گناہوں کی پوٹ،دورِجدیدکی کلی موت{پہلی قسط}

(Sami Ullah Malik, )

پچھلے دنوں یکے بعددیگرے پاکستان کے کئی شہروں میں جب ہمارے ازلی دشمن نے خودکش حملہ آوروں کے ذریعے ہمارے ڈیڑھ سوسے زائد معصوم پاکستانیوں کوشہیدکردیاتوہر ذی شعور پاکستانی کواپنے کھلے اورکمینے دشمن کاعلم تھااورپوری قوم کایہ مطالبہ تھاکہ اب اس ہولناک ڈرامے کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کاوقت آن پہنچاہے لیکن ہمارے ملک کے وزیراعظم جو اس وقت ترکی کے دورے پرتھے، انہوں نے وہاں سے بڑی معصومیت کے ساتھ ساری دنیاکویہ پیام دے رہے تھے کہ مجھے ووٹ ہی عوام نے بھارت سے بہترتعلقات بنانے کیلئے دیئے ہیں اور وزیر اعظم قوم کے اس ازلی دشمن کے ساتھ نہ صرف تعلقات کی بہتری بلکہ تجارت کی بھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں لیکن ہمارے کورچشم حکمرانوں کوانسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقی رپورٹ کاضرورمطالعہ کرنا چاہئے جس میں انہوں نے مصدقہ شواہداورمضبوط ثبوتوں کی بنیاد پرلکھاہے کہ:
"گزشتہ کئی سالوں سے بھارت،افغانستان اوراسرائیل پاکستان کواندرونی سطح پر دہشتگردی کے ذریعے کمزورکرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔ افغانستان کی این ڈی ایس،اسرائیل کی موساداوربھارتی ''را''تینوں اس کام میں پوری طرح جتے ہوئے ہیں۔بھارتی''را''کے قندھارمیں ۶۵سے زائد قونصل خانے اس بات کابین ثبوت ہیں۔بھارت ان پرکروڑوں روپے خرچ کرتاہے۔تینوں ایجنسیوں نے پاکستان میں سینکڑوں گروپ بنارکھے ہیں جو بیروزگاروں،جرائم پیشہ افراد کاڈیٹااکٹھا کرکے ہیڈکوارٹربجھواتے ہیں اور پھردوسراگروپ جہادکے نام پراس چارے کو افغانستان لے جاتاہے جہاں ان کودہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہے۔بھارت سندھ، کوئٹہ اورپشاورکے راستے ان دہشتگردوں کوپاکستان بھیج کربے گناہوں کوقتل کرنے کی پالیسی پرگامزن ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کا سرپرست بھارت ہے اوراس مہم میں اس کے دست وبازواسرائیل اورافغانستان ہیں۔ان تینوں کو اپنے اپنے مفادات اورضروریات نے یکجاکرکے اس دہشت گردی میں ملوث کیا ہواہے مگرسیاستدانوں اورحکمرانوں کی ضروریات کیاکہلواتی ہے کہ عوام نے ووٹ پڑوسی ممالک سے دوستی کیلئے دیئے ہیں"۔

پڑوسی ممالک سے بہترتعلقات بنانے سے کون کمبخت روکتایامنع کرتاہے مگر اس ملکی دہشتگردی کے سرپرستوں سے ہاتھ ملانے کامطلب یہ ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتاہے۔ سیانے تویہ کہتے ہیں کہ دشمن کے دشمن کودوست بناناضروری ہوتاہے اورپھرسب ہی واقف ہیں کہ ان تینوں دہشتگردوں کاسرپرست امریکاہے۔وہ کیاکہتاہے اوراس کے حربی دانش کے ذہنوں میں کون سے جرائم اورسازشیں پل رہی ہیں،ان پرنگاہ رکھنابھی اہم ہے۔مشہورامریکی تھنک ٹینک بروکنگزانسٹیٹیوٹ اورامریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈلفوزڈنے کہاکہ روس،چین،ایران اور شمالی کوریا اورانتہاء پسندی دنیا کیلئے پانچ بڑے خطرات ہیں اورچھٹاخطرہ پاکستان ہے۔یعنی دنیائے عالم کوامریکاکی کھلی جارحیت،بھارت اسرائیل اورافغانستان کی مشترکہ دہشتگردی سے دنیاکوکوئی خطرہ نہیں اورچھٹے نمبرپرپاکستان سے بڑاخطرہ ہے۔

