آسان تفسیر سورۃ الکہف

(Mehboob Hassan, Faisalabad)
سورۃ الکھف ۱۱۰ آیات پر مشتمل مکی سورۃ ہے۔کہف کے معنی پہاڑی غار کے ہیں۔اس سورت کا زمانہ نزول رسول اکرمﷺ کی مکی زندگی کا تیسرا دور بتایا جاتا ہے۔اسلامی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دور آپﷺ پر نہایت سخت گزرا ہے اس دور میں مشرکین مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جسمانی وذہنی ایذائیں پہنچا رہے تھے۔معاشی اور معاشرتی مقاطعہ(شعب ابی طالب) بھی اسی دور میں ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ،حضرت ابوطالب اور ان کا خاندان ہی آپﷺ کی ہر قسم کی معاونت کرتا رہا،لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور حضرت ابوطالب کے وصال کے بعد قریشِ مکہ شدت سے آپﷺ کے مخالف ہو گئے جس کی بناء پر آپﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کرنا پڑی۔اس سورت کے مطالعہ سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ سورت اسی تیسرے دور میں نازل ہوئی ہو گی کیونکہ ابھی مسلمانوں کو پہلی ہجرت کا حکم نہیں ہوا تھا اور انہیں اصحاب کہف کا قصہ سنا کر ان کی ہمت افزائی کی گئی۔اس سورت مبارکہ میں توحید کی تعلیم کی بھرپور تبلیغ کی گئی ہے۔
اس سورت میں تین اہم واقعات میں سے بڑا تفصیلی واقعہ اصحاب کہف کا ہے اس میں دوسرا واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام دو نبیوں کی عظیم الشان ملاقات کا ہے۔اس میں تیسرا اہم واقعہ حضرت ذوالقرنین رضی اللہ عنہ کا ہے۔یہ سورۃ مبارکہ عین درمیانِ قرآن مجید واقع ہے اور الفاظ قرآنِ پاک کے حساب سے اسی میں ایک لفظ ’ ولیتلطف‘ آیت نمبر ۱۹ میں بالکل نصف پر ہے اور حرف ’ت‘بالکل قرآن مجید کا درمیانی حرف ہے۔

فضائل سورۃ کہف:
*ایک صحابی اسید بن حضیرؓ نے اس سورت کی تلاوت شروع کی تو ان کے جانور نے بدکنا شروع کر دیا۔انہوں نے غور سے دیکھا تو انہیں سائیبان کی طرح ایک بادل نظر آیا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا۔انہوں نے حضورﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: پڑھتے رہو،یہ وہ سکینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی تلاوت پر نازل ہوتا ہے۔(مسند احمد)
*رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص سورۃ الکھف کی دس آیتیں یاد کرے،وہ دجال کے فتنہ سے بچے گا۔(صیح مسلم)
*رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے سورۃ کہف کی تین آیات یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے بچ گیا۔(ترمذی)
*نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے بروز جمعہ سورۃ کہف کی تلاوت کیاس کیلئے اللہ تعالیٰ دو جمعوں کے درمیان ایک نور روشن فرما دیتا ہے۔
*رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے سورۃ کہف اس طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کیلئے قیامت کے دن ایک نور ہو گا۔
*حضرت امام حسینؓ سے روایت ہے کہ جس شخص نے بروز جمعہ سورۃ کہف پڑھی وہ پورے ہفتہ تک ہر فتنہ سے محفوظ رہے گا اور اگر دجال بھی نکلے تو اس سے بھی محفوظ رہے گا۔(ابنِ کثیر)
یہ سورت ادائیگی قرض،دشمن کی زبان بندی،رفعِ غربت،ظالم سے نجات اور حفاظت حمل کیلئے بہت موثر ہے۔
ترجمہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے اپنے(محبوب و مقرب)بندے پر کتابِ(عظیم ) نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی(کمی)نہیں رکھی (ذرا بھی ٹیڑھا پن نہ رکھا)۔(۱)(اسے)سیدھا اور معتدل (بنایا)تاکہ وہ(منکرین کو)اللہ کی طرف سے(آنے والے)شدید عذاب سے ڈرائے اور مومنین کو جو نیک اعمال کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کیلئے بہتر اجر(جنت)ہے۔(۲)جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔( ۳)اور ان لوگوں(یعنی یہودونصاری اورمشرکین(کفار))کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔(۴)نہ اس کا کوئی علم انہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا(یہ)کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے،وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔(۵)(اے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!)تو کیا آپ ان کے پیچھے شدت غم میں اپنی جانِ (عزیز بھی)گھلا دیں گے اگر وہ اس کلامِ(ربانی)پر ایمان نہ لائے(ادھر جوروجفا کا یہ حال ہے کہ کسی معقول بات پر بھی غور نہیں کرتے اور ادھر رافت ورحمت کی یہ کیفیت ہے کہ ہر قیمت پر انہیں ہلاکت کے گرداب میں گرنے سے بچانے کا خیال ہر وقت بے چین رکھتا ہے۔مسجد حرام کے صحن میں ،بازارِ مکہ کی ہنگامہ پرور فضاؤں میں ان کی نشستگاہوں میں اور ان کے خلوت کدوں میں جا جاکر انہیں سمجھایا جارہا ہے۔وہ باربار جھڑکتے ہیں ناراض ہوتے ہیں پھرتے ہیں لیکن اخلاص ومحبت کا یہ چشمہ رواں ہی رہتا ہے جب رات کی خاموشی چھا جاتی ہے ساری آنکھیں محوِ خواب ہوتی ہیں تو یہ اٹھتا ہے اپنا سرِ نیاز بارگاہِ بے نیاز میں جھکاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے رو روکر ان کی ہدایت کیلئے دردوسوز میں ڈوبی ہوئی التجائیں کرتا ہے۔ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ہدایت کی روشنی سے محروم رہا تو اسکی جان پر بن آئے گی۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی اس بے چینی اور اضطراب کو دیکھتا ہے جس میں کوئی ذاتی منفعت نہیں وہ ان آہوں کے سوز سے واقف ہے وہ ان آنسوؤں کو جانتا ہے جو اسکے محبوب کی چشم مازاغ کی پلکوں پر جھلملاتے ہیں اور پھر اسکے حضور اسکی رحمت کی بھیک مانگنے کیلئے گر پڑتے ہیں۔یہ بے خوابیاں ،یہ بے تابیاں کن کیلئے ہیں ؟ان کیلئے جو جان کے دشمن اور خون کے پیاسے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو تسلی دیتے ہیں کہ اتنا غم نہ کیجئے)۔(۶)بیشک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے اسکی آرائش بنایا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کو(جو زمین کے باسی ہیں)آزمائیں کہ ان میں سے بہ اعتبارِ عمل کون بہتر ہے؟( ۷)اور بیشک ہم ان تمام چیزوں کو جو اس(روئے زمین)پر ہیں(نابود کر کے)بنجر میدان بنا دینے والے ہیں۔(یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے اور فنا (ختم)ہو جانے والی ہے ہم نے اسے امتحان اور آزمائش بنایا ہے کہ کون اس فانی دنیا سے محبت کرتا ہے اور اسکی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے اور کون اپنے اصل مقام(بندگی رب)کو یاد رکھ کر صیح رویے (راستے )پر قائم رہتا ہے،جس روز یہ امتحان ختم ہو جائے گا اسی روز یہ دنیا الٹ دی جائیگی اور یہ زمین ایک چٹیل میدان کے سوا کچھ نہ رہے گی)۔