دعا کی حقیقت ،فضیلت ،خصوصیت اور قبولیت کے اوقات قرآن وحدیث کی روشنی میں

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : دعا عین عبادت ہے ، اس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے (بطورِ سند یہ آیت تلاوت کی) فرمایا:وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ(المؤمن)تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ ہی سے دعاکرو، میں قبول کروں گا۔

دعا عبادت کا جوہر اور خاص مظہر ہے :انسان شرف و فضل اور علم و عقل کا حامل ہونے کے باوجود کس قدر عاجز ہے کہ روزانہ بلکہ ہر لمحہ جن چیزوں کا وہ ضرورت مند ہے اسے بھی وجود میں نہیں لاسکتا، مثلاً نہ وہ اپنے لیے (اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر) پانی کا ایک قطرہ وجود میں لاسکتاہے ، نہ وہ ہوااور آکسیجن کو پیداکرسکتاہے ، جس کے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا، اوراﷲ تعالیٰ کتنا عظیم اور قادر ہے کہ جس نے اتنی بڑی کائنات اپنی مخلوقات کے لیے پیدا فرمائی اور ان کی ہر طرح کی ضروریات کابہتر سے بہترانتظام فرمایا،پھر وہ مہربان اور سخی بھی کتنا ہے کہ اپنے خزانۂ قدرت سے نعمتوں کاایک لامتناہی سلسلہ جاری فرمایااوردنیا میں اچھے برے کے فرق کے بغیر بے شمارنعمتوں سے نوازا او رہر ایک کو دامن بھر بھر کر کے دیا، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کون اس لائق ہوسکتاہے کہ عاجزاور محتاج انسان اُس کے سامنے ہاتھ پھیلائے اوراپنی تمام ضروریات کے کشکول صرف او رصرف اسی کے سامنے کھولے ، جب انسان اس طرح اس کے سامنے ہاتھ پھیلاکر مانگتاہے تو اسی اداءِ بندگی کانام دعاہے ۔ دعا اورعبادت میں خاص مناسبت ہے ،اس لیے کہ عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے مولیٰ کے حضور سراپا محتاج بن کر اپنی عاجزی اور محتاجی کا مظاہرہ کرے ، اور یہ بات دعا میں پورے طور پر موجود ہے ، کیوں کہ دعا کا جزو و کل اور اول و آخر اور ظاہر و باطن یہی ہے کہ بندہ اپنے مالکِ حقیقی کے سامنے انتہائی عاجزی سے ہاتھ پھیلا پھیلا کر مانگے کہ دعا بندے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان ایک سیدھا رابطہ ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ جو حقیقت عبادت کی ہے وہی حقیقت دعا کی بھی ہے ،اس لیے ہر عبادت دعا ہے اور ہر دعا عبادت بلکہ عبادت کا جوہر اور خاص مظہر ہے ،اسی پر آیتِ قرآنی دال ہے اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ(المؤمن)جو لوگ مجھ سے مانگنے میں تکبر کرتے ہیں، قریب ہے کہ وہ دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں۔اس میں ’’عبادت‘‘بمعنیٰ دعا ہے ،اور خود حدیث میں بھی دعا کو عبادت کا مغز بتلایا :عَنْ أَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ (ترمذی)۔

دعا سب سے قیمتی عمل ہے :پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ دعاعبادت کاخلاصہ، مغز،جوہر، زینت اورایک خوشنما شیریں پھل ہے ،جو ایمان کے اس پودے پر لگتا ہے جس کی آبیاری ندامت کے آنسوؤں سے کی جاتی ہے ،تو اس کا پہلا پھل صبر و سکون ، راحت اور عبادت کی صورت میں ملتا ہے ، اور عبادت ہی انسان کی تخلیق کا اصل مقصدہے ، تو اب یہ بات خود بخود متعین ہوگئی کہ انسان کے اعمال و احوال میں دعا ہی سب سے زیادہ مکرم و محترم اور قیمتی شے ہے ،حدیث میں ہے :عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: لَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَمَ عَلٰی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَاءِ(ترمذی)یعنی اﷲ رب العزت کے یہاں کوئی چیز دعا سے زیادہ عزیز نہیں،دعا اﷲ تعالیٰ کے خزانوں سے لینے اور اس کی رحمت و اعانت کو کھینچنے کا سب سے زیادہ طاقتور ذریعہ ہے ۔

