نفسِ ذکیہ - قسط نمبر 13-

(Kishwer Baqar, )

دلاور اور اس کے چاروں بھائی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ایک وکیل کے آفس جا رہے تھے۔ ان کے گھر فتنہ فساد مچا ہوا تھا۔ ایک بھائی کا منہ مشرق کی جانب تو دوسرے کا مغرب کی……

دلاور بھی اپنی گاڑی میں بیٹھا اپنے بھائیوں کو دل ہی دل میں بہت برا بھلا کہہ رہا تھا۔ شاید اسے آگے اپنے برے دن نظر آ رہے تھے۔ بے فکری سے اب تک جیتا رہا…… کام کی عادت کہاں تھی اسے…… اب تو خود ہی سب سنبھالنا ہو گا…… کمانا ہو گا…… اسے تو ان سب معاملات کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔ اندر ہی اندر وہ بڑا ڈرا ہوا تھا۔
’’ کاش یہ سب نہ ہوتا تو یوں ہی مزے سے دن گزرتے رہتے……‘‘۔ دلاور نے منہ بنایا…… بہت غصہ آ رہا تھا اسے اپنے گھر والوں پر……

اتنے میں اس کا موبائیل چمکنے لگا۔ سبین کی کال تھی…… ایسے موڈ میں سبین کی کال کون اٹھاتا……
اس نے اُکتا کر کال کاٹ دی۔ فوراََ ہی پھر اس کی کال آ گئی…… اس نے چڑ کر موبائیل پر اس کا نام پڑھا اور ساتھ والی سیٹ پر موبائیل سائلنٹ کر کے پھینک دیا۔
’’ہیلو! رات کو مل رہے ہو نا؟؟؟‘‘ سبین کا میسج نمودار ہوا۔
’’نہیں‘‘۔ دلاور نے آنکھیں گھمائی اور جواب بھیج دیا۔
’’کیوں؟؟؟‘‘۔ پھر میسج آیا۔
’’نہیں ملنا!‘‘۔ دلاور نے غصے میں میسج لکھا اور موبائیل آف کر دیا۔

وکیل کے پاس پہنچ کر تمام بھائیوں نے ضروری کاغذات پر سائین کر دئیے۔ دلاور نے بھی نا چاہتے ہوئے اگریمنٹ کر لیا۔ سارا گھر بھائیوں کے ساتھ تھا اور جتنا حصہ دلاور کو مل رہا تھا اس پر سب خوش تھے۔ سب کے خیال کے مطابق کسی سے کوئی نا انصافی نہیں ہوئی تھی۔ دلاور کو تیس لاکھ روپے کیش اور ایک دوکان دے دی گئی۔ یہی اس کا حصہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

دو تین دن گزرے اور دلاور نے نارمل ہونا شروع کر دیا۔
’’ تیس لاکھ بڑی رقم ہے اور دکان بھی تو ہے…… مہینہ چلتا رہے گا……اتنی فکر کیا کرنی…… ‘‘۔ اس نے سوچا۔ کون سا اس کا کوئی تھا…… نہ شادی نہ منگنی نہ کوئی اور ماں باپ کی ذمہ داری…… اتنے پیسے تو ہو ہی جاتے ہیں کہ گرل فرینڈز کا خرچہ اٹھایا جا سکے اور اپنا بھی……

’’ہیلو سیما! ہاوو آر یو؟‘‘۔ دلاور نے سبین کو نہیں بلکہ سیما کو میسج بھیجا۔ فیس بک پر اس کی ایک نئی فرینڈ بنی تھی۔ آج اس کے ساتھ اس کی پہلی ڈیٹ تھی۔
شام پانچ بجے کا ٹائم فکس تھا۔
دلاور ڈیفینس میں موجود ایک مہنگے ریسٹورینٹ میں بیٹھا سیما کا انتظار کر رہا تھا۔ سیما آئی اور اس کے جوان جزبات کو بھڑکا گئی۔
ظاہر ہے وہ ایک بہت خوبصورت اور ماڈرن لڑکی تھی…… بالکل سبین کی طرح…… بلو اسکن ٹائٹ جینز اور وائٹ کلر کی شارٹ شرٹ میں وہ پرکشش لگ رہی تھی۔
’’ کیا مال ہے یار!!!‘‘۔ دلاور نے دل میں کہا اور اپنا ایک ہونٹ دانت میں لے کر پیسنے لگا۔
رات کے لئے تو اس نے سبین کو بْک کر رکھا تھا۔ سبین نہ بھی ہوتی تو کسی اور کو استعمال کر لیتا…… ایسی ہی تھی اس کی سوچ اور زندگی گزارنے کا اسٹائیل……

