کرہء ارض پر سب سے محترم اور مقدم دوہی مقامات ہیں ایک حرم مکی اور دوسرا حرم مدنی

(Rashid Ahmed Nadeem, Bahawalnagar)
عمرہ اور پاکستانی لوگ

کرہء ارض پر سب سے محترم اور مقدم دوہی مقامات ہیں ایک حرم مکی اور دوسرا حرم مدنی ۔

اقوامِ مسلم حج عمرہ کی غرض سے یہاں آتے ہیں ۔ تاکہ اپنے گناہوں کی رب ِکریم سے معافی طلب کر سکیں ۔ اور فریضہ حج جو اسلام کا رکن بھی ہے ادا ہوسکے ۔ یہاں ہر آنے والا اپنے سابقہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے ۔ بعض اہل ثروت تو با ر بار اس سعادت سے مستفید ہوتے ہیں ۔ اور بعض اہلِ ایماں تو یہیں مر کے مدفن ہونے کے تمنائی ہوتے ہیں۔ ہر مسلمان زندگی میں ایک بار حاضری کی تمنا دل میں رکھتا ہے ۔ اور حج کے موقعہ پر تو اجتماع دیدنی ہوتا ہے ۔ یہ دنیا ارض پر سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے ۔ خلا سے ساری دنیا سیاہ دکھائی دیتی ہے ۔ صرف دو مقامات ہی روشن نظر آتےہیں ۔ وہ حرم مکی اور حرم مدنی ہیں ۔ حرم مکی تو ساری دنیا کے مسلمانوں کا محور و مرکز ہے ۔ انکے سجود کا رخ بھی حرم مکی ہی ہے ۔

اللہ سبحان و تعالیٰ نے مجھ گناہ گار کو بھی یہ سعادت بخشی ۔ میں بھی ارض مکہ کی زمین پہنچا ۔ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی ۔ الحمدللہ

ایک روز میں باب ِ فہد میں بیٹھا تھا ۔ اللہ کی حمد ثنا میں مصروف تھا ۔ کہ ایک واقف کار نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا ۔ مڑ کے دیکھا ۔ تومیں نوارد کو پہچان گیا ۔ خوشی کی ایک لہر میرے رگ و پے میں دوڑ گئی ۔ مگر یہ کیا نوارد کی آنکھیں متورم تھیں ۔صاف عیاں تھا کہ وہ شب بھر سویا نہ ہو گا ۔
میں اٹھا بغل گیر ہوا ۔ حال احوال پوچھا ۔تو قریب تھا کہ وہ رو پڑتا ۔ وہ شناسا گویا ہوا !

بھائی میری کسی نے جیب کاٹ لی ۔یہ سن کر میں یوں اچھلا جیسے میرے پاؤں جل گئے ہوں ۔ حیرت زدہ بھی تھا ۔ کہ یہاں تو کسی غیر مسلم کا داخلہ بھی ممکن نہیں ۔ اسی اثنا میں اس نے کٹی ہوئی جیب دکھائی ۔ میں نے اس کے شانے پر تھپکی دے کر تسلی دی اور کہا آؤ حرم کی حدود میں ہی پولیس چوکی ہے رپٹ لکھواتے ہیں ۔ وہ روبوٹ کی طرح میرے ساتھ ہو لیا ۔ ہم پولیس چوکی پہنچے ۔ عربی ہم دونوں کو نہیں آتی تھی ۔ میں نے انگریزی میں پوچھا ۔ کیا آپ انگلش سمجھ لیتے ہو اس نے اثبات میں سر ہلا کر کہا یس ۔ میں نے اس عربی کو سارا واقعہ بیاں کیا ۔ عربی نے میری بات سن کے قہقہہ لگایا ۔ اور سوال کیا ۔ کہ آپ کہاں سے آئے ہیں ۔ میں نے کہا کہ پاکستان سے !

