انسانیت کو حقوق اسلام دیتا ہے!

(Inayat Kabalgraami, )

مغربی ممالک حقوقِ انسانی کے جو تصور پیش کرتے ہیں وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہیں، اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکیں باوجود اس کے مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں، لیکن محمد عربیﷺنے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے،

مغرب کہتا ہے کہ انسان کے خون کو ارزاں نہ سمجھا جائے ہر کوئی خوشحال ہو تنگ دستی کا خاتمہ ہو جائے مصائب و آلام سے نسل انسانی کاسامنا نہ ہو، ایسے حالات تشکیل دئے جائیں کوئی آنکھ آنسو نہ بہائے،کسی فرد کی عزت نیلام نہ ہو،کسی کا سوہاگ نہ اُجڑے،کسی کے آشیانے کو نذر آتش نہ کیا جائے جس پر نہ رکنے والاقراردات کا ایک سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، دیکھیں ان کی ستم ظریفی کو کہ یہ الفاظ اس طبقے کی زبان سے نکل رہے ہیں کہ جس کا چہرہ حیوانوں اور درندوں سے بھی زیادہ بدترین و ہیبت ناک ہے، جس کے دامن پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون کے داغ واضح ہیں، ان کی سفاکیت وبربریت کی کوئی مثال بھی پیش نہیں کرسکتا ہے۔جس نے کتنے گھروں کو اُجاڑ دیا کتنے بچوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا اور زبان حال سے وہ یہ شکوہ کرتے رہے کہ آخر یہ کس جرم کی سزا ہے۔ ماؤں کے سامنے ان کے بچوں کو بیدردی سے شہید کیا گیا، کتنی معصوم دوشیزاؤ ں کی عزتوں کو تارتار کیا گیا، کتنے لوگوں کو تاتیغ کر دیا گیا،اسی پر بس نہیں انکے جرم کی داستان ہیروشیما ناگاساکی سے پوچھو وہ اپنا دردناک منظربتائینگے جس نے زمین وآسمان کو ہلا کر رکھ دیا انسانیت سہم گئی سینہ میں دل رکھنے والے آنسو بہانے پر مجبور ہوئے لاشوں کا ڈھیر جن کیلئے نہ کوئی رونے والا نہ ماتم کرنے والا نہ دلاسہ دینے والا کچھ بھی نہیں بچا انتہا کردی درندگیت کی تاریخ کے صفحات پلٹتے جائیے سینکڑوں مرتبہ ہر صفحہ کو بغور دیکھئے پوری کائنات میں اتنا گھناؤنا دردناک حادثہ کبھی نہیں ہوا، محققین کہتے ہیں لمحہ بھر میں ہنستی کھیلتی آبادیاں ریت کے کھنڈر میں تبدیل ہو گئی اور ایسا لگا جیسے صدیوں کا ویرانہ ہو ساری دنیا چیخ پکار کر رہ گئی کچھ نہیں ہوا کوئی قرارداد لیکر نہیں آیا اور یہ سفاکیت کی داستان اتنی مختصر نہیں ہے ذاتی مفاد کی خاطر یہ کسی بھی ملک کو تباہ کردیتے ہیں ابھی کچھ دنوں قبل افغانستان پر دنیا کا سب سے وزنی بم گرایا جس کا وزن ٹنوں میں تھا،اگر ایک شخص دوکلو وزنی بم پھاڑ کر چار مسلمانوں کو شہید کردیتا ہے تو وہ دہشتگرد ٹھہرائیگا مگر ایک ملک دو ہزار کلو وزنی بم گرا کر چند دہشتگردوں کے بہانے سینکڑوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کردیتا ہے اس کے باوجود وہ حقوق انسانی کا علم بردار ٹھہراتا ہے، جب چاہے کسی بھی حکومت کو صفحہ ہستی سے مٹادے مثالوں کی کمی نہیں جو زیر اثر رہنے کو گوارہ نہ کرے اسے زندگی کی آسائشوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سخت دشوار یقین نہ ہو تو دیکھ لیجئے ارض مقدس کو جس کے سینہ پر کبھی عدل و انصاف کے قدم رکھے گئے تھے اود وہ امن و سلامتی کا گہوارہ تھی آج اس کا سینہ انسانیت کے خون سے رنگین ہے معصوموں کے جنازوں کا بوجھ تھرتھراتی اور کانپتی انسانیت اٹھانے پر مجبور ہے اور انسانوں کے خون سے لت پت افراد بات کرتے ہیں انسانیت کی آزادی کی عجیب وغریب ہے انکے اس قول کا مفہوم یہ تو انسانی جسم کی نمائش کو عزت کہتے ہیں شہوت پرستی کو آزادی سے جوڑ تے ہیں زناکاری کو حقوق دہی سے تعبیر کرتے ہیں مگر چونکہ اسلام دین فطرت ہے فطری تقاضوں سے پوری طرح واقف ہے اسلئے وہاں غلط خیالات کی ہوا بھی نہیں وہاں انسانیت کی توقیر ہے تذلیل نہیں،سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر70میں اس فلسفے کو بیان کیا گیااور اسلام ان لوگوں کی طرح باتوں کے محل تعمیل نہیں کرتا بلکہ حقائق کو سامنے رکھتا ہے وہاں ایک انسان کی قیمت ساری کائنات سے بڑھ کر ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام زندگی اور جامع دستور حیات ہے۔ اس کی لازوال تعلیمات امن و امان، سلامتی اور عافیت کی ضامن ہیں اور دنیا اور آخرت میں صلاح و فلاح سعادت اور کامرانی کا سرچشمہ ہیں۔ اسلام سراپا دین رحمت ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات رحمن اور رحیم ہے۔ نبی آخر الزماں ﷺ، رحمت العالمین ہیں۔ اس لئے ساری اسلامی تعلیمات شفقت اور رحمت و رفعت کے مظہر جمیل ہیں۔ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے۔ جس میں انسانیت کے تمام مسائل و مشکلات کے حل ملتے ہیں۔ رحمت العالمین محسن انسانیتﷺ نے وحدت و مساوات، اخوت و بھائی چارگی، ہمدردی و روادری، عفو و درگزر، رحم و کرم، عدل و انصاف، صلح و آشتی،سکون و اطمینان، محبت والفت اور پرامن بقائے باہم کے ساتھ ساری انسانیت کے لئے انسانی حقوق کی پاسداری کی تعلیمات دی ہیں۔

