توہین عدالت کا آرڈینینس مجریہ 2004 اور اُس کا اطلاق

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

جب کوئی بھی شخص عدالتی احکامات کو نہیں مانتا یا کسی بھی عدالتی حکم کی بحرمتی کرتا ہے یا کوئی بھی کسی عدالتی حکم یا طریقہ کار کو نہیں مانتا جس کو مانا جانا ضروری ہو یا کوئی بھی شخص کسی ایسے بیا ن سے پھر جائے جو اِس نے عدالت کے سامنے دیا ہو۔اگر کوئی ایسا قدم اُٹھائے جو عدالت کی اتھارٹی کو چیلنج ہو یا دخل اندازی کرئے یا قانون کی عملداری میں Prejudice ہو کسی بھی عدالتی طریقہ کار کو ڈسٹر ب کرئے تو اس امر کو کہا جاتا ہے کہ یہ توہین عدالت ہے ۔ contempt کی تین اقسام ہیں سول،کریمنل اور جوڈیشل۔ (1) ہر superior کورٹ کو توہین عدالت میں سزا دینے کا اختیار ہے(2) ہر ہائی کورٹ کو اپنی ماتحت عدلتوں کی توہین کرنے پر سزا دینے کا اختیار ہے(3) ACT XLV OF 1860 کے مطا بق کوئی بھی ہائی کورٹ اِن کیسوں کی سماعت نہیں کرئے گی جن میں توہین عدالت کی سزا پاکستان پینل کوڈ کے مطابق ماتحت عدا لتوں کو دینے کا اختیار ہو۔
Contempt of court is a court order which in the context of a court trial or hearing, declares a person or organization to have disobeyed or been disrespectful of the court's authority. Often referred to simply as "contempt," such as a person "held in contempt," it is the judge's strongest power to impose sanctions for acts which disrupt the court's normal process.A finding of contempt of court may result from a failure to obey a lawful order of a court, showing disrespect for the judge, disruption of the proceedings through poor behaviour, or publication of material deemed likely to jeopardize a fair trial.
مہذب معاشروں میں ادب واحترام برداشت رواداری امن وسکون ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان معاشروں میں قانون کی بالادستی قائم ہوتی ہے اس حوالے سے اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ وہی قومیں اس وقت خوشحال ہیں جو قانون کا احترام کرتی ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کو اُن کی حقیقی روح کے مطابق نہ صرف مانا جاتا ہے بلکہ اُس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ترقی پزیر معاشروں میں کیونکہ کرپشن اور اقربا پروری عروج پر ہوتی ہے اس لیے قانون کی عملداری خام خیالی بن کر رہ جاتی ہے اور یوں عدلیہ پورے وقار کے ساتھ اپنے فیصلوں کو نہیں منوا پاتی۔ گویا توہینِ عدالت کا سرزد ہونا جانِ بوجھ کر ان معاشروں میں نہیں ہوتا بلکہ عدالتی احکامات کو ماننا بااثر طبقہ جات کے لیے اُن کی اپنی توہین کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں عدلیہ کے ساتھ بااثر طبقے تو معاذآرائی تو ہر دور میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن حکومتِ وقت بھی کسی طرح بھی عدالتی فیصلوں پر خوشی کا اظہار نہیں کرتی بلکہ عدالتی فیصلوں کو نہ ماننے کی ترغیب دینااُس کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔پاکستان کی عدالتی تارئیخ جو نظریہ ضرورت نامی بدنما دھبے کی گواہ ہے وہ نظریہ ضرورت کبھی فوجی ڈکٹیٹروں کی چرھائی کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتا رہا اور کبھی نام نہاد جمہوریت پسندوں نے عدالتوں کا گلہ گھوٹنے میں کو کسر نہ چھوڑی۔ عدالتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عدلیہ کو قابو میں رکھنے کے لیے مقننہ اور حکومت نے اپنے سارے داؤ پیچ استعمال کیے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سکندر مرزا ایوب خان،یحییٰ خان ، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف ، نواز شریف اور بے نظیر کے ادوار میں عدالتوں کو دبانا اور اپنے حق میں فیصلے کروانا عام دستور رہا ہے۔ اس حوالے سے جناب آصف علی ذرداری کا دور اپنی مثال آپ ہے کیونکہ اس دور میں زرداری صاحب کا سامنا ایک ایسی عدلیہ کے ساتھ تھا کہ جس نے مشرف جسے نام نہاد کمانڈو کو ناکوں چنے چبوادیے اور مشرف خود ساختہ جلاوطنی کا ڈھونگ رچائے بیٹھا رہا۔ پاکستانی معاشرئے میں موجودہ نفسا نفسی کے عالم میں جب کے اقدار نام کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کی جاتی وہاں عدالتوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ یہ مقننہ کی ذمہ داری ہے آپکی نہیں۔ اگر جمہوریت میں عدالتوں کی توہین کا یہ عالم ہے تو پھر فوجی ڈکٹیٹروں کا کیا عالم ہوگا ۔ جو بھی عدالتوں کی مخالفت کرتا ہے اُسے حکومت کی آشیر باد حاصل ہو جاتی ہے اور وہ حکومت کے نزدیک پارسا نیک گردانا جاتا ہے۔ توہین عدالت کے قانون کے سیکشن 5 کے سب سیکشن 1