(۸)کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف ورقیم(یعنی غار اور لوحِ غاریا وادی رقیم)والے ہماری(قدرت کی)نشانیوں میں سے کتنی عجیب نشانی تھے؟(کہف اس پہاڑ کا نام ہےجس میں وہ غار تھا اور رقیم وہ پیتل کی تختی ہے جس پر ان نوجوانوں کے نام اور ان کا واقعہ مرقوم تھا یایہ کہ اس وادی کا نام ہے جس میں کہف پہاڑ تھا یا یہ کہ رقیم ایک شہر کا نام ہے)۔(۹)(وہ وقت یاد کیجئے)جب چند نوجوان(اپنی کافر قوم سے اپنا ایمان بچانے کیلئے)غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا:اے ہمارے رب !ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما(اور ہدایت ونصرت اور رزق ومغفرت اور دشمن سے امن عطا فرما)اور ہمارا معاملہ درست کر دے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اہلِ انجیل کی حالت ابتر ہو گئی وہ بت پرستی میں مبتلا ہوئے اور دوسروں کو بت پرستی پر مجبور کرنے لگے ان میں دقیانوس بادشاہ بڑا ظالم وجابر تھا جو بت پرستی نہ کرتا اسے قتل کر ڈالتا،اصحاب کہف شہر افسوس کے شرفاء اور معززین میں سے ایماندار لوگ تھے دقیانوس کے ظلم وجبر سے اپنا ایمان بچانے کیلئے بھاگے اور ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے وہاں سو گئے اور کئی سال تک اسی حالت میں سوئے رہے ۔بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ غار کے اندر ہیں تو اس نے غار کوایک سنگین دیوار سے کھینچ کر بند کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ مر جائیں اور وہ ان کی قبر ہو جائے،یہی ان کی سزا ہے۔حکومتی عہدیدارا ن میں یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھااس نے ان اصحاب کے نام تعداد پورا واقعہ نرم دھات کی تختی پر کندہ کرا کر تانبے کے صندوق میں دیوار کی بنیاد کے اندر محفوظ کر دیا۔کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا زمانے بدلے،سلطنتیں بدلیں،نیک بادشاہ بید روس کی حکومت آئی جس نے68سال حکومت کی پھر فرقہ بندی نے جنم لیا اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور آخرت کے منکر ہو گئے ،بادشاہ بید روس تنہا مکان میں بند ہو گیااور اللہ تعالیٰ سے گرگرا کردعائیں کرنے لگا کہ یارب !کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو۔ اس زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کیلئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کیلئے اس غار کو تجویز کیاا ور اسکی دیوار گرادی دیوار گرتے ہی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے اصحاب کہف اللہ کے حکم سے مسرور وخوشحال اٹھے ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بعد نماز ادا کی اور فارغ ہو کر اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ احتیاط سے جائیے اور کھانے کو کچھ لائیے پھر جب وہ نان بائی کے پاس پہنچا اور کھانا خریدنے کیلئے اسے دقیانوسی سکہ دیا جس کا چلن صدیوں پہلے موقوف ہو گیا تھا اور اب اس سکہ کو پہچاننے والا بھی کوئی نہ تھا ،وہ سمجھے کہ کوئی پرانا خزانہ اسکے ہاتھ آگیا ہے اور اسے حاکم کے پاس لے گئے حاکم کے دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ یہ میرے اپنے روپے ہیں حاکم نے اس کی بات پر یقین نہ کیا اور کہا کہ تین سوسال پرانا سکہ اور تم جوان ہم بوڑھے ہم نے نہیں ایسا سکہ دیکھا تو اس نے حاکم سے کہا کہ اگر آپ مجھے سچ سچ بتا دے جو میں آپ سے دریافت کروں تو معاملہ ابھی حل ہو جائے گا تو اس نے کہا کہ دقیانوس بادشاہ کس حال میں ہے؟حاکم نے کہا کہ اس وقت روئے زمین پر دقیانوس نامی کوئی بادشاہ نہیں اس نام کا بے ایمان،ظالم وجابر بادشاہ سینکڑوں سال پہلے گزرا ہے،اس نے کہا کہ ابھی کل تو ہم اس سے جان بچانے کے خوف سے ایک غار میں پناہ لی ہے میرے ساتھی اس غار میں پناہ گزیں ہیں۔چلو!میں تمہیں ان سے ملادوں حاکم کثیر لوگوں کے ہمراہ سرِغار پہنچا تو اصحاب کہف تو آگے اپنے ساتھی کے انتظار میں تھے کثیر لوگوں کی آواز سن کر وہ کھٹکے اور سمجھے کہ ان کا ساتھی پکڑا گیا اور دقیانوس بادشاہ اپنی فوج کے ہمراہ آرہا ہے لیکن جب یہ لوگ پہنچے تو اس اصحاب کہف کے ساتھی نے تمام قصہ بیان کیا تو ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ کے حکم سے طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اسلئے اٹھائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کیلئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی ہوں حاکم نے جب صندوق کھول کر وہی تختی پڑھی جسے محفوظ کیا گیا تھا تو اسے سارے واقعہ کا علم ہوااس لوح کو پڑھتے ہی تما م لوگ متعجب ہوئے اور لوگ اللہ کی حمدوثناء بجا لائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرما دی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔حاکم نے بادشاہ بیدروس کو اطلاع دی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی بادشاہ آکر اصحاب کہف سے ملا انہوں نے فرمایا کہ ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں،اللہ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و انس کے شر سے بچائے بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنی خوابگاہوں کی طرف واپس ہو کر محوِ خواب ہوئے،بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کیا)۔(۱۰)پس ہم نے انہیں اسی غار میں کانوں پر تھپکی دے کر سالہا سال کیلئے گہری نیند سلا دیا ۔(۱۱)پھر ہم نے انہیں بیدار کر دیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون اس(مدت)کو صیح شمار کرنے والا ہے جو وہ(غار میں)ٹھہرے رہے۔(۱۲) (اے حبیب مکرمﷺ!اب)ہم آپ کو ان کا حال صیح صیح سناتے ہیں(اب ذرا وضاحت سے ان کا حال بیان ہوتا ہے)،بیشک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔(۱۳)اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی(یعنی ان کے دلوں کو مضبوط ومستحکم فرما دیا) جب وہ(اپنے بادشاہ دقیانوس کے سامنے)کھڑے ہوئے تو بولے:کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اسکے سوا ہر گز کسی(جھوٹے)معبود کی پرستش نہیں کریں گے(اگر ایسا کریں تو)ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔(۱۴)(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا)یہ ہماری قوم تو ربِ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟آخر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھو ٹ باندھے؟(۱۵)اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہاکہ )جب تم نے ان سے اور اللہ کے علاوہ ان کے تمام معبودوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے تو اب غار میں پناہ لے لو،تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گااور اپنے حکم سے آسانیوں کا سامان فراہم کر دے گا۔