بے حیا ئی کا سیلاب

(Azhar Iqbal Mughal, )

موجودہ دور میں بے حیائی اس قدر تیزی سے پھیل رہی ہے کہ آنے والوں وقتوں میں اس کی روک تھام بہت ہی مشکل ہوجائے گی جس کی ویسے تو کئی وجوہات نظر آتی ہیں لیکن چند بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج کے دور میں بیحیائی عروج پر جاتی دکھائی دیتی ہیاگر اس بے حیائی کے پھیلتے سمندر پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والے وقت میں شائد کوئی ایسا پاکستانی ہوگا جو کہ اس کی ضد کا شکار نہ ہو کیوں کہ بے حیائی دن بدن پروان چڑھتی نظر اتی ہے ٓج ہم نے اپنا کلچر چھوڑ کر مغربی کلچر کو اپنا لیا ہے بلکہ مسلط کر لیا ہے تو کچھ غلط نہ ہو گا آج جہاں پاکستان بہت سارے دوسرے مسائل میں گھرا ہوا ہے وہاں بے حیائی بھی پاکستان کا ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے آ ج کے جدید دور میں مختصر لباس پہننے والی عورتوں کو مہذب اور تعلیم یافتہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ ایک باپردہ عورت کو تنگ نظر کہا جاتا ہیایسا کیوں ہے کیوں کہ ہم جو اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں وہ مغربی طرز پر دے رہے ہیں اسی لیئے آج کی نوجوان نسل بے حیائی کی طرف جا رہی ہے کیونکہ جب تک ہم اپنے بچوں کو یہ نہیں بتایئں گے کہ ہمارا دین کن باتوں سے منع کرتا ہے اور کن باتوں کی اجازت دیتا ہے تو ہماری آنے والی نسلوں کو کیسے پتہ چلے گا غلط ٹھیک آج ہم نے خود کو مغربی رنگ میں رنگ لیا ہے ہمارا اپنا رنگ بگڑ گیا ہے کیونکہ جب کسی رنگ کو کوئی اور رنگ دیا جاتا ہے تو اس کا اپنا رنگ خراب ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح ہماری نوجوان نسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔پہلے وقتوں میں لوگوں میں سادگی پائی جاتی تھی اور بے حیائی کے اتنے مواقع فراہم نہیں تھے جتنے کہ م آج ہیں ہر طرف بیحیائی کے منظر سر عام دیکھنے کو ملتے ہیں ویلنٹائن ڈے پر اسلام آباد لاہور اور باقی بڑے بڑے شہروں کے تما ہوٹل بک ہوتے ہیں وہاں جو ہو رہا ہوتا ہے آج سب جانتے ہیں اور پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس کو سر عام منایا جاتا ہے ویلنٹاٗئن والے دن دن لڑکے لڑکیاں سرعام ملتے ہیں اور ہوٹلوں مین جا کر یہ دن ہلا گلا کے ساتھ مناتے ہیں۔لیکن کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہر انسان اپنی لائف میں اس قدر مصروف ہے کہ کسی کو ان مسائل پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے لیکن اس اسلامی ریاست میں بیحیائی یورپ کو بھی کراس کرتی جا رہی ہے آج پاکستان کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کیا ہو رہا ہے سر عام جسم فروشی ہو رہی ہے شراب عام ہے شرافت کا لبادہ اوڑے بہت سارے مہذب اور شریف لوگ اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں آج اس موضوع پر بات کرنے والے کو جاہل کہا جاتا ہے آج بے حیا ئی جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے اور جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی بے حیا ئی کی آگ میں لاکھوں کی تعداد میں لڑکیاں لڑکے جل رہے ہیں جن کا تعلق اچھے گھرانوں سے ہیں موجودہ ماحول نے ان کو خراب کر کے رکھ دیا ہے کچھ خواہشات کے غلام بن کر اس ٓگ میں کودنے پر مجبور ہوگئے ہیں بے حیا ئی آج ہم مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے آج کے جدید دور میں ہمیں ہر جگہ سکول کالج یونیورسٹیرز ہر جگہ بے حیائی ابھرتی دکھائی دیتی ہے آج جدید دور میں جوس کارنر کی آڑ میں لوگ بے حیائی کے اڈے