اردو کو کب سرکاری زبان کا درجہ ملے گا؟

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)
‘‘اخپل بادشاہی’’

ہم ذہنی غلامی سے کب نجات پائیں گے؟

دستور پاکستان کا لازمی تقاضا ہے کہ قومی زبان اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دیا جائے۔ ماضی میں حکمران کمال چابکدستی سے عدالت سے 15 سالوں کی چھوٹ لے کر اردو کے نفاذ کو موخر کرتے رہے ہیں۔ صرف سابق صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں مقتدرہ قومی زبان کی سرپرستی کی گئی اور اردو کو بطور دفتری زبان اختیار کرنے کی تیاری کی گئی۔ اس دوران نصاب تعلیم کو اردو میں منتقل کرنے باالخصوص میڈیکل ، انجنئیرنگ اور دیگر سائنسی علوم کو قومی زبان میں منتقل کرنے کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دی گئیں۔ اس کے بعد مقتدرہ کو ان کاموں کے لیے بجٹ فراہم نہیں کیا گیا اور ایسے افراد کو ادارے کا سربراہ بنایا گیا ، جس کی ترجیحات میں فروغ اردو شامل نہیں تھا۔

اب کی بار عدالت نے مزید مہلت دینے کے بجائے دستوری تقاضے پورے کرنے کا حکم جاری کردیا۔حکومت نے بادل نخواستہ عدالتی حکم کو تسلیم کرنے کا اعلان تو کردیا لیکن دفتری بورڈ اردو میں منتقل کرنے کے علاوہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کچھ نہیں کرپائے۔کہنے کو وزیراعظم نے تین وزرا پر مشتمل کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے، جو کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ بظاہر اردو کو بطور دفتری اور سرکاری زبان اختیار کرنے میں کوئی عملی رکاوٹ نہیں۔ مقتدرہ قومی زبان نے جملہ دفتری دستاویزات کو اردو میں کئی سال پہلے ہی منتقل کردیا تھا۔ ہمارے حکمران اور بیوروکریٹ سب ہی اردو خواں ہیں۔ اردو میں سوچتے، بولتے اور جیتے ہیں، بس دفتری فائلوں پر انگریزی لکھتے ہیں۔

کمپیوٹر کی ایجاد نے کام آسان کردیا ہے، دفتروں میں استعمال ہونے والے سافٹ وئیر “ایم ایس آفس” اور ونڈو کے نئے ایڈیشن میں دیگر زبانوں کی طرح اردو کی سہولت بھی دے رکھی ہے۔ مزید آسانی یہ ہے کہ انگریزی میں استعمال ہونے والا کی بورڈ فونیٹک ہی اردو کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کو کسی اضافی تربیت کی ضرورت بھی نہیں رہی، جو فرد ایم ایس آفس پر کام انگریزی میں کام کرسکتا ہے وہ معمولی توجہ سے اردو کو بھی استعمال کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ بات تو صرف توجہ دینے، فیصلہ کرنے اور قدم اٹھانے کی ہے۔

ہمارے بیوروکریٹس کے پاس انگریزی کے صرف دو اڑھائی سو الفاظ ہیں، جن پر وہ انحصار کرکے اپنی مہارت اور صلاحیت پر ناز کرتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ جس دن اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو اس دن نچلے درجے کے ملازمین نام نہاد اعلیٰ بیوروکریٹوں سے زیادہ اچھی کیفیت نگاری اور مراسلت کرنے لگیں گے۔یہ طبقہ اپنی نالائقی کو دو، اڑھائی سو انگریزی الفاظ کے پردے میں چھپائے رکھنا چاہتا ہے۔

ملک میں قانون کی پابندی کروانے والے حکمران اور اعلیٰ سرکاری عہدیدار کس ڈھٹائی اور سینہ زور ی سے دستور پاکستان کی دفعہ 251 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں اور مسلسل عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توہین عدالت کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ جس ملک کی مقننہ اور انتظامیہ خود قانون پر عمل پیرا نہ ہووہ ملک میں قانون پر کسی طرح عمل درآمد کرواسکتی ہے۔ یہ تو اپنی مرضی اور منشا کو ٹھونسنے کے مترادف ہے، جسے پشتو میں ‘‘اخپل بادشاہی’’ کہتے ہیں۔جہاں قانون ، قاعدے اور عدالتی فیصلوں کا اطلاق صرف غریب عوام کے لیے لازم ہوتا ہے اور بادشاہ اپنی مرضی سے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

حکمرانوں اور بیوروکریسی ہی اس معاملے کو پس پشت نہیں ڈال رہی بلکہ میڈیا، ارباب دانش اور عوام بھی انگریزی زبان کی غلامی سے نجات کے لیے کچھ کرنے پر تیار نہیں۔انگریزی زبان کی عمل داری نے ہمیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے ۔ ہماری نوجوان نسل انگریزی پڑھ کربھی علم حاصل نہیں کرپاتے، کچھ الفاظ رٹ کر امتحان تو پاس کرلیتے ہیں لیکن اس کا فہم حاصل نہیں کرپاتے۔ گزشتہ سال میں سی ایس ایس کے امتحانات نے نئی نسل کی علمی بنیادوں کی کلی کھول دی ہے۔ جس میں 98 فیصد امیدوار فیل ہوئے، جن میں سے 92 فیصد صرف انگریزی کے پرچے میں پاس نہیں ہوسکے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے انگریزی نافذ کرکے اپنی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ اس سنگین صورت حال پر کہیں سے آواز نہیں اٹھی۔ سب خاموش ہیں، کسی کو پروا نہیں کہ ان کی نسلوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان زرعتی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد کے ایک سیمینار‘‘قومی زبان میں زرعی اور سائنسی علوم کے فروغ، امکانات، مسائل اور ان کا حل’’ میں شرکت کا موقع ملا۔ زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف ظفر (تمغہ امتیاز) نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان میں اردو زبان کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کئی ممالک میں جانے کا موقع ملا ، ایران، چائنہ، جاپان، ازبکستان اور آزربائیجان جیسے ممالک کی ترقی کا راز قومی زبان کے نفاذ میں مضمر ہے۔ فارسی، عبرانی ، جاپانی، فرانسیسی، جرمن اور تاجک زبانیں اردو کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اقوام متحدہ کے ایک حالیہ سروئے کے مطابق اردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی شعبہ قرآن کی اسٹنٹ پروفیسر سمعیہ عزیز نے بتایا کہ قرآن کی تفسیر میں اردو میں جتنا کام ہوا ہے ابھی عربی دان اس مقام تک نہیں پہنچ پائے۔ نظامت اردو کے ڈائریکٹر اسلم الوری بتا رہے تھے کہ عثمانیہ یونیورسٹی دکن نے قیام پاکستان سے قبل ہی میڈیکل اور انجنئیرنگ کی تعلیم اردو میں دینی شروع کردی تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاپان، اسرائیل، فرانس اور چین نے قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر زیادہ علمی ، سائنسی اور معاشی ترقی کی ہے یا پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک نے جو ابھی تک انگریزی کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ انگریزی دنیا کی بڑی زبان ہے، اس کو اضافی مضمون کے طور پر سیکھنے کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں لیکن اسے بطور نصابی اور دفتری زبان قوم پر مسلط کرنے کا کیا جواز ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 125 Articles with 64876 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
17 Apr, 2017 Views: 358

Comments

آپ کی رائے