بات تو کوئی بڑی نہ تھی

(مقصود حسنی, قصور)

میری کیا‘ ہر کسی کی آنکھیں بینائی موجود ہونے کی صورت میں لوگوں کو اور زندگی کے بےشمار مناظر دیکھتی ہیں۔ خوب صورت مناظر اور زنانہ و مردانہ چہرے طبعیت پر اچھے تاثرات چھوڑتے ہیں۔ زنانہ چہرے اور مناسب جثے قدرے بہتر یا لفٹ کرانے والے ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ طبعیت بلاتکلف اور خواہ مخواہ مائل و قائل اور مچل مچل جاتی ہے۔ یہ ہی نہیں اکثر اوقات ان میں حوروں اور پریوں کے جلوے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مطلب بری کے بعد کچھ یاد نہیں رہتا کہ وہ کون تھیں۔ یادداشت کے معاملہ میں شاید ان کا بھی یہ ہی حال رہا ہو گا۔

یہ ہی آنکھیں طبعیت اور مزاج سے میل نہ کھاتے مناظر کو خراب اور بےکار قرار دے دیتی ہیں۔ اس طرح بوڑھے آدھ کھڑے بےڈھبے یا بےلفٹے چہروں پر ناپسندیدگی کی مہر ثبت کر دیتی ہیں۔

انسان کی آنکھیں سب کو اور سب کچھ دیکھتی اور دیکھ سکتی ہیں لیکن یہ کتنی عجیب حقیقت ہے خود کو نہیں دیکھ سکتیں۔ جس چہرے پر آویزاں ہوتی ہیں اس کو دیکھنے سے عاری ہوتی ہیں۔ اپنی ہی پشت کو دیکھنے سے معذور رہتی ہیں۔ جس جسم کا حصہ ہوتی ہیں اس جسم کے اندر کیا کچھ ہے اور کیسا ہے ان کی بصارت کی رسائی اس تک ممکن نہیں۔ جو آنکھیں خود کو نہیں دیکھ سکتیں اور مختلف حالات میں اپنے چہرے کے اتار چڑھا دیکھنے سے عاری ہیں انہیں کسی دوسرے میں موجود خرابیوں پر انگلی رکھنے کا کیا حق بنتا ہے۔

یہ کوئی چالیس پچاس سال پیلے کی بات ہے میرے دوست شریف نے اپنے کسی ملنے والے کے کام کے سلسلہ میں اس کے ساتھ مجھے لاہور بھیجا۔ اس روز جمعہ تھا۔ جمعے کا ٹائم بھی ہو رہا تھا لیکن ہم اپنے کام میں مصروف تھے اور ساتھ میں باتیں بھی کیے جاتے تھے۔

وہ کہنے لگا: دیکھو جی‘ لوگ مذہب سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔ آج جمعہ ہے لیکن بلاتردد اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں کوئی مسجد کا رخ نہیں کر رہا۔

میں نے کہا: یار تم کہتے تو ٹھیک ہو۔ ہم مذہب سے دور ہو گئے ہیں‘ مذہب سے دوری ہی ہمیں ذلیل و رسوا کر رہی ہے۔ تم بھی تو مسجد میں جمعہ پڑھنے نہیں گئے۔

میرے جواب پر وہ خفا ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ پرسنل ہو گئے ہیں۔ میں تو لوگوں کی بات کر رہا تھا۔

اس نے مجھ سے اپنا رستہ جدا اختیار کر لیا۔ میں اس کے کام آیا تھا اور کام بھی کروا دیا تھا۔ صاف ظاہر ہے اس کے کام آیا تھا آنے جانے کا کرایہ اسی نے بھرنا تھا۔ آتی بار تو اس نے بھرا لیکن اب جاتی بار بھی اسی نے ادا کرنا تھا۔ میں نے رستہ صاف کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا۔ اس کا کام نکل گیا تھا اور اب اسے میری ضرورت نہ تھی۔ ناچار مجھے اپنا کرایہ بھر کر واپس آنا پڑا۔ بات تو کوئی بڑی نہ تھی کہ اس نے جسے بتنگڑ بنا دیا۔ شاید وہ بھی کرایہ بچانے کے لیے یہ ناٹک رچا گیا تھا۔ اوپر سے شریف سے بہت کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا۔ وہ کئی دن تک مجھ سے نہ بولا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 114314 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2017 Views: 169

Comments

آپ کی رائے