دعا کی حقیقت :اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ دعا صرف ان دعائیہ الفاظ کا نام نہیں جو زبان سے ادا ہوتے ہیں ،ان الفاظ کو تو زیادہ سے زیادہ دعا کا لباس اور قالب کہا جاسکتا ہے ،دعا تو وہ ہے جو دل کی گہرائی سے اس یقین سے کی جائے کہ زمین و آسمان کے سارے خزانے صرف اور صرف ربِ کریم کے قبضہ و اختیار میں ہیں ،اور وہ اپنے در کے سائلوں اور مانگنے والوں کو عطا فرماتا ہے ،اور ہمیں تب ہی کچھ ملے گا جب وہ عطا فرمائے گا،اس کے در کے سوا ہم کہیں سے کچھ نہیں پا سکتے ،اس یقین اور سخت محتاجی و کامل بے بسی و فقیری کے احساس سے بندے کے دل میں جو خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اور جس کا زبان سے اظہار ہوتا ہے وہ ہے دعا، اس میں الفاظ سے زیادہ دلی جذبات اور کیفیات کی اہمیت ہے ۔
پھر بندے کا کام ہے مانگنا، مولیٰ کا کام ہے دینا، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے :یٰٓأَیُّھَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلیَ اللّٰہِ(الفاطر )اس آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے پوری کائنات انسانی کو خطاب فرمایاکہ جو میرے ہیں وہ بھی او رجو میرے نہیں ہیں وہ بھی سنیں! تم سب امیر ،کبیر اورحکمراں و مقتدا ہونے کے باوجود تمہاری پہچان ہی یہ ہے کہ تم سب اﷲ تعالیٰ کے فقیر ہو ،اور دائمی فقیر ہو،دنیا کے فقیر تو عارضی ہوتے ہیں ،اگر انہیں ایک کروڑدے دو تو مالدار ہو جائیں ،لیکن تم اﷲ تعالیٰ کے دائمی فقیر ہو، خواہ تم شاہ ہویا گدا ،امیر ہو یا غریب، حاکم ہو یا محکوم ،عامی ہو یا نامی،یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآء
اِلیَ اللّٰہِتم سب اﷲ تعالیٰ کے فقیر ہو۔ یہاں جملہ اسمیہ ہے جو دوام پر دلالت کرتا ہے ،اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہم سب اﷲ تعالیٰ کے دائمی فقیر ہیں، تو فقیر کو کیا چاہیے ؟ مانگنے کا پیالہ! تو وہ بھی حاضر ہے،فرمایا:او ہمارے دائمی فقیرو!ہم سے مانگنے کے لیے ہم تمہیں ایک دائمی پیالہ دیتے ہیں ،پس ذرا اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر ملالو، بن گیا پیالہ ،اب مانگو مجھ ہی سے ،تمہارا مانگنا اور دعائیں کرنا مجھے بہت پسند ہے ، وعدہ کرتا ہوں کہ جب تم مجھ ہی سے دعائیں کرو گے تو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ (اُدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ)
خدا سے مانگ جو مانگنا ہو اے اکبر!
یہی وہ در ہے جہاں آبرو نہیں جاتی

ایک واقعہ :ابن جوزی ؒ نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ایک فقیر کسی امیر کے پاس اپنی حاجت لے کر حاضر خدمت ہوا ،اتفاق سے اس وقت وہ امیر سجدہ میں پڑا اﷲ رب العزت سے دعا مانگ رہاتھا ،یہ دیکھ کر وہ فقیر کہنے لگا :یہ خود تو دوسرے کا محتاج ہے ،پھر میں اس سے کیوں مانگوں ؟ میں بھی اپنی حاجت اس ذات کے سامنے کیوں نہ پیش کردوں جس کا یہ محتاج ہے، امیر نے فقیر کی یہ بات سن لی ، اسے بلا کر دس ہزار کی خطیر رقم دی اور کہا:یہ رقم تجھے اسی ذات نے دی ہے جس سے میں سجدہ کی حالت میں مانگ رہا تھا ،اور جس کی طرف تونے رجوع کیا۔( کتابوں کی درسگاہ میں)

دعامانگنا حکم الٰہی کی اطاعت اور نہ مانگنا مخالفت ہے :یوں تو ہر مذہب اور قوم میں دعا کا تصور ملتا ہے ،لیکن اسلام کا پیغام ساری انسانیت کے نام دعا کے سلسلے میں یہ ہے کہ اسی سے دعا مانگو جس کی شان یہ ہے کہ وہ دعا مانگنے والے سے خوش اور نہ مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے ۔

