گداگری

(Azhar Iqbal Mughal, )

گدا گری پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کیوں کے وقت کے ساتھ ساتھ اب گدا گری کو بہت وسعت ملی ہے، اور اب گدا کری میں بہت سے نئے نئے طریقے متعارف ہورہے ہیں جو کہ گدا گری میں ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے اب گدا گری ایک پیشہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کافی سلجھے ہوئے لوگ بھی اس کو اپنا رہے ہیں یا پھر بھکاریوں نے سلجھے لوگوں کا روپ دھار کر بھیک مانگنی شروع کر دی ہے اب بھکاریوں کی بھی باقاعدہ قسمیں بن چکی ہیں کچھ لوگ اب بھی وہی پرانے طریقوں سے بھیک مانگتے ہیں جیسے آج کل بچے سر عام بھیک مانگتے نظر آتے معذور افراد،عورتیں اور مرد ایک بھکاریوں کی قسم یہ ہے بھکاریوں کی دوسری قسم خواجہ سرا ہیں جو کہ آج کل اپنا پروفشنل ناچ گانا چھوڑ کر بازاروں گلیوں اور سگنلز پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ بھیک کی آڑ میں لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں ۔اور ان لوگوں کے بھیک مانگنے سے بے حیائی فروغ پا ر رہی ہے ۔ جو کہ معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجہ ہے ۔بھکاریوں کی جو تیسری قسم ہے یہ ذرا عام بھکاریوں سے ہٹ کہ ہے یہ صرف بڑے بڑے شہروں میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے جو کہ بھیک میں کم از کم 50 روپے سے کم نہیں لیتے یا کوئی ان کو 50 روپے سے کم بھیک نہیں دیتا یہ وہ لوگ ہیں جو کہ ویل ڈریس ہو کر پینٹ،شرٹ پہن کر کسی روڈ پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان کا انداز کچھ اس طرح سے ہوتا ہے السلام و علیکم سر میں کوئی بھکاری نہیں میرے پاس کرایہ نہیں ہے اگر آپ کوئی میری مدد کر دیں تو میں آپ کو پیسے لوٹا دوں گا اپنا ایڈریس یا موبائل دیں دیں میں ایزی لوڈ کرا دوں گا ۔ اسی طرح ایک بار ایک نوجوان میرے پاس بھی آیا کہ میرے پاس کرایہ نہیں ہے میں نے دے دیا میں وہاں کسی کا انتظار کر رہا تھا میں تھوڑا دور جا کر کھڑا ہو گیا اس نے کافی لوگوں کو میرے والی ہی رام کہانی سنائی اور دیکھتے ہی دیکھتے کافی پیسے جمع کر لیئے ۔ اسی طرح ایک جوان لڑکا اور ایک خوبصورت جوان حسین لڑکی موٹر سائیکل پاس ہو گی کچھ اس طرح مخاطب کرتے ہیں ۔ ایکسوز می سر وہ پٹرول ختم ہو گیا ہے اگر آپ کچھ ہیلپ کر دیں تو آپ کا احسان ہو گا میں آپ کے پیسے لوٹا دوں گا مسز یا سسٹر ساتھ ہے لڑکی کو دیکھ کر کافی لوگ ترس کھاتے ہوئے پیسے دے دیتے ہیں ۔ اسی طرح ہسپتالوں کے کے باہر کافی لوگ اس طرح کے ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ دوائی کے پیسے نہیں ہے ماں بیمار ہے یا میاں بیمار ہے ایک با رایک بابا جی بس میں سوار تھے انھوں نے ایسی پرفارمس دی کہ ۵۰روپے سے کم کسی نے بھی نہیں دئیے اسی طرح وہ بزرگ مختلف جگہوں پر پرفارمس کرتے پائے گئے ۔ نکھٹو قسم کے لوگ جو کام کاج نہیں کرتے یا تو مسجد کے نا م پر چندہ مانگنے نکل پڑتے ہیں یا پھر اس طرح کی پرفارمس دے کر پیسے بٹورتے نظر آتے ہیں جمعہ والے دن ایک مسجد کے دروازے کے باہر کوئی آٹھ سے دس بھکاری ہوتے ہیں جن میں مستحق بہت کم ہوتے ہیں زیادہ تر نشئی یا پروفیشنل لوگ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی وجہ سے جو اصل لوگ جو کہ واقعی مسحق ہوتے ہیں ان کا بھی حق مارا جاتا ہے۔ آج کل بھیک مانگنے کی آڑ میں بہت سے جرائم نشونما پا رہے ہیں جن میں منشیات فروشی،جسم فروشی، اور بے بس لوگوں سے زبردستی بھیک منگوانا بچوں سے سے بھیک منگونا عام ہے بچوں کے بھیک مانگنے پر پابندی ہونے کے باوجود بچے سر عام بھیک مانگتے نظر آتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جوان لڑکیاں بھیک مانگنے کی آڑ میں نوجوان نسل کو خراب کررہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔گدا گری خطرناک صورت حال اخیتار کرتی جارہی ہے اگر اس پر بر وقت قابو نہ پایا گیا تو نہایت ہی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں بھیک کو دن بدن وسعت مل رہی ہے اور بھیک کی آڑ میں جو جرائم ہو رہے ہیں ان کو تقویت ملے گی ۔ گداگری ایک پیشہ کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔آج کل کہیں چلے جائیں بھکاری ہی بھکاری نظر آتے ہیں ۔ آج کتنے ( این ۔جی۔او) کام کر رہے ہیں بے بس اور بے آسرا لوگوں مدد کر رہے ہیں تو پھر یہ بھکاری کیوں سر عام بھیک مانگتے نظر آتے ہیں صرف اسی وجہ ست کہ یہ کوئی مجبور یا بے سہارا نہیں بلکہ پیشہ ور لوگ ہیں ۔ یا ایسے لوگوں نے بھکاروں کا روپ دھار رکھا ہے جو کہ جرائم میں ملوث لوگ ہیں ۔ دن بھر مختلف علاقوں کا تعاقب کرتے ہیں رات کو ادھر جا کر چوریاں کرتے ہیں ۔ اگر پاکستان میں بھیک مانگنے پر پابندی لگا دی جائے تو یقنا جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی آج پاکستان دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے دو چار ہے ۔ بہت سے دہشت گرد بھکاری بن کر اپنا کام آسانی سے کر سکتے ہیں ۔ اس لیئے اس کی روک تھام کے لیئے کو موثر اقدام ہونا چاہئے تا کہ جرائم کی روک تھام ہو سکے ، اور جو بچے بھیک کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت بہتر طور پر ہو سکے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Iqbal Mughal

Read More Articles by Azhar Iqbal Mughal: 36 Articles with 21294 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Apr, 2017 Views: 582

Comments

آپ کی رائے