۔۔۔۔۔۔۔

’’ہماری اتنی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے……‘‘ ۔
’’سچ پوچھو تو تم جیسا مرد آج تک میری زندگی میں نہیں آیا……‘‘ ۔ سبین بیڈ پر لیٹے لیٹے دلاور کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
’’ا م م م……‘‘۔ دلاور نے سرسری طور پر اس کی بات سنی اور مسکرانے لگا۔ بے شک سبین اس کی مسکراہٹ کی دیوانی تھی۔ سبین نے آگے بڑھ کر اسے چوم لیا۔

’’…… اور کون کون مرد آئیں ہیں تمہاری زندگی میں؟؟؟‘‘ ۔ دلاور نے سبین کو چھیڑتی ہوئی پوچھا۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون آیا اور کون نہیں…… وہ تو بس چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔
’’ا م م م م م…… بہت سے……‘‘ ۔ سبین بھی اٹھکیلیاں مارنے لگی۔
’’اچھا! ویری گْڈ……‘‘ ۔ دلاور بولا۔
’’مگر اب میں چاہتی ہوں کہ اورکو ئی نہ آئے……‘‘۔ سبین نے دلاور کو اشارہ دیا۔
’’ہاں! اب کیا ضرورت ہے ؟؟؟ میں ہوں نا‘‘۔ دلاور نے فوراََ جواب دیا۔ سبین خوش ہو گئی۔
’’شادی کر لیتے ہیں‘‘۔ سبین نے صاف صاف بات کہہ دی۔
’’ہیں …… شادی…… ہا ہا ہا……‘‘ دلاور زور سے ہنسا۔
’’شادی کی ہوئی ہی تو ہے ہم نے……‘‘۔’’ ایسا کیا ہے جو شادی میں ہوتا ہے اور ہمارے بیچ نہیں؟؟؟‘‘ ۔ دلاور نے اپنی منطق سمجھائی۔
’’ام م م……‘‘۔ سبین کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
’’ہاں! وہ تو ہے…… مگر شادی تو شادی ہے نا؟؟؟‘‘ سبین بولی۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گئی۔ اسے دلاور سے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔
’’وٹ ڈو یو مین؟؟؟‘‘ ۔ ’’ میں کوئی شادی وادی نہیں کرنے والا……‘‘۔
’’ تم بھی یہ فالتو باتیں اپنے ذہن سے نکال دو‘‘۔ دلاور نے سنجیدگی سے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ سبین کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ پلک چھپکنا ہی بھول گئی۔
دلاور نے کمبل ایک طرف کو پھینکا اور اٹھ کر باتھ روم میں گھس گیا۔

وہ تو اسی نظریہ پہ یقین رکھتا تھا کہ جب بازار سے دودھ مل رہا ہے تو گھر میں بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے !

۔۔۔۔۔۔۔

وہ دن میرے لئے کسی سوگ سے کم نہ تھا۔ دوسرے دن میری پہلی محبت مجھ سے دور جا رہی تھی۔ فوزیہ کی کزن کی شادی تھی۔ سارا گھر شادی میں جا رہا تھا۔ بیرون ملک سے بھی کئی رشتے دار اس شادی میں شرکت کرنے آئے تھے۔میرے لاکھ اصرار کرنے کے باوجود بھی ایسا کچھ نہ ہو سکا کہ فوزیہ حیدر آباد نہ جاتی…… ایک دو دن کی بات تھی بھی نہیں …… پورے دس پندرہ دن کے لئے وہ سب حیددآباد جا رہے تھے۔

’’ذولقر ! اب موڈ ٹھیک بھی کر لو ……‘‘ ۔ فوزیہ نے بے تاب ہو کر کہا اور اپنا منہ اپنے ہاتھوں سے چھپا کر تھوڑا تھوڑا رونے لگی۔
اس کا رونا دیکھ کر میں نے اپنی حالت ٹھیک کی۔ اندر سے تو میں بھی رو ہی رہا تھا۔
بہت بے چین کر دینے والا ہوتا ہے یہ احساس……کسی اپنے کواپنے آپ سے دور کرنا…… دنیا میں سچی محبت کرنے والا ہوتا ہی کون ہے۔ سب مطلب کے رشتے ہیں…… ایک انجان ، جس سے آپ کی کوئی پہچان نہ ہو،کوئی دیرینہ رشتہ نہ ہو، کوئی مطلب نہ ہو …… وہ آپ کو اپنا سب کچھ بنا لے، آپ کا انتظار کرتا رہے، آپ کی یاد میں ڈوبا رہے…… آپ اس کے لئے اس کی اپنی جان سے بڑھ کر ہو جائیں…… اس مادہ پرست دنیا میں ایک انسان کو اور کیا چائیے؟؟؟

’’اچھا چلو!‘‘ میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔ میں نے دل پر پتھر رکھ کر کہا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ریسٹورینٹ کی ٹیبل پر اپنا سر رکھ دیا۔
فوزیہ نے بھی اپنا ایک گال ٹیبل پر رکھ دیا اور اداس ہو کر ٹیبل پر گِر گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔

گھر میں کوئی ماتم کا سا سما تھا۔ مجدی ابھی ابھی چرچ سے اپنی منت پوری کر کے گھر میں داخل ہو رہا تھا ۔ اندر سے کسی کے زور زور سے بولنے اور چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ مجدی کا دل دھڑک کر رہ گیا کہ جانے کیا ہو گیا ہے۔

’’تین مہینے ہو گئے ہیں…… میں کالج والوں کی باتیں سن سن کر تھک گئیں ہوں……‘‘۔ مجدی کی بہن نے اپنا پرانہ سا پرس صوفے پہ پھینکا اور رونے لگی۔
’’فار گاڈ سیک…… مجھے میری فیس دے دیں……‘‘
’’کہاں سے لاؤں میں پیسے؟؟؟ کیا خود کو بیچ دوں؟؟؟‘‘ اس کی امی بھی اْکتا کر بولیں۔
’’ ساری دوستیں مذاق اڑاتی رہتی ہیں امی!!!‘‘
نہ میرے پاس نوٹس ہوتے ہیں نہ کوئی ٹیوشن پڑھتی ہوں……‘‘
’’ہر ٹیسٹ میں گندے مارکس آتے ہیں……‘‘ ۔ ’’ٹیچرز سب کے سامنے بے عزتی کرتی ہیں……‘‘
’’میری انگلیاں نوٹس چھاپ چھاپ کر سوج گئیں ہیں…… میں کالج میں بھوکی رہ رہ کر نوٹس فوٹو اسٹیٹ کراتی ہوں……‘‘
’’پلیز مجھے کم از کم فیس کے پیسے تو دے دیں …… خدا کے واسطے دے دیں‘‘۔ مجدی کی بہن دھاڑے مار مار کررونے لگی۔ نا جانے کب سے اس نے اپنی کسم پرسی کا غم دل میں دبائے رکھا تھا۔