(۱۶)اور(اے محبوب)آپ دیکھتے ہیں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو ان سے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کے کھلے میدان میں (لیٹے)ہیں،یہ(سورج کا اپنے راستے کو بدل لینا)اللہ کی(قدرت کی بڑی)نشانیوں میں سے ہے،جسے اللہ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے،اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کیلئے کوئی ولی مرشد(یعنی راہ دکھانے والا مددگار )نہیں پائیں گے۔(۱۷)اور(اے سننے والے!)تو انہیں(دیکھے تو)جاگتا خیال کرے گا حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم(وقفوں کے ساتھ)انہیں دائیں جانب اور بائیں جانب کروٹیں بدلاتے رہتے ہیں،اوران کا کتا غار کے دہانے پر دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور تیرے دل میں ان کی دہشت بھر جاتی(اللہ تعالیٰ نے ایسی ہیبت سے ان کی حفاظت فرمائی ہے کہ ان تک کوئی جانہیں سکتا)۔(۱۸)اور اسی طرح ہم نے انہیں(ایک طویل مدت کے بعد)اٹھا دیاتاکہ وہ آپس میں دریافت کریں ،(چنانچہ)ان میں سے ایک کہنے والے نے کہاکہ تم(یہاں)کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟انہوں نے کہا کہ ہم یہاں ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں،(بالآخر)کہنے لگے:تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے ہو،سو تم اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ دیکھے کہ کونسا کھانا زیادہ حلال اور پاکیزہ ہے تو اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور اسے چاہیے کہ آنے جانے اور خریدنے میں آہستگی اور نرمی سے کام لے اور کسی ایک شخص کو بھیتمہاری خبر نہ ہونے دے۔(۱۹)بیشک اگر انہوں نے تم سے آگاہ ہو کر تم پر دسترس پالی (یعنی اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا)تو پس سنگسار کر ڈالیں گے یا پھر زبردستی تمہیں اپنے مذہب میں پلٹا لیں گے اور(اگر ایسا ہو گیا تو)تب تم ہر گز کبھی بھی فلاح نہیں پاؤگے۔(۲۰) اور اسی طرح ہم نے ان(کے حال)پر ان لوگوں کو(جو چند صدیاں بعد کے تھے)مطلع کر دیا تاکہ لوگ جان لیں(اور بیدروس کی قوم میں جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں انہیں معلوم ہو جائے)کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے(کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا)اور یہ بھی کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے،جب وہ(بستی والے)آپس میں ان( اصحاب کہف)کے معاملہ میں جھگڑا کرنے لگے(جب اصحابِ کہف وفات پاگئے)تو انہوں نے کہا کہ ان(کے غار)پر ایک عمارت(بطور یادگار)بنادو،ان کا رب ان(کے حال)سے خوب واقف ہے،ان( ایمان والوں)نے کہا جنہیں ان کے معاملہ پر غلبہ حاصل تھا کہ ہم ان(کے دروازہ)پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے(تاکہ مسلمان اس میں نماز پڑھیں اور ان کی قربت سے خصوصی برکت حاصل کریں۔اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء کرام کے مزارات کے قریب ان سے تبرک حاصل کرنے کیلئے مسجد بنانا جائز ہے،قبروں کی طرف سجدہ نہ کیا جائے۔نہ قبروں پر بیٹھو اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو)۔(۲۱ )(اب)کچھ لوگ کہیں گے(نصرانی جیسا کہ ان میں سے سید اور عاقب نے کہا کہ اصحابِ کہف)تین تھے اور ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا،اور بعض کہیں گے کہ پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا،یہ بن دیکھے اندازے ہیں،اور بعض کہیں گے:(وہ)سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا فرما دیجئے :میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان(کی صیح تعداد )کا علم کسی کو نہیں ،سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان(اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریں۔(۲۲)اور کسی بھی چیز کی نسبت یہ ہر گز نہ کہا کریں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوں۔(اہل مکہ نے جب رسولِ اکرمﷺ سے اصحاب کہف کا حال دریافت کیا تھا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ کل بتاؤں گا اور انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا کئی روز وحی نہیں آئی پھر یہ آیت نازل ہوئی۔)(۲۳)مگر یہ کہ اگر اللہ چاہے(یعنی ان شاء اللہ کہہ کر)اور اپنے رب کا ذکر کیا کریں جب آپ بھول جائیں اور کہیں:امید ہے میرا رب مجھے اس سے بھی قریب تر ہدایت کی راہ دکھا دے گا۔(۲۴)اور وہ(اصحابِ کہف)اپنی غار میں تین سوسال ٹھہرے رہے اور انہوں نے(اس پر)نو(سال)اور بڑھا دئیے۔(۲۵) (اے رسول کریمﷺ!)فرما دیجئے:اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت(وہاں)ٹھہرے رہے،آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ(چھپے ہوئے)احوال اسی کو معلوم ہیں،کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا!زمین وآسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اس کے سوا نہیں،اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔(۲۶)اور(اے رسولِ اکرمﷺ)آپ وہ کلام پڑھ کر سنائیں جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے،اسکے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ اس کے سوا ہر گز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔(۲۷)(اے میرے بندے!)تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح وشام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اسکی رضا کے طلبگار رہتے ہیں (اسکی دید کے متمنی اور اسکے مکھڑا تکنے کے آرزومند ہیں)آپ کی(محبت اور توجہ کی)نگاہیں ان سے نہ ہٹیں(سردارانِ کفار کی ایک جماعت نے سید عالمینﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کر دیں تو ہماسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لے آنے سے خلقِ کثیر ایمان لے آئے گی۔اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی؛اللہ تعالیٰ کو ان مغرور اور متکبر لوگوں کی ہم نشینی پسند نہیں،آپ ان کیلئے ان لوگوں کی صحبت ترک نہ کریں جن کی زندگی کا مقصد صرف اپنے رب کریم کی رضاجوئی ہے جو صبح وشام بلکہ ہر لمحہ اسکی یاد اور اسکی محبت میں محو رہتے ہیں،وہ آپ کی نگاہِ کرم کے پیاسے ہیں،وہ آپ کی نظر محبت کے بھوکے ہیں جب آپ ان کو ایک مرتبہ محبت وشفقت سے دیکھ لیتے ہیں تو یہ سب رنج وغم بھول جاتے ہیں ۔اے محبوب!