عورت

(Kanwal Naveed, Karachi)

عورت و مرد دونوں ایک دوسرےکے ساتھ ہی مکمل ہوتے ہیں۔

جیسے کہ نام سے ظاہر ہو رہا ہے ،آج جس موضوع کو میں عنوان بنانے جارہی ہوں ۔وہ ازل سے ابد تک عنوان ِکتب رہا ہے اور رہے گا ۔اس کی وجہ نام کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اس نام کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقیت ہے۔ یہ حقیقت کیا ہے ،یہ ہر فرد اپنے طور پر جانتا اور سمجھتا ہے۔ ممکن ہے میری بہت سی باتیں کچھ عورتوں اور مردوں کو ناگوار گزریں کہ جہاں جراثیم ہوں گئے وہاں درد تو اُٹھے گا ہی۔ اُن سے معذرت کے ساتھ کہ ،ہر کسی کی سوچ الگ ،طرز عمل الگ ہی ہوتا ہے ۔ کوئی عورت کو دیوی کہتا ہے تو کوئی وفا کی پتلی۔کسی کے نزدیک وہ فساد کی جڑ ہے تو کسی کے نزدیک برائی کا گڑھ ۔کسی کے نزدیک گھر کا انگن عورت ذات کے بغیر ایسے ہے جیسےباغ کاپھولوں کے بغیر ہونا ۔ کوئی تو اسے محبت کا نام دیتا ہے تو کوئی عزت کا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ نام دینے والے مرد ہی ہیں ۔ مرد جن کے مضبوط کندے معاشرے کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ جن کے بغیر عورت کا وجود بے معنی ہو جاتا ہے۔بلکل اسی طرح جس طرح مرد کا عورت کے بغیر۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے،ہماری اقدار اور روایات میں تبدیلی آرہی ہے۔ عورت اب چادر اور چار دیواری سے کافی حد تک نکل چکی ہے۔ وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے۔مگر یہ بات صرف بیس فی صد عورتوں کے لیے بھی کہنا درست ہو گی۔ شانہ بشانہ چلنے والی یہ عورتیں تعداد میں بہت تھوڑی ہیں۔ یہ لفظ شانہ بشانہ مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا۔ شاہد میں تھوڑی مولویانہ ذہین کی واقع ہوئی ہوں ۔ مجھے غیر مردوں سے دور رہنے میں ہی عافیت لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سارے مرد گھٹیا ہوتے ہیں ۔بلکہ اس کی وجہ ہماری کی گئی تربیت ہے۔ مشرق کی عورت جہاں بھی چلی جائے وہ مشرق ہی کی رہتی ہے۔ خواہ وہ مدر ٹریسا ہو یا پھر ملالہ سب ایک ہی قظار میں کھڑی نظر آتی ہیں ۔ بے نظیر ہو یا محترمہ فاطمہ علی جناح۔
مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مشرق کی عورت جہاں وقت کے ساتھ باشعور ہو رہی ہے۔اس کے ساتھ المناک واقعات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں عورت سے معاشرہ بھی سوتیلوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ گھروں میں بھی یہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اس قسم کے سلوک کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے۔ کہ یہ عورت ذات ہے اسےآگے شادی کر کے اگلے گھر جانا ہے ۔ ابھی سے ذرا کنٹرول میں رہے تو اچھا ہے۔

لڑکی کی شخصیت کو ہی دبا دیا جاتا ہے۔ بچیاں ہمارے ہاں وقت سے پہلے ہی عورتوں کی طرح سے سوچنے لگتی ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کا معصوم بچبن شکوک و شبہات کی نذد ہو جاتا ہے کہ نہ جانے اماں کس اگلے گھر سے ڈرا رہی ہے۔ وہ اگلا گھر کیا جہنم ہو گا ،جہاں میں کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکوں گی۔ لڑکیا ں ہی اگلے گھر کیوں جاتی ہیں ۔ مرد کیوں نہیں اپنے ماں ، باپ کو چھوڑ کر اگلے گھر جاتے ۔ جبکہ دوسری طرف کچھ والدین اپنی بیٹی اور بیٹے میں ظاہر کچھ فرق نہیں کرتے ۔ لڑکی اپنے خوابوں اور سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہوتی ہے۔ پھر اچانک سے کوئی اچھا رشتہ آ جاتا ہے۔اچھا مطلب مناسب شکل و صورت اور اچھے عہدے پر فائز کسی نوجوان کا تو والدین کی ساری ترقی پسندی دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور وہ بیٹی کو مجبور کرنے لگتے ہیں کہ بیٹا اس سے اچھا رشتہ پھر نہیں ملے گا۔ کچھ لڑکیاں تو مجبور ہو کر ہاں کر دیتی ہیں اور کچھ گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔

ہمارے ہاں گھروں سے بھاگ جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں کثرت ہوتی جا رہی ہے ۔ اپنی غلطی کو سدھارنے کے لیے اگر وہ واپس لوٹنابھی چاہیں تو عورت ذات ہونے کی وجہ سے معاشرہ انہیں وہ عزت نہیں دیتا جو وہ پہلے رکھتی تھیں۔ مرد کے گناہ اس کی جنس میں چھپ جاتے ہیں جبکہ عورت کے گناہ اس کی جنس ابھار دیتی ہے۔ جو کسی دوپٹہ ،چادر یا چار دیواری میں بھی نہیں چھپ سکتے۔پھر ایسے والدین جو بچیوں پر بچپن سے پابندیاں لگانے کےقاہل ہوتے ہیں ،انہیں یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ کس نے کہا تھا ۔۔۔۔لڑکی کوچھوٹ دو۔عورت کی عقل تو ہوتی ہی گھٹنوں میں ہے۔ پتہ نہیں کس کس کے ساتھ رہ کہ آئی ہے۔ ماں باپ اس قسم کی باتوں سے بچنے کے لیے لڑکی کو دوبارہ اپنانے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ جبکہ کچھ باپ ، بھائی غیرت کے نام پر قتل کے مرتکب بھی ہوتے ہیں ۔ لڑکی جو محض اپنی نادانی کی وجہ سے گھر سے باہر قدم رکھ بیٹھتی ہے ۔اس کے ساتھ اس قسم کا سلوک اس کے عورت ہونے کی پاداش میں کیا جاتا ہے۔

یہ حالات صرف پاکستان یا انڈیا میں ہی نہیں بلکہ دیگرمشرقی ممالک بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ انڈیا میں تو آج مردوں کی تعداد عورتوں کی نسبت ذیادہ ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ریب کی شرح خوفناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ جیسے ہی الٹرا سونڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ماں بیٹے کی بجائے بیٹی کو جنم دینے والی ہے تو بچی کو رحم میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس طرح کے قتل کے مرتکب بنتے ہیں۔ مسلمان دین اسلام کے تحت ایسا کرنے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ رب کے ہاں قتل کے مرتکب ہوں گئے ۔ وہ اپنی بچیوں کو قتل تو نہیں کرتے لیکن جیتے جی مار دیتے ہیں ۔ ان سے ان کی خواہشات چھین کر ۔ یہاں بہت سے والدین میری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گئے لیکن میں ہمارے ہاں کے ان ساٹھ سے ستر فی صد والدین کی بات کر رہی ہوں جو ہمشہ بیٹے کی چاہ میں بیٹیوں سے نوازے جاتے ہیں اور مجبوراً ان کو پالنے کا فعل سر انجام دیتے ہیں ۔ مائیں بھی بعض اوقات اس قسم کے فعل انجام دیتی نظر آتی ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے ہاں ایک آنٹی آیا کرتی تھیں ۔ ان کی بیٹی بڑی اور بیٹا چھوٹا تھا وہ کھانے کی چیز ہمیشہ بیٹی کے ہاتھ میں دیتی تھی جبکہ کھلاتی بیٹے کو تھی۔ وہ بچی دبلی پتلی سی تھی اور بچہ موٹا سا ۔ ایک دفعہ مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے کہہ دیا آنٹی آپ گڑیا کو کھانے کو موقع نہیں دیتی ۔ جبکہ وہ آپ کے اس منے سے کتنی پتلی ہے ۔ تو انہوں نے مسکرا کر کہا۔ بیٹا کوئی بات نہیں۔ لڑکیاں پتلی ہی اچھی لگتی ہیں ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اب کیا کہوں۔

میری ایک دوست نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔ میں نے اسے منانے کی کوشش کی کہ یار کم سے کم بی ۔ اے تو کر لو تو اس نے کہا ۔ یار ابو نہیں مانتے۔ میں نے پوچھا کیا کہتے ہیں تو اس کی انکھوں میں آنسو آگئے۔ بولی وہ امی سے کہہ رہے تھے کہ جو لڑکیاں کالج جاتی ہیں وہ لڑکوں سے چکر چلانے لگتی ہیں ۔ اس نے کون سی نوکری کرنی ہے جو تعلیم پر پیسے برباد کروں ۔ وہی پیسے کل جہیز دینے کے کام آئیں گے۔ میں خاموش ہو گئی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرے والدین کی سوچ ایسی نہیں ۔

