قوانین فطرت سے بغاوت کا نتیجہ

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

اﷲ تعالیٰ اس کائنات کے خالق و مالک ہیں اس ذات بابرکات نے انسانیت کی فلاح کیلئے پہلے تین اور اب سابقہ تینوں کو کالعدم قرار دے کر آخری حتمی آئین قرآن اور بے شمار اصول وقوانین وضع کئے جوحقوق انسانی کی بنیاد ہیں جیسا کہ جنگ میں اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جنگ میں جو مقابلے میں نہ آئے ان سے جنگ نہ کرو،بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو سبز درختوں ،فصلوں کو تہس نہس نہ کرو اس فطری اصول پر آج کے باغی انسان عمل نہیں کر رہے جہاں چاہتے ہیں اپنی ہیبت بیٹھانے کیلئے بم گرا دیتے ہیں جس میں بے گناہ بچوں،بوڑھوں ،عورتوں،فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے ،گذشتہ روز افغانستان کی سرزمین پر ہیروشیما سے بھی زیادہ وزنی دنیا کا خطر نا ک ترین بم گرا یا گیا جسے بمبوں کی ماں کہا جاتا ہے جس کا وزن ایک ہزار کلو گرام بتایا جا رہا ہے ،جس میں ہلاکتوں کی تعداد کثیر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔یہ حملہ فطری اصول سے کھلی بغاوت ،انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے ،کیونکہ ایسے حملوں میں بہت سے بے گناہ مارے جاتے ہیں جن کا جنگ سے تعلق بھی نہیں ہوتا ،فصلیں ،باغات تباہ ہو جاتے ہیں اور مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں کئی دہائیوں تک آنے والی نسلیں ان خطرناک بمبوں کے اثرات کا شکار رہتی ہیں ۔افغانستان سے شکست خردہ امریکہ اپنی ہزیمت کو چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے جو ایک اور جنگ عظیم کی طرف دنیا کو دھکیلنے کی منظم سازش ہی قرار دیا جا سکتا ۔دنیا میں آگ لگانے والوں کے نام فطرت کا پیغام ہے کہ یہ آگ ایک دن تمہارے گھروں تک پہنچ جائے گی جس میں تم اور تمہاری نسلیں بھسم ہو کر رہ جائیں گی ۔قانون خالق سے بغاوت چھوڑ دو۔

اسی طرح قانون فطرت ہے کہ سوار پیدل کو سلام کرے ،اعلیٰ سواری والا ادنیٰ سواری کو سلام کرے ،یعنی اپنے مسلمان بھائی کو جب دیکھ ،خواہ اسے جانتا بھی نہ ہو سلام کر کے اس پر سلامتی بھیجے ،اس قانون فطرت سے غرور وتکبر خاک میں مل جاتے ہیں ، معاشرے میں انسانوں میں برابری کا توازن قائم رہتا ہے کوئی بھی خود کو بڑا تصور نہیں کرتا ۔ایک اور قانون الٰہی ہے کہ امیر وں کے پاس جو دولت ہے اس میں غریبوں کا بھی حق ہے ساری دولت کو اپنی دولت نہ سمجھے ،یہ دولت اسے اﷲ رب العزت نے دی ہے ،دولت مند انسان کو چاہیے کہ وہ اﷲ کے حکم کے مطابق دولت زکٰوۃ ،صدقہ وخیرات کی مد میں غریبوں پر خرچ کرے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ دولت غریبوں کو دیتے وقت ان پر احسان کی غرض سے خرچ نہ کرے اور نہ ہی ان کی تذلیل کرنے کیلئے،اگر یہ امیردولت پر سانپ بن کر بیٹھا رہا اور معاشرے میں غریب مسلمانوں پر خرچ نہ کی تو قیامت کے روز اسے سخت سزا دی جائے گی ۔اس قانون رب کائنات نے تقسیم دولت کا توازن برقرار رکھا ہے ،امیر وغریب میں فرق کو دوبارہ زندہ کردیا ،غریب کو بھی موقعہ دیا کہ وہ امیر کی دولت سے استفادہ کرکے دولت مند بنے اور اپنی دولت معاشرے کے کمزور لوگوں پر خرچ کرے تاکہ معاشرے سے غربت کاخاتمہ ممکن ہو سکے ۔اﷲ تعالیٰ کے اس قانون کو آج لوگوں نے ترک کر رکھا ہے جس کے باعث امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں ،لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں بھوک ،افلاس کی وجہ سے، لیکن تاریخ شاہد ہے جب انسانوں نے اس قانون فطرت کو اپنایا تو تب زکٰوۃ لینے والا کوئی نہ رہا سب زکٰوۃ دینے والے بن گے بیت المال قائم کرنا پڑا ۔آج بیت المال خالی پڑا ہے،مسجدوں ،عوامی مقامات پر بھیک مانگنے والوں کا ایک ہجوم ہے۔

