پاکستان میں میڈیا کا منفی یا مثبت کردار

(Maryam Arif, Karachi)

عائشہ جمشید
پاکستان میں میڈیا یا مثبت اور منفی دونوں طرح کا کردار ادا کرر ہا ہے لیکن بدقسمتی سے منفی کردار کا حصہ زیادہ ہے۔ میڈیا اس وقت بھرپور آزادی کے ساتھ ہر طرح کا مواد نشر کر رہا ہے۔ آزادی صحافت کے نام پر میڈیا اتنا طاقت ور ہوگیا ہے کہ اس کی غیر اخلاقی سرگرمیوں پر قابو پانا ایک مسئلہ بن چکا ہے۔

آزادی کا حق سب کو حاصل ہے لیکن اس کا صحیح استعمال سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کا غلط استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ نیوز چینلز سب سے پہلے خبر نشر کرنے کی دوڑ میں اول آنے کیلئے غلط اطلاع لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ا ٓج کل غیر تصدیق شدہ خبریں چلانے کا تو جیسے رواج قائم ہوگیا ہے۔ جس کی حالیہ مثال لاہور میں پھیلنے والی دھماکوں کی افواہ ہے۔ جس میں پہلے ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد بیانات چلائے گئے اور پھر گلبرگ میں دھماکے کی خبر چلائی گئی جسے بعد میں افواہ قرار دے دیا گیا۔

چینلز کی آپسی جنگ میں عوام کو حقائق تک پہنچنے میں کافی وقت لگتاہے۔ جس سے معاشرے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ میڈیا خبروں کو سنسنی خیز بنانے کیلئے جھوٹ کی آمیزش سے بھی باز نہیں آتا یہاں تک کہ غیر ضروری اور نامناسب خبروں کی بھرمار کر دی جاتی ہے۔ کسی قسم کی تخریب کاری یا دھماکے کے بعد مسخ شدہ چہروں والی کٹی پھٹی لاشوں کی ویڈیوز دیکھائی جاتی ہیں اور یہ نوٹ لکھ کر کہ ’’بچے اور کمزور دل کے افراد نہ دیکھیں‘‘ یہ سمجھا جاتا ہے کہ فرض اداہوگیا۔

اسی طرح ہر نیوز چینل پر نشر ہونے والے ٹاک شوز کو کامیاب بنانے کے لئے (سچے / جھوٹے) مختلف اسکینڈلز کو اچھالا جاتا ہے اور کسی بھی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے یہ خیال نہ کیا جاتا کہ اس شخص کے اہل خانہ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی کرسیوں پر بیٹھنے والے معزز افراد ایک دوسرے کیلئے نہایت غیر مناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ جنہیں بغیر سنسر کئے نشر کر دیا جاتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا عوام کو رائے قائم کرنے میں بہت زیادہ مدد فراہم کرتا ہے۔ اس لئے اعلیٰ اور موثر معلومات ہی لوگوں تک پہنچانی چاہئیں الیکٹرانک میڈیا کو تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ کہا جاتا ہے لیکن آج کل تفریح کے نام پر عوام کے دماغوں کے ساتھ کھیلا جارہاہے۔ پاکستان میں بننے والے ڈراموں اور فلموں میں گلیمر کی بھر مار ہے جن میں دور دور تک تعلیم وتربیت کا تصور بھی نہیں ہوتا بلکہ بڑے بڑے محل اور عیش وعشرت دیکھا کر عوام کو حقیقت سے دور کیا جارہا ہے۔ فیشن کے نام پر خواتین اداکاراؤں اور میزبانوں کو غیر مناسب لباس زیب تن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جس کے بعد وہ مواد نشر کیا جاتا ہے جس کا ایک اسلامی ملک میں نشر ہونا قابلِ شرم بات ہے۔

پاکستان میں اسلامی اقتدار کے فروغ کے بجائے غیر ملکی ثقافت کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ ہندو رسم ورواج کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں ہولی منائی جانے لگی ہے۔ ہمارے سیاستدان مندروں میں ہندؤں کے ساتھ ان کی رسومات ادا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ کرسچنز کو کرسمس کی مبارکباد دینے کے ساتھ کیک بھی کاٹے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا میڈیا پوری دنیا میں نشر کرتا ہے ۔ دنیا کو یہ دیکھایا جاتا ہے کس طرح ہم اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک میں غیر مسلموں کے غلام ہوتے جارہے ہیں۔

میڈیا کو ضابطہ اخلاقی کا پابند ہونا چاہیے اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ اگر میڈیا میں موجود اپنی پاور کا غلط استعمال کرنے والے لوگوں کو سزا دی جائے تو اپنے پیشے کے ساتھ مخلص لوگ زیادہ بہتر طریقے سے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

ہمارا پرنٹ میڈیا بھی مکمل آزاد ہے لیکن کچھ حد تک وہاں صحافتی اخلاقیات اور حدود کا خیال رکھا جاتاہے۔ لیکن چند منفی عناصر یہاں پر بھی غالب ہیں۔ آج کی صحافت کا مقصد لوگوں کی اصلاح کرنے سے زیادہ پیسہ کمانا ہے۔ اشتہاری کمپنیوں کو خوش کرنے کیلئے اخبارات اور رسائل اپنے لکھاریوں کو ناراض کر لیتے ہیں کیونکہ جگہ نہ ہونے کے باعث ان کی تحریریں شائع ہونے سے رہ جاتی ہیں۔ کئی مرتبہ تو آمدن بڑھانے کیلئے بغیر تحقیق کئے ادویات تک کے اشتہارات شائع کر دیئے جاتے ہیں جن سے عوام کو نقصان پہنچتا ہے۔ معاشی استحکام حاصل کرنے کیلئے اشتہارات کے علاوہ کئی ایسے ذرائع آمدن ہیں جو اخبارات کو غیر جانبدارنہیں رہنے دیتے۔

بعض اوقات معاشی فائدے کیلئے واقعات کی جانبدار رپورٹ دی جاتی ہے۔ اکثر مسائل کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کرنے سے مختلف اخبارات کی خبروں میں تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔ جس سے عوام صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرپاتی ۔ کئی اخبارات پسند نہ پسند کی بنیاد پر بھی عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر سیاست کے میدان سے آنے والی خبروں کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ پسندیدہ پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات کو نمایاں دکھایا جاتا ہے جو مختلف پارٹیوں کو آپس میں لڑوانے کا باعث بنتے ہیں۔ ذاتی مفاد کیلئے عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے اگر اخبارات اور رسائل کی مدد سے عوام کی رہنمائی کی جائے تو انہیں کسی بھی مسئلے پر غلط یا منفی رائے قائم کرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ اصل حقائق جاننے کی صورت میں عوام بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوگی اور ملک درست سمت میں چلنے لگے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521277 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Mar, 2017 Views: 214

Comments

آپ کی رائے