فرسٹ اپریل فول یا ہم سب فول

(Farhan Khan, )

اپریل لاطینی زبان کے لفظ " اپریلس" یا " اپرائر" سے اخذ کیا گیاہے جس کا مطلب ہے 'پھولوں کا کھلنا'یا' کونپلیں پھوٹنا'۔یعنی 'موسمِ بہار کی آمد'۔ قدیم رومی قوم موسمِ بہار کی آمد پر شراب کی دیوی کی پرستش کرتے اِس کو خوش کرنے کے لئے بہت ذیادہ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے اور اس کے لئے جھوٹ کا سہارا بھی لیتے۔یہ جھوٹ اپریل فول بنا۔

جب عیسائی افواج نےا سپین کو فتح کیا تو انھوں نے مسلمانوں کا بے دردی سےخون بہایا ۔پوری طرح سے قابض ہوجانے کے بعد بچے ہوئے مسلمانوں سے اسپین کو خالی کرانےکے لئے ایک منصوبہ تیار کیا گیا جس کہ تحت جھوٹ بول کر انھیں غر نا طہ میں اکھٹا کیا گیا کہ ان کو وہاں پہنچا دیا جائے گا جہاں وہ جانا چاہتے ہیں۔لیکن جہاز بھر کر انھیں سمندر میں ڈبو دیا گیا۔ اس جھوٹ کو 'اپریل فول' کا نام دیا۔یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا ۔ اوراس فتح پر پورےا سپین میں جشن منایا گیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فحا کا عظیم دن بن گیا ۔ آج بھی عیسائی اس دن کی یاد مناتے ہیں اور جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔

سولومیں صدی میں جب' پوپ'نے اعلان کیا کہ نئے سال کا آغاز یکم اپریل کی بجائے یکم جنوری سے کیا جائے تو کچھ لوگوں نے نئے سال کا جشن یکم جنوری کو منانے سے انکار کر دیا اور انھوں نے یکم اپریل ہی کو جشن منایا۔ تو ان لوگوں کو فول قرار دیا گیا اور یوںاپریل فول کی بنیاد پڑی۔

مختلف اقوام کی اس طرح کی فول روایات سے اپریل فول کا آغاز ہوااور مغربی تقلید کے حامی مسلمانوں میں بھی سرائیت کرتا چلا گیا۔جبکہ
حضور ﷺکا ارشاد ہے "جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں سے ہے"۔ تو اسی لحاظ سے یورپی اقوام کے اس تہوار کو منانا انتہا ی غیر مناسب اور غیر مذہبی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے
لعنت اللہ علی الکذبین (آلعمران….61)
"جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے "
ایک اور جگہ ارشاد ہے
واجتنبو قول الزوار (الحج …… 30)
" اور جھوٹی بات سے پرہیز کرنا چاہئے"

اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے اور غیر قوموں کی نقل سے منع فرمایا گیا ہے۔ اپریل فول کے تہوار میں جھوٹ بول کر ایک دوسرے کا مذاق اڑایا جاتا ہے اسلام میں اس طرح کے فضول تہوار اور رسومات منانے کی کوئی گنجائش نہیں ملتی بلکہ بڑےواضح احکامات پائے جاتے ہیں اور معاشرتی لحاظ سے بھی اس کے نقصا نات کا اندازہ 2اپریل کے اخبارات کی سرخیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔تا ہم مذہبی اورمعاشرتی دونوں اعتبار سے ہمیں خود فول بننے اور دوسروں کو فول بنانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔بہثیت مسلمان قوم اپریل فول ہمیں کسی بھی طرح سےزیب نہیں دیتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farhan Saeed Khan

Read More Articles by Farhan Saeed Khan: 10 Articles with 16091 views »
working as a script writer and assistant producer in Aims productions Lahore. doing article writing for Samaa TV, Neo TV, and some other sites.poetry .. View More
31 Mar, 2017 Views: 1439

Comments

آپ کی رائے
bht khoob
By: Muhammad Javed Zafar, Bhalwal on Mar, 31 2017
Reply Reply
1 Like