روشنی

(Fatima Ishrat, )

"السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"!!!

"ارے افضل صاحب !!بھئ کیسے مزاج ہیں آپکے"؟؟

۔۔افضل صاحب نماز عصر کی ادائیگی کے بعد مسجد کے باہر مختلف ٹھیلوں سے چیزیں خریدنے میں مگن تھے جب طارق صاحب کی آواز پہ چونکے اور فورا پلٹے ۔۔۔۔

"وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"!!!
"جی طارق میاں اللہ کا خاص کرم ہے۔۔ آپ سنائیں""؟؟؟

"بھئ ہمارے حال بھی اچھے ہیں اللہ کے فضل سے"۔طارق صاحب نے پر جوش انداز میں جواب دیا۔۔۔

"ویسے سب خیریت تو ہے کوئ دعوت ہے گھر میں جو اس قدر سامان خریدا جارہا ہے"!!!
"اور آپکا لباس بھی آپ پہ بہت جچ رہا ہے۔۔۔۔ لگتا ہے کوئ خاص دعوت کا اہتمام کیا جارہا ہے"

طارق صاحب نے انکی خریداری دیکھکر استفسار کیا۔۔

افضل صاحب سفید کلف دار شلوار قمیض میں ملبوس ساتھ کالے رنگ کی ویسٹ کوٹ پہنے اور اسکے سائیڈ پہ چھوٹا سا پاکستانی جھنڈے کا بیج لگائے ہوئے تھے۔۔۔جس نے انکی شخصیت کو مزید نکھار دیا تھا۔۔۔

افضل صاحب کھلکھلا کے ہنس دیے۔۔۔

"ارے نہیں طارق صاحب!! وہ دراصل آج 23 مارچ ہے ناں۔۔۔ چھٹی کا دن بھی ہے۔۔اسی دن کو خاص بنانے کیلئے اپنی فیملی کے ہمراہ کوئ اچھی مووی دیکھنے کا پروگرام بنایا ہے اور یہ سب تیاریاں بھی خاص اسی وجہ سے ہیں"

افضل صاحب کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا یوں جیسے کوئ بڑا کارنامہ سر کرنے جارہے ہوں!!

طارق صاحب کو شدید افسوس ہوا ۔۔وہ قطعی یہ توقع نہیں کرہے تھے کہ افضل صاحب جو ماشآء اللہ پنج وقت کے نمازی ہیں اور مسجد میں اکثر آتے جاتے رہتے ہیں۔۔اسطرح بے باکی سے اس گناہ کے کام کو فخریہ انداز میں کہہ سکیں گے۔۔
وہ یاسیت سے بولے۔۔۔

"بھئ آج واقعی تاریخ کا خاص دن ہے۔۔ اور ہماری آزادی کی تحریک کا سب سے نمایاں اور اہم ترین دن۔۔۔مگر افسوس اس دن کی اصل اہمیت سے ہم واقف ہیں نہ ہی پاکستان بننے کے اصل مقصد سے۔۔!!

طارق صاحب رنجیدگی کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے تھے ۔۔ان کا غم بڑھا تھا اپنے ملک کی عوام کا یہ حال دیکھکر۔۔ !!

افضل صاحب کو طارق صاحب کی بات نے تجسس میں مبتلا کردیا تھا وہ سمجھ نہیں پارہے تھے کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔۔!!

"طارق صاحب معافی چاہتا ہوں مگر آپکی بات سمجھ نہ آسکی۔۔۔اگر آپکو برانہ لگے ۔۔۔۔ زحمت بھی نہ ہو تو ۔ وضاحت فرمادینگے۔۔؟؟ "!!