کے مطابق ایسا کوئی شخص جو کہ توہین عدا لت کا مرتکب ہو ا ہو تو اُسکو چھ ماہ قید یا جرمانہ جو کہ ایک لاکھ تک ہوسکتا ہے یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔ سیکشن 5 کے سب سیکشن 2؁ٓ کے مطابق اگر کوئی شخص جس پر الزام ہو کہ وہ توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے اور کیس کے کسی بھی مرحلے پر معافی مانگنے کی صورت میں عدالت اگر سمجھتی ہے کہ ملزم نے معافی صدقِ دل سے مانگی ہے تو عدالت اُے معاف کرکے سزا ختم کرسکتی ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ ملزم حقیقی معنووں میں یقین واعتماد رکھتا ہو کہ اُس سے توہین عدالت سرزد نہیں ہوئی۔سب سیکشن 3 کے مطابق اگر توہین عدالت کمپنی کی طرف سے ہوئی ہو تو اِسکی ذمہ داری اُن افراد پر ہوگی جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کمپنی کے امور کے ذمہ دار ہیں اُن کو اس میں سزا ہوگی۔ سب سیکشن 4 کے مطابق کوئی بھی عدالت سزا کا حکم اُسے نہیں دے سکتی جس کو سب سیکشن1کے تحت استشناٰ حاصل ہو۔ سیکشن 6 کے مطابق کرمنیل کنٹمپٹ اُس وقت ہوگی جب (a) کوئی گواہی پر یا متوقع گواہو ں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرئے (b) کسی بھی جج پر غلط طریقے سے اثر انداز ہو یا اثر انداز ہونے کی کوشش کرئے یا کسی بھی کیس کی سماعت کے دوران اپنی مرضی کا حکم لینے کے لیے اثر انداز ہو تو یہ امر کریمنلِ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔(c) ایسا کو ئی بھی ایکٹ جو انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنے۔ سیکشن 7 توہین عدالت آرڈیننس 2004 کے مطابق سپیریئر کورٹ (1) سوموٹو ایکشن لے سکتی ہے (2) کسی بھی شخص کی طرف سے توہین عدالت کا مسلۂ اُٹھائے جانے پر جو کہ متعلقہ شخص کے کیس سے منسلک ہوئی ہو (3) صوبائی یا وفاقی حکومت کے افسر کی طرف سے درخواست دئیے جانے پر، سیکشن 8 (1) کے مطابق اگر عدلیہ کی کاروائی کی FAIR REPORTING کی گئی ہو تو اس پر توہین عدالت نہیں لگائی جاتی ہے۔(2) عدالت انصاف کے مفاد میں عدالتی کاروائی کو شائع کرنے سے روک بھی سکتی ہے۔ سیکشن 9 کے مطابق اگر کسی جج پر ذاتی طور پر کوئی تنقید کی گئی ہو اور یہ تنقید IN GOOD FAITH کی گئی ہو تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں ہو گئی۔سیکشن10 کے تحت اگر کسی عدالتی فیصلے پر عوامی اہمیت کے تحت کوئی رائے ظا ہر کی جائے تو یہ بھی توہین عدالت کے زمرے میں نہیں ہوگا۔ سیکشن 11 کے مطابق جوڈیشل CONTEMPT کے حوالے سے سپیرئر کورٹ از خود ایکشن لے سکتی ہے یا کسی شخص کی جانب سے توجہ دلائے جانے پر ایکشن لیا جاسکتا ہے۔سیکشن 12 سول CONTEMPT از خود نوٹس کے تحت یا متاثرہ شخص کے توجہ دلانے پر عدالت کاروائی کرے گی۔ سیکشن 13 کے مطابق اگر عدالت کے سامنے توہین عدالت کی گئی ہو تو عدالت توہین کرنے والے ملزم کو قید کر سکتی ہے یا پھر سب سیکشن 2 کے مطابق جو طریقہ کار ہے اُس پر عمل ہو گا۔ مندرجہ بالا قانون کے باجود جس طرح عدالتی فیصلو ں کی تضحیک کی جاتی ہے اس میں پولیس کا کردار بہت غیرذ مہ درانہ ہے ہونا تویہ چاہیے تھا کہ قانون کی رکھوالی پولیس قانون پر عمل پیرا ہونے کا پیکر بنتی لیکن جس طرح عدالتی آرڈرز خصوصی طور پر22A, 22B کے تحت حاصل سیشن ججوں
کواختیارات پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارئے کس طرح قانون کی دیھجیاں اُڑاتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219217 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
25 Mar, 2017 Views: 291

Comments

آپ کی رائے