سورہ مائدہ آیت نمبر 32 اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اگر کسی شخص نے کسی کو قتل کردیا تو ایسا ہے جیسے ساری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے ایک انسان کوبچایاتواس نے ساری انسانیت کو حیات نوبخشی ․ایک ایسا عمل جو کسی انسان کی زند گی بچانے میں معاون ہو اس کو اتنی قدر سے نوازا ہے کہ ساری کائنات اسکا احسان نہ اتار سکے یہ قراردادوں کا راگ الاپنے والے دیکھیں اسلامی تعلیمات کو اور اپنی حرکتوں کو اور انصاف کا دامن سنبھالتے ہوئے فیصلہ کریں ․اسلام تو میدان جہادمیں بھی انسانیت کو پامال نہیں ہونے دیتا،بچوں اور عورتوں کو تلوار کی زد میں آنے سے بچاتا ہے اور دوسری طرف یہ لوگ نہ جانے کتنے بچوں کو جوانی کے خوبصورت مناظر دیکھنے سے پہلے ہی صفحہ ہستی سے مٹادیتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں جتنے انسان جاں بحق ہوئے اتنے انکے یہاں سورج نکلنے اور چاند کے نمودار ہونے تک کیعرصہ میں قتل کر دئے گئے ہیں۔ اسلام مفصدین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور یہ فساد کی تاریخ رقم کرتے ہیں عجب حال ہے انکا یہ دعو یٰ مسیحائی کا کرتے ہیں اور اعمال کرتے ہیں درندوں سے بھی بدتر ان کی کسی بھی حرکت کو دیکھو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے انکا ذہن ماؤف ہو گیا ہے۔․جبکہ اسلام فرد کو بھی اسکے مکمل حقوق فراہم کرتاہے اور جماعت کو بھی عورت کو بھی مرد کو بھی بچے کو بھی اور انسانیت کو وقار بخشتا ہے کسی بھی مرحلہ میں آدمیت کی تو ہین نہیں کرتا اور یہ کیسے ممکن ہے جبکہ صراحتا بیان کیاجا چکا کہ ہم نے نوع انسانی کو عزت سے نوازا․ اسلام کی آمد سے پہلے اس دنیا کے منظر نامے کو دیکھئے مغربی ممالک تو اپنا بتاتے بھی نہیں، ان کا امیج خراب ہوتا ہے اور عرب ممالک کی کیفیات انتہائی تکلیف دہ تھیں یہاں انسانیت کا کوئی معیار ہی نہیں تھا انکی حیثیت قمقموں کی مانند تھی جو تقریبات میں چراغاں کرنے کے لئے استعمال ہو رہے تھے، بیٹوں کو زمین برد کیا جاتاتھا، لیکن جب اسلام کی روشنی نے ان پر آنکھیں کھولی تو ان کو عقل آئی کے انسانیت کیا ہے، آج یہ مغربی اسلام کو انسانیت کا دشمن ٹھہرا رہی ہے، جو ایسا ہے کہ سورج کو چراغ دکھانا -

جو لوگ بات بات پر تلوار چلا تے تھے ان میں اخوت کا ایسا جذبہ پیدا کیا اسلام نے کہ جان دے دی مگر دوسرے کی خواہش پامال نہ ہونے دی۔اپنے درد کوبھول کر دوسرے کے درد کا درماں کرنے لگے ․․یہ اسلام میں حقوق انسانی کا نفاذہے پوری دنیا اسکی مثال نہیں پیش کر سکتی تعصب کی عینک ہٹائے اور دیکھئے حقوق کون دیتا ہے انسانیت کی حفاظت کون کرتا ہے اور اسلام اور اسکے حقوق انسانی سے متعلق نظام کی عظمت کے معترف ہو جائیے۔۔۔
اﷲ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق نصیب کرے (آمین)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 53906 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 May, 2017 Views: 483

Comments

آپ کی رائے