس ، امریکہ اور انگریزوں قوموں نے اپنی اپنی مادری زبان میں تعلیم و تربیت حاصل کرکے ترقی کی۔کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے اس بات کا اہتمام کیا جانا ضروری ہے کہ وہ اُس زبان کو سمجھے جو اس کے گھر میں بولی جاتی ہے ۔ پاکستان میں صورتحال کافی مختلف ہے ، یہاں غربت و دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے صوبائیت کے نام پر مختلف اکائیاں تقسیم ہیں اور یہاں با حیثیت قوم کسی ایک زبان پر اتفاق رائے نا ممکن ہے ۔ آئینی طور پر مادری زبانوں کو سرکاری درجہ ضرور دیا جا سکتا ہے ۔ لیکن یہاں سندھ میں صرف سندھی بولنے والے نہیں رہتے کہ انھیں سندھی زبان میں ہی تعلیم دی جاسکے ، اسی طرح خیبر پختونخوا میں اردو زبان گھروں میں نہیں بولی جاتی کہ تمام تعلیم اردو زبان میں دی جاسکے ۔ یہی حال پنجاب اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کا ہے ۔د نیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں742۔نائیجیریا میں 516۔بھارت 425۔امریکہ 311۔آسٹریلیا میں 275۔ اور چین میں241۔زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں تقریبا کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے۔دوسرے نمبر پر (اردو یا ہندی) ہے۔تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے۔اس کے بعد ہسپانوی،عربی،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے۔ پنجابی 11 او ر (صرف) اردو،بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔پاکستان چونکہ کسی لسانی بنیاد پر نہیں بنا تھا ، اس لئے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا لیکن سرکاری طور پر ابھی تک رائج عمل نہیں کیا گیا ، گو کہ اس سلسلے میں اعلی عدلیہ نے نوٹس بھی لیا لیکن اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے میں نہ جانے کتنا وقت لگے گا ۔ اس کا کوئی معینہ وقت مقرر نہیں ہے۔ ہم بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ اردو میں دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہیں تو ایسے ختم کردینا چاہیے ، دانشوروں کے ایک خاص طبقہ اس بات کی مخالفت کرتا ہے کہ جواردو باذات خود ایک لسانی تاریخی زبان نہیں ہے اور کئی زبانوں کا مجموعہ بن کر ایک زبان کی شکل اختیار کرگئی ہے ، لہذا ایسے الفاظ جو اردو زبان میں شامل ہیں ، اگر وہ استعمال ہو رہے ہیں تو اس کو ہٹانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اردو عام فہم اور سیلس رہنے سے ہی ملک کی اکثریت کو فائدہ اور اَپر کلاس کو نقصان ہے ۔ کیونکہ گھر میں بولی والی زبانوں کو اپنی بقا کیلئے رائج رہنا ضروری ہے اسلئے گھروں میں استعمال ہونے والی زبانوں کو سرکاری درجہ قرار دیکر نصاب میں ایک اختیاری مضمون کا درجہ قرار دے دینا چاہیے انگلش کو بھی پرائمری ہی سے ایک اختیاری مضمون قرار دے دینا چاہیے ۔ لیکن تمام بڑی زبانوں کو آئینی تحفظ دیکر محفوظ بنانے کا عمل شروع کردینا چاہیے ۔ اردو پاکستان کی پہچان ہے ، لیکن اردو صرف پاکستان میں ہی نہیں بولی جاتی بلکہ ایک بہت بڑی تعداد بھارت میں بھی موجود ہے جو اردو زبان بولتے ہیں اور اردو رسم الخط لکھتے ہیں ۔مملکت پاکستان کے دونوں ایوانوں کے اراکین اور بیورو کریٹس کے لئے دوہرا نظام تعلیم فائدہ مند ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام آئین کو ازخود سمجھنے اور پڑھنے لگ گئی تو اپنے حقوق سے آشنا ہوجائے گی ۔ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے پہلے اس ملک کی عوام کا باشعور ہونا ضروری ہے ۔ یہ کوئی لازمی امر نہیں ہے کہ اگر انگریزی زبان نہیں آتی تو وہ سائنسدان ، ڈاکٹر ، انجینئر وغیرہ نہیں بن سکتا ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انگریزی بولنے والے ممالک کے تعداد سے زیادہ وہ ممالک ہیں جن کی عوام نے اپنی ایک زبان اختیار کرکے ترقی کی ، ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ، غرض یہ ہے کہ وہ ممالک ترقی کے مدارج میں کسی دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے کم نہیں ہیں ۔ اب اگر ہم اس چکر میں پڑ جاتے ہیں کہ سندھ میں رہنے والا تمام نصاب سندھی میں حاصل کرے اور اسی طرح دوسرے یونٹس بھی ، تو پھر پاکستان چوں چوں کا مربہ تو بن سکتا ہے ، کبھی ترقی یافتہ اذہان کے مالک پیدا نہیں کرسکتا ۔ اختیاری مضامین کے ذریعے اُن علوم میں دسترس حاصل کیا جاسکتا ہے ، جس کی طالب علم کو خواہش ہے ، لیکن اس پر یہ جبر طاری کردینا کہ وہ بڑا ہو کر پائلٹ ہی بنے گا تو وہ عاشق بن کر ہواؤں میں اُڑ ضرور سکتا ہے ، لیکن کسی جہاز کا پائلٹ نہیں بن سکتا ۔