کیاپاکستان،امریکاکوچھٹی کادودھ یاددلارہاہے؟امریکا،بھارت اوراسرائیل کے معاہدہ میزائل کی تیاری کوجو۱۷۰/ارب روپے کاہے،کوامن و سلامتی کی ضمانت سمجھتاہے اوربھارت کے سابق آرمی چیف کے اس برملااعتراف کو''بھارت جب چاہے پاکستان میں دہشتگردی کرواسکتاہے"کواعتراف جرم کیوں نہیں سمجھتا ہے؟بھارت کو پسندیدگی کی سند عطاکرنے والے نوازشریف فرماتے ہیں کہ مجھے امریکااورمغرب کی طرف سے سی پیک منصوبے کے خلاف کوئی سازش نظرنہیں آرہی ہے مگردنیائے عالم کے جہاندیدہ بتارہے ہیں کہ امریکاکا جھگڑا ہی سی پیک ہے۔امریکابحرجنوبی میں جاپان سے مل کر چین کاگھیراؤ کر رہاہے ۔چین کی ساری تجارت اور معیشت کادارومداراسی سمندرکے تجارتی راستوں پر ہے ۔چین اس گھیراؤ سے بے چین ہوکراپنے آپ کو متبادل راستوں کے ذریعے یورپ اورمشرقِ وسطیٰ سے منسلک ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔یورپ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ذریعے سڑکوں اور ٹرینوں کاجال بچھا رہاہے تومشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر تک رسائی کیلئے سی پیک کامنصوبہ تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش میں ہے۔جنگ کی صورت میں بحر جنوبی چین میں امریکاجاپان کے ساتھ مل کرچین کی سمندری ناکہ بندی کرے گاتوچین مشرقِ وسطیٰ سے سی پیک کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھ سکے گا۔چین کی ابھرتی ہوئی فوجی ومعاشی قوت اورپاکستان کے چین سے بڑھتے ہوئے تعلقات نے امریکاکو برانگیختہ کیاہواہے۔

اب امریکاچین کوسب سے بڑاخطرہ قراردے رہا ہے جس سے میل ملاپ کیلئے وہ ماضی میں تڑپتا رہا اورپاکستان نے ۱۹۷۰ء میں اس کی یہ مشکل حل کی اورخفیہ طورپرہنری کسینجر کے چین کے دورۂ کااس طرح بندوبست کیاکہ ساری دنیاکی خفیہ ایجنسیاں بھی حیرت زدہ رہ گئیں اورامریکااورچین کے درمیان پل کاکردار اداکیا اوراب طوطاچشم امریکایہ سب کچھ بھول گیاہے۔ اب اسے چین اورپاکستان سب سے بڑاخطرہ نظرآرہے ہیں مگرہمارے حکمرانوں کوبھی یہ سب کچھ ٹھیک نظر آرہا ہے اوروہ دوست اوردشمن کی تمیزسے عاری ہوکریہ بھول چکے ہیں کہ جو ریاست کادشمن ہوجائے وہ حکمران کاکب دوست رہاہے۔خواجہ آصف کوحافظ سعیدکے خلاف ہرزہ سرائی تویادرہی مگرکلبھوشن جودہشتگردوں کابھارتی سرپرست تھا،اس کا تذکرہ کرنے کاحوصلہ بھی نہیں رہااورپاکستانی وزیردفاع ہوتے ہوئے کس کادفاع کررہے ہیں؟ایسے لوگ ملک کاکیادفاع کریں گے البتہ اپنے اقتدار کے دفاع کیلئے کسی بھی حدتک جانے کوتیارہیں۔

بھارت جوکھل کردہشتگردی کررہاہے ،اس کاجواب تووہی ہوناچاہئے جوبھارت میں بابری مسجدکی شہادت پرمنہ توڑملاتھا اوراس جواب کے نقشہ گراسلم بیگ، اخترعبدالرحمان اوربالخصوص جنرل حمیدگل رہے توبھارت بھی بل میں دبکارہا۔ جنرل حمیدگل نے اپنی ریٹائرڈزندگی میں بھی ان تمام حکمرانوں کوسمجھانے میں گزاردی کہ ''خوف کوئی پالیسی نہیں ہوتی اورجب تک وہ اس پالیسی پرعمل پیرا رہے ،بھارت کویہ ہمت نہ تھی کہ افغانستان یاکہیں سے بھی پاکستان کی سرزمین پردہشتگردی کیلئے اس قدرآزادہوتا۔اب جب ہم دبک گئے ہیں توموذی مودی بھی بل سے نکل آیاہے اوراس کا حوصلہ اس قدربڑھ گیاہے کہ کبھی کھلم کھلابنگلہ دیش بنانے کاکریڈٹ لیتاہے اورکبھی برملاپاکستان کوتنہاکرنے کے ساتھ ساتھ پانی بندکرنے کے واضح دہمکیاں دے رہاہے۔ جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 227526 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Apr, 2017 Views: 594

Comments

آپ کی رائے