ایسا نہ ہو کہ تیری نگاہِ عنایت ان سے پھر جائے ان سے یہ صدمہ برداشت نہ ہو گا’لا تعد عینٰک عنھم‘کے اس جملہ سے دلنوازی اور دلربائی کے جو انداز سکھائے جارہے ہیں ان کی کشش کسی درد کے مارے سے پوچھو،وہ تمہیں بتائے گا کہ اسکی ساری خوشیاں اسکی نگاہِ کرم کے ایک گوشہ میں سمٹ کر آگئی ہیں اسی ایک سہارے پر وہ ہجر کے صدمے اور جدائی کی طویل گھڑیاں خوشی خوشی گزار دیتے ہیں ۔اے دردِ محبت کے بیمارو!مژدہ باد!نگاہِ حبیب سے تم محروم نہیں ہو گے)کیا آپ(ان سے دھیان ہٹا کر )دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہیں؟(حضورﷺ نے زینتِ دنیا کا ارادہ نہیں فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ارادہ کرنے سے نہی فرما دی)اور آپ اس شخص کی اطاعت بھی نہ کیجئے جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی اتباع کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے۔(۲۸)اور (اے رسولﷺ!)فرما دیجئے کہ (یہ)حق تمہارے رب کی طرف سے ہے،پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے ،بیشک ہم نے ظالموں کیلئے(جہنم کی )آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی،اور اگر وہ(پیاس اور تکلیف کے باعث)فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائیگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گاجو ان کے چہروں کو بھون دے گا،کتنا برا مشروب ہے،اور کتنی بری آرام گاہ ہے۔ (۲۹)بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یقیناًہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہے۔(۳۰)ان لوگوں کیلئے دائمی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں انہیں ان جنتوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز لباس میں ملبوس اور تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے،کیا خوب ثواب ہے!اور کتنی حسین آرام گاہ ہے!(۳۱)اور(اے رسولِ اکرمﷺ!) آپ ان سے ان دو آدمیوں کی مثال بیان کریں (ایک مومن اور دوسرا کافر)جن میں ایک کو (یعنی کافر کو) ہم نے انگوروں کے دوباغ دئیے جن کے اردگرد کھجور کے درختوں کی باڑ لگا دی اور ہم نے ان کے درمیان(سر سبزوشاداب)کھیتیاں اگا دیں۔(۳۲)یہ دونوں باغ(کثرت سے)اپنے پھل لائے اور ان کی(پیداوار)میں کوئی کمی نہ رہی اور ہم نے ان دونوں(میں سے ہر ایک)کے درمیان ایک نہر(بھی)جاری کر دی۔(۳۳)اور اس شخص(یعنی کافر) کے پاس(اس کے سوا بھی)بہت سے پھل(یعنی وسائل،یا اموالِ کثیرہ)تھے ِ ،(ایک دن)اس نے اپنے (مومن )ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال ودولت کے لحاظ سے بھی زیادہ ہوں اور قبیلہ و خاندان کے لحاظ سے (بھی)زیادہ باعزت ہوں۔(۳۴)اور وہ اپنے باغ میں داخل ہوا(اور مومن کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لے گیا وہاں اس کو افتخاراً ہر طرف لئے پھرا اور ہر چیز دکھائی)اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا(کفر کے ساتھ اور باغ کی زینت وزیبائش اوررونق وبہار دیکھ کر مغرور ہو گیا اور)کہنے لگا:میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی بھی برباد ہو گا۔(۳۵)اور نہ ہی میں یہ گمان کرتا ہوں کہ کبھی قیامت قائم ہو گی اور(بالفرض)اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو وہاں بھی میں یقیناًاس باغ سے بہتر جگہ پاؤں گا۔(۳۶)اس کے(مومن)ساتھی نے اس سے الٹ پھیر(بحث ومباحثہ)کرتے ہوئے جواب دیا کہ کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا ،پھر نطفہ(نتھرے صاف شفاف پانی کی بوند)سے ،پھر تجھے (جسمانی طور پر)پورا مرد بنادیا؟(۳۷)لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔(۳۸)اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا توتونے کیوں نہیں کہا کہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا بااللہ(وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے کسی کو کچھ طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد سے،اگر تو ایسا کہتا تو یہ تیرے باغ اور تیرے حق میں بہتر ہوتا)،اگرتو(اس وقت)مجھے مال واولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے(تو کیا ہوا)،(۳۹)کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس(باغ)پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے پھر وہ چٹیل چکنی زمین بن جائے،(۴۰)یا اس کا پانی زمین کی گہرائی میں جذب ہو جائے ،پھر تو اس(پانی)کو ہر گز تلاش نہ کر سکے۔(۴۱)اور(اس تکبر کے باعث)اسکے(سارے)پھل(تباہی میں)گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس(باغ کے لگانے)میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ(سراپا حسرت ویاس بن کر)کہہ رہا تھا کہ ہائے کاش!میں نے اپنے ر ب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا(اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)۔(۴۲)اور اسکے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اسکی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا۔(۴۳)یہیں سے ثابت ہوا کہ سب اختیار اللہ ہی کا ہے(جو)حق ہے،وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے انجام کرنے میں۔(۴۴)اور(اے حبیب !)آپ انہیں دنیا کی زندگی کی مثال(بھی)بیان کیجئے(جو)اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے اتاراتو اسکے باعث زمین کا سبزہ خوب گھنا ہو گیا(زمین تروتازہ ہوئی پھر قریب ہی ایسا ہوا)کہ وہ سوکھی گھاس کا چورا بن گیا جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں،اور اللہ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہے(اس آیت میں دنیا کی تری وتازگی اور اسکے فنا وہلاک ہونے کی سبزہ سے تمثیل فرمائی گئی کہ جس طرح سبزہ شاداب ہو کر فنا ہو اجاتا ہے اور اس کا نام ونشان باقی نہیں رہتا یہی حالت دنیا کی حیاتِ بے اعتبار کی ہے،اس پر مغروروشیدا ہونا عقل کا کام نہیں)۔(۴۵)یہ مال اور اولاد تو صرف دنیاوی زندگی کی زینت(رونق)ہیں،باقی رہنے والی چیز تو صرف اعمال صالحہ ہی ہیں جوآپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔(۴۶)اور وہ دن(قیامت کا )ہو گا جب ہم پہاڑوں کو(ریزہ ریزہ کر کے فضا میں)چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے(اس پر شجر،حجر اور حیوانات ونباتات میں سے کچھ بھی نہ ہو گا)اور ہم سب انسانوں کو جمع فرمائیں گے اور ان میں سے کسی کو ( بھی)نہیں چھوڑیں گے۔(۴۷)اور(سب لوگ)آپ کے رب کے حضور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے،(ان سے کہا جائے گا:) بیشک تم ہمارے پاس (آج اسی طرح)آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھابلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے ہر گز وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کریں گے۔