بیچارہ رکشے والا!

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

انیکا کا چہرہ مہرہ تھا ہی ایساکہ ہر نظر اس کا طواف کرنا ثواب سمجھتی ۔ نوجوان ہی کیا ، اہلیہ و عیال والے بھی کچھ دیر کے لئے اپنی اوقات بھول کر اس کی طرف متوجے ہونا برا نہ گردانتے ۔ کچھ چہرے ہوتے ہی ایسے نایاب ہیں جیسے ہیرے جواہرات ۔ اس کی والدہ کا اس کے بچپن میں ہی ارتحال ہوجانے کے باعث گھر کے حالات میں توازن کا فقدان چلا آ رہا تھا ،بس وقت کاٹنے کی تدبیر کی جاتی ۔ بڑے بڑے آئیڈئیل اپنانے سے وقت کے رک جانے کا احتمال تھا اس لئے اس کی فیملی وقت روکنے کی بجائے وقت کو جاری رکھنے کے فلسفے کی قائل ہو چکی تھی۔

انیکا کا والد ریلوے کا ریٹائرڈچھوٹا ملازم تھا جس کی سروس کا زیادہ تر حصہ گھر سے باہر ہی گزر گیا تھا۔ اس کی زندگی کے شب و روز ریلوے کے کورٹروں میں بیت گئے،اس کا اصل گھر ہی گھر سے باہر تھا۔ وہ گھر میں تو بس مہمانوں کی طرح کچھ دن گزارنے آ جایا کرتا اور وہ دن بھی کم ہی خوش گوار گزرا کرتے، اکثر میاں بیوی کی کسی نہ کسی بات پر ان بن ہوجاتی اور پھر کبھی کبھی تو وہ اپنی چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے ہی واپس چلا جایا کرتا اور کبھی کبھی اسے پیچھے سے فون آ جاتا کہ کوئی ایمر جنسی ہو گئی ہے ، فوراً پہنچ جاؤ ۔

انیکا اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تو نہ تھی لیکن اس کے بڑے بہن بھائی شادیوں کے بعد والدین سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ وہ اس وقت اپنے گھر کا اکلوتا بچہ تھی۔ اور اس کا والد اس گھر کا اکلوتا نگران۔اس کا والد غفور اب نہ صرف بوڑھا بلکہ بہت کمزور اور کسی حد تک نابینا ہو چکا تھا۔ وہ گھر اور گاؤں میں تو اپنی سابقہ بینائی اور شعور کے سہارے چل پھر لیتا تھا لیکن شہر آنا اور ادھر ادھر چلنا پھرنا اس کے لئے دوبھر ہو چکا تھا۔

کچھ سالوں سے انیکا اکیلی شہر جانے لگی تھی کیوں کہ اسے لیجانے اور لانے والا کوئی نہ تھا۔ اور اس کا اعتماد آہستہ آہستہ مضبوطی اختیار کر چکا تھا۔ شروع شروع میں اسے کچھ لڑکوں نے تنگ کیا تھا لیکن پھر اسے کوئی پریشانی نہ رہی تھی۔ اب وہ بی اے فورتھ ائیر کی طالبہ تھی اور لڑکوں کے سے اعتماد سے شہر جاتی اور کالج سے پڑھ کر واپس آتی اور اگر کبھی اور کوئی کام بھی ہوتا تو وہ بھی کر آتی۔ اس کے والد کو اس پر پورا بھروسہ تھا ۔

لیکن کبھی کبھی انیکا کا دیر سے آنا اسے پریشان ضرور کر دیا کرتا تھا ، لیکن انیکا آ کر اس انداز میں اپنے والد کو اعتماد میں لیتی کہ اس کے دل سے تمام وسوسے رفو چکر ہو جاتے اور وہ پر سکون نیند کے مزے لینے لگتا اگر چہ بڑھاپے میں مزے کی نیند کم ہی آتی ہے۔