ایک مسجد کے دروازے پر بڑا خوبصورت جملہ لکھا تھا کہ ’’اﷲ تعالیٰ کے پاس آپ کو دینے کے لیے سب کچھ ہے ، کیا آپ کے پاس (اس سے ) مانگنے کے لیے سلیقہ اور وقت ہے ؟ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
غیروں سے مانگا کچھ نہ ملا ذلت ملی
اﷲ سے مانگا سب کچھ ملا عزت ملی
مانگ اسی سے جو دیتا ہے خوشی سے
کہتا نہیں کسی سے اور مطالبہ کیا سبھی سے
کہ ہم سے مانگو! یعنی دعا کرو۔خداوند قدوس کی شان بڑی نرالی ہے ، وہ مانگنے والوں کو خوش ہو کر دیتا ہے ،جب کہ نہ مانگنے والوں سے سخت ناراض ہوتا ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ(الغافر)جو اس سے نہیں مانگتے ان کو جہنم کی وعید سنائی گئی؛ کیوں کہ رب العالمین سے دعا مانگنا جہاں عبادت اور عبدیت ہے وہیں حکم الٰہی کی اطاعت بھی ہے ، اور دعا نہ مانگنے میں فرمانِ الٰہی کی مخالفت ہے ،اس بنا پر وہ دعا نہ مانگنے والوں سے ناراض ہوتا ہے ،حدیث میں ہے :عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَاللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ :مَنْ لَّمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضَبْ عَلَیْہِ(ترمذی)جو اﷲ تعالیٰ سے نہیں مانگتا اﷲ تعالیٰ اس پرناراض اور غضب ناک ہوجاتا ہے ،یہ اس کی عجیب شان ہے ،اس کے علاوہ دنیا میں کوئی نہیں جو سوال نہ کرنے سے ناراض ہوتا ہو، اور تو اور، حقیقی ماں باپ تک کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر بچہ بار بار مانگے اور سوال کرے تو وہ بھی چڑ جاتے ہیں، سیٹھ صاحب سے کوئی ضرورت مند سوال کرے تو ایک دو مرتبہ ضرورت پوری کردیں گے ،لیکن بار بار سوال کیاجائے تو وہ بھی کہہ دیتے ہیں’’تمہیں مانگتے رہنے کی عادت پڑ گئی ہے ‘‘ ناراض ہوجاتے ہیں ،یہ دنیا والوں کا حال ہے کہ مانگنے والے سے ناراض ہوتے ہیں، لیکن دنیا بنانے والے ہمارے خالق و مالک کا حال یہ ہے کہ نہ مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے ، عربی کے ایک شاعر نے کتنی عمدہ بات اپنے شعر میں کہی ہے :
لَا تَسْأَلَنَّ بَنِیْ اٰدَمَ حَاجَۃً
وَسَلِ الَّذِیْ أَبْوَا بُہا لاَتُحْجَبُ
اللّٰہُ یَغْضَبُ اِنْ تَرَکْتَ سُوَالَہ
وَ ابْنُ اٰدَمَ حِیْنَ یُسْأَلُ یَغْضَبُ

لوگوں سے کیوں سوال کرتے ہو ؟ اسی سے سوال کرونا! جس کا دروازہ کبھی کسی کے لیے بند نہیں ہوتا ،اس مالکِ حقیقی کی یہ انوکھی شان ہے کہ جب تم اس سے مانگو تو وہ خوش ہو تا ہے اور نہ مانگو تو روٹھ جاتاہے ، جب کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان سے مانگو تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں ۔

دعا کی قبولیت کا وعدہ امت محمدی کی خصوصیت :پھر یہ دعا بندۂ خدا کی گویادرخواست ہے ، بندہ کا کا م دربارِ الٰہی میں مانگنا ہے ، جب بندہ اپنا کام کرتا ہے تو خدا بھی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے کہ اس نے دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے : ( اُدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ)مجھے پکارو! مجھ ہی سے دعائیں مانگو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ مولانا جلال الدین رومی ؒ نے تواس موقع پر عجیب بات فرمائی ہے :
چوں دعا را امر کر دی اے عُجَاب
ایں دعائے خویش را کن مستجاب

