سیاہ دل لوگ

(Shehla Khan, )

یہ ہر اس انسان کے دل کی بات جو دوسروں کے لۓ ہر احساس سے خالی ہوتا ہےمگر اپنی ذات کے لۓ اسے ہراحساس بھرپور ہوتا یے۔ اپنی ذات کے مفاد میں اسے چاہے کتنے دلوں کا خون کرنا پڑے، وہ گریز نہیں کرتا۔ ہر مثبت احساس سے خالی، چہروں پر جعلی مسکراہٹوں کا عکس لۓ ہوۓ، اندر سے زہریلے مگر زبان سے میٹھے الفاظ استمعال کرتے ہوۓ اور نگاہوں سے حسد اگلتے ہوۓ یہ سیاہ دل لوگبظاہر زندگی میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ لوگوں کے احساسات و جذبات کو کچلتے ہوۓ، رشتوں کو اپنے قدموں تلے پامال کرتے ہوۓ، اندھے، بہرے ہو کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور قدموں تلے روندے جانے والے ٹوٹے پھوٹے زخمی دل جب ان کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ انھیں کامیابی کی طرف گامزن دکھئی دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہوتا تو ایسا ہی ہےمگر یہ بھی سچ ہے کہ بظاہر دکھئی دینے والی کامیابی، کامیابی نہیں بلکہ بے شمار دلوں کی قربانی سے لیا گیاخون ہے اور اس خون سے سینچا گیا بظاہر کامیابی کا وہ پودا ہے جسے پروان چڑھانے کے لۓ معصوم دلوں کا خون کیا جاتا ہے۔ یہ وہ کامیابی ہے جس کی بنیاد سے لے کے منزل، رشتوں کی لاشوں پر بنئی گئی ہے۔ جس کامیابی کی بنیاد جذبات و احساسات کے خون اور رشتوں کی لاشوں پر رکھی گئی ہو، وہ کامیابی کیسے کامیاب ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، بلکل صحیح کہا جاتا ہے۔ خدا کی بنئی ہوئی اس دنیا میں خدا کے اصول چلتے ہیں انسانوں کے نہیں۔ ہر برئی کا انجام برا ہوتا ہے۔ جتنی بڑی برئی اتنا ہی بڑا اور عبرت ناک انجام۔ کیا آپ کو زندگی میں کبھی کوئی ایسا انسان نظر نہیں آیا جو بستر مرگ پر ہو اور موت مانگتا ہو پر موت نہ ملتی ہو؟ ایسے شخص کے ملنے والے بھی اسے اذیت سے نجات دلانے کے لۓ اس کی موت کی دعا کرتے ہیں۔ کون جانے اس اذیت ناک انجام کے پیچھے کتنی کہانیان دفن ہیں، کتنے لوگوں کی آہیں شامل ہیں اور کتنے دلوں کا خون اس کی گردن پر ہے۔ کتنے رشتون کی لاشیں اس کی لاش کے انتظار میں ہیں۔ کوئی جانے نہ جانے مگر وہ خود ضرور جان لیتا ہے، پر کیا حاصل، جب وقت تھا تب وہ اندھا، بہرا تھا اور جب وقت نے پلٹا کھایا تو توبہ، اسغفار اور معافیاں مانگنے لگا۔ جن کی زندگیاں برباد کرنی تھیں وہ تو کر دیں، پھر اب کس بات کی معافی؟ کیا اب وہ اس وقت کو لوٹا سکتا ہے جو اس کے ہاتھوں برباد ہوۓ لوگوں نے اذیت و بربادی میں گزارا ؟ کیا اب وہ ان کے احساسات و جذبات کے کچلے جانے والی اس وقت کی تکلیف کو مٹا سکتا ہے؟ اس کے ھاتھوں برباد ہوۓ لوگوں کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خدا صبر اور سہارا ضرور دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ان میں کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کامیابی کی ایسی ایسی منزلیں طے کر جاتے ہین جو عام انسانون کے بس کی بات نہیں۔ خدارااپنے آس پاس کے انسانوں کو اپنے جیسا انسان سمجھۓ۔ ان کے سینے میں بھی وہی دل دھڑکتا ہے جو آپ کے سینےمیں یے۔ جو آپ اپنے لۓ سوچتے ہیں وہی دوسروں کے لۓ کیوں نہیں؟ اپنی ذات کے لۓ ضرور سوچۓ مگر دوسروں کو پیروں تلے تو نہ روند کر جایۓ۔ کون کون، کہاں کہاں، کب کب اور کیسے کیسے آپ کی وجہ سے کس کس طرح متاثراور مجروح ہو رہا، ذرا سا رک کر دیکھیں تو سہی، سوچیں تو سہی۔ خدارا اس بات کو سمجھیں کہ دوسروں کو تکلیف دے کر آپ خود اپنے لۓ بہت بڑی تکلیف خرید رہے ہیں۔ آج نہ سہی کل ضرور گرفت میں ئییں گے۔ زندگی بہت مختصر ہہے اسے اپنے دل کو سیاہ کر کے، اپنی زندگی سمیت دوسروں کی زندگی میں سیاہی نہ پھیلئییں۔ وقت نہ رکتا ہے نہ ہی ایک سا رہتا ہے۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھیں۔ سیاہ دل نہ بنیں، وہ بنیں جن کے دل نور سے بھرے ہوں، جن کی ذات سے مل کر یہ احساس ہو کہ جیسے دل و دماغ پر نور ہو گۓ ہوں۔ پہلے خدا کی ذات پھر اپنی ذات پر یقین اور بھروسہ رکھیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آخری جیت اچھئی کی ہی ہوتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 19254 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2017 Views: 503

Comments

آپ کی رائے