کرکٹ کے کھیل میں جوا کا رجحان

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

کیا آپ یقین کریں گے کہ بنگلہ دیش کے کرکٹر کھلاڑی نے محض 4گیندوں پر ہی مخالف ٹیم کو جیتنے کا موقعہ دے دیا۔اس کھلاڑی نے محض احتجاجی ردعمل کے طو ر پر 65وائیڈز اور15نوبالزز دی ،جس میں سے 12پر مخالف ٹیم نے92 رنز اسکور کرکے میچ کو جیت لیا۔اگرچہ اس میں ملوث تمام کرداروں میں سے ذمہ داروں پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پابندی لگا دی ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوتا تو پھر کیا ایسا ہو سکتا تھا؟جہاں ملوث کھلاڑیوں کی ماضی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے چھوڑ دینے یا کم سزا دے کر مزید کھیلنے کا موقعہ دے دیا جاتا ہے۔یہاں سزا دی بھی جاتی ہے تو محض دکھاؤے کے لئے ہوتی ہے،بعد میں اُس حوالے سے بھی ایسی دلیل دی جاتی ہے کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب کر کٹ کو شریفوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا۔ابھی بھی کہا جاسکتا ہے مگر تب کھلاڑی کم دولت کے باوجودشہرت کے طلبگار ذیادہ ہوتے تھے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے انداز بدلنے لگے اور جلداز جلد امیر ہونے کی ہوس نے کرکٹ میں جوئے جیسی لعنت کو متعارف کروادیا۔جس نے کھلاڑیوں کو اپنے ملک و قوم کی عزت داؤ پر لگا کر اپنے لئے خطیر رقوم کمانے کا موقعہ فراہم کر دیا۔ابھی یہی دیکھ لیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی اس میں ملوث رہے ہیں،کن کا ذکر کریں اور کن کا نہ کریں،جو نہیں پکڑے جاسکے اُن کاذکر خیر تو کرنے سے اب رہے ۔ جوئے کی لعنت 1990ء میں اُبھر کرمنظر عام پر آئی اور رفتہ رفتہ کرکٹ کے میدانوں میں کھیل سے ذیادہ اس کا چرچا ہونے لگا۔آج کرکٹ کے کھیل میں یہ رچ بس سا گیا ہے کہ ہر جگہ اس کے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔

جنوبی افریفہ کے کھلاڑی وکپتان ہنسی کرونیئے کو اسی جواء کی وجہ سے تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انکی زندگی نے وفا نہ کی او ر ایک فضائی حادثے میں جان بحق ہوگئے۔ ہنسی کرونیئے اور دیگر چند کھلاڑیوں پر تاحیات پابند ی کے باوجود بھی راتوں رات امیر ہونے کے خواہشمند کھلاڑیوں نے کسی نہ کسی طور اپنا کام جاری رکھا اوراس وقت صورت حال یہ ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک اس کے خلاف اکھٹے ہو رہے ہیں۔ مگر اس جوئے کی لعنت سے کسی طور پر بھی مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے ماسوائے کھلاڑیوں میں اس کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے اور کوئی حل نہیں ہے۔ ہر کھلاڑی جلد از جلد امیر ہونے کی فکر میں ہے کیونکہ آج کل کرکٹ بہت کھیلی جا رہی ہے اوراس میں طویل کیرئیر کے خواب دیکھنا بہت مشکل ہو تا جا رہاہے اور طویل عرصہ تک فٹ رہنا بھی کھلاڑیوں کے لئے ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کیونکہ ذیادہ کرکٹ کھیلنے سے وہ جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہو کر مختلف انجریز کا شکار ہوجاتے ہیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ فٹ کھلاڑیوں کو نہ کھلانا کسی بھی طرح کی فکسنگ میں نہیں آٹا ہے ۔حالانکہ یہ بھی میچ فکسنگ کہلائی جا سکتی ہے کہ ٹیم کے کسی بھی میچ یا میچز میں محصوص کھلاڑی کو کھیلا دیا جائے یا باہر رکھ کر فکسنگ کے کسی گروہ کو فائدہ دلوایا جائے،اسطرح کے کارہائے نمایاں ٹیم انتظامیہ کی ملی بھگت کے بنا نہیں ہو سکتے ہیں۔تب ہی آج اتنے انکشافات کے بعد بھی قوم کو حقائق سے آگاہ کرنیکی جرات تک نہیں کی جا رہی ہے کہ یوں کرکٹ بورڈ کی اپنی عزت و ساکھ مجروح ہوتی ہے۔

انگلینڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں محمد آصف ، محمد عامر اور سلما ن بٹ پر سپاٹ فکسنگ الزامات نے جواء کو پھر سے عالمی کرکٹ میں زبان زد عام کر دیاتھا اور انکو ملنے والی سزا نے بھی کھلاڑیوں کو خوف نہیں دلایا کیونکہ ان میں سے ایک تو آج بھی میدان میں واپس آچکا ہے اوریہی وجہ ہے کہ پھر سے یہ معاملہ پی ایس ایل میں ابھرا ہے۔شرجیل خان جیسے کھلاڑی کو اسطرح سے ملوث کرنا بھی غلط اقدام ہے لیکن اگر وہ ملوث ہوا تو پھر ہم کیا کہیں گے،م وہ بے گناہ ہے تو واپس آسکتا ہے۔ فی الحال حقائق سامنے آنے کا انتظار ہے لیکن پاکستانی کرکٹ بورڈ کو کچھ بھی ہو اپنے کھلاڑیوں کی وکالت کرنی چاہیے اور مل جل کر اس صورتحال سے باہر نکلنے کا سوچنا چاہیے۔ ایسے موقعہ پر معطل کھلاڑیوں کو تنہا چھوڑ نا وقوفی ہے۔آخر کو وہ قومی ہیروز ہیں مگرجو ملوث نہیں ہیں ان پر پابندی کو کس طرح سے ہم جائز قرار دے سکتے ہیں۔لیکن اس بار سنجید گی سے سوچا جائے کہ کس طرح سے کرکٹ کے کھیل میں میں کس طرح سے اس جواء کی لعنت سے چھٹکارہ پایا جائے۔اس حوالے سے آئی سی سی کو بالخصوص اور پی سی بی کو بھی واضح اور مضبوط حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے اور عالمی سطح پر ایسے کھلاڑیوں کو کھیلنے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے جو کہ ملکی وکلب لیول پر مذہوم قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے ہوں۔

مزید براں پہلے ہی ذاتی انا کی بدولت بہت سے نوجوان اور سینئر کھلاڑی وقت سے پہلے ہی کرکٹ کے میدان چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ملک کے نام سے ذاتی مفاد اور تعلقات عزیز رکھنے والے لوگوں نے ایسے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کئے جن سے بہترین صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی موقعہ نہ ملنے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر کرکٹ کے میدانوں کو ہی خدا حافظ کہہ گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے پا س اتنے اختیارات ضرور ہوں کہ وہ صرف اور صرف میرٹ پرڈومیسٹک سطح پرعمدہ کارگردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر سکیں تاکہ مستبقل میں سینئر کھلاڑیوں کی رخصت کے بعد ٹیم مشکلات کا شکار نہ ہو اورکسی کے چہتے کوٹیم میں شامل کر کے ملک کی بدنامی کا سبب نہ بنائیں۔اگر چہ ہر بار سلیکشن کمیٹی یہی کہتی ہے کہ اس نے میرٹ پر ٹیم منتخب کی ہے مگرحقیقتاََ ایسا نظر نہیں آتاہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارگردگی دکھانے والے بیشتر کھلاڑیوں کی بجائے آزمائے ہوئے ان کھلاڑیوں کو بار بار موقعہ فراہم کیا جاتاہے جو کبھی ٹیم میں اپنی جگہ پکی نہ کرسکے ہیں جس سے نوجوان ابھرتے ہوئے کھلاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اس کا احساس سلیکشن کمیٹی کے عہدیداران کو ہونا چاہیے۔ انکے اقدامات سے پاکستانی کرکٹ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی اور پھر سے عروج کا سفر بہت مشکل ہو جائے گا اگر بہترین کھلاڑی اپنے کیرئیر اور ملک کی عزت سے اورارکان سلیکشن کمیٹی یوں ہی کھیلتے رہیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 321 Articles with 270343 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
08 May, 2017 Views: 750

Comments

آپ کی رائے