DEATH SQUAD (قاتل دستہ)

(Nida Yousuf Shaikh, )


یہ اصطلاح پہلی بار 1970ء کی دہائی میں لاطینی امریکہ میں ان فوجیوں یا پولیس والوں کیلئے استعمال ہوئی تھی جو کبھی یونیفارم میں کبھی سادہ کپڑوں میں حکام کی منشاء سے یا اسکے بغیر کسی ایسے شخص کو ختم کردیں جو حکومتِ وقت کا مخالف ہو ۔قاتل دستے عام طور سے دائیں بازو کی فوجی حکومتوں کے عہد میں کام کرتے آئے ہیں س،مثلاََ ارجن ٹینا میں 1976-1983ء اور ایل سیلویڈور میں1980ء کے زمانے میں قاتل دستوں نے بڑی دہشت پھیلائی تھی جہاں ان کے ہاتھوں 1980ء میں آرچ بشپ Oscar Romesoکا بھی قاتل ہوا بسا اوقات یہ دستے ذاتی تعصب اور نفرت کی بنا پر حملہ آور ہوتے ہیں مثلاََ برازیل میں لاوارث بچوں کو ختم کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر ان کے قتل کی وارداتیں ہوئی ہیں 2003ء میں ایک اخباری مضمون کے مطابق وسطی امریکہ میں ان لاوارث بچوں کو اسی طرح ہلاک کیا جاتا رہا ہے جیسے بچے نہ ہوں شہر میں گھُس آنے والی جنگلی لومڑیاں ہوں جنہیں ختم کرنا ضروری ہو اگرچہ ان وارداتوں میں عام لوگ اور منشیات فروشوں کا بھی ہاتھ تھا لیکن زیادہ تر پولیس کے قاتل دستے تھے جو انکا صفایا کرنے کے در پہ تھے ۔

میرا درج بالا تحریر میں اصطلاح DEATH SQUAD(قاتل دستہ) کو یہاں حوالوں کے ساتھ بیان کرنے کا مقصد در اصل یہ واضح کرنا ہے کہ ملک پاکستان کو دہشت گردانہ حالات درپیش ہیں ان دہشت گرد گروہوں کا تعلق طالبان، لشکرِ جھنگوی،القاعدہ ، داعش اور اسی طرح کی جو دیگردہشت گرد تنظیمیں زمانے کے ساتھ ساتھ منظرِ عام پر آتی جا رہی ہیں ان کے مقاصد اور مفادات کچھ بھی ہوں پر ان کا مرکز اور منبع ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں جتنے بھی مسلم ممالک ہیں ان میں بسنے والے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے اور یہ تمام دہشت گرد تنظیمیں جو کہ منظرِعام پر پوری دنیا میں دہشت کا سائن بن چکی ہیں ان تمام کی شناخت اسلام سے متعارف کروائی گئی ہیں اور وہ خود کو بھی اسلام کی پہچان بتاتے ہیں ان کے پہ در پہ دہشت گردانہ اقدامات اور اسکے اعترافات سے پوری دنیا میں اسلام کی شناخت دہشت گردی سے منسوب کر دی گئی ہے ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ اسلامی ریاستوں میں جا کر وہاں کی املاک اور عوام کو اپنے دہشت گردانہ مکروہ عظائم کے تحت نشانہ بنا کر ڈھٹائی سے اسکی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں ان کے اس اقدامات سے پوری دنیا میں یہ بات سب پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے اور لفظ مسلمان دہشت گردی کی علامت بن چکا ہے یہ سب لادینی قوتوں کا سازشی جال ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے بقاعدہ منظم طریقے سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر خود کو اسلام کا علمبردار پیش کرتے ہوئے پوری دنیا میں دہشت پھیلاتے ہیں تاکہ سب پر یہ بات ثابت ہوجائے کہ مذہبِ اسلام اور مسلمان پوری انسانیت کیلئے خطرہ ہے ۔

ہماری باشعور اقوام یہ بات سمجھنے سے اب تک قاصر ہیں کہ اور نا جانے کیوں ان کی سازش کا شکار ہو کر اس بات کو خود بھی ذبان زد عام کرتے جا رہے ہیں کہ ـ’’اسلام پسند عناصر‘‘ وہ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ اسلام پسند تو ہم خود ہیں جو بھی کلمہ توحید کا اقرار دل سے کرتا ہے خود کو مسلم شناخت کرتا ہے وہ ہی اسلام پسند ہے یعنی ہم سب ہی اسلام پسند ہیں اور اس بات کا انکار کسی کو بھی نہیں سوا غیر مسلم کے اور جن دہشت گرد تنظیموں کو بے عقل اور ناعاقبت اندیش لوگ ’’اسلام پسند عناصر ‘‘ کا نام دے رہے ہیں وہ خود اس سازش کے آلہ کار ہیں جو کہ لا لادینی قوتیں اسلام کے خلاف جان بُن رہی ہیں وہ ان کو بطور سیڑھی استعمال کر رہی ہیں۔