اے ہمارے رب !جب تونے ہمیں دعا کرنے کا حکم دیا ہے تو یہ دعا ہماری نہیں بلکہ تیری ہے ،لہٰذا اپنی دعا کو تو قبول فرمالے ۔حضرت پیر ذوالفقاراحمد صاحب نقشبندی مدظلہ فرماتے ہیں:روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی الٰہی آئی :خَمْسَۃٌ مِنِّیْ وَ خَمْسَۃٌ مِّنْکَ، اَلْأُلُوْ ھِیَّۃُ مِنِّیْ وَالْعُبُوْدِیَّۃُ مِنْکَ، النِّعْمَۃُ مِنِّیْ وَالشُّکْرُ مِنْکَ، الْقَضَاءُ مِنِّیْ وَالرِّضَا مِنْکَ، الاِجَابَۃُ مِنِّیْ وَالدُّعَاءُ مِنْکَ، الْجَنَّۃُ مِنِّیْ وَالاِطَاعَۃُ مِنْکَ۔
پانچ چیزیں میرے لیے ہیں اور پانچ چیزیں تمہارے لیے ہیں:(1) الوہیت میرے لیے تو عبدیت تمہارے لیے ۔(2)نعمت میری طرف سے ہے تو شکر تمہاری طرف سے ۔(3) قضا میری جانب سے ہے تو رضابالقضا ء تمہاری جانب سے ۔(4)دعا کی قبولیت میری طرف سے ہے تو دعا تمہاری جانب سے ۔(5)اطاعت تمہاری طرف سے ہوگی تو جنت میری طرف سے ہوگی ۔ جنت میری جانب سے انعام ہوگی بشرطیکہ تمہاری جانب سے میری اطاعت ہو ۔

پھر یہ دعاکی قبولیت کا وعدہ بھی اسی امت کی خصوصیت ہے ،چناں چہ حضرت قتادہ ؓ نے حضرت کعب احبارؓ سے نقل فرمایاکہ اس امت کو تین چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں ،بجز نبی کے ۔(1) انبیاءِ سابقین علیہم السلام میں سے ہر نبی سے یہ فرمایا تھا: أَنْتَ شَاھِدٌ عَلیَ النَّاسِآپ (اپنی امت کے )لوگوں پر گواہ ہیں ،لیکن اس امت سے فرمایا:وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ(البقرۃ)مسلمانو! اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایاہے ، تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو۔
(2)حضراتِ انبیاء علیہم السلام سے حق تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ لَیْسَ عَلَیْکَ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجْ تم پر دین میں کوئی حرج اور تنگی نہیں ہے ،جب کہ حق تعالیٰ یہی بات اس امت سے فرمائی: وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ(الحج)اور اس نے تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

(3)ہر نبی سے حق تعالیٰ نے فرمایا تھا: اُدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْمجھے پکارو مجھ ہی سے دعا کرو، میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا،اور یہاں یہی وعدہ پوری امت سے کیا گیا:اُدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ تم مجھ سے دعائیں کرو ،میں تمہاری دعاقبول کروں گا ۔ (ابن ابی حاتم ،امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں،گلدسۂ تفاسیر)

