عصری تعلیم کے فوائد - دورِ حاضر میں

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)

دورِ حاضر میں عصری تعلیم کے بے پناہ فوائد ہیں ۔ زندگی کے ہر شعبہ جات میں آج عصری تعلیم کی رنگا رنگی نظر آتی ہے۔قوموں کی قیادت ، سیاستِ مدن اور تدبیرِ منزل جیسے اوصاف عصری تعلیم کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے برق رفتار عہد میں عصری تعلیم کے حصول کے بغیر باوقار زندگی گزارنے کا تصور محال سا نظر آتا ہے۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جب ہمارا نوجوان جدید عصری تعلیم سے بھی آراستہ ہوگا تو وہ دورِ حاضر کے مختلف مسائل اور چیلنجز کا نہ صرف سامنا کرے گابلکہ اُن کا سختی سے ڈٹ کر مقابلہ بھی کرسکتا ہے۔ عصری تعلیم سے روزگار اور آمدنی کے ذرائع بھی وَا ، ہوں گے جس سے غربت ، افلاس اور تنگ دستی جیسے مسلم معاشرے کے مسائل کا خاتمہ ہونے میں بھی مدد ملے گی۔ آج ہمارے سماج کو عالمِ باعمل اور مفتیانِ کرام کے ساتھ ساتھ اچھے ڈاکٹرز ، انجینئرز، قانون دانوں، فلاسفرز اور سائنس دانوں کی بھی اشدضرورت ہے اور یہ سب عصری تعلیم کے حصول کے بغیر ناممکن ہے۔
دورِ حاضر کے تقاضوں سے آگاہی کے بغیر ہم اپنا کاروانِ حیات کامیابی و کامرانی سے آگے نہیں بڑھا سکتے اور اس کا شعور و ادراک دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول ہی سے ممکن ہوگا۔ ہاں! اس نکتے کو بھی ذہن نشین رکھنا نہایت ضروری ہے کہ عصری تعلیم کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں۔ جن میں سب سے نمایاں مغربی افکار سے مرعوبیت اور اپنی تہذیب و تمدن کو ترک کرکے مغربی کلچر کو اپنا نا ہے۔ لہٰذا آج ہمارے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ عصری تعلیم سے قبل اپنے بچوں کو اس قدَر دینی تعلیم سے مزین کردیں کہ وہ عصری دانش گاہوں کے مغرب زدہ ماحول میں جاکر وہاں کے رنگ میں نہ رنگتے ہوئے دوسروں کو اپنے رنگ میں ڈھال لیں۔ تب ہی عصری تعلیم کے صحیح معنوں میں فوائد حاصل ہوں گے اور عصری تعلیم سے متعلق منفی رویوں میں تبدیلی آئے گی۔ دورِ حاضر میں مسلمانوں کی عبرت ناک تعلیمی پسماندگی کے تناظر میں عصری تعلیم کے کچھ فوائد ذیل میں درج کیے جاتے ہیں ۔

(۱) معاشی و اقتصادی فوائد :
آج عالمی منظر نامے پر چند ایک اسلامی ممالک کو چھوڑ کر بقیہ ممالک میں بسنے والے مسلمان ؛ چاہے وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں ،معاشی اور اقتصادی لحاظ سے پسماندگی کا شکارہیںاورغربت ، افلاس اور تنگ دستی ہمارے معاشرے کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ جب ہم ان کے اسباب و علل پر نگاہ ڈالتے ہیں تواس پسماندگی کا سب سے نمایاں سبب تعلیم سے دوری ہی سمجھ میں آتا ہے۔ لہٰذا اس اہم مسئلے کے تدارک کے لیے عصری تعلیم کا حصول ضروری ہوجاتاہے۔

