سنہرے خواب اور سنہرے پنجرے

(Aslam Lodhi, Lahore)

نوجوان ہر قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک میں باعزت روزگار کے مواقع نہ ملنے کی بنا پر ہمارے نوجوانوں کی کثیر تعداد جائز اورناجائز طریقے سے دوسرے ملکوں کا رخ کررہی ہے ۔ وہاں انہیں کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے یہ بھی ایک تلخ اور پریشان کن داستان ہے ۔ گوجرانوالہ کا ایک نوجوان ایم بی اے فنانس کرنے کے باوجود سالہاسال تک ملازمتیں کے لیے ٹھوکریں کھاتا رہا ۔جب ملازمت نہ ملی تو ادھار لے کر سعودیہ پہنچ گیا ۔ملازمت تو اسے وہاں بھی نہیں ملی لیکن اس کو کاروبار کرنے کے مواقع ضرور میسر آگئے ۔ چند سال وہاں گزار کر دو ماہ پہلے پھر قسمت آزمانے کے لیے پاکستان آیااس بار بھی اسے نصیب میں ٹھوکریں ہی لکھی تھیں۔ چنانچہ اسے مجبورا پھر سعودیہ واپس جانا پڑا۔ اب سعودیہ بھی معاشی عدم استحکام کا شکار ہوچکا ہے جس کی وجہ سے وہاں بھی کاروباری مواقع ختم ہو چکے ہیں۔اب وہ نہ سعودیہ میں رہ سکتا اور نہ ہی پاکستان واپس آسکتا ہے ۔ اسی طرح کراچی کاایک نوجوان جس نے ماسٹر ڈگری حاصل کرکے ملازمت کے لیے بہت سال تک دھکے کھائے ۔ کراچی شہر کے حالات تو ویسے ہی خطرناک حدتک تکلیف دہ اور پریشان کن تھے چنانچہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کو چھوڑ وزٹ ویزے پر دوبئی چلاگیا جہاں اسے ملازمت تو مل گئی جن بدترین حالات سے اسے واسطہ پڑا اس کا الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ وہ پاکستان واپس آسکتا ہے اور نہ ہی دوبئی میں اس کے رہنے کے لیے سازگار ماحول میسر ہے ۔ ایک لاہور کا نوجوان جس کی حال ہی میں شادی ہوئی وہ بھی ملازمت کی تلاش میں آج کل دوبئی میں ہے ۔ اسے ایک فرم میں ملازمت تو مل گئی اور تنخواہ بھی معقول ہے لیکن اپنے خاندان سے دور ہونے کی بنا پر شام ڈھلے اس پر جو گزرتی ہے اس کا چہرہ بخوبی عکاسی کرتا ہے ۔صبح 9 بج سے رات 9 بجے کام کرکے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں ۔مہنگائی اتنی ہی ہے کہ آدھی تنخواہ وہیں خرچ ہوجاتی ہے ۔ پانی کے بغیر جیسے مچھلی تڑپتی ہے ایسے یہ پردیس جانے والے والدین اور بیوی بچوں کے بغیر تڑپتے ہیں ۔ پولیس اور قانون مقامی لوگوں کی مدد کرتا ے پردیسیوں کی نہیں ۔ سوشل میڈیا پر بے شمار واقعات ایسے دیکھنے کو ملے جن میں عرب ممالک میں پاکستانی ملازمین کے خلاف تشدد ہوتا دکھایا گیا تھا ۔ میں سعید جاوید کی کتاب "اچھی گزر گئی " پڑھ رہا تھا انہوں نے جہاں ملازمت کے حوالے سے اپنے مسائل کا نہایت تفصیل سے ذکر کیا ہے وہاں سعودیہ جانے والوں پر کیا گزرتی ہے اس کی ایک جھلک بھی دکھائی ہے ۔وہ لکھتے ہیں سعودی لوگوں کا عام طور پر اخلاق بہت اچھا ہے لیکن اپنے ملازمین کے ساتھ ان کا سلوک ظلم کی حد تک بے رحم اور سنگ دل ہوتا ہے ۔ بطور خاص گھریلو ملازمین ان کے جبرو تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں ۔ چند سو ریالں کے عوض بیس بیس گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ۔ایسا ہی ایک واقعہ میرے سامنے رونما ہوا ۔ میں ریاض کے ایک پاکستانی سٹور پر کھڑا تھا ایک پاکستانی لڑکی بھاگتی ہوئی سٹور میں داخل ہوئی آتے ہی چیخنا چلانا شروع کردیا وہ ایک سعودی فیملی میں بچوں کی گورنس کے طور پر کام کررہی تھی پھر اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے گئے حتی کہ زیادتی کی کوشش بھی کی گئی ۔ابھی وہ اپنی بات مکمل بھی نہ کرپائی تھی کہ ایک سعودی مرداور خاتون پیچھاکرتے ہوئے سٹور میں پہنچ گئے اور اسے گھسیٹ کر لے جانے لگے ۔سٹور کا مالک پاکستانی تھا اسے غیرت آئی اور وہ درمیان میں کھڑا ہوگیا ۔اسی اثنا میں پولیس بھی پہنچ گئی ۔سعودی نے کہا میں نے اس لڑکی کو پاکستان سے لانے پر پانچ ہزار ریال خرچ کیے ہیں ۔ مجھے پانچ ہزار ریال دے دو تو میں اسے چھوڑ دوں گا ۔ سٹور کے مالک ایک نیک سیرت اور خداترس انسان تھا اس نے پانچ ہزار ریال سعودی کو دے کر اس لڑکی کو پاکستان واپس بھجوا دیا ۔ اس لڑکی نے سعودی شہری کی غیر اخلاقی حرکتوں اور ظالمانہ سلوک کی پوری داستان سنائی جیسے سن کر سب آبدیدہ ہوگئے ۔ بزرگ فرماتے ہیں اپنا وطن اپنا ہی ہوتا ہے انسان جب دوسرے ملک میں جاتا ہے تو اس کی حیثیت اور پہچان ختم ہوجاتی ہے۔اس سے کتنی ہی بدترین مثالیں ان ملازمین سے سنی جاسکتی ہیں جو محنت و مزدوری کرنے کے لیے عرب ممالک میں جاتے ہیں ۔ایک جانب وہ لوگ جنہیں سبز باغ دکھاکر قانونی اور غیر قانونی طور پر عرب ممالک میں بھجوایا جاتاہے وہ مکروہ لوگ پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں بلکہ ہر قانونی گرفت سے آزاد ہیں ۔اس سے بری خبر کیا ہوگی کہ دو لاکھ سے زائد پاکستانی ملک سے فرار ہوکر یورپی ممالک میں پناہ کی درخواست کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال ایک لاکھ افراد کو پاکستان ڈی پورٹ کیاگیا ۔ اس میں قصور ہمارے سفارت خانوں کا بھی ہے جو اپنے ہم وطنوں پر ظلم ہوتا ہوا دیکھ کر بھی ان کی مدد نہیں کرتے ۔ چندماہ قبل اقتصادی بحران کی وجہ سے سعودی کمپنیاں بند ہوئیں تو ان میں اکثر پاکستانیوں کو تنخواہ اور بقایا جات بھی نہیں ملے تھے اگر وزیر اعظم نوٹس نہ لیتے تو شاید بقایا جات کی ادائیگیاں کبھی نہ ہوتیں ۔ پاکستانی ایک عظیم ایٹمی طاقت ہے ۔ ہم نوجوانوں کو اپنے ملک ملازمتوں کا اہتمام کیوں نہیں کرسکتے ۔ اس وقت سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کے بہت چرچے ہیں ۔حکومت فخریہ اس پراجیکٹ کا کریڈٹ تولے رہی ہے لیکن ایسے ادارے قائم نہیں کررہی جو سی پیک پراجیکٹ کے لیے درکار افرادی قوت کو ذہنی ، جسمانی اور فنی اعتبار سے تیار کرسکیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280912 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2017 Views: 254

Comments

آپ کی رائے