--طارق صاحب کو گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سا مل گیا وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ انہیں اپنی بات کہنے کا موقع دےدیاجائے۔ بس ذرا ہچکچاہٹ آڑے آرہی تھی۔۔۔

افضل صاحب نے خود ہی اس سے دور کردیا تھا

"میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں جس مقصد کیلئے پاکستان کا وجود بنایا گیا وہ تقریبا فوت ہوچکا ہے۔۔۔23 مارچ ۔۔ایک اہم تاریخی دن ہے اس دن ایک نیا ملک بننے کی قرارداد منظور کی گئ تھی۔۔۔جو جلد دنیا کے نقشہ پہ ظہورپذیر ہوتا۔۔۔ یہ تمام برصغیر کے مسلمانوں ۔۔علمائےکرام۔۔ کی ان گنت قربانیاں اور انتھک جدوجہد کا صلہ تھا۔۔یہ بیشک ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔۔۔۔"!!!

"ایک ایسا ملک مل جانا جہاں کی کھلی فضا میں آزادی کا سورج روشن ہوتا ہو۔۔۔جہاں کی ہوائیں کھل کر جینے کا پیغام دیتی ہوں۔۔۔جہاں ہم اپنے مذہب کی پاسداری کرتے ہوں۔ بلا خوف وہراس کے اللہ سبحانہ تعالی کا نام لیتے ہوں ۔۔۔ عبادت کرتے ہوں ۔۔۔۔۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوں۔۔اور انہیں عام کرتے ہوں ۔بلا شبہ آزاد ملک کا حاصل ہوجانا انعام ونعمت خداوندی تھا۔۔۔مگر افسوس۔۔ ہم نے اس عظیم قربانی کا مقصد نہ صرف فراموش کردیا بلکہ اس سے سمجھنے سے بھی قاصر رہے۔۔!!


13 جنوری 1948 ءکو اسلامیہ کالج ،پشاور کے جلسے میں حصول پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا:

"ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھےجہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں"

افضل صاحب طارق صاحب کی باتیں غور وخوض سے سن رہے تھے۔۔۔انہیں یہ محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔کہ جیسے وہ پاکستان کے اصل مقصد۔۔قرارداد پاکستان کے بارے میں آج واقف ہورہے ہوں ۔۔انہوں نے اپنے عمل کے پیش نظر کوئ توجیہہ پیش نہیں کی تھی۔۔۔

طارق صاحب نے افضل صاحب کا چہرہ دیکھا تو وہاں گہری سوچ نظر آئ۔۔۔ماتھے پہ شکنیں پڑنے لگی تہیں۔۔۔
انہیں افضل صاحب پوری طرح متوجہ نظر آئے۔۔۔

طارق صاحب نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھا ۔۔۔

وہ 23 مارچ 1940 ۔۔ جس سےقرارداد پاکستان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔۔۔کے بارے میں بتاتے ہوئے کہنے لگے۔۔


آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس منٹو پارک لاہور میں منعقد ہوا جو 22 مارچ سے 24مارچ 1940ء تک جاری رہا۔۔۔اس اجتماع میں 23 مارچ 1940ء کو تقریر کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا:

"مسلمان قوم کسی بھی تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں اور انکے پاس اپنا وطن،اپنا علاقہ اپنی اور اپنی ریاست ہونی چاہیے جہاں مسلمان مکمل طور اپنی روحانی،ثقافتی ،اقتصادی،سماجی اور سیاسی زندگی کی اس طرح تعمیر کریں جس سے ہم سب بہتر سمجھیں اور جو ہمارے تصور سے مطابقت رکھے اور ہمارے لوگوں کی خواہش کے مطابق ہو"

اسی قرارداد لاہور یا قرار داد پاکستان کی یاد میں ہر سال 23 مارچ کو"یوم پاکستان "منایا جاتا ہے۔۔

۔۔ افضل صاحب اندازہ کرچکے تھے کہ آج تک انہوں نے پاکستان کی تاریخ کو صرف پڑھا تھا۔۔ کبھی دل سے محسوس نہیں کیا تھا۔۔انہیں اس بات پہ پشیمانی ہورہی تھی ۔۔وہ کبھی یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ پاکستان کا اصل مقصد لا الہ الا اللہ ہے۔۔