معاشیات اور اقتصادیات کے میدان میں ترقی کے لیے ان علوم پر مبنی مختلف کورسیز کیے جاسکتے ہیں۔ دسویںکے بعد کامرس فیکلٹی میں داخلہ لے کر ہمارے نوجوان بی کام ، ایم کام ، ایم بی اے اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ جیسی ڈگریاں حاصل کرکے مسلم معاشرے کو معاشی و اقتصادی لحاظ سے تقویت پہنچاکر غربت اور تنگ دستی کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں ۔اسی طرح انجینئرنگ کے تما م شعبہ جات تجارتی اور اقتصادی اور نقطۂ نظر سے اہمیت رکھتے ہیں ۔ جیسے میکانیکل ، انسٹرومینٹیشن پروڈکشن ، الکٹریکل اور الکٹرانکس ، کمیونیکیشن انجینئرنگ وغیرہ کے ساتھ ساتھ میڈیکل ، پیرا میڈیکل، ایم فارم ، بی فارم ، ڈی فارم ،ایسرے ٹیکنیشین ، آپریشن تھیٹر ٹیکنیشین ، سی ٹی اسکین ایکسرے، کمپیوٹر سائنس،انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ٹیکسٹائل انجینئرنگ، ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی ، سول سروسیز وغیرہ غرض یہ کہ عصری تعلیم سے منسلک ہر قسم کے کورسیز کی تکمیل سے مسلم معاشرہ معاشی و اقتصادی پسماندگی سے نکل سکتا ہے ۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول سے روزگار کے در وا ہوں گے اور آمدنی کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ ملازمت نہ بھی ملی تو عصری تعلیم یافتہ افراد اپنا ذاتی کاروبار بھی کامیابی کے ساتھ استادہ کرسکتے ہیں۔

(۲) سماجی و سیاسی فوائد :
ہمارے ملک ہندوستان کی زیادہ تر آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے ۔ جہاں کا رہن سہن، رسم و رواج اور دیگر امور اب تک قدامت پسندانہ طرز کا ہی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اب بعض دیہی بستیوں میں لائف اسٹائل تبدیل ہورہا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی دیہاتوں میں آباد ہے ۔ جہاں اُن کی تعلیم کا مناسب بندوبست نہ ہونے کے سبب وہ طرح طرح کے سماجی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونے کے سبب بھی عورتوں کے مخصوص امراض سے متعلق بڑی بڑی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔مسلم معاشرے کی باغیرت خواتین کا بروقت علاج نہ ہونے کے سبب وہ مشکلات میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا مسلم خواتین اگرمیڈیکل کے شعبے میں قدم رکھتی ہیں تو ایک طرح سے مسلم معاشرے میں درپیش بعض سماجی مسائل کا کما حقہٗ تدارک ہوسکتا ہے۔تعلیم یافتہ نوجوان بھی سماجی ترقی کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ معاشرے میں پائے جانے والے طرح طرح کے سماجی مسائل عدم مساوات، ذات پات، اونچ نیچ ، رنگ و نسل وغیرہ کے امتیازات تعلیم میں بیداری سے ختم کیے جاسکتے ہیں۔

اسی طرح سیاست کے میدان میں بھی جہلا کی بہ نسبت اگرتعلیم یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں تو وہ مسلم مسائل کو صحیح طریقے سے حکومت کے ایوانوں تک نہ صرف پہنچانے میں معاون ہوں گے بلکہ ان کے حل کی کوشش بھی کریں گے۔ محض دینی تعلیم حاصل کرنے سے سیاسی شعور کی بالیدگی ممکن نظر نہیں آتی ، عصری تعلیم میں اگر مختلف زبانوں کا علم حاصل ہوجائے تو سیاسی میدان میں مسلم مسائل کی بہتر نمایندگی انجام دی جاسکتی ہے۔ اقتدار میں شرکت اور مفادات میں حصہ داری جیسے تصور کی تکمیل عصری تعلیم کے بغیر ممکن نظر نہیں آتی۔