(۴۸)اور(ہر ایک کے سامنے)اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا سو آپ مجرموں کو دیکھیں گے (وہ)ان (گناہوں اور جرموں)سے خوفزدہ ہوں گے جو اس(اعمال نامہ)میں درج ہوں گے اور کہیں گے:ہائے ہماری بدبختی!اس اعمال نامہ کو کیا ہوا ہے اس نے نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ کوئی بڑی بات،مگر اس نے(ہر بات کو)شمار کر لیا ہے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے( اپنے سامنے)حاضر پائیں گے،اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ فرمائے گا۔(۴۹)اور(وہ وقت یاد کیجئے)جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تمآدم(علیہ السلام)کو سجدہ(تعظیم)کروسو ان(سب)نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے،وہ(ابلیس)جنات میں سے تھاتو وہ اپنے رب کی طاعت سے باہر نکل گیا ،(تو اے بنی آدم!)کیا تم اس کو اور اسکی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بنا رہے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ،یہ ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدل ہے(جو انہوں نے میری جگہ منتخب کیا ہے)۔(۵۰)میں نے نہ تو انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر( معاونت یا گواہی کیلئے)بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق(کے وقت)،اور نہ(ہی)میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا)دست وبازو بناتا۔(۵۱)اور اس دن(کو یاد کرو جب)اللہ (منکرین سے)فرمائے گا کہ انہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کرتے تھے،سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان (ایک وادیِ جہنم کو)ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے۔(۵۲)اور مجرم لوگ آتشِ جہنم کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناًاسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔(۵۳)اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کیلئے ہر طرح کی مثال کو(انداز بدل بدل کر)بار بار بیان کیا ہے(تاکہ سمجھیں)،اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔(۵۴)ہدایت(یعنی قرآن مجید)آجانے کے بعد لوگوں کے ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت طلب کرنے میں کیا چیز مانع(رکاوٹ)ہے؟سوائے اسکے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ پہلے لوگوں جیسا معاملہ پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے۔(۵۵)اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کواللہ کی نعمتوں کی)خوشخبری سنانے والے اور ( عذاب سے )ڈر سنانے والے(بنا کر)،اور کافر لوگ(ان رسولوں سے)بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑتے ہیں تاکہ اس(باطل)کے ذریعہ حق کو زائل کر دیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس(عذاب)کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیں۔(۵۶)اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتاہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیر لے،اور اپنے ان برے اعمال کو بھول جائے جو اسکے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں،ان کے اسی رویے کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس حق کو سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے(کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)،اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعاً ہدایت نہیں پائیں گے۔(۵۷)اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا اور بہت رحمت والا ہے،اگر وہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو فوراً بھی عذاب بھیج سکتا تھا،لیکن ان کیلئے (تو)وقتِ وعدہ(مقرر)ہے(جب وہ وقت آئے گا تو)اسکے سوا ہر گز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے۔(۵۸)اور یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا،اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کیلئے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔(۵۹)(ذرا ان کو وہ قصہ سنائیے جو موسیٰ ؑ کو پیش آیا تھا)جبکہ موسیٰ ؑ نے اپنے(جواں سال ساتھی اور) خادم( یوشع ابن نون ؑ )سے کہا کہ میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم(دونوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ)پر نہ پہنچ جاؤں( دو سمندریعنی بحر فارس وبحر روم جانب مشرق میں اور مجمع البحرین وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا وعدہ دیا گیا تھا،اسلئے آپ نے وہاں پہنچنے کا مضبوط عزم کیا اور فرمایا کہ میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا جب تک کہ وہاں پہنچ نہ جاؤں)ورنہ میں ایک زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔(۶۰)سو جب وہ دونوں دو دریاؤں کے درمیان سنگم پر پہنچے (جہاں ایک پتھر کی چٹان تھی اور چشمہ حیات تھا تو وہاں دونوں حضرات نے آرام کیا اور مصروف خواب ہو گئے ،بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں
زندہ ہو گئی اور تڑپ کر دریا میں گری اور اس پر سے پانی کا بہاؤ رک گیا اور ایک محراب سی بن گئی ،حضرت یوشع بن نون ؑ کو بیدار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ سے اس کا ذکر کرنا یاد نہ رہا ۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے)وہ دونوں اپنی مچھلی(وہیں )بھول گئے پس وہ(تلی ہوئی مچھلی زندہ ہو کر) دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بناتے ہوئے (نکل گئی)۔(۶۱)پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے(اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے دن کھانے کا وقت آیا تو حضرت)موسیٰ(علیہ السلام)نے اپنے خادم سے کہا کہ ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤبیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہے(تھکان بھی ہے،شدید بھوک بھی ہے،اور یہ بات جب تک مجمع البحرین پہنچے تھے پیش نہیں آئی تھی ، منزل مقصود سے آگے بڑھ کر تکان اور بھوک معلوم ہوئی،اس میں اللہ کی حکمت تھی کہ مچھلی یاد کریں اور اسکی طلب میں منزل مقصود کی طرف واپس ہوں،حضرت موسیٰ ؑ کے یہ فرمانے پر خادم نے معذرت کی اور)(۶۲)کہا:کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں)مچھلی بھول گیا تھا،اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں،اور اس(مچھلی)نے تو(زندہ ہو کر)دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنالیاتھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)۔