مجدی ہی گھر کا خرچا چلاتا تھا۔ ان کے والد پاکستان ریلوے میں کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر کے چار سال پہلے ہی ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔
گھر میں قدم رکھتے ہی یہ سب دیکھ کر مجدی نڈھال سا ہو گیا۔ یوں لگا جیسے اس کی ساری دعاؤں ، ساری عبادات ، ساری نذر و نیاز پر کسی نے لات مار دی ہو۔ وہ بڑا مایوس ہو کر گھر کے ایک کونے میں جا گھسا۔ کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی کہ مجدی گھر واپس آ گیا ہے۔ کمرے میں یوں ہی رونا دھونا چلتا رہا اور مجدی مایوس دل لئے سب کچھ سنتا رہا۔
’’ہاہٖ‘‘۔ اس نے ایک آہ بھری اور اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’تو نے میری کیا سنی اے خداوند!‘‘ ۔’’ تو نے میری کیا سنی!‘‘۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ ابھی اس کا بیگ اس کے کاندھوں پر ہی تھا۔
’’کہاں سے لاؤ ں اب میں پیسے ؟ کس طرح لاؤں ؟ کیا کروں؟؟؟‘‘
’’کیا ہمارے نصیب میں گٹر صاف کرنا ہی لکھا ہے خدایا ؟؟؟‘‘
’’کیا ہمارے نصیب میں گٹر صاف کرنا ہی لکھا ہے‘‘۔ اس کے آنسوؤں سے اس کا چہرہ تر ہو گیا۔
’’کیا ہم کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے؟؟؟‘‘
’’ کیا واقعی تو ہمارا نہیں ہے؟؟؟ کیا واقعی تو ہماری نہیں سنتا؟؟؟‘‘۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ خداوند کے آگے گریہ کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔

رات کے نو بج رہے تھے۔ سمندر کی ہوا بہت خوب تھی۔ آسمان پر چاند چمک رہا تھا۔ میں اور مجدی آہستہ آہستہ چلتے سمندر کے کنارے کی طرف جا رہے تھے۔ اس وقت وہاں بالکل خاموشی تھی۔ اکا دکا کہیں دور کوئی آوارہ نظر آ جاتا اور بس۔ آج بہت دنو ں بعد ہم تینوں دوستوں نے ملنے کا پروگرام بنایا۔ دلاور اب تک پہتچا نہیں تھا۔ وہ اکثر عین وقت پر غائب بھی ہو جاتا تھا۔ میں اور مجدی وہیں سمندر کی طرف منہ کر کے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔

مجدی کی اداس سی شکل ہو رہی تھی۔ میں بھی سمجھتا تھا۔ اس کے گھر کے حالات سے واقف ہی تھا ……
بات سچ ہے۔ کوئی زریعےء آمدنی نہ ہو اور ضروریاتِ زندگی ویسی کی ویسی ہوں تو بندہ بہت پریشان تو ہوتاہے۔

میں خود بھی ان دنوں کھویا کھویا سا ہی تھا۔ فوزیہ جو کراچی سے باہر گئی ہوئی تھی۔ اس کی بہت یاد آتی تھی۔ بار بار اسے پیار بھرے میسجز کرتا اور ایک دو گھنٹے میں اسے مس کالز بھی دیتا۔ فوزیہ نے منع کر رکھا تھا کہ ذیادہ فون نہ کروں کہ کہیں شادی کے ماحول میں گھر والوں یا کسی رشتہ دار کو شک نہ ہو جائے۔ پھر بہت باتیں بنیں گی…… میں نے فوزیہ کو یاد کرتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر قید کر لیا۔

’’ذولقر! مجھے اپنے ساتھ ہی رکھ لو……‘‘۔ مجدی نے خاموشی توڑی۔
’’ جو بھی چھوٹا موٹا کام ہو گا میں کرتا رہوں گا۔ کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے……‘‘ مجدی نے کسی امید پر مجھ سے درخواست کی۔
’’کچھ گنجائش نکل سکتی ہے……؟؟؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھ کر بڑی آس سے پوچھا۔
میں کون سا کوئی بہت بڑا بزنس مین تھا۔ ایک چھوٹا سا سیٹ اپ تھا میرا…… بس اﷲ کی رضا سے اچھی فراخی سے گزر بسر ہو جاتی تھی۔ مجدی کو کہیں نا کہیں ایڈجسٹ تو کیا جا سکتا تھا مگر تنخواہ شاید اس کے اخراجات پھر بھی پوری نہ کر سکتی۔
’’ام م م ……‘‘۔میں کچھ سوچ کر پھر بولا۔ ’’ ٹھیک ہے……‘‘ ۔’’ تم میرے ساتھ ہی لگ جاؤ…… فی الحال……‘‘ جیسے کہ مجدی نے خود کہا کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے میں نے سوچا کہ اسے اپنے ساتھ رکھ لیتا ہوں۔