ہوا یہ کہ ایک رکشے والا انیکا کو دل دے بیٹھا۔ اکرم ساتھ والے گاؤں کا رہائشی تھا۔ اور اپنی ماں کی آنکھوں کا اکلوتا نور تھا۔ وہ تعلیم میں نکما تھا ، گھر کابار جلد ہی اس کے نازک کندھوں پر آن پڑا تو اس نے اس بار کو اٹھانے کے لئے رکشے کا ڈرائیور بن جانے کا سوچا۔ اس کے ایک بچپن کا دوست پہلے ہی اس شعبے سے منسلک تھا اس لئے اسے اس پیشے میں آنے میں زیادہ مشلات کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

اب وہ ایک خوبصورت ، نیا رکشہ گاؤں سے شہر اور شہر سے گاؤں تک چلاتا تھا اور ہزار بارہ سو کی دیہاڑی لا کر اپنی ماں کی ہتھیلی میں تھما دیتا اس کا دل خوشی سے اچھلنے لگتا اور وہ دل بھر کر اپنے بیٹے کے حق میں دعاؤں کا ڈھیر لگا دیتی۔ کبھی کبھی موقع پا کر وہ اس کی شادی کی بات بھی کر دیتی جسے وہ کوئی اہمیت دیئے بغیر ٹال دیتا۔ اور کئی طرح کے حیلے بہانے اپنی والدہ کے سامنے اپنے گھر کے صحن میں بکھیر دیتا جیسے وہ اس کے چلے جانے کے بعد سارا دن اکٹھا کرتی رہتی۔

اکرم کا ایک دن شہر سے واپسی پر انیکا سے ٹاکرا ہو گیا۔ یہ اس کی پہلی ملاقات تھی۔ انیکا ایک نقاب پوش لڑکی تھی جو اپنی آنکھوں کو بلا وجہ ادھر ادھر گھومنے کی قطعاً اجازت نہ دیتی ۔ اس دن دوسرا اتفاق یہ ہوا کہ باقی تمام سواریاں انیکا کا گاؤں آنے سے پہلے پہلے ہی اتر گئیں اور اتفاق سے انیکا رکشے میں اکیلی رہ گئی اور ابھی اس کا گاؤں آنے میں تین چار کلومیٹر کا فاصلہ باقی تھا۔ یہ بات دونوں کے لئے پریشان کن تھی کہ کہیں کوئی اعتراض نہ ہو جائے یا کہیں انسان خود ہی اپنا توازن نہ کھو بیٹھے۔ انیکا نے اپنے اعتماد کا سہارا لیتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنے کا اشارہ دیا اس سے اکرم کا دل بھی مضبوط ہوا اور اس نے رکشے کو کک ماری اور اپنے دل کو سہارا دیا۔

اس پہلی بلکہ روپہلی ملاقات کے بعد ان کی ملاقات کا کچھ تسلسل بننے لگا ۔ دونوں کو ایک دوسرے میں دلچسپی محسوس ہونے لگی۔ پہلے دن کی طرح ہر روز انیکا کا نقاب بہت مضبوطی سے کسا ہوتا، لیکن اس نقاب کے پیچھے اور نیچے اس کے چہرے کے کچھ کچھ خدو خال بھی دیکھنے والوں کی نظروں کو اپنی طرف کھینچتے دیکھائے دیتے۔ اگر چہ کوئی اتنی ٹکٹکی باندھ کر دیکھ نہ پاتا کیوں کہ رسم دنیا اور دستورِ زمانہ بھی تو کوئی چیز ہے۔ انیکا جب بھی اکرم کے رکشے پر بیٹھتی ، وہ اسے کرایہ دے کر ہی اترتی۔ کبھی کبھی کوئی دوسری سواری نہ رہ جاتی تو ان کے درمیان کچھ کچھ بات بھی ہو جاتی۔ دونوں اب ایک دوسرے کے دوست اور آشنا بن چکے تھے۔

ایک دوسرے کے کنٹکٹ نمبر ، اتہ پتہ، ذات برادری ، وغیرہ کے بنیادی سوال وجواب سے دونوں کو اپنے مستقبل کے سپنے نظر آنے لگ پڑے تھے۔ لیکن وہ ابھی مسافر تھے منزل سے دور تھے۔