(۶۳)موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا :یہی وہ(مقام )ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے،پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر(وہی راستہ)تلاش کرتے ہوئے(اسی مقام پر)واپس پلٹ آئے۔(۶۴)تو دونوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک(خاص)بندے (حضرت خضر علیہ السلام)کو پالیا(جو چادر اوڑھے آرام فرما رہے تھے۔حضرت خضر ؑ کانام بلیا بن ملکان ہے اور آپ کا لقب خضر ہے کیونکہ آپ جہاں تشریف فرما ہوتے وہ جگہ سرسبز ہو جاتی تھی بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ وہ ولی تھے،لیکن علامہ پانی پتی،علامہ قرطبی اور دیگر علماء محققین کی رائے یہ ہے کہ خضر ؑ نبی تھے کیونکہ ولی کے الہام سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے اور اس میں خطا کا احتمال ہوتا ہے۔الہام کی وجہ سے معصوم لڑکے کو قتل کرنا جائز نہیں ہو سکتا ،اسلئے آپ کو نبی ہی ماننا پڑے گا کیونکہ نبی کا علم یقینی ہوتا ہے،رہی یہ بات کہ خضر ؑ اب زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں ،علامہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اہلِ علم کے اقوال مختلف ہیں مگر اس کا حل حضرت مجدد الف ثانی کے کلام کے بغیر ناممکن ہے،حضرت مجدد سے جب حضرت خضر ؑ کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ زندہ ہیں یا وفات پا گئے ہیں تو آپ حقیقت حال کے انکشاف کیلئے بارگاہِ الہٰی میں متوجہ ہوئے چنانچہ حضرت مجدد نے مراقبہ میں دیکھا کہ حضرت خضر ؑ آپ کے سامنے کھڑے ہیں آپ نے ان سے ان کی حقیقت حال دریافت کی تو حضرت خضر ؑ نے فرمایا کہ میں اور الیاس دونوں زندہ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو ایسی طاقت عطا فرما دی ہے جس سے ہم مجسم ہو جاتے ہیں اور زندوں کے سے کام کرتے ہیں مثلاً جب اللہ تعالیٰ چاہے تو ہم گمراہوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں،علم لدنی کی تعلیم دیتے ہیں اور جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو اسے روحانی نسبت بھی دیتے ہیں۔تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے خادم نے دریاؤں کے سنگم پر حضرت خضر ؑ کو پالیا)جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے(خصوصی)رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم لدنی(یعنی اسرارومعارف کا روحانی علم،غیوب کا علم)سکھایا تھا۔(۶۵)موسیٰ(علیہ السلام)نے خضر(علیہ السلام)سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ اس(شرط)پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے(بھی)اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کوبغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہے۔(اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو علم کی طلب میں رہنا چاہیے خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ جس سے علم سیکھے اسکے ساتھ بتواضع وادب پیش آئے۔)(۶۶)خضر(علیہ السلام)نے کہا:بیشک آپ میرے ساتھ رہ کر ہر گز صبر نہ کر سکیں گے۔(۶۷)اور آپ اس بات پرکیسے صبر کر سکتے ہیں جسے آپ(پورے طور پر)اپنے احاطہ علم میں نہیں لائے ہوں گے۔(۶۸)موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا کہ آپ انشاء اللہ مجھے ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔(۶۹)(خضر علیہ السلام)نے کہا کہ پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کر دوں۔(باہمی طور پر یہ طے کرنے کے بعد اب سفر پر روانہ ہوتے ہیں)(۷۰)
پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو خضر(علیہ السلام)نے کشتی میں شگاف کر دیا ،موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا کہ کیا آپ نے کشتی میں اسلئے شگاف کیا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کر دیں،بیشک یہ تو آپ نے بڑا خطرناک کام کیا ہے ۔(حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام دونوں سمندر کے کنارے کنارے چلنے لگے،اتنے میں ایک کشتی گزری جنہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کسی معاوضہ کے کشتی پر سوار کر لیا ،حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کو اکھاڑ کر پھینک دیا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان لوگوں نے بغیر کسی معاوضہ کے ہم کو کشتی میں سوار کیا اور آپ نے کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اس طرح تو یہ سواریاں پانی میں ڈوب جائیں گی،یہ تو آپ نے بڑا خطرناک کام کیا ہے(مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں کہ حضرت خضر ؑ نے کشتی کا وہ تختہ توڑا تھا جو پانی میں رہتا تھا لیکن پھر بھی پانی کشتی میں نہ بھرا))۔(۷۱)خضر (علیہ السلام)نے کہا کہ کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔(۷۲)موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا کہ آپ میری بھول پر گرفت نہ کریں اور میرے معاملہ میں مجھ پر زیادہ سختی نہ کریں۔(۷۳)پھر وہ دونوں(کشتی سے اتر کر)چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے(جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا )تو حضرت خضر(علیہ السلام)نے اس(لڑکا)کو قتل کر ڈالا ،حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا کہ کیا آپ نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلہ کے بغیر قتل کر دیا،بیشک آپ نے بڑا نازیبا کام کیا۔(۷۴)خضر(علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے؟(۷۵)موسیٰ(علیہ السلام)نے کہا کہ اگر اسکے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ،بیشک آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ گئے ہیں۔ (۷۶)پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان سے کھانا طلب کیا تو بستی والوں نے ان کی میزبانی سے انکار کر دیا،پھر انہوں نے بستی میں ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی تو خضر(علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے) اسے درست کر دیا ،موسیٰ (علیہ السلام)نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر مزدوری لے لیتے۔(۷۷)حضرت خضر(علیہ السلام)نے کہا کہ بس اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے،اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے تھے۔(۷۸)وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب لوگوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے،میں نے چاہا کہ میں اسے عیب دار کر دوں کیونکہ ان کے آگے ایک(ظالم)بادشاہ (کھڑا)تھا جو ہر(بے عیب)کشتی کو غصب کر رہا تھا(میں نے اس کشتی کو اسلئے ناقص کردیا تاکہ بادشاہ اس کو غصب نہ کرے اور ان غریبوں کا روزگار چلتا رہے)۔