حسنہ قسط نمبر 37

(Zeena, Lahore)

نائلہ اسے جائے نماز دے کر کمرے سے چلی گئی ۔ وہ جانتی تھی اب اسے تنہائی کی ضرورت ہے۔ وہ نماز کے لئے کھڑی ہو گئی آج بہت دن بعد وہ اللہ کو اپنے قریب تصور کر رہی تھی۔ وہ خود کو ایک عجیب حصار میں محسوس کر رہی تھی ،،جیسی ہی وہ سجدے میں گیئ اسکے آنکھوں سے آنسوں کی بارش ہونے لگی ،،،،وہ کتنی دیر سجدے میں روتی رہی،،،،اس آنسوں کی بارش نے اسکا اندر صاف کر دیا تھا ۔ دل کو آئینے جیسا شفاف بنا دیا تھا ،،، جب اسنے سجدے سے سر اٹھایا تب اسکے اندر سے سارے گلے شکوے آنسو ؤ ں کی صورت بہہ کر اسکو پاک کر گئے تھے۔ اب وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی ،،،،

اب اسنے اپنے دل کو بس شکر ادا کرتے سنا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اسکے اندر اتنا سکوں کہاں سے آ گیا وہ جو ہر وقت بے سکون رہا کرتی تھی،،،،اسے یہ کیسا سکون عطا کر دیا گیا تھا۔ وہ اللہ کا جتنا ہو سکتا شکر ادا کرتی نہ تھک رہی تھی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئی تب اسکے لبوں پر مسکراہٹ تھی وہ کیسے نہ مسکراتی اسے اللہ نے معاف جو کردیا تھا۔ اگر معاف نہ کیا ہوتا اسکے دل کو اتنا سکون نہ ملتا،،،“ بے شک دلوں کا سکون اللہ کے زکر میں ہے “ وہ جاے نماز کو تہہ کرتی ہوئی خود سے ہمکلام تھی ۔

مگر وہ اس بات سے انجان تھی کے اللہ نے ابھی اس پر آزمائش ڈالنی ہے ۔ کیوں کے اللہ اپنے قریبی بندے کو ضرور آزماتا ہے۔ نبیوں والیوں نے بھی آزمائش سے گزر کر ہی اللہ کو پایا تھا،،،،ابھی زندگی میں کئی امتحان باقی ہے ۔،،،،،،

“نائلہ آنٹی مجھے گھر چھوڑ آئے “ وہ نماز سے فارغ ہو کر نائلہ کے پاس کچن میں آگئی جہاں وہ دوپہر کا کھانا بنانے میں مصروف تھی ۔،،،،“ کھانا کھا کر جانا بیٹا ! بس کھانا تیار ہی ہے ،، سلمان آجائے تو وہ آپکو چھوڑ آئے گا“ نائلہ نے سلاد بناتے ہوئے کہا ،،،“ مگر آنٹی مجھے بھوک نہیں ہے ،،،،،بری بات بیٹا! کھانے کو کبھی بھی انکار نہیں کرتے ،،،،بھوک چاہے نہ ہو،،،،،،مگر تھوڑا سا ہی کھا لیتے ہے منع نہیں کرتے “ نائلہ نے اسے پیار سے سمجھایا ،،،،اسنے بس سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا،،،

“اسلام علیکم! لیڈیز ،،،،،واعلیکم سلام بیٹا “ وہ دونوں ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی،،،تب سلمان نے آکر سلام کیا ،،،،حسنہ نے منہ میں ہی سلام کا جواب دے دیا،،،“ آج تو ہمارے غریب خانے میں کافی بڑے بڑے لوگ آئے ہیں “ سلمان نے حسنہ کو دیکھ کر شرارت سے کہا اور سلاد میں سے کھیرے کا سلائس اٹھا کر منہ میں رکھ لیا،،،حسنہ نے جواب دینے کے بجائے مسکرانے کو ترجیع دی ۔کھانا ہلکی پھلکی باتوں کے دوران کھایا گیا ،،،کھانے کے کچھ دیر بعد نائلہ نے سلمان کو کہا کے وہ حسنہ کو گھر چھوڑ آئے (جاری ہے )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zeena

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 138466 views »
I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 768

Comments

آپ کی رائے
ناول بہت اچھا جا رہا ہے۔ بہنا آپ اتنا بہترین ناول لکھنے پر مبارکباد کی مستحق ہیں۔۔۔۔
By: Abdul Kabeer, Okara on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
thank you bhai :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 16 2017
0 Like
best and well done
By: abrish anmol, sargodha on Mar, 10 2017
Reply Reply
0 Like
thnx
By: Zeena, Lahore on Mar, 10 2017
0 Like
husna novel har epi mai best se best hota ja raha hai bht achy story hai welldone zeenaaaaa,,,,,,,,
By: husna, kohat on Mar, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thank you husnaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 09 2017
0 Like
کہانی میں دیا جانے والا پیغآم بہت عمدہ ہے، کہانی اچھی جا رہی ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thnx
By: Zeena, Lahore on Mar, 08 2017
0 Like
Very nice zeena,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Mar, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thnx
By: Zeena, Lahore on Mar, 08 2017
0 Like