انیکا بی ۔اے کی طالبہ اور اکرم میٹرک فیل ۔ یہ جوڑ بھی آج کل عام ہوتے جا رہے تھے ۔ لڑکیوں نے تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوا لیا تھا اور لڑکوں کی بغیر پڑھے چاندی ہو گئی۔ اب انیکا کا کرایہ بھی بچنے لگا ۔ اور کبھی کبھی انیکا اکرم سے اپنے کچھ کام بھی کر وا لیا کرتی جو خود اس کے لئے کرنا دشوار ہوتے۔

اکرم انیکا سے متعلق اپنی ماں سے بات بھی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ماں کی نار اضگی سے ڈرتا بھی تھا کہ ماں نے اگر ایک بار انکار کر دیا تو اسے منانا مشکل ہو جائے گا۔ اور ابھی انیکا بی۔ اے کر رہی ہے کہیں بات کرنے سے ان کا یہ ساتھ فوری طور پر ختم ہی نہ ہو جائے اور پھر انیکا بچاری کی پڑھائی ختم ہی نہ ہو جائے ، ویسے بھی انیکا کو پڑھائی کا شوق بہت زیادہ تھا۔

اکرم کی والدہ شام دیر تک اس کا انتظار کرتی اور جھولی پھیلا پھیلا کر خدا سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتی۔ اس کا یہی خیال تھا کہ اس کا بیٹا اس کے لئے کمائی کر رہا ہے۔ اور شام دیر تک کام میں مصروف رہتا ہے۔ کبھی کبھی شام کا کھانا پک کر ٹھنڈا ہو جاتا اور اکرم کے رکشے کی پر سکون آواز اس کی والدہ کے کانوں میں نہ پڑی ہوتی۔ گلی سے جب کسی اور کا رکشہ گزرتا تو وہ دروازے کی طرف لپکتی لیکن مایوس ہو کر اندر چلی جاتی اور اس کا دل دعا ؤں سے لب ریز ہوتا۔

اکرم ، انیکا سے اب کرایہ بھی نہ لیا کرتا۔ پہلے اس نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ کچھ کرایہ دے دیتی اور جب اکرم باقی کرایہ کا مطالبہ کرتا تو وہ اسے مسکرا کر یوں دیکھتی کہ اسے کرایہ بھول جاتا۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہرنے کا ایساانداز تھا کہ جب اس کی آنکھیں ، اکرم کی آنکھوں پر ٹھہرتیں تو اکرم کو یوں لگتا جیسے وہ کسی فوق الفطرت حسینہ کو تک تہا ہو، محبت ہوتی ہی ایسی ہے آنکھوں پر ہی نہیں دماغ پر بھی اثر کرتی ہے۔ کبھی کبھی رکشے سے اترتے وقت اس کی چادر سر سے ،تیز ہوا کی وجہ سے، اتر جاتی اور اکرم کی نظریں اس کی گردن اور بالوں پر پڑ جاتیں ۔ یہ منظر دیکھ کر تو اس کے تو جیسے اوسان ہی خطا ہو جاتے اور پھر اس میں کرایہ کا ’ ک‘ بھی اس کے منہ سے نہ نکلتا۔کبھی کبھی کرایہ دیتے وقت انیکا کا ہاتھ ، اکرم کی ہتھیلی سے مس کر جاتا تو اس کے سارے بدن میں ایک سرسیمگی پھیل جاتی اور وہ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔

کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا کہ اکرم کو انیکا کا میسج آتا کہ اس کے نمبر پر ایک ، دو سو کا لوڈ کروا دے اسے کوئی ضروری کام ہے ۔ اس نے اپنے کسی رشتہ دار سے بات کرنی ہے۔ یا اس کا کوئی رشتہ دار کسی ہسپتا ل میں ہے ، اس نے اس کی عیادت کرنی ہے۔ ایسی فیاضی کرنے میں اکرم نے کبھی بھی تاخیر سے کام نہیں لیا تھا۔اس پر مستزاد یہ کہ اب وہ اس سے پانچ ۔پانچ اور ہزار ہزار روپے بھی لینے لگ گئی تھی اور اکرم اپنی ماں کو یہ بتا رہا تھا کہ آج کل رکشے والے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس لئے ’سواریاں‘ کم ملتی ہیں اور اس کی ماں اپنے بیٹے کی بات کو سچ مان کر خدا سے اپنی بیٹے کے رکشے میں زیادہ سے زیادہ سواریوں کے بیٹھنے کی دعائیں مانگتی رہتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی۔اے پاس کرنے کی مٹھائی کھلانے کے لئے آدھے کلو کا مکس مٹھائی کاایک ڈبہ انیکا ،اکرم کے لئے لائی۔ مٹھائی کا ڈبہ دیکھ کر اسے ایسے لگا جیسے اس کی انیکا سے منگنی ہو گئی ہو اور وہ اس خوشی سے مٹھائی کھا رہا تھا یہ نہ جانتے ہوئے کہ اس کی محبت کا اختتام اس شگن پر ہو رہا تھا جس شگن سے شادی کے معاملات کا آغاز ہوا کرتا ہے۔ انیکا نے مذید پڑھائی کی خواہش کی تکمیل کے لئے لاہور جانے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ اس خیال کا اظہار سنتے ہی اکرم کا رنگ سرخ سے پیلا ہونے لگا تھا لیکن پھر انیکا نے جلد ہی موضوع بدل کا کہا کہ لیکن اس کے لاہور جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ دوسرا اسے اکرم سے دور رہنا بھی آسان نہیں لگ رہا۔

لیکن اب اس کی آنکھوں کا ٹھہراؤ کم ہو چکا تھا۔ وہی آنکھیں جو اکرم کی آنکھوں میں گھس کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اب ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ بیگانی سی ہو رہی ہیں یا انہیں ان آنکھوں کا مسکن پسند نہیں رہا۔

آہستہ آہستہ ملاقاتوں کا موسمِ بہار، خزاں ریدہ ہونے لگا۔ انیکا کا کہنا تھا کہ اب اس کا والد اسے گھر سے نکلنے نہیں دیتا ۔ اس کے پاس شہر آنے جانے کا کوئی معقول بہانہ نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی فون پر بات کرنے میں بھی کافی کمی آ گئی تھی۔ اب وہ اکرم سے بیلنس یا کسی اور مقصد کے لئے بھی چھوٹی موٹی رقم کا تقاضا بھی نہیں کیا کرتی تھی۔

اکرم کا اب رکشہ چلانے کو دل نہ کرتا ، لیکن وہ اپنے اجڑے اجڑے سے دل کو بہلانے کے لئے ا اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا ۔ سڑکوں پر پھرتے پھرتے اس کا دن ڈھل جاتا ، لیکن شام سے کچھ پہلے کا وقت جس میں اس کی انیکا سے زیادہ ملاقاتوں کا موقع بنا تھا اس کے لئے چوبیس گھنٹوں میں سے زیادہ پریشان کن تھا۔ اس لمحے اس کے گذر ے پل اس کی یاداشتوں میں تازہ تھے لئے مرجھائے ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیکا کا فون اب بند رہنے لگا تھا ، اکرم جب بھی فارغ وقت پا کر اپنے دل کی دھوپ میں اس کی محبت کا سایہ تلاش کرتا تو اس کی امیدوں اور آززوؤں کا گھنا درخت سوکھا ہوا محسوس ہونے لگتا۔ اسے بہت مایوسی ہوتی اور اس کے دل کی دھوپ میں مذید شدت آ جاتی۔ اس کا رکشہ اب اس کی محبت کا جنازہ تھا جس میں صرف اس کی یادوں کا ہجوم تھا۔ سچی محبت کی اکثر یہی ٹریجڈی ہوتی ہے کہ اس کو رسپانس مناسب پوزیٹو نہیں ملتا ، بسا اوقات منفی ہی ملتا ہے چاہے ایک طرف سے ہو چاہے دوسرے کی طرف سے ۔اس کے آسمان کے ستارے بکھر گئے تھے جو کچھ وقت پہلے آپس میں مل کر ایک اور چاند بنانے کا ارمان تھے۔ قدرت کو اکثر ایسے منصوبے پسند نہیں آتے۔اور وہ سازش کر کے ان کے سر اٹھانے سے پہلے ہی سرکوبی کر دیتی ہے۔