(۷۹)اور وہ جو لڑکا تھا تو اسکے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ(اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور)ان دونوں کو(بڑا ہو کر)سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا(اسلئے اسے قتل کر دیا)۔(۸۰)پس ہمنے چاہا کہ ان کا رب انہیں (اس لڑکے کا ایسا)بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر ہو اور زیادہ مہربان ہو۔(۸۱)اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں(رہنے والے)دو یتیم بچوں کی تھی اور اسکے نیچے ان دونوں کیلئے ایک خزانہ(مدفون)تھا اور ان کا باپ نیک(شخص) تھا ،سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ(خود ہی)نکالیں(اور اگر وہ دیوار گر جاتی تو دوسرے لوگ ان یتیموں کا خزانہ لوٹ لیتے)،اورمیں نے(جو کچھ بھی کیا)وہ اپنی مرضی سے نہیں کیا (بلکہ بامرِ الہٰی والہام خداوندی کیا)،یہ ان(واقعات)کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔(۸۲)اور(اے حبیبِ معظم!)یہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں،فرما دیجئے کہ میں ابھی تمہیں اسکے حال کا تذکرہ پڑھ کر سناتا ہوں۔(مشرکین مکہ نے یہود مدینہ کے مشورہ سے نبی کریمﷺ سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ملکِ فارس میں اقتدار بخشا اور اس کو ایسا علم وہنر اور ایسا سازوسامان عطا فرمایا جس کی وجہ سے اس نے نمایاں فتوحات حاصل کیں حتیٰ کہ مشارق ومغارب کا حکمران ہو گیا تھا قرآن پاک کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ایک سچا مومن اور صالح انسان تھا ،وہ رعایاکا ہمدرد اور خیرخواہ بادشاہ تھا۔)( ۸۳)بیشک ہم نے اسے زمین میں اقتدار بخشا تھا اور بیشک ہم نے اس کو ہر چیز کا سازوسامان دیا تھا۔(۸۴)پس وہ(یعنی ذوالقرنین مغرب کی طرف)ایک راستہ پر روانہ ہوا۔(۸۵)یہاں تک کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی جگہ پہنچا تو اس نے سورج کو یوں پایا گویا وہ سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوب رہا ہے(ذوالقرنین نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ اولادِ سام میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی یہ پڑھ کر وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب ومشرق کی طرف روانہ ہوئے او ر آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا وہ پی نہ سکے ،اس سفر میں جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی تھی وہ سب منازل قطع کر ڈالے اور سمتِ مغرب میں وہاں پہنچے جہاں آبادی کا نام ونشان باقی نہ رہا ،وہاں انہیں شمس وقتِ غروب ایسا نظر آیاگویا کہ وہ سیاہ چشمے میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے)،اور وہاں اس نے ایک قوم کو پایا(یہ وہ قوم تھی جس نے ذوالقرنین کے ملک کر حملہ کیا تھا اور اس کا تخت وتاج چھیننے کی کوشش کی تھی)،ہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین!(تمہیں اختیار ہے)خواہ تم انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(۸۶)ذوالقرنین نے(اس قوم کے گذشتہ قصور کو تو معاف کر دیا مگر آئیندہ کیلئے وارننگ دیدی اور)کہا کہ جس نے ظلم کیا تو عنقریب ہم اس کو سزا دیں گے ،پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے بڑا ہی سخت عذاب دے گا۔(۸۷)اور جو شخص ایمان لایااور اس نے نیک عمل کئے تو اس کیلئے اچھا بدلہ ہے اور ہم اسے اپنے احکام سے آسان بات کہیں گے(اور دنیا میں ہم اسکے امور میں آسانیاں پیدا کریں گے)۔(۸۸)(مغرب میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد)پھر وہ(مشرق کی طرف دوسرے)راستے پر روانہ ہوا۔(۸۹)یہاں تک کہ جب وہ طلوعِ آفتاب(کی سمت آبادی)کے آخری کنارے پر جا پہنچا،وہاں اس نے سورج(کے طلوع کے منظر)کو ایسے محسوس کیا(جیسے)سورج(زمین کے اس خطہ پر آباد)ایک قوم پر ابھر رہا ہوجس کیلئے ہم نے سورج سے(بچاؤ کی خاطر)کوئی حجاب تک نہیں بنایا تھا(یعنی وہ لوگ بغیر لباس اور مکان کے غاروں میں رہتے تھے)۔(۹۰)واقعہ اسی طرح ہے،اور جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا وہ سب ہمارے علم میں تھا۔(۹۱)(مشرق میں
فتوحات مکمل کرنے کے بعد)پھروہ(شمال کی طرف تیسرے)راستہ پر روانہ ہوا۔(۹۲)یہاں تک کہ وہ(ایک مقام پر)دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو آباد پایاجو(کسی کی)بات نہیں سمجھ سکتے تھے(کیونکہ ان کی زبان عجیب و غریب تھی،ان کے ساتھ اشارہ وغیرہ کی مدد سے بہ مشقت بات کی جاسکتی تھی)۔(۹۳)انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین!بیشک یاجوج اور ماجوج نے زمین میں فساد بپا کر رکھا ہے(یاجوج وماجوج یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں،انکی تعداد بہت زیادہ ہے،زمین میں فساد کرتے ہیں ربیع کے زمانے میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھاجاتے تھے،کچھ نہ چھوڑتے تھے اور خشک چیزیں لاد کر لے جاتے تھے،آدمیوں کو کھا لیتے تھے ،درندوں وحشی جانوروں ،سانپوں،بچھوؤں تک کو کھاجاتے تھے،حضرت ذوالقرنین ؑ سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ زمین میں فساد مچاتے ہیں)تو کیا ہم آپ کیلئے اس(شرط)پر کچھ مالِ (خراج)مقرر کر دیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار بنا دیں(تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شروایذاسے محفوظ رہیں)۔(۹۴)(ذوالقرنین نے) کہا:مجھے میرے رب نے اس بارے میں جو اختیار دیا ہے(وہ )بہتر ہے،تم اپنے زورِ بازو(یعنی محنت ومشقت )سے میری مدد کرو ،میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔(۹۵)تم میرے پاس لوہے کی چادریں(لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے) لے آؤ،یہاں تک کہ جب اس نے(وہ لوہے کی دیوارپہاڑوں کی)دونوں چوٹیوں کے درمیان برابر کر دی تو کہنے لگا(اب آگ لگا کر اسے)دھونکو،یہاں تک کہ جب اس نے اس(لوہے)کو (دھونک دھونک کر)آگ بنا ڈالا تو کہنے لگا کہ میرے پاس لاؤ(اب)میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالوں گا۔(۹۶)(ایسی مضبوط اور بلند دیوار تیار ہو گئی کہ)پھران(یاجوج اور ماجوج)میں نہ اتنی طاقت تھی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اتنی قدرت پا سکے کہ اس میں سوراخ کر دیں۔