چلا رہے ہیں جوس کارنرز میں آج کل کام ہی صرف یہ ہو رہا ہے ایک جوس کا گلاس ۰۰۳ سے ۰۰۵ میں فروخت ہوتا ہے آنے والے جوڑوں کو عیاشی کے لیئے علٰیحدہ جگہ فراہم کی جاتی ہے جوس کا صرف ایک بہانہ ہے اس کی آڑ میں فحاشی کے اڈے چلائے جا رہے ہیں آج ہر بندہ مہنگائی کا رونا روتا ہے آج کس کا دماغ خراب ہے کہ ۰۰۱ روپے والے جوس کے ۰۰۵ دے اتنا معصوم اور بھولا کون ہے اس دنیا میں آج جوس کارنر کا رخ صرف ضرورت مند جوڑے ہی کرتے ہیں اسی طرح آئس کریم پارلر کی آڑ میں منی عیاشی کے اڈے جگہ جگہ کھل رہے ہیں ان جوس کارنر اور ہوٹلوں اور آئس کریم پارلر میں صرف عیاش لوگ ہی نہیں آتے آج شریف گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں بھی اس لعنت میں تیزی سے ملوث ہو رہے ہیں اور بے راہ رروی کا شکار ہو رہے ہیں ایک دور تھا کہ کسی کی بہن بیٹی کو ماں بہن بیٹی کی نظر سے دیکھا جاتا تھا آج صرف عورت مرد کا بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا رشتہ ہے یہ کلچر ہمیں مغرب سے ملا ہے اسلام میں بلکہ برصغیر پاک وہند میں یہ کلچر پہلے سے موجود نہیں تھا اس لیئے آج جو یہاں ہو رہا ہے اس پر کوئی پوچھنے والا ہی نہیں کسی کو کوئی فکر نہیں کہ آنے والے وقت میں کیا ہو گا اس مسئلہ پر سب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اگر کوئی آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے شریف ا تو اس کی آواز کو با اثر افرا فوری دبا دیتے ہیں میڈیا پر آئے دن اس طرح کے بے شمار لوگوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے جو کہ اس طرح کے کاموں ملوث ہیں لیکن وہ پیسے دے کر پھر سر عام گھومتے نظر آتے ہیں۔ ایک دور تھا کہ بازارِ حسن اس کام کے لیئے بہت مشہور تھا لیکن اب با ازارِ حسن کو بند کر کے سر عام عیاشی کے اڈے کھل گئے ہیں کیونکہ اب بازار حسن ایک بدنام جگہ ہوچکی تھی اس لئے آج کی دینا کے جدید باازارِ حسن کو عیاشی کے اڈے یہی ہوٹل اور جوس کارنر آٗئس کریم پالر بنتے جا رہے ہیں پولیس بھی اس مین ان کے ساتھ ہے لوگوں کو گرفتار ضرور کیا جاتا ہے لیکن پیسے لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے آج کیا ہو رہا ہے ہوٹل اور جوس کارنر کے مالکان کو صرف پیسوں سے غرض ہیں ان کا کاروبار عروج پر چل ہا ہے ان کوئی فکر نہیں کہ ہوٹل جوس کارنر میں آنے والی بہن بیٹی ان کی بھی ہو سکتی ہیں اس بڑھتی ہوئی بے حیا ئی کے سیلاب کو اگر نہ روکا گیا تو ایک وقت آئے گا سب اس سیلاب میں بہہ جائیں گے یہ پاکستان کے لیئے اہم اور غور طلب مسٗئلہ ہے اس کی روک تھام کے لیئے حکومتِ پاکستان کو سختی سے عمل کرنا چاہئیے ورنہ ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں رہے گا اور ایک دن پاکستان بے حیائی کا مرکز بن جائے گا آج ہمین صرف اسلام کو پر چلنا چاہیئے ہماری پاس ایک اپنی تہذیب اپنا کلچر موجود ہے جو کے قدیم تہذبوں میں سے ایک ہے پاکستان کو بچانے کیلئے آج اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور فکر اور عمل کرنا ہوگا اگر ہر مسلمان صر اپنے گھر پر یہ قابو پا لے تو ہم اس بے حیائی کے سیلاب میں بہنے سے بچ سکتے ہیں آج ہماری تہزیب ہمارا کلچردم توڑتا دکھائی دیا ہے کیوں کہ ہم نے مغرب کی تہذیب کو اپنا لیا ہے اور اپنا مذہب اپنی ثقافت اپنی تہذیب سب کو خیر باد کر دیا ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Iqbal Mughal

Read More Articles by Azhar Iqbal Mughal: 36 Articles with 21256 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Mar, 2017 Views: 621

Comments

آپ کی رائے