زبانیں سب سیکھیے ، پر ’’ماں بولی ‘‘ نہ بھولنے پائے ماں کے عالمی دن 8مئی کے موقع پر

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

21فروری مادری زبانوں کا عالمی د ن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں نے ایک کالم سنڈے میگزین کے لیے کوئی ۴ ماہ قبل فروری میں بھیجا تھا۔ بھلا ہو ایڈیٹر سنڈے میگزین کا انہوں نے میرا یہ مضمون تو فروری میں شامل نہیں کیا البتہ آج اس مضمون کو ایک نیا رنگ ، نئے عنوان اور اختصار کے ’’زبانیں سب سیکھیے پر ’ماں بولی‘ نہ بھولنے پائے‘‘ آج جنگ اخبار کے سنڈے میگزین کی اشاعت ۷ مئی میں شامل کر لیا۔ اب یہ مادری زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور دوسرے کل ۸ مئی ’ماں‘ کا عالمی دن بھی ہے ۔ یہ ماں کو خراج تحسین بھی۔

مادری زبان اس بچے کو وراثت میں ملتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی دوسری زبان مثلا اردو یا انگریزی میں کتنی ہی مہارت حاصل کر لے لیکن اپنی مادری زبان کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ اردو کے بڑے بڑے نامی گرامی شاعر و ادیب جیسے اقبالؔ ، فیضؔ ، احمد ندیمؔ قسمی، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سیدید، ڈاکٹر طاہر تونسوی، ڈاکٹرسلیم اختر اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور دیگر نے اردو میں شاعری کی اور اعلیٰ نثر نگاری کی، لیکن ان کے گھر کی زبان پنجابی تھی۔ بانو قدسیہ کا کہنا تھا کہ’’ ہم اپنے گھر میں پنجابی میں گفتگو کیا کرتے تھے‘‘۔ماہرین لسانیات کہتے ہیں اگر کوئی شخص یا دداشت کھو بیٹھے اور اُسے دین و دنیا کا ہوش نہ رہے ، تب اگر بات کرے گا تو ، اپنی مادری زبان ہی میں کرے گا۔

مادری لب و لہجے ہی سے انسان کی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم کسی شخص کی گفگرو سے اُ س کے قبیلے اوربرادری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔پاکستان میں70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں ، ان میں سرائیکی، گجراتی، میمنی، راجستھانی، کچھی یا ترک، کاٹھیاواڑی، ہندکو، براہوی، دری، مکرانی، بلتی، بروشکی، جگدالی، سیالکوٹی، رشنا، کشمیری، کافری، گوجری، لاسی، بہادرواہی، دبیواری، بشکارک، بتیری، چلیسو، ڈامیلی، گورباٹی، گادر، کیلاشا، خودار یا خا د، پھلوا، سوامی۔ سپتی، طوروال، سوجو یا اشوجی، واخی، ازبکی ، کے علاوہ برمی ، بنگلہ بھی بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بولی جانے والی مختلف زبانیں فیصد کے اعتبار سے کچھ اس طرح ہیں۔اردو 8، پنجابی 48، سرائیکی 10، سندھی 12، پشتو8 ، بلوچی3، ہند کو2، بروہی1 اور دیگر زبانے بولنے والے 8فیصد ہیں۔ اسی طرح دنیا میں چینی زبان بولنے والے سب سے زیادہ ہیں جب کہ ہندی بولنے والے دوسرے نمبر ہیں ، انگریزی کا نمبر 4ہے، عربی 5ویں، بنگلہ 7ویں، چابانی 9، جرمنی 10ویں ، پنجابی 11 اردو بولنے والے دنیا میں 19ویں نمبر ہیں۔ تاریخ میں ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض زبانیں وقت کے ساتھ ساتھ نا پید ہوگئیں تو بعض نے قومی زبان کی حیثیت اختیار کر لی جیسے ہندوستان میں ہندی نے، پاکستان میں اردو اور بنگلہ دیش میں بنگلہ کو قومی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 656120 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
07 May, 2017 Views: 592

Comments

آپ کی رائے