انسانی سمگلنگ کی روک تھام

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

جب بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی کوئی کشتی حادثے کا شکار ہوتی ہے تو اس میں کئی پاکستانی اپنی جان ہار جاتے ہیں ایسے لوگ بیچارے غریب گھرانوں تعلق رکھتے ہیں اور اپنے گھروں کی غربت کو خوشحالی میں بدلنے کے لئے وہ اپنی جان تک کا ر رسک لیتے ہیں کئی قسمت کے دھنی اپنی منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں مگربہت سے لوگ عموما لوگ راستے ہی میں بے رحم حالات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں بسنے والے لوگ اپنے بہتر مستقبل کی خاطر عموما بیرون ممالک اور خاص طور پر یورپ جانے کے لئے ہر ممکن طریقے ازاماتے ہیں گو کہ ایسے لوگ جب وہاں پر سیٹل ہوجاتے ہیں تو ملک میں زرمبادلہ کی اچھی خاصی رقم بھیجتے ہیں جو ان کے گھرانوں کو غربت سے خوشحالی کی طرف لے آتی ہے ستر ،اسی اور نوئے کی دہائی میں جو لوگ بیرون ممالک میں اباد ہوئے اب تک ان کی دو، دو نسلیں ان ممالک کی پرورش پا چکی ہیں اور یورپ کی اگر بات کی جائے تو لاکھوں لوگ وہاں پر آباد ہیں جنھوں نے اپنے بہتر مستقبل کی خاطر وہاں کی سکونت اختیار کی اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں وہ تمام سہولیات نہ ہونا ہے جن کی کوئی بھی ترقی پسند شخص خواہش کر سکتا ہے ایوب دور میں اور بعد ازاں بھٹو دور میں لاکھوں لوگوں کو بیرون ممالک میں بھیجا گیا جس کا خاطر خواہ فائدہ حکومت کو ہوا لیکن ساتھ ساتھ ایک نقصان بھی ہوا وہ ایسے کہ ان افراد میں بہت سے ہنر مند افراد جو کہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے وہ بھی اپنے اچھے مستقبل کی خاطر بیرون ملک چلے گئے جس سے پاکستان میں بہت سے شعبے ترقی نہیں کر سکے ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے ساٹھ فیصد بہترین زہین لوگ بیرون ممالک میں آباد ہوئے جو ان ممالک میں ناصرف بڑے بزنس مین ہیں بلکہ وہاں کی معیشت ،سیاست ،اور دیگر شعبوں میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی تعریفیں وہاں کی حکومتی بھی کرتی ہیں انھیں لوگوں کی بدولت وہاں ترقی و خوشحالی ہے بات کی جائے ا گر امریکہ کی تو اس میں بیس فیصد پاکستانی ڈاکٹرز وہاں کے شعبہ طب میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں بیرون ممالک میں بسنے والے لوگوں کی خوشحال زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہر تیسرا پاکستانی ملک سے باہر جانے کی خواہش دل میں لئے بیٹھا ہے اسی خواہش کو کچھ لوگ کیش کرواتے ہیں جس سے ناصرف وہ شخص بلکہ اس سے جڑی کئی اور زندگیاں بھی داؤ پر لگ جاتی ہیں ایسے لوگ بڑے آرام سے لوگوں کو بیرون ممالک میں ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھاتے ہیں اور اپنے جال میں پھانس کر ان سے رقم بھی بٹورتے ہیں اور بعض اوقات انھیں راستے ہی میں پار لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ایجنٹ کہتے ہیں جس سے آج ہر خاص و عام واقف ہے۔ انسانی سمگلنگ اب ڈھکی چھپی بات نہیں پوری دنیا میں اٹھنے والے بحرانون کی وجہ سے یہ عام ہو چکی ہیں کہیں غربت کہیں جنگ نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس نے ایجنٹوں کا روبار خوب چمکایا اب بیرون دنیا بھی ان اقتصادی مہاجرین سے تنگ ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اس وجہ سے ان ترقی یافتہ ممالک نے اپنی پالیسیاں سخت کر دی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ پکڑے بھی گئے اور بہت بڑی تعداد میں ڈی پورٹ بھی ہوئے ہیں گزشتہ تین برسوں کے دوران دو لاکھ 66ہزار چار سو بارہ پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کرکے پاکستان بھیجا گیا کویت ساڑھے انیس ہزار اور ملائیشیا سے ساڑھے دس ہزار سے زائد پاکستانی بے دخل ہوگئے گزشتہ دنوں سعودی عرب سے بھی بہت سے پاکستانیوں کو محض اس وجہ سے نکالا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔ غیر قانونی طور پر یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ جانے والے پاکستانیوں کی شرح میں 18فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد جب پکڑے جاتے ہیں تو انہیں وہاں ملکی قوانین کے تحت سزا دی جاتی ہے اس کے بعد ڈی پورٹ کیا جاتا ہے اس تمام تر صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ان ہم وطنوں کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجتے ہیں وہ انہیں لوٹ کر بھی آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور قانون کی زد سے محفوظ رہتے ہیں۔اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں ایسے جعلی ایجنٹ موجود ہیں جو بیرون ملک روزگار کی تلاش کے لئے جانے کے خواہشمند افراد سے بھاری رقمیں لے کر انہیں لانچوں' ٹرکوں' کنٹینروں اور کشتیوں میں بٹھا کر دوسرے ملکوں میں بھیجواتے ہیں موجودہ حکومت نے لوگوں کو لوٹنے والے ان جعلی ایجنٹوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی ان جعلی ایجنٹوں کی پشت پر بااثر افراد کا ہاتھ ہے چنانچہ ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی یہ صورتحال وزارت داخلہ کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں وزیر داخلہ ایک بہت باصلاحیت شخصیت اور موجودہ حکومت کے ایک طاقتور وزیر ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ابھی تک جعلی ایجنٹوں کی روک تھام اور انہیں قانون کے سپرد کرنے کے معاملات پر توجہ نہیں دی اگر وہ اس معاملے پر توجہ دیں تو ہفتوں اور دنوں میں عوام کو لوٹنے اور انہیں بیرون ملک مصائب میں مبتلا کرنے والے یہ ایجنٹ قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ ضروررت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جس کی وجہ سے انسانی سمگلنگ پر قابو پایا جا سکے غیر قانونی ایجنٹون کے خلاف بھر پور اور موثر کاروائی کی جائے انھیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے اس سے انسانی سمگلنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی دوسری صورت میں عوام یوں ہی ان ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گئے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133492 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
03 Apr, 2017 Views: 397

Comments

آپ کی رائے