اللہ معاف کرے

(مقصود حسنی, قصور)

آدمی دکھ میں لاکھ کوشش کرئے‘ ہنسنا تو دور کی بات‘ اصلی اور خالص مسکراہٹ سے بھی آوازار ہو جاتا ہے۔ خوشی یا کسی ہنسی کی بات میں اس کے چہرے کی مسکراہٹ جعلی اور زبردستی کی ہوتی ہے۔ یہ کیفیت کسی مفلس اور نادار سے مخصوص نہیں‘ بڑے بڑے ناڈو خاں بھی دکھ درد اور بیماری‘ اگرچہ وہ خود سماجی بیماری ہی کیوں نہ ہوں‘ میں اصلی مسکراہٹ دیکھا نہیں پاتے۔ مزے کی بات یہ کہ ان کے ہاں طواف کرنے والے‘ ان کے اپنے یا ان کے کسی کن قریب کے سامنے بھی مسکرانے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ وہ بھی یوں منہ بسورتے نظر آتے ہیں جیسے دکھ کی بھٹی میں پڑے سلگ ہوں۔ گھر پر بھی صاحب کے دکھ کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔

نکا واحد ایسا بندہ دیکھا ہے جو دکھ درد تکلیف اور بیماری سے بالا تر ہو کر ہنستا ہے اور مسکراتا بھی ہے۔ کوئی اندازہ نہیں کر پاتا کہ ان لمحوں میں وہ کسی دکھ درد یا مصیبت میں ہے۔ کہیں سے معلوم پڑتا کہ وہ فلاں پریشانی میں گرفتار ہے۔ جب دیکھو ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے۔ اس کی اس ادا کے سبب سب اس قریب رہتے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے عمومی لوگوں کی طرح مانند سگ بھونکتا یا ٹونکتا نہیں۔ بھونکنا ٹوکنا یا چپ اختیار کرنا اس کے کاغذوں میں نہیں۔

اس روز پتا نہیں اسے کیا ہوا تھا کہ خاموشی کی بکل سے نکل ہی نہیں رہا تھا۔ لاکھ پوچھا کریدا اس کی چپ کا کوئی سرا ہاتھ نہ لگا۔ اس کی ہوں ہاں بھی کسی کی گرہ میں نہ پڑ رہی تھی۔ سارا دن اسی حالت میں گزر گیا۔ شام کو پتا چلا گاؤں کی مسجد کے میاں صاحب نے بلایا تھا اور اسے کچھ کہا تھا۔ شانی عید نماز بھی پڑھنے نہیں جاتا تھا۔ اس دن عشاء کی نماز پڑھنے چلا گیا۔ ہم جولی ڈیرے پر بیٹھے شانی کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ نکے کی چپ کا راز جاننا چاہتے تھے۔

شانی جب مسجد سے لوٹا تو سب اس کی جانب لپکے۔ اس نے بتایا کہ نکے کو مولوی صاحب نے بلایا تھا اور اسے بتایا کہ وہ بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ فوری طور پر توبہ کرئے اور اپنے کیے کا کفارہ ادا کرے۔ یہ بات تو چلتے چلتے ہوئی تھی۔ جب شانی بیٹھا تو سب نے پوچھا آخر نکے سے ہوا کیا جس کی وجہ سے گناہ گار ٹھہرا۔ اس نے بتایا کہ اس سے ہوا تو برا ہے۔ کسی کا مذاق اڑانا واقعی درست تو نہیں۔ ہم ہنسی ہنسی میں ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں ہمیں اس سے پرہیز رکھنا چاہیے۔

او یار آخر ہوا کیا جو اس کی بوکی گر گئی۔ کچھ پتا بھی تو چلے۔ بکی نے الجھے الجھے لہجے میں کہا
نکے کی بیوی بینا نے میاں صاحب سے شکایت لگائی تھی کہ نکا اٹھتے بیٹھتے اس کا مجاکھ اڑاتا ہے۔ میاں صاحب نے اس کے اس گناہ پر حد لگا دی۔

کیا مذاق اڑاتا تھا۔ شبو نے پوچھا

اس کی بیوی کا تکیہ کلام تھا اللہ معاف کرے۔ اس روز جب اس کے منہ سے اللہ معاف کرے نکلا تو وہ دوڑا دوڑا اس کے پاس گیا اور مذاقیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا کر بیٹھی ہو جو اللہ سے معافیاں مانگ رہی ہو۔ پہلے تو اس نے خود خوب بول بولارا کیا اس کے بعد میاں صاحب سے شکایت کر دی۔

توبہ تائب کرتے رہنا چاہیے اس سے گناہ کم ہوتے ہیں۔ نکے نے واقعی گناہ کیا جو توبہ تائب ہوتے بندے کی راہ میں آ گیا۔ عمرے نے لقمہ دیا

کافی دیر تک سب دوست اس مدے پر گفت گو کرتے رہے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ نکے نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ اسے کفارہ ادا کرنا چاہیے۔

وہ دن جائے اور آج کا آئے‘ لوگ ہنسی مذاق کی روایت سے دست بردار ہو گیے ہیں۔ ہنستا مسکراتا نکا چپ کے بادلوں میں کہیں کھو گیا ہے۔ اس کے بعد کسی نے اس کے منہ پر کبھی شوخی کے گلاب کھلتے ہوئے نہیں دیکھے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 116487 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 367

Comments

آپ کی رائے