ہمارا کراچی۔ ایک ترقی یافتہ شہر

(Moin Noori, )

کبھی کراچی کی شناخت۔ سمندر،مزارِ قائد، کلفٹن کوٹھاری، روشنیاں، احمد کاحلوہ، علامہ شاہ احمد نورانی اور علم و شعور ہوا کرتا تھا ۔ اب ٹوٹی سڑکیں، کچرے کے ڈھیر ، عدم تحفظ اور ایم کیو ایم اِس شہر کی نمایاں علامات ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت، سندھ حکومت، بلدیہ کراچی اور شہر کے منتخب ایم کیو ایم نمائندوں پر قطعی عائد نہیں ہوتی۔

بھئی جب سڑکیں بنی تھیں تو کیا ٹوٹی ہوئی بنی تھیں؟ ، یہ تو عوام نے خوداچھی خاصی بنی بنائی سڑکوں کو اِس بے دردی سے استعمال کیا کہ انہیں توڑ کر رکھ دیا۔اب روزروزتو سڑک بننے سے رہی ۔ جن علاقوں میں سڑکیں کبھی بنی ہی نہیں تو کیا اس کا ذمہ دار بھی کوئی محکمہ ہے؟ ، یہ تو لوگوں کا قصور ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں سکونت اور آمد و رفت کیوں کرتے ہیں کہ جہاں سڑک نہیں ۔ آخر شیر شاہ سوری نے اپنے دور میں کراچی میں کوئی سڑک کیوں نہیں بنا ئی؟ مجھے کہنے دیجئے کہ جب یہاں صدیوں سے سڑک نہیں تھی تو کوئی بولتا نہ تھا ، اب بے چاری حکومت اور میئر کو خواہ مخواہ بدنام کیا جاتا ہے۔

کچرے کے بھی کراچی کے شہری خود ذمہ دار ہیں۔ اگر یہ پھل، چھلکے سمیت کھائیں، سبزی مع چھلکا پکائیں، شاپنگ کرتے وقت، گھر کا برتن یا ٹوکری استعمال کریں ورنہ دامن اتنے وسیع ہوں کہ شاپنگ بیگ کی ضرورت نہ پڑے۔ کاغذ بالکل استعمال نہ کریں، اس کی جگہ کمپیو ٹر اور واٹس اپ استعمال کریں۔تمام محکموں میں لفافوں پر پابندی ہو، تمام پیکنگ میٹریل اور ریپرز وغیرہ متعلقہ کمپنیوں کو واپس کر دیجئے جا ئیں، مکانوں کی توڑ پھوڑ نہ کریں۔ گھروں میں جھاڑو نہ لگائیں اورکباڑیے ہر شے خریدیں تو کراچی میں اِتنا کوڑا کرکٹ نہ ہو اور یہ ایک عالمی صاف ستھرا شہر کہلائے۔بچے بھی کوڑا پھیلانے اور گھر کا امن و امان خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اس کا حل یہ ہے کہ کسی کی کوئی غلطی نہ دہرائی جائے اور مستقل مزاجی اور خلوصِ دل سے شادی اور بچوں سے ہر صورت مکمل پرہیز کیا جائے۔ اس سے گھر میں نہ بد امنی ہوگی، نہ کتابوں کاپیوں کا ڈھیر لگے گا اور نہ بچے بگڑنے کی فکر ہوگی جبکہ بچت الگ ہوگی۔ کراچی شہر کو تو یہ گند ورثے میں ملا ہے۔ شیر شاہ سوری اور اکبر بادشاہ نے اپنے ادوار میں یہاں سے کچرا اٹھانے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیاتھا، بھئی یہ تو صدیوں کا گند ہے کوئی 80-70سال میں تھوڑی ختم ہو گا۔

اپنی جان مال کا تحفظ بھی عوام کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے بہتر تویہ ہے کہ اپنے گھر سے با ہر نہ نکلیں۔ ضروری بچے ہوں توا نہیں خود پڑھا ئیں۔روزے رکھیں۔ ضرورتاً دفتر یا دکان جائیں تو وہیں تین ماہ تک رہنے کا انتظام کرلیں اور اس دوران بالکل با ہر نہیں نکلیں۔ کوئی بھی قیمتی چیز اور لُٹنے والا سامان پاس نہ ہو۔بُلٹ پروف جیکٹ پابندی سے استعمال کریں۔ پرس ہو نہ جیب ۔ نہ ہو گا بانس ،نہ بجے گی بانسری۔ یعنی ہینگ لگے گی نہ پھٹکری اور ہمار ا کراچی ترقی یا فتہ ہو جا ئے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: moinnoori

Read More Articles by moinnoori: 10 Articles with 7569 views »
Ex- Rukun of ATI
Complier of a book on students politics name "ANJUMAN TALABA-E-ISLAM: NAZARIYAT, JIDDOJEHED, ASRAAT" AND HAFIZ MUHAMMAD TAQI
.. View More
03 Apr, 2017 Views: 303

Comments

آپ کی رائے