وفاقی وزیر ریلوے کی خدمت میں ……!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 عوام کے دیرینہ مطالبے پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں جنرل بس اسٹینڈ ملتان کے قریب نیاریلوے اسٹیشن بنوایا گیا تھا ، جسے نیو ملتان سٹی ریلوے اسٹیشن کا نام دیا گیا ، اس اسٹیشن کے قیام سے نہ صرف ملتان بلکہ دیگر شہروں کے عوام کو بھی خاصی سہولت میسر آئی تھی ۔ ملتان سے ڈیرہ غازیخان ، مظفر گڑھ ، راجن پور، وہاڑی جیسے اضلاع کو جانے والے افراد یہاں اتر کر قریب واقع جنرل بس اسٹینڈ سے اپنے اپنے شہروں کو روانہ ہو جاتے تھے، اس ریلوے اسٹیشن پر ایڈوانس ریلوے بکنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ مگر جیسے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت بدلی حکومتی پالیسیز بھی بدل گئیں، کسی نے بھی عوامی مسائل کو ملحوظ نہ رکھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آنے والی حکومت اس ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کے لیے رکشہ و کار اسٹینڈ بناکر مسافروں کو مذید سہولیات فراہم کرتی اس کے برعکس اس ریلوے اسٹیشن سے تمام ریل گاڑیوں کے سٹاپ ختم کردیے گئے اور بکنگ آفس بھی ختم کردیا گیا، آج کروڑوں روپے کی خطیر رقم سے تعمیر ہونے والا یہ ریلوے اسٹیشن تباہ حال ہو کر بند ہو چکا ہے ، بکنگ آفس کا سامان غائب ہے، اسی طرح مسافروں کے بیٹھنے کے لئے لگائے گئے بنچ اور کرسیاں غائب ہوچکی ہیں، جبکہ ملتان سے دیگر شہروں کو جانے والے مسافروں کوملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن اتر کر ایک گھنٹے کا پرمشقت سفر طے کرکے جنرل بس اسٹینڈ آنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنے شہروں کو روانہ ہوپاتے ہیں۔حکومت بے شک اربوں روپے موٹر ویز، میٹرو بس ، یا اورنج ٹرین کے منصوبوں میں صرف کرے مگرپالیسیز بناتے وقت منصوبوں میں عوامی مفادات کو اہمیت دے ۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو چاہیے کہ عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیو ملتان سٹی ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور اس کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ملتان جوکہ پنجاب کا دوسرا بڑا شہر اور جنوبی پنجاب کا مرکز ہے ، جہاں نہ صرف پورے جنوبی پنجاب بلکہ اندرون سندھ اور بلوچستان سے بھی لوگ دفتری امور، صحت، تعلیم اورکاروبار کے لئے آتے ہیں، اس اسٹیشن کی بحالی سے ملتان کے شہریوں کے علاوہ دیگر شہروں کو جانے والے افراد کو بھی سہولت میسر آئے گی اور وہ قریب واقع جنرل بس ٹرمینل سے اپنے شہروں کو با آسانی روانہ ہوسکیں گے ۔

موجودہ حکومت کی مختلف پالیسیاں جہاں قابل تنقید ہیں وہاں چند ایک جگہوں پر قابل تقلید اور قابل تعریف بھی ہیں، جن میں سے ایک پاکستان ریلوے کا نظام ہے۔ عوام پاکستان جانتے ہیں کہ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان ریلوے کسی حد تک ماضی کا قصہ بن چکا تھا۔ موجودہ حکومت کے وفاقی وزیر ریلوے نے گذشتہ چار سالوں کی شبانہ روز محنت سے اس ادارے کواپنے پیروں پرکھڑا کردیا ہے۔ اب پاکستان ریلوے کا پہیہ ماشاء اﷲ خوب چل رہا ہے ، ٹرینوں کی بروقت روانگی اور بروقت منزل پر پہنچنے سے ریلوے کے نظام میں بہتری اور مسافروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان ریلوے کا نا صرف خسارہ ختم ہوگیا ہے بلکہ یہ نفع بخش ادارہ بن چکا ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی محنت و لگن اور توجہ و جانفشانی کی وجہ سے ایک قریب المرگ شعبہ میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے۔ پاکستان ریلوے جس کی حالت 2008 ء میں اتنی ناگفتہ بہ تھی کہ پاکستان ریلوے تقریباً ختم ہی ہوچلا تھا جس پراس وقت کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور کا انمول اور تاریخی بیان ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ’’ریلوے تو افغانستان میں بھی نہیں ہے، پاکستان میں ریلوے بند ہورہی ہے تو کیا ہوا‘‘۔ ریلوے جو مال برداری اورمسافروں کی آمدورفت کے لئے واحد اور سستا ذریعہ تھا اس کو2008 ء سے آہستہ آہستہ جانتے بوجھتے ٹرالوں، ٹرکوں اور بس مافیاز کے دباؤ پر پستی اور تباہی کی جانب دھکیلا گیا اور 2013ء تک کے پانچ سالہ مدت میں تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا تھا۔ آج ٹائم ٹیبل کی پابندی کے بعد اب پاکستان ریلوے دوبارہ مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہے۔
 
پاکستان ریلوے میں بہتری کے باوجود ملتان سیکشن کی گزشتہ نو سال سے بند ملتان سے کراچی کے درمیان چلنے والی شاہ رکن عالم ایکسپریس ابھی تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔ جبکہ ملتان سے فیصل آباد کے چلنے والی ملتان ایکسپریس کو بھی ملتان سے لاہور کے روٹ پر چلایا گیا ہے ، اور ملتان سے فیصل آباد (پنجاب کے دو بڑے تجارتی شہروں ) کے درمیان سفر کے لئے کوئی ریل گاڑی نہیں ہے، حالانکہ یہ روٹ پاکستان ریلوے کے لیے خاصہ نفع بخش ہے۔ اگر پندرہ اپریل 2017 ء سے نئے نافذ العمل ہونے والے ریلوے ٹائم شیڈول میں ملتان سے لاہور کے درمیان چلنے والی ملتان ایکسپریس کا روٹ براستہ فیصل آباد کردیا جائے توعوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوجائے گا ، اور پاکستان ریلوے کو بھی خاطرخواہ نفع حاصل ہوگا۔ جبکہ نیو ملتان سٹی ریلوے کو بحال کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وفاقی وزیر ریلوے اور ملتان ریلوے انتظامیہ کو چاہئے کہ نیو ملتان سٹی ریلوے اسٹیشن کو بحال کرتے ہوئے یہاں تمام ایکسپریس گاڑیوں کا ایک منٹ کا سٹاپ مقرر کردیں اور نیوملتان ریلوے اسٹیشن کے باہر رکشہ اسٹینڈبنایا جائے، تاکہ ملتان کے عوام کو با سہولت سفری سہولیات میسر آسکیں۔ بلاشبہ ریلوے ایک مناسب ، آرام دہ، سستا اور محفوظ ذریعہ سفر ہے، ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان ریلوے میں مذید کامیابی اور مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے مذید قابل ستائش اقدامات ضروری ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 783 Articles with 338954 views »
Journalist and Columnist.. View More
30 Mar, 2017 Views: 292

Comments

آپ کی رائے