جب ایف اے کے امتحان کے بعد میں نے ایک سلائی سینٹر میں کچھ عرصہ کے لیے سپیشل کورس کیا تو وہاں پر موجود کچھ لڑکیاں شدید گرمی میں بھی موٹے ،ریشمی کپڑے پہن کر آتی تھیں ۔ ان میں سے ایک مونا نا م کی لڑکی گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ۔ ان میں سے ہر ایک کی جلد گرمی دانوں کی وجہ سے سرخ تھی ۔ میں نے ان سب کو پریشان دیکھا تو کہا۔ اس گرمی میں اس قسم کے کپڑے آپ لوگ زیب تن کریں گی تو ایسا ہی ہو گا نا۔ ان میں سے ایک نے افسردگی سے کہا۔ ہمارے ہاں عورتوں کو لان ، کارٹن وغیرہ پہننے کی اجاذت نہیں ۔ ہمارے مرد نہیں پہننے دیتے ۔ مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا۔ اس گرمی میں خود ریشمی کپڑے پہن کر دیکھیں نا۔ تو ان میں سے ایک مسکرا کر بولی اسلام میں مرد کو ریشم حرام ہے۔

اسی معاشرے میں کہیں جگہ الٹی گنگا بھی بہتی ہے۔ ہم لوگ ڈالمن مال میں شاپنگ کر رہے تھے کہ ایک جوڑا پانچ سال کے بچے کے ساتھ ہمارے آگے آگے تھا۔ آدمی نے عورت کا پرس اپنے کندھے پر لگا رکھا تھا۔ عورت آگے آگے اور مرد اور اس کا پانچ سالہ بیٹا پیچھے پیچھے۔ آدمی نے دوسرے ہاتھ میں چار پانچ شاپنگ بیگ بھی اُٹھا رکھے تھے۔ بچہ بار بار بیگ سے کچھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آدمی نے آخر تنگ آ کر بیٹے سے کہا۔ ارمان اگر اب آپ نے شاپر کو ہاتھ لگایا تو میں آپ کو ماروں گا۔ بچے نے فوراً کہا۔ جیسے ماما نے کل آپ کو مارا تھا۔

میں اپنے بیٹے کو ٹیوشن چھوڑنے جا رہی تھی کہ راستے میں اونچی اونچی لڑنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ہم گزرے تو سماعت انسانی کے باعث ہم پہچانے پر مجبور تھے کہ۔ساس بہو کے جھگڑے کی آواز تھی ۔ تکرار برابر جاری تھی کہ ہم فلیٹ کے دروازے کے بلکل پاس پہنچے تو عورت نے اپنے شوہر سے کہا۔ تم اللہ میاں کی گائے کی طرح کچھ بولتے کیوں نہیں ۔ کب سے تمہاری ماں بکواس کیے جا رہی ہے ۔ دوسری عورت کی آواز آئی یہ زن مرید کیا بولے گا ۔ میں نے تو اپنا بیٹا بیچ دیا۔ اس سے اچھا تھا کتا پال لیتی وفا دار تو ہوتا۔ پہلی والی عورت کی آواز ہم نے گزرتے ہوئے سنی ۔ کتا ہو گا تیرا شوہر ۔ خبر دار میرے شوہر کو کچھ کہا۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو میرے بیٹے نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر بولا امی وہ انکل نے دروازے کو اِتنے غصے سے بند کیا ۔ کیوں دروازے کو مارا ۔نہیں مارنا چاہیے تھا نا گندی بات ہوتی ہے ۔ میں نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور مڑ کر اس آدمی کو۔ میرے ذہین میں عجیب سی خراش ہوئی اور ایک خیال آیا ۔
ہر مرد مرد نہیں ہوتا اور ہر عورت عورت نہیں ہوتی۔

ہمارے میں شاید پانچ فی صدسے بیس فی صد ایسے مرد ہیں جو اپنی شخصی اچھا ئی یا ذاتی کمزوری کے باعث عورت کو اپنے برابر سمجھتے ہیں ۔ ان بیس فی صد میں ایک فی صدتو بے غیرتی کی حد تک صابر شاکر ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں دیکھ کر کچھ عورتوں کو شرمندگی ہو رہی ہوتی ہے ۔ ایسے ہی ہمارے ایک انکل بھی تھے کہ ان کی بیوی جب آتی تو وہ ہمیشہ ان کے پیچھے پیچھے ہوتے ۔ وہی ہمارے ابو سے باتیں کرتی جاتی وہ پاس ان کی ہاں میں ہاں ملاتے جاتے۔ جب انہوں نے مکان کے لیے زمین لی تو کسی نے اس پر قبصہ کر لیا ۔ میاں بیوی دنوں میرے ابو کے پاس آئے کہ بھائی آپ ہماری مدد کریں ۔ عورت نے اپنے شوہر کے بارے میں ان کے سامنے ہی میرے ابو سے کہا۔ آپ کو تو پتہ ہے اعظم بھائی (میرے ابو) یہ( ان کا شوہر) تو کسی کام کے نہیں ۔ آپ سے ہی مجھے امید ہے آپ کریں گے نا میرے لیے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کر سکتے ہیں ۔ ابو نے بھی فخریہ انداز میں کہا کیوں نہیں بھابھی کام تو ہو ہی جائے گا۔