ادھر اکرم کی والدہ کی پریشانی بھی ہر روز گرمی کے موسم میں پھلنے پھولنے والی بیلوں کی طرح بڑھتی چلی جا رہی تھی۔وہ بچاری اپنے بیٹے کے دل پر ہونے والی اس ہلاکت خیزواردات سے بے خبر تھی۔ اور کچھ کر بھی نہ سکتی تھی۔ اکرم کو اب زندگی کی دلچسپی موسمِ سرما کے کلائیمیکس میں ماند پڑنے والی دھوپ کی طرح کم ہو چکی تھی۔

نوجوان بھول جاتے ہیں کہ ان کی صرف اپنی محبت کے ساتھ ہی ساری محبتیں منسلک نہیں ہوتیں۔ وہ ایک محبوب کے بے وفائی کرنے کا انتقام ان سارے سچی محبت کرنے والوں سے لینے لگتے ہیں جن کا ان کی محبت کی ناکامی میں دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ ماں باپ اکثر وہ بد نصیب وفا شعار ہستیاں ہوتی ہیں جن کو اپنی اولاد کی ناکام محبت کی سزا جھیلنی پڑتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیکا اب لاہور کے کسی کالج میں داخلہ لے چکی تھی۔ اس کا اب گاؤں واپس آنے کا بھی کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس کا والد اسے لاہور ہی میں ایڈجسٹ کروانا چاہتا تھا۔ وہاں وہ کسی دور کے رشتہ دار کے ہاں رہ رہی تھی۔ اسے کالج لیجانے اور وہاں سے واپس لانے کے لئے ایک نوجوان ،اسلم،اور اس کا رکشہ مل چکا تھا۔ اسلم کو اس دیہاتی نوجوان لڑکی میں صبح کی پہلی کرن جیسی لطافت و کنوارگی نظر آ رہی تھی، جسے دن کی آنکھ نے ابھی نظر بھر کر دیکھا بھی نہ ہو۔وہ اپنا نقاب اور چادر بڑی احتیاط سے سنبھال رہی تھی۔ اور اسلم بھی اپنے پیشرو اکرم کی طرح انیلا کی زلف کا اسیر ہو چکا تھا۔ اب اس کا کالج جانے اور واپس آنے کا کرایہ اس کی آنکھیں ادا کر رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک شام گرمی کی انتہا ہو گئی ایسے لگنے لگا جیسا زمیں ایک بھٹی بن کر ابھی ہر طرف آگ ہی آگ اگلنے لگے گی۔ سڑکیں ویران اور گلیاں سنسان ہو چکی تھیں۔ اکرم کی طبیعت میں اشتعال برپا ہو رہا تھا۔ اسے پچھلے سال کی ایسی ہی ایک سہ پہر یاد آ رہی تھی جب اس کے ہاتھ سے انیلا نے ایک ٹھنڈا ٹھار جام پی کر اس کے دل میں جذبات کا جہنم سلگا دیا تھا۔ اسی دن اس انیکا کا ہاتھ چند لمحوں کے لئے اکرم کے ہاتھ میں رہا تھا جس نے اس کے اندر سے زندگی بھر کی دولت چھین لی تھی۔ وہ ہاتھ لینے کی بجائے اپنا سب کچھ حتٰی کہ اپنی زندگی بھی اسے دے چکا تھا۔ وہ اس کے بغیر زندگی کی بوریت اور تنہائی کی برداشت کھو بیٹھا تھا۔اس کی محبت اپنے رکشے میں ایک سے زیادہ سوارنہیں بٹھا سکتی تھی۔ وہ شدید گرمی کی تپش میں جل کر بار بار راکھ کا ڈھیر بنتا چلا جا رہا تھا۔اس کی راکھ کا ڈھیر اتنا بلند نہیں ہو سکتا تھا کہ اس سے کوسوں دور انیکا کی نظر اس کی طرف اٹھ سکتیں۔ راکھ کے ڈھیر بھی بے حیثیت ہی ہوتے ہیں۔