دعاکی قبولیت کا مطلب اور اس کی صورتیں :لیکن اس موقع پر دعا کی قبولیت کا مطلب بھی سمجھ لینا چاہیے ؛ کیوں کہ بہت سے لوگ ناواقفیت سے دعا کی قبولیت کا مطلب صرف یہی سمجھتے ہیں کہ بندہ دعا میں اپنے مولیٰ سے کچھ بھی مانگے تو وہ فورًا مل جائے ، اب اگر وہ نہیں ملتا تو سمجھتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی، حالاں کہ یہ بہت بڑی غلط فہمی اور نادانی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ بندہ خواہ کتنا ہی علم حاصل کر لے ، مگر اﷲ تعالیٰ کے سامنے اس کا علم بے حد ناقص ہے ،بلکہ بندہ اپنی خلقت کے لحاظ سے ظلوم و جہول ہے ،بہت سے بندے ہیں جن کے لیے مال و دولت فضل اورنعمت ہے ، جب کہ بہت سوں کے لیے فتنہ ہے ،بعض کے لیے حکومت قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے اور بعض کے لیے اﷲ تعالیٰ سے بعد اور دوری کا سبب ہے ۔بندہ نہیں جانتا کہ کون سی چیز اس کے لیے مفید ہے اور کیا مضرہے ،کونسی چیز اس کے لیے بہتر ہے اور کونسی بدتر ہے ۔قرآن پاک میں فرمایا :عَسٰی أَنْ تَکْرَہُوا شَیْئًا وَّہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَعَسٰی أَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَکُمْ(البقرۃ)اور یہ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو،اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم ایک چیزکو پسند کرو حالاں کہ وہ تمہارے حق میں بری ہو۔بسا اوقات بندہ ایسی چیز دعا میں مانگتا ہے جو اس کے لیے مفید نہیں ہوتی ،یا اس کا عطا کرنا حکمت الٰہی کے خلاف ہوتا ہے ،لیکن دوسری طرف اس کریم آقا کی شانِ کریمی کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ بندے نے مجھ سے دعاکی تواس کی دعا رد نہ کی جائے ، اس لیے باری تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ دعا کرنے والے کو محروم نہیں لوٹاتا ، بشرطیکہ وہ معاصی اور قطع رحمی کی دعانہ مانگے تو اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے ، لیکن اس کی تین مختلف صورتیں ہیں(1)امَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَہ دَعْوَتُہ کبھی تو اس کو ہاتھ کے ہاتھ وہی عطا فرمادیتا ہے ،جو دعا میں اس نے مانگا۔(2)وَ اِمَّا أَنْ یَّدَّخِرَھَا لَہ فِی الْاٰ خِرَۃِیا کبھی اس کی دعا کو آخرت میں اس کا ذخیرہ بنا دیتا ہے ، اس کی دعا کے عوض آخرت کی بیش بہانعمتوں کا فیصلہ فرمادیتا ہے ،اور اس طرح اس کی یہ دعا جو دنیا میں قبول نہ ہوئی تھی وہ ذخیرۂ آخرت بن جاتی ہے ،جو بہت بڑی نعمت ہے ،حدیث میں ہے کہ جب بندہ کو ہراس دعا کابدلہ دیا جائے گا جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھی تووہ کہے گا:یَالَیْتَہ لَمْ یُعَجَّلْ لَہ شَیْءٌ مِنْ دُعَائِہ(کنز العمال)کہ کاش !دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول ہی نہ ہوتی اور ہر دعا کا بدلہ یہیں ملتا ۔(3)وَاِمَّا أَنْ یَّصْرِفَ عَنْہ مِنَ السُّوْءِ مِثْلَھَا(رواہ أحمد، مشکوٰۃ)اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اس دعا کرنے والے بندے پر اﷲ تعالیٰ کے علم میں کوئی آفت و مصیبت نازل ہونے والی ہوتی ہے ،لیکن جب بندہ دعا کرتا ہے تو حق تعالیٰ آنے والی تکلیف اور مصیبت اس دعا کے نتیجہ میں روک دیتے ہیں ۔

بہر حال بندے کی دعا رائیگا ں نہیں جاتی،اور عجیب بات یہ ہے کہ اﷲ جل شانہ کے دربار میں مانگنے کے لیے اور دعا میں ہاتھ اٹھانے اور پھیلانے کے لیے بزرگی بھی شرط نہیں ہے ، حتیٰ کہ کافر کی دعا بھی قبول کی جاتی ہے ، بلکہ ابلیس لعین تک کی دعا تا قیامت زندہ رہنے کی قبول ہوگئی، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندہ کو ہر مانگی ہوئی چیز دے دی جائے ، اس کی اجابت کے مختلف طریقے ہیں جو حدیث میں بیان کر دیے گئے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دعا میں مانگی ہوئی چیز کا ملنا اﷲ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے ، بندہ کاکام بس مولیٰ سے مانگنا ہے ۔

دعا کے دو فائدے :پھرحضور پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا کوعبادت بھی قرار دیا ہے ،جیساکہ حدیث مذکور میں ارشاد ہے : الدُّعَاءُ ھُوَالْعِبَادَۃُ(دعا عین عبادت ہے )اصل حدیث صرف اتنی ہے غالباً حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا منشا یہ ہے کہ کو ئی یہ خیال نہ کرے کہ بندے جس طرح اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے دوسری محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں اسی طرح کی ایک کوشش دعا بھی ہے ،جو اگر قبول ہوگئی تو بندہ کامیاب ہوگیا اور اس کواپنی کوشش کا پھل مل گیا، ورنہ کوشش بے کار ہوگی،فرمایا: دعا کا معاملہ ایسانہیں،اس کی ایک مخصوص نوعیت ہے ،اور وہ یہ ہے کہ دعا حصولِ مقصد کا وسیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ عین عبادت بھی ہے ،لہٰذا قبولیت کا نفع تو دنیا میں نقد ملتا ہے ،ساتھ ہی عبادت ہونے کی وجہ سے اس کا اجر آخرت میں ضرور ملے گا ۔یہ ہے :’’ آم کے آم، گٹھلی کے دام‘‘

حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ اگر دعا سے مقصد حاصل ہوگیا، تب تو مطلب کا مطلب اور ثواب کا ثواب! لیکن اگر مقصد او رمطلب حاصل نہ بھی ہواتو ثواب توکہیں گیا ہی نہیں۔معلوم ہوا کہ دعا کے دو فائدے ہیں :(1)دعا کی قبولیت سے دنیا میں نقدفائدہ ہوگا۔( 2) دعاکے عبادت اور عبدیت کا مظہر ہونے کی وجہ سے آخرت میں فائدہ ہوگا(ان شاء اﷲ العزیز) لیکن اگر دعا کرنے والے بندے کے احوال و اعمال میں کوئی ایسی چیز ہو جو دعا کی قبولیت سے مانع ہوتو ایسی دعا بے اثر ہوجاتی ہے ،اس کا کوئی نفع نہیں ہوتا ۔

ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی؟:چنانچہ آج بہت سے دعا کرنے والوں کے دلوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب دعاکی قبولیت بر حق ہے ، تو پھر ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں ؟اس کے چند جوابات حدیث شریف میں ملتے ہیں:( 1)کہ جب کھانا، پینا اور پہننا حرام ہو، اور حرام ہی سے دعا کرنے والے کی نشو ونما ہوئی ہو تو دعا قبول نہ ہوگی۔مَطْعَمُہ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُہ حَرَامٌ، وَغُذِّیَ بِالْحَرَامِ، فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذَالِکَ(رواہ مسلم عن أبی ھریرۃؓ، معارف الحدیث)معلوم ہوا کہ حرام کھانے ،کمانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔

(2)جب بندہ غفلت کی حالت میں دعا مانگے تو ایسی صورت میں دعاقبول نہیں ہوگی۔ حدیث میں ہے :وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَجِیْبُ دُعَاءً مِّنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاہٍ(ترمذی)یاد رکھو کہ حق تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل دعا کے وقت بھی اﷲ تعالیٰ سے غافل اور بے پرواہ ہو۔ اس سے پتہ چلاکہ غفلت کے ساتھ کی جانے والی دعا قبول نہیں ہوتی۔

(3) بندہ اگر اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی یا بندہ اﷲ تعالیٰ سے قطع رحمی کی دعا کرے تو ایسی صورت میں بھی دعا قبول نہیں ہوگی۔ حدیث میں: یُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَالَمْ یَدْعُ بِاِثْمٍ أَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ(مسلم)بندہ کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک وہ کسی گناہ اور قطع رحمی کا سوال نہ کرے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی گناہ اور قطع رحمی والی دعا قبول نہیں ہوتی۔

(4)بندہ اگر دعا کے بارے میں جلد بازی سے کام لے تو ایسی صورت میں بھی دعا قبول نہ ہوگی؛کیوں کہ جلد بازی سے بعض اوقات مایوسی پیدا ہو جاتی ہے ،پھر بندہ مایوس ہو کر دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ دعا کی قبولیت کا استحقاق کھو دیتا ہے ۔ حدیث میں ہے :یُسْتَجَابُ لِاَحَدِکُمْ مَالَمْ یُعَجِّلْ(بخاری ومسلم)تمہاری دعا اس وقت تک قابلِ قبول ہوتی ہے جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لیا جائے ، اور جلد بازی یہ ہے کہ بندہ کہے :میں نے دعا کی تھی، مگر وہ قبول ہی نہیں ہوئی۔ بندہ کا کام دعا کرکے یقین رکھنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت دیر سویر ضرور اس کی طرف متوجہ ہوگی، پھر کبھی کبھی کسی مقصد کے حصول کے لیے بکثرت دعائیں کرنا ہی ترقی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہوتا ہے ، اور جلدی دعا قبول ہونے کی صورت میں اس نعمت عظمیٰ سے بھی محرومی ہوتی ہے ۔