اتنے میں دلاور بھی آنپہنچا…… ایک موٹے سے سِگار کے گہرے گہرے کش لیتے ہوئے…… سِگار کا دھواں اس کے چہرے کو چھپا جاتا…… بڑے دنوں بعد ہم تینوں دوست اکھٹے ہو رہے تھے۔
دلاور نے دور سے ہی ہاتھ کا اشارہ کر کے سلام کیا اور پھر قریب آ کر ہاتھ ملایا۔
’’آئیں دلاور صاحب آئیں……‘‘۔’’ آج ٹائم نکال ہی لیا آپ نے؟؟؟‘‘۔ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’بس یار…… بہت دنوں سے تم لوگوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی تو سوچا……‘‘۔ دلاور نے جملہ ادھورا ہی چھوڑ دیا۔
’’بیٹھیں بیٹھیں……‘‘ میں نے کہا اور اسی بینچ پر ایک طرف اس کے لئے جگہ بنائی۔
’’…… اور سب ٹھیک ہے؟‘‘ دلاور مجدی سے مخاطب ہوا۔
’’بس …… اﷲ کا شکر ہے……‘‘۔ مجدی نے سیدھا سا جواب دے دیا اور چپ ہو گیا۔

’’جاب کا کچھ بنا؟‘‘ دلاور نے پھر مجدی سے دریافت کیا۔

’’نہیں‘‘۔ مجدی نے مایوس سی صورت بنا کر جواب دیا۔
’’کل سے میرے آفس آیا کرے گا ……‘‘۔ میں نے دلاور کو بتایا۔ وہ ’’اچھا‘‘ کہہ کر چپ ہو گیا۔

ہم تینوں ہی چپ چپ سے تھے۔ مجدی کو اپنی جاب اور منگنی کی ٹینشن تھی، دلاور کو بٹوارے کا غم تھا اور مجھے عشق کا روگ لگا تھا۔

مجھے دلاور کی بات یاد تھی۔ وہ میرے گھر شفٹ ہونا چاہتا تھا۔ مگر اس نے اس بارے میں اب تک کوئی بات نہیں کی تھی۔
’’تم سناؤ…… ذولقر نے بتایا کہ بھائیوں میں کچھ جھگڑا ہو گیا ہے؟؟؟‘‘ ۔ مجدی نے دلاور کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاں! جھگڑا کہاں…… بٹوارہ ہو گیا ہے…… میں وہ گھر چھوڑ دوں گا……‘‘
’’اب ان لوگوں کے بیچ نہیں رہا جاتا……‘‘ ۔ ساری زندگی دلاور آرام سے بیٹھا بھائیوں کی محنت کا پھل کھاتا رہا اور اب کہہ رہا تھا کہ ان لوگوں کے بیچ نہیں رہ سکتا۔ اپنی غلطی کا احساس ہر کسی کو کہاں ہوتا ہے!!!
’’نفرت ہوتی ہے مجھے ان سب سے……‘‘ دلاور پھر بولا۔
’’تو کہاں رہو گے پھر؟؟؟‘‘ مجدی نے حیرانی سے پوچھا۔