اس دن اکرم اپنے آپ میں بہت کمزوری اور بے دلی محسوس کر رہا تھا۔ اس کا زندہ رہنے کا ارادہ ، رات بھر جلنے والی شمع کی طرح آخرہ ہچکی لے کر ہمیشہ کے لئے بجھ جاناچاہتا تھا۔ اس کے زندہ رہنے کی بس ایک ہی وجہ تھی اور وہ وجہ اس کی بوڑھی ماں تھا جسے دیکھ کر اس نے کئی بار خود کشی کا اردہ ملتوی کیا تھا۔ وہ بار بار موت کے دروازے پر دستک دیتا رہا ، لیکن جب وہ سامنے آتی تو اسے اپنے ماں کی تنہائی ، محبت اور مجبوری اپنے اندر چھپالیتی اور موت ایک نقاب پوش حسینہ کی طرح چپکے سے اس کے پاس سے گزر جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو جیسے وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔وہ شام سے پہلے ہی گھر کو چل پڑا ۔ اس کے اندر طوفان اور باہر ایک تیز آندھی اس کا تعاقب کر رہی تھی۔وہ شدید سر درد میں مبتلا اپنی ماں سے ایک بار مل لینا چاہتا تھا۔ شدید آندھی سے اس کی آنکھوں میں دھول کی تہہ سی جمتی جا رہی تھی۔ اس کے بال، کپڑے، سارا جسم گرد سے اٹ چکا تھا۔ اس کا رکشہ ڈول رہا تھا اور دل ڈوب رہا تھا۔ وہ اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے مکمل اندھیرے پھیل گیا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے دیکھتا ہوا ، اور ایک دو بار ٹکراؤ سے بال بال بچتا ہوا اپنے گھر کی دہلیز پر جا گرا۔ اس کی ماں پہلے ہی پریشان تھی۔ اس کی طرف لپکی لیکن وہ مکمل بے ہوش ہو چکا تھا۔ وہ کسی کی بات سننے کے قابل نہ تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن غیر متوازن اور سانسیں بھی اکھڑی اکھڑی۔ اس کی ماں کا دل بے قابو ہو گیا اس نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا ۔ آس پاس کے لوگ بھاگے آئے۔ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کو فون کیا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیکا اسلم کے ساتھ مراسم قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔
انیکا : کل میں نے صبح نو بجے کالج جانا ہے۔
اسلم : او کے ، میں آ جاؤں گا۔
انیکا : میرے لئے ڈائری، اور وہ نوٹسزجو کل فوٹو کاپی کے لئے دیئے تھے ضرور لیتے آنا ، مجھے کل ضرورت ہے۔
اسلم : وہ کاپی تو ہو گئے تھے ، جلدی میں یاد نہیں رہے۔
انیکا : کل نہیں بھولنا ، ورنہ جرمانہ ہو جائے گا۔
اسلم : چلیں ، ہوٹل آگیا۔
انیکا :پچھلی بار تو کہیں اور گئے تھے۔
اسلم: اسی لئے تو اس بار ادھر آئے ہیں ۔ بار بار ایک ہی ہوٹل پے جانے سے بندہ نظر میں آ جاتا ہے۔
انیکا : چلیں جو آپکی مرضی۔
اسلم : ادھر اس کارنر میں بیٹھتے ہیں ، ادھر لوگ ذرا کم آتے ہیں۔
انیکا : او کے ،
اسلم: نہیں ، اس فیملی کیبن میں ہی آ جائیں۔
انیکا : او کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکرم کی ایمبولینس اسی ہوٹل کے قریب واقع سرکاری ہسپتال میں داخل ہو رہی تھی۔ اس کے ناک اور منہ میں نالیاں لگی ہوئی تھیں۔وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ اس کی ماں اپنے بیٹے کی زندگی کے لئے بارگاہِ ایزدی میں اپنی زندگی کے بدلے اپنے بیٹے کی زندگی مانگتے ہوئے اپنے آنسوؤں کی آبشاروں کو روکنے میں ناکام تھی ۔ وہ خدا کے آگے ہر واسطہ ڈال رہی تھی۔ اس کا دل سراپا دعا بن چکا تھا اور وہ بار بار ایک ہمسائے کو کہہ رہی تھی بیٹا فون کر کے پتہ کر میرے بیٹے کا کیا حال ہے۔ اسے جواب دیا جا رہا تھا کہ فون اٹھا نہیں رہے۔ اﷲ خیر کرے گا ۔ اماں جی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیکا؛ یہ ایمبولنس کی آواز کیسی ہے؟
اسلم: ہر ایمبولنس کی آواز ایسی ہی ہوتی ہے۔
انیکا؛ آج کل ایمبولنس بہت گھومتی ہیں۔
اسلم: حادثات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
انیکا: ہاں
اسلم: چلیں چھوڑیں اس بات کو ، کیا کھائیں گے؟
انیکا: جو مرضی کھلا دو !
اسلم: نہیں آپ بتائیں!
انیکا: نہیں آپ جو چاہیں!

