علماء کیسے کمائیں گے؟

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

واٹساپ پر راقم کے متعدد ومتنوع گروپس ہیں،جہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ حضرات کو پوری دنیا میں اور کئی زبانوں میں ہمارے شاگرد،ساتھی اور متعلقین شب و روز مسلسل مشاورت و معاونت فراہم کرتے رہتے ہیں،یہاں تعلیم،تجارت،مذاھب،اُمّہ کے مسائل،فتاوی،کالم نگاری،تعلیم القرآن،انٹرنیٹ،آن لائن عربک،آن لائن درسِ نظامی(عربی میں)اور سیاسیات پر گفت وشنید ہوتی ہے،انگروپوں میں سے ایک (عالمِ دین کیسے کمائے گا؟)بہت فعّال ہے،چونکہ مادّیّت کا دور ہے اور مدارس کے فضلاء بڑی مقدار میں ہرسال فارغ ہورہے ہیں،دنیاداری اور کاروباری معاملات ہمارے نصابوں کا حصہ نہ ہونے کی وجہ ہمارے یہ نوجوان بعض اوقات پریشان ہوجاتے ہیں،اس لئے انہیں دینی خدمات کے ساتھ ساتھ رزق حلال کے آسان طریقے اور کم آمدنی کی صورت میں بچت کے گُر اس گروپ میں بتائے جاتے ہیں،افادۂ عام کے لئےگروپ کے مشارکات میں سے ایک تحریر ہم یہاں اپنے جہان پاکستان کے قارئین کی نذر کرتے ہیں:
یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے،یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها،اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی ،لیکن قرضوں کے بوجھ میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے.
ایک دن وہ اپنے دوستوں میں مجلس میں گیا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها،کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشاکل اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنےکے لئےقرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں؟
خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے .
کہتا ہے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا.
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی اور آسان ، قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاؤں
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجھ سے میری جان چهوٹ جائی گی.
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کردیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا.
الحمدلله! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا .
میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے الله کے لئے صدقہ ضرور نکالتا.

الله کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو.
صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، الله کےفضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے۔جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، گویا
آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا
اگر مثلاً آپ طالب علم بھی ہیں ، اور آپکو لگا بندها وظیفہ ملتاہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتناہوجائے کچھ رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں.

اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے الله کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقیناً دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.
صدقہ کے کچھ فوائد یہ ہیں:
1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے.
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں
6. صدقہ مصفَِی ومزکِّی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا.
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ہے.
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو.
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ہے.
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے.کام یابی اور رزق کا سبب ہے.
18. صدقہ علاج بهی ہے دواء بهی اور شفاء بهی...
19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں ناہو
بس آپ آج سے صدقے کا معمول بنائیں،دوسروں کو اس کی تاکید و تلقین بھی فرمائیں اور برکات کا مشاہدہ شروع کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 490221 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
02 Mar, 2017 Views: 1023

Comments

آپ کی رائے