میں دوسرے کمرے میں بیٹھی تھی باتیں اس قدر اونچی آواز میں ہو رہی تھی کہ آواز سنائی دے رہی تھی۔ میں نے امی سے کہا امی یہ انکل کس قدر بے غیرت ہیں ، ان کی بیوی ان کے سامنے ابو سے اس طرح کہہ رہی ہے کہ وہ کسی کام کے نہیں ۔ انہیں کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔ امی نے کہا بیٹا ہر طرح کے مرد ہوتے ہیں ۔یہ دنیا رنگ رنگیلی ہے۔ تم چھت پر جا کر پڑھو۔ میں نے امی سے کہا ۔ آپ اندر کیوں نہیں جا کر بیٹھی ۔ تو امی نے کہا ۔میں وہاں بیٹھ کر کیا کروں گی۔ اشفاق بھائی بھی تو وہاں بیٹھے ہیں ۔ میرا دل نہیں کرتا غیر آدمی کے سامنے بیٹھوں۔ میرے دل میں آیا ، امی ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں ۔مرد ہر طرح کے ہوتے ہیں ۔ میرے دل نے اس جملے میں اضافہ کیا۔ اور عورتیں بھی۔

اس ساری بات جیت کے بعد بھی اگر دیانتداری سے جائزہ لیا جائے تو جس حد تک عورت مظلوم ہے ۔مرد ابھی تک اس حد سے کوسوں دور ہی رہتے ہیں ۔ عورت جہاں جبرو تشدد کا شکار بنتی ہے۔ خریدو فروخت جیسے مکرو عمل سے گزاری جاتی ہے۔ تیزاب سے نہلائی جاتی ہے۔ نمائش کے لیے سجائی جاتی ہے۔ عزت کے نام پر مٹائی جاتی ہے۔ مرد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

اس سلسلے میں ایک نظم عورت کے نام :
شرم و حیا کے آنچل سے خود کو چھپا کر رکھتی ہے۔
بدلنا چاہے تو وہ پل میں دنیا بدل بھی سکتی ہے۔

اپنے دل کے خوف کو وہ کوئی نام نہیں دیتی۔
اپنی ذات کی بے قیمتی پر کسی کو الزام نہیں دیتی۔

بڑے بڑے خوابوں کو توڑ دیتی ہے پل بھر میں۔
قید کر لیتی ہے خود کو وہ ایک چھوٹے سے گھر میں۔

ہر رشتہ چاہتا ہے اس سے ،پوچھے پہلے پھر کچھ کرئے۔
یوں نہ اس پر پہرے ہوں ،دنیا دیکھے کیا کچھ کرئے۔

عظمت کا نام دے کر اس کو سمجھایا جاتا ہے۔
اس کی خواہشوں کو ہنسی میں اُڑایا جاتا ہے۔

اس کے فرائض کا اس کو بار بار بتایا جاتا ہے۔
سوچوں پر اس کی فرض کا ،پہرہ بٹھایا جاتا ہے۔

محبت نام دیتے ہیں ، محبت سے کام نہیں لیتے۔
جن سے محبت ہو ان کو ذہر جام نہیں دیتے۔

سر جھکا لیتی ہے وہ کہہ کر تقدیر کی یہی مرضی ہے۔
تقدیر ِخدا نہیں ہے یہ مردوں کی خود غرضی ہے۔

تلوار ذبان کی کھلی رکھ کر وار چلائے جاتے ہیں۔
عورت پر معاشرے میں یوں الزام لگائے جاتے ہیں۔

جو دھوپ سے ذیادہ تکلیف دے سلام ہے ایسی چھاوں کو۔
زنجیر بدل بھی جائے تو کنولؔ تکلیف وہی ہے پاوں کو۔

اللہ تعالی ٰ ہمارے معاشرے کو عورت اور مرد دونوں کے لیے مفید اور بہترین بنائے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ مرد و زن مل جل کے اپنے مسائل کو حل کریں ۔کوئی کسی کے حقوق پامال نہ کرے ۔ آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182767 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
10 May, 2017 Views: 1019

Comments

آپ کی رائے