اسلم انیکاکی شرٹ کے کھلے گلے پر نظریں جمائے بیخود ہوئے جا رہا تھا۔اس کی آنکھیں اس کی سفید گردن سے آہستہ آہستہ نیچے سرکتی جا رہی تھیں۔ گرمی بہت زیادہ تھی۔ وہ اس کے سینے کے درمیان کے گہرے تاریک جنگل میں بھٹک چکا تھا۔ وہ اس لمحے انیکا کی کسی بات کا انکار نہیں کر سکتا تھا چاہے وہ اس سے اس کی جان ہی کیوں نہ مانگ لے۔بیچار رکشے والا۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 180628 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
10 Apr, 2017 Views: 620

Comments

آپ کی رائے
shukerya behan !
Niamat Ali Murtazai
By: Niamat Ali, Kasur on Apr, 12 2017
Reply Reply
0 Like
نوجوان بھول جاتے ہیں کہ ان کی صرف اپنی محبت کے ساتھ ہی ساری محبتیں منسلک نہیں ہوتیں۔ وہ ایک محبوب کے بے وفائی کرنے کا انتقام ان سارے سچی محبت کرنے والوں سے لینے لگتے ہیں جن کا ان کی محبت کی ناکامی میں دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ ماں باپ اکثر وہ بد نصیب وفا شعار ہستیاں ہوتی ہیں جن کو اپنی اولاد کی ناکام محبت کی سزا جھیلنی پڑتی ہے۔
boht khoobsurti sy suchayi ko bayan kia hai ap ny, lessonable article but yahan sirf larki k character ko e highlight kia gya hai males b braber k qasoor-war hoty hain esy kaamo mein..... khuda hidayat dy ehle-umma ko or apny hifz-o-amaan mein rakhay (ameen)
By: Faiza Umair, Lahore on Apr, 12 2017
Reply Reply
0 Like
bht bht shukerya afsana parhne aur comments dene ka jis hosla afzai hoti hy. in general ap ki baat bilkul thek hy kh male aur female dono kasurwar hote hn. thanks a lot ...Niamat Ali Murtazai
By: Niamat Ali, Kasur on Apr, 12 2017
0 Like
v sad aj kal es nafsa nafsi ke dor main yahi sab ho raha hai ,,,,,,,,,,,,haqeqat ke nazdeek tehreer likhe welldone bhai :)
By: Zeena, Lahore on Apr, 10 2017
Reply Reply
0 Like