(۹۷)(دیوار کو دیکھ کر)ذوالقرنین نے کہا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ(قیامت قریب)آئے گاتو وہ اس دیوار کو(گرا کر)ہموار کر دے گا(دیوار ریزہ ریزہ ہو جائے گی)،اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے(حدیث شریف ہے کہ یاجوج اور ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر محنت کرتے کرتے جب اسکے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان میں کوئی کہتا ہے ،اب چلو باقی کل توڑ لیں گے ۔دوسرے روز جب آتے ہیں تو وہ بحکمِ الہٰی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے،جب ان کے خروج کا وقت آئے گا تو ان میں کہنے والا کہے گا اب چلو باقی دیوار کل توڑ لیں گے انشاء اللہ،انشا ء اللہ،کہنے کا یہ ثمرہ ہو گاکہ اس دن کی محنت رائیگاں نہ جائے گی اور اگلے دن اتنی دیوار اتنی ٹوٹی ملے گی جتنی پہلے روز توڑ گئے تھے اب وہ نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچائیں گے،قتل وغارت کریں گے اور چشموں کا پانی پی جائیں گے،جانوروں درختوں کو اور جو آدمی ہاتھ آئیں گے ان کو کھا جائیں گے،مکہ مکرمہ،مدینہ طیبہ اور بیت المقدس میں داخل نہ ہو سکیں گے۔اللہ تعالیٰ بدُعائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہیں ہلاک کرے گا اس طرح کہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہوں گے جو ان کی ہلاکت کا سبب ہوں گے)۔(۹۸)اوراس دن(جملہ مخلوقات یا یاجوج اور ماجوج کو)آزاد کر دیں گے وہ(تیزوتند موجوں کی طرح)ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو(میدانِ حشر میں)جمع کر لیں گے۔(۹۹)اور ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے بالکل عیاں کر کے پیش کریں گے۔( ۱۰۰)وہ لوگ جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ(میرا ذکر)سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔(۱۰۱)کیا کافر لوگ یہ گمانکرتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا دوست بنا لیں گے؟بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کیلئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے(وہ کافر لوگ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ملائکہ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت عزیز علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ انہیں قیامت کے عذاب سے بچا لیں گے تو یہ ان کی جہالت ہے بلکہ روزِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود ان کی کفریہ حرکات سے بیزاری کا اظہار فرمائیں گے،لہذا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں کو تو قیامت کے دن انبیاء کرام اور اللہ والوں کی دوستی ضرور کام آئے گی مگر کفار کو ان کے کفر کی وجہ سے کسی کی دوستی کام نہیں آئے گی اور انہیں جہنم ہی میں جانا پڑے گا)۔(۱۰۲)فرما دیجئے:کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں سے خبردار کر دیں جو اعمال کے حساب سے سخت خسارہ پانے والے ہیں۔(۱۰۳)یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہو گئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں۔(۱۰۴)یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا اور(مرنے کے بعد)اس سے ملاقات کا انکار کر دیا ہے سو ان کے سارے اعمال اکارت(ضائع،برباد)ہو گئے پس ہم ان کیلئے بروزِ قیامت کوئی وزن اور حیثیت (ہی)قائم نہیں کریں گے۔(۱۰۵)یہی جہنم ہی ان کی جز اہے اسلئے کہ وہ کفر کرتے رہے اور میری نشانیوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔(۱۰۶)بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کیلئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہو گی۔(۱۰۷)وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے(اپنا ٹھکانا)کبھی بدلنا نہ چاہیں گے۔(۱۰۸)(اے حبیب معظم!)فرما دیجئے:اگر سمندر میرے رب کے کلمات کیلئے روشنائی ہو جائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا اگرچہ ہم اسکی مثل اور(سمندر یا روشنائی)مدد کیلئے لے آئیں۔(۱۰۹)فرما دیجئے:میں تو صرف(بخلقتِ ظاہری)بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے!ذرا غور کرو)میری طرف وحی کی جاتی ہے(بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الہٰی اتر سکے)وہ یہ کہ تمہارا معبود،معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔(نبی کریم ﷺ کی بشریت:نبی اکرمﷺ کو دیکھ کر جب صحابہ کرامؓ نے بھی صوم وصال(یعنی روزہ کے ساتھ روزہ ملانا اور درمیان میں کچھ نہ کھانا)شروع کئے تو صحابہ کرامؓ کیلئے بہت مشکل ہوا ۔اس پر نبی کریمﷺ نے صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا، لوگوں نے عرض کیا:آپ (ﷺ)تو صوم وصال رکھتے ہیں تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:تم میں مجھ جیسا کون ہے؟اور دوسری روایت میں فرمایاکہ یقیناًمیں تمہاری مثل نہیں ہوں،میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔بلاشبہ ہر نبی انسان اور بشر ہوتا ہے مگر نبی کی بشریت میں وحی وصول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے اور نبی کریمﷺ تو تمام انبیائے کرام کے سردار ہیں اسلئے آپ(ﷺ)کی بشریت تمام انسانوں میں سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔نبی کریمﷺ کی نورانیت:نبی کریمﷺ کی بے مثال بشریت کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی نورانیت بھی لاجواب ہے، جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا،میں خلق کے اعتبار سے تمام نبیوں میں اول ہوں اور بعثت کے اعتبار سے سب نبیوں کے آخر میں ہوں،حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ صحابہؓ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ کیلئے نبوت کب واجب ہوئی؟آپﷺ نے فرمایا :جس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے،علامہ سید محمودآلوسی تفسیر روحالمعانی میں لکھتے ہیں کہ محب قادر وہ ہے جو کسی ش�ئسے عاجز نہیں ۔اس نے اپنے حبیبﷺ کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اور(شب معراج) اپنی زیارت کیلئے بلایا،علامہ طبری لکھتے ہیں کہ نبیﷺ نور ہیں مگر اس کیلئے جو اس نور سے روشنی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو،ام المونین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا:میں نے حفصۃ بنت رواحۃ سے سوئی ادھار مانگی،میں اسکے ساتھ رسول کریمﷺ کے کپڑے سی رہی تھی کہ وہ سوئی میرے ہاتھ سے گر گئی ،میں نے اس کو تلاش کیا لیکن وہ مجھے نظر نہ آئی،اسی اثناء میں رسول کریمﷺ اندر داخل ہوئے تو آپ کے چہرے کے نور کی شعاع سے وہ سوئی مجھے نظر آگئی)۔(۱۱۰)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 28889 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2017 Views: 1475

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