عصری تعلیم کے تحت سماجی و سیاسی فوائد کے حصول کے لیے ہم (BSW)بیچلر آف سوشل ورک /ٹیچر/ ڈاکٹر، (MSW)ماسٹر آف سوشل ورک / سائکولوجسٹ، ایونٹ مینجمنٹ، ڈسٹر مینجمنٹ ، ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیڑرنگ ٹیکنالوجی ،میڈیکل، پیرامیڈیکل ، فائنانس، لاء ، جرنلزم ، گریجویشن ان پالیٹکس، سوشولوجی ، ادب تاریخ ، فلسفہ جیسے کورسیز کیے جاسکتے ہیں ۔ یوپی ایس سی ، ایس ایس سی، آئی اے ایس ، آئی آر این اورملکی و ریاستی سطح کے دیگر مقابلہ جاتی امتحانات سے بھی ہمارے مسلم نوجوان سماجی اور سیاسی فوائد کما حقہٗ حاصل کرسکتے ہیں۔

(۳) زرعی و تجارتی فوائد :
مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی زراعت پیشہ ہے ۔ کاشت کاری کے پرانے طریقوں پر عمل کرنے سے پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں ہوتا ۔ آج ایگری کلچر شعبے میں اس قدر ترقی ہوچکی ہے کہ زمین کی زرخیز ی متاثر ہوئے بغیر پیداوار کی شرح بڑھا ئی جارہی ہے۔ مختلف قسم کے اعلیٰ بیجوں اور کھاد کے استعمال سے زرعی میدان میں جو قابلِ لحاظ تبدیلی آئی ہے وہ بھی عصری تعلیم کی بدولت ہی ہے۔ زراعت سے متعلق مختلف کورسیز کی تکمیل کرتے ہوئے ہم اپنے کھیتوں کی صحیح طور پر حفاظت بھی کرسکتے ہیں ۔کھیتی باڑی اور اس کے لیے لگنے والے دیگر جدید لوازمات کے استعمال کے طریقے اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کا تصور عصری تعلیم سے ہی ممکن ہے۔

علاوہ ازیں کھیتوں میں تیار شدہ فصلوں ، اناج اور دیگر پیدواروں کو بازار میں مناسب اور صحیح طریقے سے تجارت کے جدید اصولوں کو مدنظر رکھ کر ہم اُسی وقت فروخت کرسکتے ہیں جب ہم جدید تجارتی تعلیم سے آراستہ ہوں گے۔ لہٰذا زرعی اور تجارتی ترقی کے لیے بھی عصری تعلیم بے حد ضرور ی ہے۔ اس سے ہماری پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا اور نفع و نقصان کا شعور بھی بیدار ہوگا ۔ اس طرح عصری تعلیم سے ہمارے معاشرے کو زرعی و تجارتی فوائد ملیں گے۔ اس کے لیے ڈیری صنعت سے متعلق کورسیز ڈیری ڈپلومہ/ڈگری، ایگری کلچر ڈپلومہ/ ڈگری، شوگر ٹیکنالوجی، کنفیکیشنری(کیک ، پیسٹری، بیکری)ڈپلومہ / ڈگری، نینو ٹیکنالوجی، ٹرانسپلانٹیشن ( حیوانات و نباتات) ، میڈیکل ٹرانسکرپشن( حیوانات و نباتات) اور اسی نوعیت کے دیگر پیشہ وارانہ کورسیز کے ذریعے ہم خود اپنی چھوٹی موٹی کمپنی یا فیکٹری کم بجٹ میں جاری کرسکتے ہیں۔ یہ کورسیز زراعت سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی نقطۂ نظر سے بھی اہم ہیں ۔ ان کی مدد سے ہم معاشی و اقتصادی ترقی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