ایک بزرگ سے جب کسی نے یہی سوال کیا کہ حضرت! ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟تو عجیب جواب ارشاد فرمایا:کیسے قبول ہو؟ جب کہ تم اﷲ تعالیٰ کوتو مانتے ہو مگر اﷲ تعالیٰ کی نہیں مانتے ،اس کی نعمتوں کو استعمال تو کرتے ہو مگراس کا شکر ادا نہیں کرتے ، حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کو تو مانتے ہو مگر ان کی پیروی نہیں کرتے ، قرآن تو پڑھتے ہومگر اس پر عمل نہیں کرتے ،شیطان کو دشمن توسمجھتے ہو مگر اس سے بھاگتے نہیں،موت کو حق سمجھتے ہو مگر اس کی تیاری نہیں کرتے ،مردوں کو دفناتے ہو مگر ان سے عبرت نہیں لیتے ، ایسے لوگوں کی دعائیں کیوں کر قبول ہو ں۔
تم کو شکوہ ہے کہ اپنا مدعا ملتا نہیں
دینے والے کو گِلہ ہے کہ گدا ملتا نہیں
بے نیازی دیکھ کر بندے کی کہتا ہے کریم
دینے والا دے کسے ؟ دستِ دعا ملتا نہیں

قارئین کرام! دعا اگر حقیقتہً دعا ہو اور خود دعا کرنے والے کی ذات اور اس کے اعمال و اخلاق میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو دعاکی قبولیت سے مانع ہو تو ضرور دعا قبول ہوتی ہے ۔ چنانچہ حضرت زکریاعلیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت کا واقعہ قرآن میں منقول ہے جس سے دعاکی قبولیت کا ثبوت ملتاہے ۔بالخصوص حالت ِاضطرار کی دعا توضرور قبول ہوتی ہے ، اور بعض اوقات جو کام کسی سے نہیں ہوتا وہ دعا سے ہو جاتاہے ۔

دعا کی قبولیت کا حیرت انگیز واقعہ :چنانچہ روایت میں دعا کی قبولیت کا ایک حیرت انگیز واقعہ ملتا ہے ،سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس بابرکت میں مقام صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مہاجرہ عورت اپنے لڑکے کو لیے ہوئے آئی جو سنِ بلوغ کو پہنچ چکا تھا ، تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہمان بنا کر عورتوں کی طرف بھیج دیا ،اور اس کے لڑکے کو اپنے پاس رکھا ،کچھ دن ہی گذرے تھے کہ وہ لڑکا مدینہ کی وبا کی زد میں آگیا،وہ کچھ دن بیمار رہ کر انتقال کر گیا ،آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس کی تجہیز و تکفین کا حکم فرمایا ،جب ہم نے اس کو غسل دینا چاہا تو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: انس ! اس کی ماں کو جا کر خبر کر دو، میں نے اس کو خبر کر دی ،حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ خبر سن کر وہ آئی اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گئی ، اس کا ایک انگوٹھاپکڑا، پھر اضطراب کے ساتھ کہنے لگی:اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْلَمْتُ لَکَ طَوْعًا، وَخَالَفْتُ الْأَوْثَانَ زُھْدًا، وھَاجرْتُ لَکَ رَغْبۃً، اللّٰھُمَّ لاَ تُشْمِتْ بِیْ عَبَدَۃَ الأَوْثَانِ، وَ لاَ تُحَمِّلْنِیْ مِنْ ھٰذِہِ الْمُصِیْبَۃِ مَا لاَ طَاقَۃَ لِیْ بِحَمْلِھَا۔الٰہ العالین! میں اپنی خوشی سے تیری خوشنودی کے لیے اسلام لائی اور میں نے بے رغبتی اختیار کرتے ہوئے بتوں کی مخالفت کی، اور شوق سے تیری راہ میں ہجرت کی،اس کی برکت سے میرے بچہ کو زندہ کر دے اے اﷲ! مجھ پر بت پرستوں کو اظہارِ خوشی کا موقع نہ دے اور مجھ پر یہ مصیبت نہ ڈال جس کو برداشت کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں، حضرت انسؓ فرماتے ہیں:فَوَ اللّٰہِ مَاانْقَضٰی کَلاَمُھَا حَتّٰی حَرَّکَ قَدَمَیْہِ وَأَلْقٰی الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہ، وَ عَاش حَتّٰی قَبَضَ اللّٰہُ رَسُوْلَہ، وَحَتّٰی ھَلَکَتْ أُمُّہ۔اﷲ کی قسم !اس کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ (اس دعا کی برکت سے لڑکے نے ) اپنے قدموں کو حرکت دی اور اس نے اپنے چہرے سے کفن ہٹایا، اور وہ رحمت عالم صلی اﷲ علیہ و سلم کے دنیاسے رحلت فرمانے اور اس کی ماں کے انتقال کے بعد تک زندہ رہا ۔( بکھرے موتی )

