اپریل فول اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

(Tanveer Ahmed Awan, Islamabad)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جھوٹ گناہوں میں سب سے زیادہ قبیح اور شنیع ہے،یہ فطرت انسانی او راسلام سمیت تمام ادیان سماوی میں قابل نفرت عمل ہے،شریعت مطہرہ میں کوئی دن اور موقع ایسا نہیں ہے کہ جس میں جھوٹ بولنا ، من گھڑت خبر دینا اور کسی کے ساتھ جان لیوا اور بیہودہ مذاق کرنا جائز قرار دیا گیا ہو۔اسلام نے صحت افزا ء مزاح بینی اور ظرافت کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، حضرت ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا "میں ہنسی مذاق کرتا ہوں اور صرف حق بات کہتا ہوں۔"(معجم کبیر)جھوٹ کے بارے میں ارشاد باری ہے"بے شک جھوٹ وہ لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں ۔"(النحل ۔105)پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ نے جھوٹ کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے،حضرت ابوھریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے،اور جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری )

ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور اخلاقی آزادی کی وجہ سے جو غیر فطرتی روایات وجود میں آئی ہیں ان میں اپریل فول کے نام سے منایا جانے والا دن بھی ہے،یکم اپریل کو ہر قسم کا جھوٹ، بیہودہ اور ہواس باختہ مزاح اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتی حرکات کونہ صرف جائز بلکہ قابل تقلید بھی سمجھا جاتا ہے،اس حوالے سے جہاں اسلامی تعلیمات اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں وہیں اپریل فول کی وجہ رونماہونے والے افسوس ناک اور دل خراش واقعات کی وجہ سے ہرذی شعور،مہذب اور تعلیم یافتہ انسان اس سے نالاں اور شاکی نظر آتا ہے،تاریخی لحا ظ سے اپریل فول انتہائی تاریک پس منظر رکھتا ہے اورگیارہویں صدی عیسوی میں غرناطہ پر قابض عیسائی متعصب حکمران فرڈی ننڈ کی سفاکیت کی یاد دلاتا ہے،جس نے بدترین تاریخی ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، منصوبہ بندی کے تحت اسپین کے مظلوم اور مفتوح مسلمانوں کو سمند ر کی لہروں کی نظر کرکے اپنی کامیابی کا جشن منایااور اسے فرسٹ اپریل فول کا نام دیا،تب سے آج تک یکم اپریل کو یہ سیاہ اور انسانیت کے ماتھے کا بدنما داغ جیسا دن پورے فخر سے منایا جاتا ہے۔

اپریل فول جیسی گنوار روایات کسی وحشی اور درندہ صفت تہذیب کا حصہ تو ہوسکتی ہیں مگر مذہب و مؤقر معاشرہ اس کی کبھی اجازت نہیں دے سکتا ہے،جھوٹ اور مفروضوں کے ذریعے کسی کے ساتھ غیر سنجیدہ اور جان لیوا مذاق کرنا جہالت اور گنوار پن تو ہوسکتا ہے لیکن باوقار اور باسلیقہ سماج کا رسم رواج نہیں بن سکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137859 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
03 Apr, 2017 Views: 200

Comments

آپ کی رائے