اس سے پہلے کہ۔۔۔۔

(Ilyas Katchi, Karachi)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

یہ پراسرار آواز کہاں سے آ رہی ہے ! دائیں بائیں نظر دوڑائی لیکن کچھ نظر نہیں آیا ، دفعتہ اوپر کو نظر گئی تو تعجب ہوا کہ بادل سے آواز آ رہی ہے ، کان لگا کر جو سنا تو آواز آ رہی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو پانی دو ، ایسا کون خوش نصیب ہے کہ بادل کو حکم دیا جا رہا ہے ،عبداﷲ اب بادل کے پیچھے پیچھے ہو لیا ، پتھریلی زمین پر بارش برسی ، وہاں سے پانی بہہ کر ایک باغ میں پہنچا جہاں کسان اپنے باغ میں کام کر رہا تھا، عبداﷲ نے کسان سے اس کا نام پوچھا اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سنا تھا، عبداﷲ نے کسان سے پوچھا کہ تم اس باغ میں ایسا کیا کام کرتے ہو جس کی وجہ سے بادل خادم بن کر پانی برسا رہا ہے؟ کسان نے کہا کہ میں اس باغ میں جو پیدا ہوتا ہے اس کے تین حصے کرتا ہوں ، ایک حصہ میرے گھر والوں کی لئے ، ایک حصہ اسی باغ کی ضرورت کے لئے اور ایک اﷲ تعالی کے راستے میں صدقہ دے دیتا ہوں ، صرف ایک تہائی اﷲ تعالی کے راستے میں خرچ کرنے کی یہ برکت کہ سارے باغ کی پیداوار کے لئے پردہ غیب سے انتظامات ہو رہے ہیں۔

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا بھی جی چاہتا ہے کہ فلاں کار خیر میں خرچ کرناچاہئے لیکن کتنا دیں ؟ یہ ایک الجھن رہتی ہے ،اگر تحیہ بھی کر لیتے ہیں کہ اتنی رقم دینی ہے ، لیکن رقم تو فلاں فلاں کاروبار میں لگی ہوئی ہے ، اب انتظار ہو رہا کہ کاروبار سے رقم نکلے تو دیں گے، اسی انتظار میں دینے کا داعیہ سرد پر جاتا ہے اور یوں نیکی سے محرومی رہتی ہے۔

کار خیر میں خرچ کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ آمدنی میں سے یا تنخواہ میں سے کو ئی ایک مقدار طے کر لی جائے کہ اتنا فیصد کار خیر میں خرچ کرنا ہے، پھر اسے الگ کر دیا جائے تو کئی خیر کے کاموں میں خرچ کی توفیق مل جائے گی ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ صدقہ فرماتے ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اپنے ہاتھ کی کمائی کا دسواں حصہ اور بلا مشقت ملنے والے مال کا پانچواں حصہ صدقہ فرماتے۔

ایک عالم نے فرمایا کہ ان کے استاد مدرسے کے طلبہ سے فرمایا کرتے تھے کہ صدقہ دیا کرو ، طلبہ کو اس وقت پچیس پیسے ملتے تھے، تو فرماتے کہ ایک دو پیسے ہی صدقہ دے دیا کرو ، تا کہ دینے کی عاد ت پر جائے، اگر ایک شخص کے پاس ایک کڑورہیں وہ ایک لاکھ دیتا ہے، اور اگر کسی کے پاس سو روپئے ہیں وہ اس میں سے ایک روپیہ دے گا تو اﷲ تعالی کے نزدیک دونوں برابر ہیں ، اس پر عمل کرنے سے ہر ایک صدقے کے بے شمار فضائل حاصل کر سکتا ہے۔ فضائل صدقات میں حضرت شیخ الحدیث ؒنے صدقات کے فضائل تحریر فرمائے ہیں ، مثلا صدقہ بیماری کا علاج ہے، نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے ،عمر بڑھاتا ہے، ستر بلاؤں کو روکتا ہے ، تفکرات و غموں کی تلافی کرتا ہے ،بری موت سے حفاظت کرتا ہے ، شیطان کے وسوسے سے محفوظ رکھتا ہے ، مرض کی شدت کی وجہ سے ناشکری کے الفاظ نکلنے سے حفاظت کرتا ہے، ناگہانی موت کو روکتا ہے، حسن خاتمہ کا معین ہے ، قبر کی گرمی کا زائل کرتا ہے ، آدمی قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا جتنا

زیادہ صدقہ اتنا زیادہ سایہ ، صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ، صدقہ سے رزق اترتا ہے ، اور مال میں زیادتی ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ

اگر قرض ذمہ ہو تو قرض کا ادا کرنا صدقہ سے مقدم ہے ، اس لئے جلد سے جلد قرض سے فارغ ہو کر اﷲ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا معمول بنا ئیں اس سے پہلے کہ اجل ہمارا کام تمام کر دے پھر کتنی حسرت ہو گی کہ مال کے بہترین مصرف کی طرف تو توجہ ہی نہ دی ، اسے بھی مالدار ہوتے جن کی ملکیت میں بڑے بڑے بنگلے ہوتے ہیں جن کی مالیت اربوں میں ہوتی ہے خالی پڑے ہوتے ہیں ، اسی طرح بعض بڑے قیمتی پلاٹ جن کے مالکان کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ، یہ قیمتی سرمایہ چھوڑ کر دنیا سے چلے جاتے ہیں ، دنیا میں رہتے ہوئے ہر نفع بخش کاروبار میں پیسہ لگا کر بنک بیلنس اور جائیدادئیں تو کھڑی کر لیں لیکن سب سے بہترین کاروبار یعنی اﷲ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے سے محروم رہے، ایسا نہ ہو کہ ایسے کم نصیبوں میں ہمارا بھی شمار ہو۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Katchi

Read More Articles by Ilyas Katchi: 39 Articles with 22106 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Mar, 2017 Views: 500

Comments

آپ کی رائے