کنٹرکٹ سسٹم ملازمین کے استحصال کا نظام

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

سرمایہ داری نظام کا سب سے بڑا شاخسانہ یہ ہے کہ محنت کی اکائی کو ہمیشہ دباؤ میں رکھا جائے۔ کسی بھی شے کو معرض وجود میں لانے کے لیے زمین محنت سرمایہ اور تنظیم کی یہ چار اکائیاں شامل ہوتی ہیں۔ جہاں تک زمین کا تعلق ہے یہ ایک ایسا عامل پیدائش ہے کہ جس میں زمین کے ساتھ ساتھ تمام قدرتی ذرائع بھی شامل ہیں جن میں ہوا پانی دھوپ وغیرہ گویا رب کائنات نے انسان کو جن چیزوں سے نواز ا ہ ہے وہ کسی بھی کماڈیٹی کی پیدایش کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اِسی طرح انسانی وسائل جسے محنت یا لیبر کا نام دیا جاتا ہے وہ کسی بھی شے کو بنانے میں ایک اہم عامل ہے ۔ جیسے کہ خام مال کو کنورٹ کرکے اُسے تیارشدہ شے بنانے میں محنت کی اکائی کا بہت بڑا رول ہے۔ اسی لیے دُنیا بھر میں ماہرین معاشیات اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ لیبر انٹینسیو انڈسری ہونی چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار میسر آسکے۔ بدقسمتی سے سرمایہ دار کی سوچ ہمیشہ سرمایہ انٹینسیو ہوتی ہے اُسے انسانی محنت کی بجائے اپنے سرمائے پر ناز رہتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اِن مزدوروں کی پرورش کر رہا ہے اُس کے نزدیک محنت کی اکائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔اِس لیے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اور روس کے ٹکرئے ہونے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام میعشت کو کھلی چھٹی مل چکی ہے اور اِس وقت پوری دُنیا میں مزدوروں ،دفتری کارکنوں کو سرمایہ دار چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔ ہمارئے اپنے ملک پاکستان میں عام مزدوروں سے لے کر افسران ود یگر دفتری کارکنوں کو ٹھیکیدارانہ نظام کے تحت روزگار دیا جاتا ہے ۔ اِس میں نجی اداروں کی ساتھ ساتھ حکومت بھی پیش پیش ہے۔ نجی اداروں میں تو حد یہ ہے وہ نوکری بھی کسی اور نام کی کمپنی سے دیتے ہیں اور پھر کاغذوں میں اُس کمپنی سے ہیومن ریسورس ٹھیکے پر لیتے ہیں۔ پاکستان میں خاص تو ر پر ملٹی نیشنل یا بڑئے بڑئے اداروں میں ایسا ہی ہورہا ہے۔سرکاری ادارئے بھی اِس راہ پر چل نکلے ہیں۔ ستم طریفی کی بات ہے کہ کیونکہ حکمران بھی اشرافیہ کا حصہ ہین اور اشرافیہ ہی نے پورئے ملک کے وسائل پر آکٹوپوسی کی طرح پنجے گاڑ رکھے ہیں اِس لیے سرمایہ داروں کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا جاتا۔یوں ملازمت پیشہ افراد کے سر پر کنٹرکٹ کی تلوار لٹکتی ہے اور اُن کا مستبل تاریک ہونے سے اُن کے دل میں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت نوکری جا سکتی ہے۔ اِس لیے جب نوکری پیشہ طبقے کو اپنے روزگار کی بابت ہی سکون نہ ہو گا تو پھر وہ کیسے ملک کی میعشیت میں صحتمندانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر عوام کو طلب اور رسد کے زہر آلود چکر میں ہی پھنسانا ہے اور من چاہی قیمت وصول کرنا ہے تو اِس میں پھر حکومت نام کی تو کوئی چیز نہ ہوئی، اگر عوام کو طلب اور رسد اور اِس کے نتیجے میں قیمتوں کے تعین کے گورکھ دھندے میں اُلجھانا ہے تو پھر ویلفیئر سٹیٹ کا نظریہ کدھر گیا۔ اِس نظام میں تو صرف اور صرف سرمایہ دار کو ہی دوام حاصل ہے۔ رعایا کا کام سرمایہ دار کے کارخانے کی چمنیوں سے نکلنے والے دھویں کا ایندھن بننا ہے اور پھر اِس کارخانے سے بننے والی پروڈکٹ کا خریدار بھی۔ یوں یہ سرمایہ دار رعایا کے خون پسینے سے ہی پروڈکٹ تیار کروا کر اُسی کو اپنے مرضی کی قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ اِس سارے عمل میں حکومت نام کی چیز کا عوام کی ویلفیئر میں کونسا کردار ہے۔ یہ نہ تو کیمونزم کی بات ہے اور نہ ہی کسی اور سسٹم کی یہ تو بات ہے ظلم کی۔ اگر کوئی اِس سارئے نظام کے خلاف بات کرتا ہے تو اُسے کیمونسٹ، باغی گردانا جاتا ہے کیونکہ مذہب کے نام پر استحصال کرنے والے ظالم طبقات کے ذریعے سرمایہ دار کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور اِس کی قیمت مزدور کی ہڈیوں کے گودے کو پگھلا کر وصول کی جاتی ہے۔ کہاں ہیں عوام کے خیر خواہ جو جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو عوام کے غم میں مرے جارہے ہوتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو عوام کو کڑوئی گولی کھانے کا درس دیتے ہیں۔ کتنا ظالم ہے یہ حکمران طبقہ، ظلم بھی کرتا ہے اور زخم بھی لگاتا ہے اور غریب کو پھر قبر میں بھی اُتاردیتا ہے اور کہتا ہے کہ قربانی تو عوام کو ہی دینا ہے وہ خود تو جیسے اُوتار ہیں۔ہمارے ہاں جب آمریت اور جمہوریت ایک ہی نظام کے دو چہرے ہیں تو عوام کو اِس طرح کے استحصالی نظام کے ثمرات کیسے مل سکتے ہیں ہماری چھیاسٹھ سالہ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان میں فوجی آمریتوں کے ادوار جو کہ ایوب، یحےٰی،ضیاء اور مشرف پر مشتمل ہیں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جمہوریت کا سہارا لیا کبھی بی ڈی ممبرز کے ذریعے کبھی 1979ء کے بلدیاتی نظام کے ذریعے اور کبھی ضلعی حکومتوں کے نام نہاد نظام کے ذریعے۔ ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے فوجی آمر بھی جمہوریت کے لبادے میں اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے کھیل کھیلتے رہے۔ اور جمہوری حکمران جنہیں سیاست دان کہا جاتا ہے وہ بھی جمہوریت کی آڑ میں اپنی آمریت قائم رکھے رہے ہوے ہیں۔ رعایا کو کیا ملا، سانحہ مشرقی پاکستان، بلوچستان میں بدترین بدامنی کہ وہاں پاکستان کا پرچم لہرانا مشکل اور ہندوستان میں شائد لہرانا آسان ٹھرا ہے،خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی۔ بدترین مہنگائی، انرجی بحران، افراطِ زر کا شدید طوفان کہ دوسری جنگ عظیم جیسے حالات۔ جب جمہوریت کی موجودہ شکل میں جو سکرپٹ لکھا گیا ہے اُس میں وہی لوگ پی پی پی، پی ایم ایل،پی ٹی آئی میں آجارہے ہیں جو کبھی اقتدار کے اندر اور کبھی اقتدار سے باہر ہوتے ہیں کبھی ایک پارٹی میں کبھی دوسری میں۔پاکستان میں ملٹری، سول بیوروکریسی، سیاست دان،بڑے کاروباری، لوگ وڈیرے، جاگیردار جن کی تعداد تقریباً تین ہزار پانچ سو ہے نے پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔یہ پینتیس سو افراد ملک کے وسائل پر قابض ہیں یہ اِس ملک کے سیاہ سفید کے مالک ہیں کبھی یہ آمریت کے بھیس میں بادشاہت قائم کرتے ہیں اور کبھی اِس لبادے کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ ووٹ کی طاقت کا نعرہ لگایا جاتا ہے لیکن ووٹ کو جو تقدس حاصل ہے اُسکی حقیقت یہ کہ مرضی کا بیلٹ، مرضی کا بیلٹ بکس۔ بیروزگاری، مہنگائی کا ظلم، دہشت گردی اِس قوم کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ بھارت مین بھی جمہوریت ہے لیکن اُن کی جمہوریت میں ایک سو تیس کروڑ لوگوں کو توٹی مل رہی ہے، بنگلہ دیش بھی جمہوری ملک کہلاتا ہے وہاں کی معیشت ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں تعلیم کی شرح ہم سے زیادہ ہے بھارتی کرنسی اور بنگلہ دیشی کرنسی ہماری کرنسی سے زیادہ مضبوط ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کا ذکر اِس لیے کیا ہے کہ یہ دونوں ملک اور پاکستان پہلے ایک ملک تھے۔ لیکن اقوام عالم میں جو جگ ہنسائی ہمارے ملک کی ہورہی ہے وہ سب کچھ بنگلہ دیش اور بھارت کے ساتھ نہیں ہورہا ہے۔ تعلیمی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی سائنس میں کمال مہارت ان دو ملکوں میں ہم سے زیادہ ہے پچھلے چھیاسٹھ سالوں میں ملک میں رب پاک کے نظام کو سیاسی نعرے کے طور پر سیاستدانوں اور آمریت کے لیے فوجی سیاست دانوں نے استعمال کیا ہے۔ کیا اِس ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہوسکا ہے عدالتیں ہے کہ وہاں انصاف بکتا ہے اور اشرافیہ اِس انصاف کی خریدار ہے، پولیس ہے کہ عوام کی کھال کھینچ کر عوام کو لاغر کررکھا ہے۔ ہر چیز میں ملاوٹ، دودھ، سبزیاں آٹا کوئی شے ملاوٹ کے بغیر نہیں۔ بے روز گاری ہے کہ خدا کی پناہ نوکریاں رشوت لے کر دی جاتی ہیں، جو رشوت لے کر نوکری لیتا ہے وہ بھی پھر کرپشن کا آلہ کار ہی بنتا ہے۔ اسلامی نظام معیشت ہمارے تما م دکھوں کا مداوا،اسلامی نظام عدل کہ غیر مسلم بھی اِس پر نازاں، اسلام پوری حیات کا کوڈ۔ لیکن ہمارے ملک میں اسلام کے اوپر ایک فی صد بھی عمل نہیں صرف نعرے کے طور پر استعمال۔ پھر اِس ملک میں زنا، جوا، لوٹ مار، چوری ڈکیتی، کپشن، رشوت خوری، بے ایمانی عروج پر ہے تو اِس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، ہے۔ خدارا حکومت کنٹرکٹ سسٹم کو ختم کرئے اور ملازمیں کو پکی نوکریاں دے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 220220 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
23 Mar, 2017 Views: 488

Comments

آپ کی رائے