(۴) ادبی و لسانی فوائد :
ہر قوم کی اپنی زبان اور اپنا ادب ہوتا ہے ۔جو اُس کا تشخص اور شناخت کہلاتا ہے۔ برصغیر ہندو پاک میں بسنے والے مسلمانوں کی زبان و ادب اردو ، پنجابی، بنگلہ، پشتو، سندھی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ لیکن ان زبانوں میں سب سے نمایاں اردو زبان و ادب ہی ہے۔ گو کہ اب انگریزی ذریعۂ تعلیم میں کثرت کے ساتھ لوگ اپنے بچوں کو داخل کرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ لیکن ماہرینِ تعلیم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بچوں کی ہمہ جہت ترقی اور نشو و نما کے لیے اُن کی ابتدائی تعلیم مادری زبان ہی میں کرنا بہتر ہے۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اردو زبان و ادب آج مدارسِ اسلامیہ کے سبب بر صغیر میں زندہ و سلامت ہے۔

عصری تعلیم کے حصول سے ہمارے اندر اپنی زبان اور اپنے ادب سے محبت کا جذبہ بیدار ہوگا ، اور اس کے تحفظ و بقا کا احساس پروان چڑھے گا۔ آج آرٹ فیکلٹی کو بد قسمتی سے کچھ لوگ کج نگاہی سے دیکھتے ہیں جب کہ سچائی تو یہ ہے کہ آرٹ فیکلٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ سماج اور معاشرے کے لیے بے حد فائدے مند ثابت ہوتے ہیں۔

اچھا ادب صالح معاشرے کی تشکیل کا سبب بنتا ہے اور اچھے ادب کی تخلیق بھی عصری تعلیم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں۔ مادری زبان کے علاوہ اگر ہم دیگر زبانو ں سے واقف ہیں اور ان کا لٹریچر بھی ہماری نگاہوں کے سامنے ہے تو ہم اُن کی اچھائیوں کو اپنے ادب میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا کرسکتے ہیں ۔

دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی تحصیل ہمیں اپنے ادب اور مادری زبان کے استحکام کے لیے مفید ثابت ہوگی۔اس ضمن میں زبان و ادب کی ترقی کے لیے مختلف تحقیقی کام کیے جاسکتے ہیں، جن کی تکمیل سے معاشی و اقتصادی بدحالی پر بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

(۵) تہذیبی و ثقافتی فوائد :
آج پوری دنیا میں تہذیب و ثقافت کی ایک سرد اور غیر محسوس جنگ جاری ہے ۔ مغربی تہذیب کی یلغار نے انسانوں کوبے حیائی ، بے راہ روی، نفس پرستی ، ہوس رانی ، رشوت ستانی اور روحانی کرب و بے چینی میں مبتلا کرکے رکھ دیا۔

آج ہر قوم کے سامنے اُس کے اپنے تشخص کے تحفظ و بقا کا مسئلہ در پیش ہے۔ ان کی تہذیب ، اُن کی ثقافت نذرِ مغرب ہوتی جارہی ہے۔ ایسے ماحول میں دینی و اخلاقی تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر ہم عصری تعلیم کے میدان میں بھی کامیاب ہوتے ہیں تو اچھائی اور برائی کی تمیز کا جذبہ پروان چڑھے گا ۔ جس کے سبب ہم دیگر اقوام کے سامنے اُن کی مادی تہذیب کی خامیوں اور اپنی روحانی تہذیب کی اچھائیوں کو پیش کرکے مذہب کی تبلیغ کا ایک غیر محسوس کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ۔ لہٰذا عصری تعلیم کے حصول سے تہذیبی و ثقافتی فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔

عصری تعلیم کے حصول کی مدد سے ہم اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف شعبوں میں تحقیقی کام کے علاوہ جیو گرافی، اوشنیو گرافی ، آثارِ قدیمہ، ماحولیات ، فارینسک، ادب ، تاریخ ، فلسفہ ، سماجیات اور عمرانیات پر مبنی کورسیز کیے جاسکتے ہیں۔ جن کی بدولت ہمیں تہذیبی و ثقافتی فوائد بھی ملیں گے ساتھ ہی معاشی و اقتصادی بھی۔