اﷲ کا انسانوں کے لئے حکم ہے کہ چھوٹوں پر شفقت ،بڑوں کا حترام کرو ،عدم برداشت کی وجہ سے آج چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام نہ رہا ،والدین جیسا اہم ترین رتبہ بھی اولاد کے سامنے بے معنی ہو کر رہ گیا والدین کو یورپ نے اولڈ ہاؤسز میں پہنچا دیا اور مسلمانوں نے تحقیر شروع کرکے اپنی ذلت کا سامان دنیا میں ہی تیار کر لیا ۔والدین پر دوستوں کو ترجیح دی جانے لگی ہے جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔

خالق کائنات کا اصول ہے کہ انسانوں کے لئے آئین،قانون میں ذات باری تعالیٰ نے قرآن کی شکل میں وضع کردیا یہی آئین انسانیت ہے مجھے رب تسلیم کرنے والے اسے ہی اپنا آئین صدق دل سے تسلیم کریں اس میں راز یہ تھا کہ اﷲ رب العزت انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف اپنی غلامی میں لانا چاہتے تھے ،ہوا یوں کہ بگڑے ہوئے انسانوں نے خود اپنے ہاتھوں سے آئین وقوانین اس طرح مرتب کئے جو رب العزت کے آئین وقوانین کی ضد ثابت ہوئے صرف دنیا میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کیلئے،۔۔۔۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیا میں انسان نے انسان کو ہی اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ دنیا آگ و خون کی کالونی بن چکی ہے طاقت ور کمزور کو کھائے جا رہا ہے۔دنیا جہنم کا منظر پیش کر رہی ہے صرف فطرت سے بغاوت کرنے کی وجہ سے۔ہمارے سامنے سودکی مثال ہے ۔اﷲ کا کہنا ہے کہ سود اﷲ ورسول ﷺ سے جنگ ہے جب سے ہم نے اﷲ ورسول ﷺ سے جنگ شروع کی ،ہماری معیشت تباہ ہو کر رہ گئی سود کے سمندر میں ہم غرق ہو کر رہ گئے ۔آج سود کی قسطیں ادا کرنے کیلئے مزید سودی قرضہ لینا پڑ رہا ہے ۔

دین فطرت اسلام کا اصول ہے کہ شادی سادگی سے کی جائے فضول خرچی سے پرہیز کیا جائے ۔تاکہ نکاح آسان اور زنا مشکل ہو جائے ، مگر دور حاضر میں فضول رسوم ورواج کے باعث نکاح مشکل ترین کام ہو گیا ۔غریب لوگوں کی بچیاں شادی نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیٹھی ہیں ان کے سر کے بالوں میں چاندی آگئی ۔اسی طرح اسلام کا اصول ہے کہ جب عورتیں زیادہ ہو جائیں تو مردوں کو چاہیے کہ ایک سے زائد نکاح کریں ،آج کچھ معاشروں میں دوسرے نکاح کو اس قدر معیوب سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کرنے والا جیسے مجرم ہو ،ہماری حکومت نے بھی نکاح کیلئے جو اصول وقانون وضع کئے ہیں وہ اصول فطرت کی سو فیصد ضد ہیں جیسا کہ فطرت کہتی ہے کہ جب لڑکا اور لڑکی بالغ ہو جائیں تو نکاح اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں،مگر یہاں بالغ کی تشریح جو ہمارے قانون میں کی گئی وہ فطرت کے بالکل الٹ کی اٹھارہ سال جبکہ فطرت نے کچھ نشانیاں رکھی ہیں بالغ ہونے کیلئے جب وہ ظاہر ہو جائیں تو لڑکا اور لڑکی بالغ تصور کئے جائیں گے۔ خودساختہ انسانی قوانین کو اسلام کسی صورت قبول نہیں کرتا ۔آج معاشرے میں پھیلی ہوئی عریانی،بے حیائی،فحاشی میں نکاح وقت پر نہ ہونے کا بہت بڑا حصہ ہے ۔

اﷲ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو ،جو رشتہ دار تم سے تعلق توڑے تو اس سے جوڑ ۔قیامت کے دن رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا ۔آجکل ہو یہ رہا ہے کہ دولت کی پوجا ہو رہی ہے جو دولت مند ہے اس کا رشتہ دار بھی دولت مند ہی ہے ،غریب خواہ اس کے خونی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ،ان سے ملنا جلنا ضروری تصور نہیں کرتا ۔اصول فطرت سے بغاوت کے باعث مقدس خونی رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ تعلقات محدود ہوتے جا رہے ہیں ،دل سے محبت والفت ختم ہو گئی ہے خون سفید ہوگے صرف اس لئے کہ ہم اﷲ کا حکم نہیں مان رہے ۔

قارئین کرام! ذیل میں چند مثالیں پیش کی ہیں جوہمیں درس دے رہی ہیں اصول فطرت سے ہرگز منہ نہ موڑو یہ انسانوں کے فائدے کیلئے ہی بنائے گئے ہیں جب انسان ان سے منہ موڑتاہے تو اپنے لئے خود ہی مسائل پیدا کرتا ہے ۔اس لئے اﷲ ورسول ﷺ سے وفا کرنے کیلئے ہمیں قوانین فطرت سے بغاوت کی روش ترک کرنا ہوگی۔کیونکہ انسانی فلاحی وبہبود کیلئے قوانین فطرت پر عمل پیرا ہونا لازم وملزوم ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 162337 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 633

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