’’دیکھو …… کچھ لوگوں کو کہا تو ہے‘‘۔ دلاور میری طرف دیکھنے لگا۔ میں خاموش رہا۔ وہ میرے کسی جواب کا منتظر تھا۔
’’دیکھ رہا ہوں میں کوئی گھر…… ‘‘۔ میں نے بس اتنا سا جواب دیا اور دلاور کا چہرہ اتر گیا۔ اس نے سمندر کی لہروں کی جانب دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا۔

دلاور نے ایک سگار مجھے دیا جسے فوراََ ہی میں نے جلا لیا۔ شاید کہ اس نشے سے فوزیہ کی یاد میں کچھ کمی آ جاتی……
’’آج تو تم بھی پی ہی لو!!!‘‘ دلاور نے دوسرا سِگار مجدی کی طرف کیا۔ اس نے ہونٹوں کو ایک جانب کر کے گردن کو ہلکی سی جنبش دے کر انکار کر دیا۔ اس نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا تھا۔ بہت سیدھا اور شریف آدمی تھا وہ۔

کچھ دیر میں مجدی اور دلاور کا دل بھر گیا۔ ہم تینوں واپس اپنی گاڑیوں کی طرف پلٹے۔ مجدی دلاور کے ساتھ بیٹھ گیا اور میں اکیلا ہی واپس ہوا۔

دو منٹ ہی گاڑی چلائی ہو گی کہ پھر کچھ ہوا اور میں نے ایک جانب کار پارک کر دی۔ دل اداس سا ہوا ہوا تھا۔ کچھ دیر گاڑی میں ہی سانسیں لے کر میں کار سے نیچے اتر کر پھر سمندر کی اور چل پڑا…… رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ کوئی نہیں تھا۔ صرف سمندر کی لہریں ، اندھیری رات، ہوائیں، ویرانی ، میں اور میری پھٹکتی سوچ تھی……

دل ڈوب سا گیا تھا۔مجدی اور دلاور کے حالات بہت برے تھے۔ مجدی کے غم کا تو مجھے اندازہ تھا ہی…… ساتھ ساتھ مجھے دلاور کے آنے والے برے دن بھی نظر آ رہے تھے۔ اس مادہ پرست دنیا میں کسی کو کسی کی کیا فکر ہے …… مگر میں بیٹھا مجدی اور دلاور کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
’’اگر بے چارے کی منگنی ٹوٹ گئی تو کیا ہو گا‘‘۔ مجھے پتا تھا کہ وہ اپنی منگیتر سے بہت پیار کرتا ہے اور کسی قیمت پر اس رشتے کو ختم ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ کتنے سالوں منتیں کر کر کے تو لڑکی والے مانے تھے۔
……اور دلاور……’’ پتا نہیں کیا بنے گا اس کا…… اب تک اسے احساس نہیں ہے ……‘‘۔ میں خود سے کہہ رہا تھا۔ ’’ایک دوکان ملی ہے اسے…… اسے بھی وہ نہیں سنبھال پائے گا‘‘۔ میں فکر مند ہونے لگا۔ میں جانتا ہی تھا دلاور کی نیچر……

’’ہاہ!‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ میں خود بھی تو اکیلا تھا۔ فوزیہ کی بہت یاد آتی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور فوراََ ہی فوزیہ کی صورت میری آنکھوں کی سامنے آ گئی۔ اس کے ساتھ گزارا وقت، اس کی باتیں، اس کی ہنسی…… سب کچھ یاد آنے لگا۔ میں نے اپنا والٹ نکالا اور فوزیہ کی دی ہوئی چاکلیٹ کا ریپر نکال کر اسے دیکھنے لگا۔ پھر اسے چوم لیا۔ پھر اپنے موبائیل میں موجود اس کی تصویریں دیکھنے لگا…… میری آنکھیں بھر آئیں…… میں نڈھال سا ہو کر وہیں بینچ پر لیٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kishwer Baqar

Read More Articles by Kishwer Baqar: 67 Articles with 53911 views »
I am a Control Systems Engineer, working in Saudi Arabia.

Apart from work, I am interested in religion, society, history and politics.

I am an
.. View More
25 Mar, 2017 Views: 479

Comments

آپ کی رائے