علامہ سید عبد المجید ندیم صاحبؒ فرماتے ہیں: بعض حضرات کا خام خیال یہ ہے کہ عبادت تو بس نماز،روزہ،حج اور زکوٰۃ ہی کا نام ہے ،نہیں بھائی نہیں، بلکہ مشکلات و مصائب کے اوقات میں اﷲ تعالیٰ ہی کو پکارنا اور دعاکرنابھی عین عبادت ہے ، قرآن کہتا ہے : أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْءَ(النحل)بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بے قرارا سے پکارتاہے تو وہ اس کی دعاقبول کرتاہے اور تکلیف دور کردیتاہے ۔وہ کون ہے جو بوقت ندا مصیبت زدہ کی دستگیری کرتا اور دکھ ٹالتا ہے ؟اﷲ ہی ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ دعاکا اہتمام مصیبت ہی کے وقت میں کیاجائے ، جیساکہ عام طور پر لوگ مصیبت کے وقت ہی دعا کرتے ہیں، راحت میں نہیں، دراصل یہ بندہ کی خود غرضی کی بات ہے ، دعاکااہتمام خوشحالی او رتنگ حالی ہر حال میں ہوناچاہیے ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:جو یہ چاہے کہ مشکلات میں اس کی دعا قبول کی جائے اسے چاہیے کہ خوش حالی کے وقت میں خوب دعا کرے ۔(ترمذی)

قبولیت ِدعاکے خاص حالات واوقات :ویسے دعا کی قبولیت میں بنیادی دخل تو دعا کرنے والے کے رجوع الیٰ اﷲ اور تعلق مع اﷲ یا اس کی اندرونی کیفیت کو ہوتا ہے جس کو قرآنِ کریم نے ’’اضطرار‘‘ اور ’’ابتہال‘‘ سے تعبیر کیا، لیکن ان کے علاوہ بھی کچھ خاص احوال اوراوقات ایسے ہیں جن میں ربِ کریم کی رحمت و عنایت سے قبولیت ِدعا کی پوری اور قوی امید کی جاتی ہے ۔حدیث پاک سے دعا کی قبولیت کے جوخاص حالات و اوقات معلوم ہوئے ہیں انہیں محقق اسلام مولانا محمد منظور نعمانی ؒ نے اپنی مقبول و معروف کتاب معارف الحدیث میں ذکر کیا ہے ،وہ یہ ہیں:(1)فرض نمازوں کے بعد۔(2)ختمِ قرآن کے بعد۔(3) اذان و اقامت کے بعد۔(4)میدانِ جہاد میں جنگ کے وقت ۔(5) بارانِ رحمت کے نازل ہونے کے وقت ۔(6) جس وقت کعبۃ اﷲ آنکھوں کے سامنے ہو۔(7)ایسے جنگل بیابان میں جہاں اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔(8) میدانِ جہاد میں جب کمزور ساتھیوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ہو۔(9) سفر(حج کا ہویا جہاد کا یا کسی دینی یادنیوی ضرورت کا توحا لت سفر )میں ۔(10)روزہ کی حالت میں افطار کے وقت۔(11) عرفہ کے دن میدانِ عرفات میں ۔(12) جمعہ کی خاص گھڑی میں ۔( 13)رات کے ا ٓخری حصہ میں۔(14)شبِ قدر میں ۔(15)بیماری میں۔

لیکن یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنی چاہیے کہ دعا سے مراد اس کی صورت نہیں ہے ، بلکہ دعا سے مراد اس کی وہ حقیقت ہے جو ذکر کی گئی کہ پودا اسی دانے سے اگتا ہے نا! جس میں مغز ہو،اور جس میں مغز ہی نہ ہو اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے ، ایسے ہی جس دعا میں حقیقت، رقت او رخشیت ہی نہ ہو اس ’’رسمِ دعا‘‘سے کیا امید کی جاسکتی ہے !حق تعالیٰ ہمیں حقائق سمجھا کرمستجاب الدعوات بنادے ،محروم نہ فرمائے (آمین یارب العالمین )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 104865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 869

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