حسنہ قسط نمبر 43

(Zeena, Lahore)

والی اندر آیا اور ڈریسنگ کے پاس کھڑا ہوکر اپنی گھڑی اتارنے لگا ، گھڑی اتار کر وہ فریش ہونے واش روم چلا گیا۔
کچھ دیر بعد وہ واش روم سے باہر آیا اور پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔ اسکے آنے تک حسنہ سنبھل کر ٹھیک سے بیٹھ چکی تھی ۔
والی نے شیروانی اتار کر اب نارمل کپڑے پہن لئے تھے ، وہ ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا جیسے اسکے علاوہ کمرے میں کسی دوسری ذی روح کا نام و نشان تک نہیں۔
حسنہ خاموشی سے اسکی ساری کاروائی دیکھتی رہی،،کچھ دیر بعد وہ اسکی طرف آیا۔
“ اٹھو ،،،، اٹھو یہاں سے “ والی نے غصے سے کہا ،،،، وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی ،،،اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی والی نے ایسا کیوں کہا، پہلے روز کی اس عزت افزائی پر وہ حیران تھی ۔ وہ بس ہونقوں کی طرح اسے دیکھے جا رہی تھی ۔
“ تمہیں سنائی نہیں دیتا “ والی نے یہ کہنے کے ساتھ ہی اسے بازو سے پکڑ کر قریب پرے صوفہ پر دھکا دیا ، وہ لڑکھڑاتی ہوئی صوفے پر جا گری ،،،، اسکی منہ سے ہلکی سی سسکاری نکلی جسے والی نے نظر انداز کر دیا ۔ جبکہ وہ اچھے سے جانتا تھا اسکی اس کاروائی سے اسے چوٹ آئی ہو گی ۔
حسنہ اپنا بازو سہلانے لگی جو کسی چیز سے بڑی زور سی ٹکرایا تھا ۔
“ کب سے بول رہا ہوں اٹھو یہاں سے پر تم اتنی ڈھیٹ ہو کہ تمہیں سنائی نہیں دیتا۔ میری ایک بات سن لو کان کھول کر مجھے فوراً رزلٹ چاہئے ہوتا ہے ، ادھر میں کچھ کہوں ادھر تم فوراً میرے حکم کی تکمیل کرو لیٹ کرو گی یہی حال ہوگا سمجھی“
والی نے دانت چبا چبا کر اور اسکے سر پر چپت لگا کر کہا ۔
“ کیا آپکے یہاں پہلے دن کی دلہن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ؟ “ حسنہ میں نہ جانے کہا سے ہمت آگئی تھی وہ جو یہ سوال پوچھ بیٹھی ، وہ خود اپنی جسارت پر حیران تھی ۔
“ مجھے سوال کرتے چہرے زہر لگتے ہیں، پر تم نے پوچھا تو سنو،،،،، میں نہیں جانتا کہ پہلے دن کی دلہن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے پر میں ،،،،، تم سے اس سے بھی برا سلوک کر سکتا ہوں کیوں کہ نفرت ہے تم سے ، سمجھی تم “
والی نے زہر اگلتی زبان سے کہا ،،، حسنہ نے نفرت لفظ بڑبڑایا وہ آج حیرانیوں کے سمندر میں غوطے کہا رہی تھی ۔
“ پر،،، پر نفرت کیوں ؟ “ حسنہ بمشکل بس اتنا ہی بول پائی ۔
“سوال نہیں ،،،، سوال نہیں سمجھی میں تمہارہ غلام نہیں جو ہر سوال کا جواب دو گا ۔ بس تمہارے لئے اتنا جاننا کافی ہے کہ میں نے تم سے جائیداد کے لئے شادی کی ، اگر میں تم سے شادی نہ کرتا اپنے حق سے محروم رہ جاتا ،،،
کیوں کہ ننا جی کی وصیت ہی یہی تھی ،،، اور اب میرا دماغ کھانے کی ضرورت نہیں میں سونے لگا ہوں۔ “
والی نے زہر کے نشتر سے آج اسکا وجود چھلنی کیا تھا وہ کتنی بے دردی اسے دو کوڑی کا کر گیا تھا۔ کیا اوقات تھی اسکی ؟ کیا یہ خواب تھے میرے ؟ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر رہنے لگ گئی۔
“ اور ہاں یہ رونا دھونا یہاں نہیں چلے گا ۔ اگر زیادہ دل ہے رونے کا تو باہر دفعان ہو جاؤ “ والی جاتے ہوئے اسکے رونے کی آواز سن کر واپس اسکے پاس آکر انگلی سے وارن کرتا ہوا واپس پلٹ گیا ۔
حسنہ نے وہی منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی آواز کو روکا اور بے آواز رونے لگی (جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zeena

Read More Articles by Zeena: 92 Articles with 136330 views »
I Am ZeeNa
https://zeenastories456.blogspot.com
.. View More
08 Apr, 2017 Views: 666

Comments

آپ کی رائے
niceeeeeeeee poetry,,,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Apr, 10 2017
Reply Reply
0 Like
thnx ,,,
By: Zeena, Lahore on Apr, 10 2017
0 Like
thnx ,,,
By: Zeena, Lahore on Apr, 10 2017
0 Like
very nice epi but sad,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
By: husna, kohat on Apr, 10 2017
Reply Reply
0 Like
thnx
By: Zeena, Lahore on Apr, 10 2017
0 Like
Very nice zeena hehehe
By: Mini, mandi bhauddin on Apr, 10 2017
Reply Reply
0 Like
thnx
By: Zeena, Lahore on Apr, 10 2017
0 Like