(۶) قومی و ملّی فوائد :
عصری تعلیم کے قومی و ملّی فوائد بھی بے شمار ہیں۔ نوجوان، قوم و ملت کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہوتے ہیں۔ قوم و ملت کی ہمہ جہت ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے نوجوانوں کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اگر نوجوان غیر تعلیم یافتہ ہوں گے یامحض دینی تعلیم ہی کے شرَف سے مشرف ہوں گے تو وقت کے جدید تقاضوں سے ناآشنائی کے سبب دورِ حاضر کے مختلف چیلنجز کا مقابلہ کس طرح کریں گے۔ لہٰذا قوم و ملت کی ہمہ گیر ترقی کے لیے عصری تعلیم کا حصول بے حد ضروری ہے ۔عصری تعلیم سے آراستہ نوجوان ملک و ملت کے لیے ہر اعتبار سے فائدے مند ثابت ہوتے ہیں۔ اگر اُن کی تعلیم صحیح رُخ پر ہوگی تو وہ کبھی بھی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی قسم کی دہشت پسندانہ کارروائیوں کا حصہ بنیں گے۔ اُن کے اندر اپنے ملک و ملت کے لیے وفاداری کا جذبہ بیدار ہوگا ۔ وہ ملک کے تحفظ و استحکام اور سا لمیت کے لیے عملی طور پرسرگرم ہوں گے اور ملک دشمن عناصر سے ملک کو پاک کرنے کی حتی المقدور سعی بھی کریں گے۔ اس طرح عصری تعلیم کے نفع بخش حصول سے قومی و ملی فوائد میسر آئیں گے۔

ماحصل :
تعلیم کا حصول چاہے وہ دینی ہو یا عصری ؛ ہر لحاظ سے ہمہ گیر ترقی و بقا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ قرآن میں رب تبارک و تعالیٰ نے علم اور تعلیم کی اہمیت کا بار بار ذکر فرمایا۔ پیغمبر اسلام معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ کثرت احادیث بھی تعلیم و تعلم کی ضرورت ، اہمیت اور فوائد کو اجاگر کرتی ہیں۔ تعلیم کے دونوں جز دینی و عصری تعلیم اگر ساتھ ساتھ چلتے رہیں تو ملک و قوم کو ایک ہمہ گیر و ہمہ فکر اچھے شہری میسر آئیں گے جو ہرلحاظ سے ملک و قوم کے تحفظ و استحکام کا سبب بنیں گے۔ لہٰذا ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول کی طرف بھی توجہ مرکوز رکھیں ۔ عصری تعلیم کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں کہ اس سے مکمل طور پر اعراض و روگردانی کی جائے ۔ ماضی میں مسلمانوں کی ترقی کا راز یہی تھا کہ وہ اپنے دور کے تقاضوں کو سمجھ کر اُس عہد میں رائج عصری علوم کو بھی سیکھاکرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر میدا ن میں کامیاب وکامران تھے ۔ دورِ حاضر میں ہماری تعلیمی کیفیت بڑی تشویش ناک اور عبرت ناک ہے ۔ ہم عصری تعلیم میں تو پیچھے ہیں ہی ،ساتھ میں دینی تعلیم میں بھی ہمار ی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔اس لیے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانے اور باعزت زندگی بسر کرنے کے لیے خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے صاحبِ سجادہ حضرت اقدس پروفیسر ڈاکٹر سید محمد امین میاں قبلہ دام ظلہٗ کے قول :’’ آدھی روٹی کھائیے بچوں کو پڑھائیے ‘‘ پر عمل کرنا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے۔ اگرہم دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں توآنے والا کل ہمارے لیے بڑی آزمایش اور ابتلا کا ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 355077 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 2733

Comments

آپ کی رائے