21فروری کا دن عالمی مادری زبان کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ کافی مباحث جو ہر سال ہوتے ہیں ،۔ کافی دعوے وعدے ، جو ہر برس کئے جاتے ہیں ، نئی امیدیں جو ہر مرتبہ جوڑ لیں جاتی ہیں ، اس بار پر توقعات قائم کی گئیں ۔ لیکن بڑے دماغوں میں یہ چھوٹی بات آخر کیوں نہیں آتی ہے کہ صرف پاکستان جیسے ملک میں 29زبانوں کو اپنی بقا کا مسئلہ اس لئے درپیش ہے کیونکہ وہ سینہ در سینہ چلی آرہی ہیں اور رسم الخط نہ ہونے کے سبب محفوظ نہیں ہیں ۔اپنے صحافتی دور میں مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے، جب سینئر صحافی ، جن کی پہچان اردو ، یا شناخت اس کی مادری زبان سے بنی ، وہ اپنے پیغامات ، سمیناروں اور سوشل میڈیا میں انگریزی کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔فنکار برادری کی پہچان ، ان کی مادری زبان یا اردو سے بنی ، لیکن جب میڈیا کے سامنے آتے ہیں تو ان کے منہ سے مادری زبان غائب ہوجاتی ہے ، میں پختون النسل ہوں، لیکن کراچی میں رہنے کی وجہ سے اردو اور پشتو دونوں سے واقف ہوں ، کچھ عرصہ لاہورمیں رہا تو پنجابی بھی سمجھ جاتا ہوں ، سندھ کا حصہ ہونے کی وجہ سے سندھی بھی سمجھنا دشوار نہیں ہے ۔ اب یہ سب اختیاری اس لئے بنے کیونکہ اس کا ماحول تھا ۔ روسی زبان سیکھنے کیلئے روسی تربیت و ماحول کی ضرورت پڑے گی۔ چینی سیکھنے کیلئے آدھے گھنٹے کی کلاس کافی نہیں ہے ، تو ہم پہل اس بات پر کیوں نہ کریں کہ اردو جب ملک کے طول و عرض میں بولی ، سمجھی اور پڑھی جاتی ہے ، اس کو رائج عمل کرلیں ، پاکستان کی زمین بھی تو ماں کا درجہ رکھتی ہے ، تو اردو کو پہلے مادری زبان کے طور پر فوری موجودہ حالت میں نافذ کردیا جائے، عدالتی اور سائنسی و دیگر اصلاحات میں تبدیلی نہ کی جائے ، علاقائی زبانوں کے تحفظ کیلئے انھیں آئینی تحفظ دے دیا جائے ، لیکن ذاتی طور پر میں اس بات کا مخالف ہوں کہ مجھ پر زبردستی کسی زبان کو مسلط اس لئے کردیا جائے کیونکہ میں پاکستان کے اُس حصے میں رہتا ہوں ، جہاں میری زبان نہیں بولی جاتی۔مردم شماری میں اس قسم کا کوئی خانہ ہی نہیں ہونا چاہیے ، یہی لسانیت کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ ایک خانہ پاکستانی ہو یا نہیں ، مسلم ہوں کہ نہیں ،بس اس کے لئے کچھ نہیں۔زبانوں کو مردم شماری کا حصہ بنا کر ہم لسانیت کو فروغ دیتے ہیں ، پاکستان کی اساس دین اسلام تھا۔ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے۔لسانیت کے نام پر صوبائیت بڑھتی ہے اور ملی وایک امت مسلمہ بننے میں سب سے بڑی رکاؤٹ لسانیت سے کسی قومیت کے تصور کو فروغ دینا ہے۔جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔مردم شماری میں لسانی زبان شمار کرنے سے اعداد و شمار کے بجائے ملی یکجہتی کا تصور ختم ہو رہا ہے ۔ پاکستانیت کا تصور ختم ہوجاتا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 297107 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2017 Views: 428

Comments

آپ کی رائے