عربی ایک بار پھر قہقہہ لگا کر ہنسا ۔ اور کہا کہ جیب کترے تقریبا ً پاکستانی ہی ہوتے ہیں ۔ میر ا سر شرم اور غصے سے جھک گیا ۔ اب مجھ میں سوال کی ہمت نہ تھی ۔ اور سوچنے لگا کہ لوگ یہاں اپنے گناہوں کی توبہ کرنے آتے ہیں ۔ پاکستانی جیب کترے اپنے ہی ہم وطنوں کی پردیس میں جیبیں صاف کرتے ہیں ۔ وہ بے چارےبے یارومددگار کہاں جاتے ہوں گے ۔ جن کی غریب الوطنی میں کل متاع لٹ جاتی ہو گی ۔ اور ان جیب کتروں کا ٹھکانہ کہاں ہوگا ۔ وہ کس سے بخشش مانگیں گے ۔ اور وہ پاکستانی ہی کیوں ہیں؟ کیا وہ پاکستان کی شناخت ہیں ؟ جو ایک مسلمان ہوکر اس مقدس اور جاہ و جلال والے مقام پر گناہ کا راتکاب کرتے ہیں تو وہ دیار غیر میں کیا کرتے ہوں گے ؟ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ میری زبان پر یہاں آکر اللہ تبارک تعالیٰ کے نام کے سوا کچھ نہ آتا تھا ۔ شیطانی خیالات کا تصور بھی نہیں تھا ۔گھر سے لے کر یہاں تک مناسک اور دعائیں یاد کرتے ہوئے آئے ہیں ۔ اور وہ بد بخت شیطانی ہتھکنڈے اور طریقے یادکرتے آئے ہیں ۔ کیا وہ مسلمان ہی ہیں ؟

اب میرے قدم من من کے ہو گئے ۔ جسم سن ہوگیا ۔ بڑی مشکل سے خودکو چوکی سے نکالا ۔ اور مقیم پاکستانی دوستوں کو فون کیا ۔ اور ان سے پیسے ادھار لے کر اس ہم وطن کی مدد کی ۔نماز کا وقت ہوگیا ۔ نماز ادا کر کے اپنے ہوٹل جانے کے لیے حرم سے نکلا۔ ابھی سڑک تک نہیں پہنچا تھا ۔ کہ ایک اور اجنبی پاکستانی نے روک لیا ۔

وہ بولا صاحب بچے بھوکے ہیں ۔ کچھ مدد کر دیں ۔ فوراً میرے ذہین میں اس دوست کی کہانی آگئی ۔ سوچا کہ شاید اس کی بھی جیب کٹ گئی ہے ۔ جھٹ سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس ریال نکال کر اس کو دینے چاہے ۔ اس اجنبی نے کہا جناب اس سے کیا بنے گا ؟ میں نے رقت سے پھر جیب میں ہاتھ ڈالا ہے تھا کہ میرےپیچے ایک اور پاکستانی نے کہا جناب یہ پاکستانی فقیر ہے ۔ اسکا پیٹ نہیں بھرے گا ۔ میرا جیب کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا ۔ میں نے پیچے والے سے پوچھا ۔ کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟وہ بولا جناب آپ آگے تو چلیں اور بہت سے مل جائیں گے ۔ یہ ریواڑ کے ریواڑ آتے ہیں ۔ میں آگے چل دیا ۔ ذرا سے آگے گیا تو فقیروں کے چھتے سے ملاقات ہوگئی ۔ کوئی دائیں ۔ کوئی بائیں ۔ اب مجھ دل سخت کر کے بہرہ بننا پڑا ۔ جیسے تیسے کر کے ہوٹل پہنچا ۔ کمرہ کھولا اور لیٹ گیا ۔ اور سوچنے لگا ۔ ہم کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟کیا کر رہے ہیں ؟
اس وقت ایک مصداق یاد آگئی
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Ahmed Nadeem

Read More Articles by Rashid Ahmed Nadeem: 12 Articles with 8512 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 173

Comments

آپ کی رائے