چالیس برس ہونے

(مقصود حسنی, قصور)

بابا جی کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ان کی دو ڈھائی سال کی بچی بار بار آ کر ناصرف ڈسٹرب کر دیتی بلکہ اپنے مٹی ملے ہاتھ چپاتوں کو لگاتی۔ وہ مسکرا دیتے اور کھانا جاری رکھتے۔ مجال ہے جو ان کے ماتھے پر سلوٹ پڑتی۔ ان کی بیگم اسے اٹھا کر لے جاتی اور وہ دوبارہ سے آ جاتی۔ ایک بار انہوں نے ڈانٹا اور ایک ہلکی سی چپت بھی رکھ دی۔ بابا صاحب خفا ہوئے کہ بھئی معصوم ہے اسے کیا پتا۔

بڑے ناز ںخرے سے اس کی پرورش ہوئی۔ دینی تعلیم کے ساتھ مدرسے کی تعلیم سے بھی اسے اراستہ کیا گیا، دھوم سے اس کی شادی کی۔ اپنی بساط سے بڑھ کر جہیز میں سامان دیا۔ دعاؤں کے سایہ میں اس کی رخصتی کی۔ اللہ کے احسان مند ہوئے کہ اس نے انہیں اس فرض سے سرخرو کیا۔

اپنے دونوں بچوں کے ساتھ نصرت عرف نشو مائی باپ کے ہاں آئی ہوئی تھی۔ اپنی ماں سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں بچوں کو کاٹ کاٹ کر آم کھلا رہی تھی۔ بابا جی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنی بیٹی نشو سے کہنے لگے: ایک آم کاٹ کر مجھے بھی دینا۔

ٹوکری میں آم کافی پڑے ہوئے تھے۔ آم کاٹ کر دینے کی بجائے کہنے لگی: منڈی آرڈر بھجوایا ہوا ہے۔

بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے: بیٹا اولاد ہر رشتے یہاں تک کہ ماں باپ سے بھی بڑھ کر پیاری ہوتی ہے۔ جن کی بیٹیاں بیاہ کر لانا ان سے اچھا اور پیار بھرا سلوک کرنا۔ انہیں بھی اپنی بچیاں اسے طرح پیاری ہوں گی جس طرح تمہیں اپنے بیٹوں سے پیار ہے۔

اس بات کو چالیس برس ہونے کے قریب ہیں۔ اس وقت تو بابا جی کی بات سمجھ میں نہ آ سکی تھی اب جب کہ دوںوں کی بیویاں آ چکی ہے۔ ان میں ایک سگی بھتجی ہے۔ اس نے ان کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ جب ان کے خاوند ان کے پاس بیٹھتے ہیں یا اپنی بیویوں کے لیے کوئی چیز لاتے ہیں تو فورا شور مچا دیتی ہے۔

ہائے میں مر گئی میرا دل بیٹھ رہا ہے۔ ہائے میرا سانس رک گیا۔

وہ اسی طرح اپنے کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اس چیز سمیت ماں کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔ وہ چیز ان کی بیویوں کے نصیب میں نہ ہوتی حالاں کہ وہ اپنی بیویوں کے لیے لائے ہوتے۔ اس کی بیٹیاں سسرال میں کم اس کے پاس بچوں سمیت زیادہ رہتیں۔ وہ ہی چیزیں وہ اور ان کے بچے ڈکارتے۔

چھوٹا اپنی بیوی‘ جو نشو کی بھتیجی بھی تھی کا تھوڑا بہت خیال رکھتا تھا۔ وہ بھی اسے نہ بھایا۔ اس نے اپنی دونوں بیٹیوں سے صلاح مشورہ کرکے ڈیلوری سے پہلے ہی اس پر الزام رکھ دیا اور اسے چلتا کیا ۔ وہ سچی تھی کہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے بیٹے نے کلی طور پر بیوی اور بچے کا ہو رہنا تھا۔ صاف ظاہر ہے‘ دوسرے رشتے ایک طرف‘ اولاد ماں باپ سے بھی پیاری ہوتی ہے۔ اسے بھائی کی عزت اور اس کے اپنے بیٹے کے گھر کے برباد ہونے کا رائی بھر ملال نہ تھا۔ اس سے بڑھ کر کھیڈ اس نے اپنے خاوند کی مرحوم بیوی کے بچوں کو گھر بدر کرنے کے لیے رچائی تھی۔

آج چلنے پھرنے سے معذور ہے لیکن اس نے اپنا چالا نہیں بدلا۔ اللہ کی اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے شیطان کو اتنی لمبی عمر اور کھلی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے۔ خود لعنت کی جیتا ہے اوروں کی زندگی کو بھی لعنتی بنا کر دنیا میں شر اور فساد کو عام کر دیتا ہے۔ بڑے بزرگوں کا کہا محض قصہ کہانی ہو کر رہ جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 113736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 176

Comments

آپ کی رائے