اگر دہشت گردی اسلام کا حصہ سمجھی جاتی تو جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل گزشتہ روز میونخ میں جاری تین روزہ ’’بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس‘‘ میں اپنے خطاب کے دوران واضح الفاظ میں یہ اعتراف کہ اسلام کسی طور بھی دہشت گردی کا ذریعہ یا منبع و ماخز نہیں بلا شبہ حقیقت پسندی اور انصاف دوستی کا نہایت قابلِ قدر مظاہرہ ہے ،اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان ریاستوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا حصہ بنایا جائے ،مسلمان ملکوں کہ تعاون ہی سے اس مسئلے کے اصل اسباب کا تعین دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے انہوں نے مسلم عمائدین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ واضح الفاظ میں پُر امن اسلام اور اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہونے کو واضح کریں ، فی الواقع یہ ایک کُھلی حقیقت ہے کہ اسلام ایک پُرامن مذہب ہے جسمیں قتل وغارت گری کی قطعاََ کوئی گنجائش نہیں ۔اسکی واضح تعلیمات ہیں کہ کسی ایک بے گناہ شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل کے مترادف ہے اسکے باوجود بعض عناصر اپنے مخصوص مفادات کیلئے اسلام کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ دیتے ہیں ،بلا شبہ دہشت گردی کا نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی یہ کسی ایک خطے تک محدود ہے تاہم مُٹھی بھر نام نہاد مسلمان دہشت گردوں کے باعث پورے مذہبِ اسلام کو غلط طور پر دہشت گردی کا حامی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اس عفریت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے سبھی ممالک مثلاََ پاکستان ، افغانستان ، عراق اور شام وغیرہ مسلمان ہیں ،لہٰذا اس حوالے سے کسی ایک ملک یا مذہب کو موردِالزام ٹھرانے کے بجائے اسکے خاتمے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں ضروری ہیں ۔جرمن چانسلر کی یہ تجویز بہت مناسب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے ہم سب کے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں جس کے لئے ہم مل کر کام کر سکتے ہیں اس پر غور کرتے ہوئے تمام ممالک کو آپس میں تعاون بڑھانا چاہئے اور بے انصافیوں کا خاتمہ کیا جانا چاہئے تاکہ دہشت گردی سے پاک دنیا کا خواب شرمندہِ تعبیر ہو سکے۔

ان کے اس بیان سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ باشعور افراد اسلام کو دہشت گردی کے مترادف خیال کرتے ہیں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنا اور انDEATH SQUAD(قاتل دستہ) ’’کو اسلام پسند عناصر‘‘کہنا سراسر زیادتی ہے جب ایک غیر مسلم اس بات کی سچائی کو قبول کررہا ہے کہ اسلام اور دہشت گردی یکسر دو مختلف باتیں ہیں تو یہ مسلمان جو ’’اسلام پسند عناصر‘‘ کہہ کہ ایک طرح سے احیائے اسلام کی توہین اور اسکو اپنے الفاظوں کے تیر کیوں کر اور کس کی ایما پر چلاتے ہیں․․․ آپ خود اندازہ لگائیے کہ مسجدوں عبادت گاہوں اسلامی مجالس ،مزراتِ اولیا بازاروں اور ان جگہوں جہاں پر مسلمانوں کا جمِ غفیر ہو اُن مقامات کو یہ گروہ نشانہ بناتے ہیں اس بات سے تو یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ یہ گروہ اسلام پسند نہیں اور انکا قطعاََ اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اسلام دشمن اور لادین قوتوں کا وہ قاتل دستہ ہے جسے صحافت کی اصطلاح میںDEATH SQUADکا نام دیا جاتا ہے۔

مختلف تجزیہ نگاروں کے مطابق شام اور عراق میں داعش اب کمزور ہو رہی ہے اور اسکے ہاتھ سے علاقے اب نکلتے جا رہے ہیں جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج اسکے پاس 2017ء میں اپنے زیرِ کنٹرول زمینوں کا صرف دسواں حصہ ہی بچا ہے اس وجہ سے وہاں عسکریت پسند اپنے اپنے طے شدہ ممالک کا رخ اختیار کر رہے ہیں جہاں وہ حملے کرینگے حکومت مزار پر حملے کی بھی یہی وجہ سمجھتی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان دہشت گردوں ملک دشمنوں اور انتہا پسندوں کی ظالمانہ اور تخریبی کاروائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔رواں سال لاہور چیئرنگ کراس اور سیہون میں لعل شہباز قلندر علیہ الرحمتہ کے مزار پر خود کش دھماکوں نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اسکے علاوہ بھی مختلف شہروں میں دہشت گردی کا عمل جاری ہے سیکیورٹی اہلکار عوام کے شانہ بشانہ اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ملک کو دہشت گردوں کی عفریت سے پاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو عام شہریوں کے درمیان رہنے والے ہمدرد اور سہولت کاروں سے ہر طرح کی مدد اور حمایت حاصل ہے ان سہولت کاروں اور ہمدردوں کو ختم کئے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں سب لوگوں کی نظریں جزل باجوہ پر ہیں کہ وہ پاکستان میں امن وامان کو بحال کرنے میں اپنے پیش رو کی کامیابی کو دہراتے ہیں یا نہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nida Yousuf Shaikh

Read More Articles by Nida Yousuf Shaikh: 19 Articles with 7543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Mar, 2017 Views: 380

Comments

آپ کی رائے