"آج ہم یوم پاکستان صرف پرچم لہرا کر۔۔۔فوجی پریڈ دیکھکر اور چھٹی مناکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ پاکستان کا حق ادا کرلیا۔۔۔درحقیقت ہم دھوکے میں جی رہے ہیں۔۔۔
پاکستان کا حق ادا تب ہی ہوسکتا ہے ۔۔۔جب ہم اپنے ملک کو برا بھلا کہنے کے بجائے اس کیلئے سرگرداں نظر آئیں۔۔اس کے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں۔۔"

"ہمیں پاکستان کو ایمان،اتحاد اور تنظیم کے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلانا ہوگا۔۔پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی وفلاحی ریاست بنانا ہوگا۔۔۔پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلاکراسلام کا قلعہ بنانا ہوگا۔۔۔لسانیات ،فرقہ بندی اور باہمی اختلافات کو مٹاکر سب سے پہلے مسلمان پھر پاکستانی بننا ہوگا۔۔۔"

"یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پر امن،محفوظ اور روشن مستقبل دینے کیلئے کوشاں رہیں۔۔"!!

"ہمارا ہر دن اس ملک کو بہتر سے بہتر بنانے اور اسے اسلام کا گہوارہ بنانے میں صرف ہونا چاہئے"

طارق صاحب اپنی بابت مکمل کرکے اب خاموش ہوچکے تھے۔۔انکی آنکھوں میں جوت کے دیئے روشن تھے وہ ایک معروف کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز تھے اور ملک و قوم کی فلاح وبہبود کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرنے میں خود کو ہلکان رکھتے تھے۔۔۔

۔۔۔افضل صاحب کے وجود میں پھیلی تاریکی چھٹ چکی تھی وہاں روشنی پھوٹتی جارہی تھی۔۔۔آنکھوں پہ جو سیاہ پٹی لپٹی تھی وہ کھل چکی تھی۔۔۔۔دل کی سیاہی ختم ہوچکی تھی۔۔ہر طرف روشنی منعکس تھی۔۔۔

وہ خود پاکستان کے ایسے شہریوں میں ہمہ گیر تھے جو روز دفتر میں بیٹھکر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کولعن طعن کرتے تھے۔۔برا بھلا گردانتے تھے۔۔۔۔کبھی خود کامحاسبہ نہیں ہوتا تھا۔۔ہربرے کام کی وجہ ملک کو ٹہہرادیا جاتا۔تھا۔۔

۔۔گرداب میں دھنسے وجود کو جب باہر نکالا تو خود کو شرمندگی کے سمندر میں غرق پایا۔۔۔اپنی تہذیب ۔۔ثقافت۔۔ کو چھوڑ کر غیروں کی تقلید میں مگن رہے اور پھر بھی فخریہ کہتے رہے کہ ""میں اس ملک کیلئے بہت کچھ کرتا رہا۔۔پر اس ملک نے مجھے دیا کیا""۔۔؟؟؟

یہ ہردوسرے شہری کی کہانی بن چکی ہے۔۔۔۔ذرا سوچئے۔۔۔!!

یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے!!!
کل کو ایسا نہ ہو باطل کی طاقت قوی تر ہوجائے اور ہمارا پیارا ملک صحفہ ہستی سے ہی مٹ جائے۔۔۔آئیے ہم۔ایک۔ہوکے ۔۔۔اپنے ملک کی بہتری کیلئے قدم سے قدم ملا کے چلیں۔۔!!

⚘⚘اسلام پایندہ باد۔۔۔۔پاکستان زندہ باد۔۔۔⚘⚘

#حیا_مسکان

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Ishrat

Read More Articles by Fatima Ishrat: 30 Articles with 19458 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2017 Views: 528

Comments

آپ کی رائے
nice :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 27 2017
Reply Reply
0 Like