خاموشی (چوتھی قسط)

(Kanwal Naveed, Karachi)

ڈاکٹر شیزاد:ٹھیک کہہ رہے ہو ۔تعلیم کی کمی اور تربیت کا فقدان ہے سارا ۔ظاہر ی صورت میں نظر آنے والا ہر انسان ،انسان کی کیٹیگری میں نہیں آتا۔
ڈاکٹر شیزاد کے چہرے پر افسردگی کو دیکھ کر رفیق نے موضوع بدلنا چاہ۔
رفیق :کیمپ میں تو بہت بھیڑ رہی ،لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی۔
وہ دھیرے سے بولا۔
ڈاکٹر شیزاد:موضوع بدلنے سے حالات اور ان کی تلخی نہیں بدلتی ۔ خاموشی اگرچہ سوچوں کو اور گہرائی دینے کے لیے بہتر ہوتی ہے ۔
رفیق: جی ۔
ڈاکٹر شیزاد نے اپنی گردن گاڑی کی سیٹ پر ٹیکا لی۔اپنی انکھیں بند کر لیں ۔رفیق نے نظر بھر کر ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا ،وہ اس کے آئیڈیل تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی چھت پربیٹھی اپنے سکول کا کام کر رہی ہے۔کام ختم ہو چکا لے لیکن وہ آسمان پر چھائے ہوئے ،بادلوں کو گھور رہی ہے۔ وہ آنکھیں بند کرتی ہے تو اسے سڑک پر سے گزرنے والی وہ عورت گاڑی چلاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ بھی کبھی اسی طرح گاڑی چلاتی ہوئی سڑک پر سے گزرے ،وہ خود کو گاڑی چلاتا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ وہ اپنی انکھیں نہیں کھولنا چاہتی ۔مگر اچانک کچھ ٹوٹنے کی آواز سے اس کا جاگتی آنکھوں دیکھائی دینے والا خواب بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
صابر : یہ چائے ہے چینی تیرا باپ ڈالے گا اس میں۔
صبا:وہ میں اور بنا کر لے آتی ہوں۔
صابر: پہلے کس یار کی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی ،جو پھر بنائے گی ۔
گالیاں دیتا ہوا صابر صحن سے کمرے میں چلا گیا۔خوشی چھت پر سے اپنی ماں کو پیالی کے ٹکڑے سمیٹتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔وہ دیوار پکڑ کر وہیں کی وہیں کھڑی تھی ،اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔نائلہ نے دروازہ کھولا۔نیلم دروازے پر تھی۔اس کی شادی کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔خوشی ابھی بھی دیوار کے ساتھ چپکی کھڑی تھی۔ اکبر نے نیلم کو بہت مارا تھا ،اس کے چہر ے پر نیل کے نشان تھے اور وہ رو رہی تھی۔
نائلہ : تجھے کیا ہوا؟
خوشی سیڑھیاں اُتر کر فوراًٍ نیچے آگئی ۔
نیلم : مجھ سے اکبر کی قمیض جل گئی نئی۔ اس نے مجھے بہت مارا اور بولا کہ اپنے باپ سے کہہ کہ مجھے ایسا ہی جوڑا لے کر دے ،جو تو نےجلایا ہے ، اگر لیں دیں تو ٹھیک ورنہ وہیں رہنا۔
خوشی: یہ کیا بات ہوئی۔
نیلم کو صبا اندر لے گئی ۔
صبا:میں لے دوں گی تجھے جوڑا اپنے ابو کے سامنے نہ جانا ،یہ نہ ہو کہ اکبر کو مارنے کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔
خوشی: ہاں تو اچھا ہے نا ،اسے ماریں۔کمینہ کہیں کا ۔ یہ بھی کوئی مارنے والی بات ہے ،خود کر ے نا استری ،ایک تو استری کر کے دے دوسرا مارکھائے۔
صبا: تو چپ کر ،تجھ سے کسی نے کچھ پوچھا ہے۔
نیلم: امی آپ مجھے جوڑا لےکر کب دیں گئی۔
خوشی : حیرت سے ۔ تجھے اس کے پاس جانے کی جلدی ہے۔ اِتنی مار سے دل نہیں بھرا تیرا۔
نیلم: میری غلطی ہے ،استری خراب تھی ، مجھے دھیان رکھنا چاہیے تھا ۔ اس کا کیا قصور۔
خوشی: تو پاگل ہے ۔میرے اللہ
خوشی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ وہاں سے اُٹھ کر غسل خانے میں چلی گئی ۔وہاں کافی دیر روتی رہی۔ یہ سب کیوں۔میرے اللہ کیسی بے بسی ہے یہ۔ میرا بس چلے تو اکبرے کو جوتے سے ماروں ۔خبیث کہیں کا۔ وہ اکیلے ہی اپنے آپ سے باتیں کر رہی تھی۔ قصور ظالم سے ذیادہ مظلوم کا ہوتا ہے۔ وہ خود کو مظلوم مان لیتا ہے ۔ سہتا ہی جاتا ہے۔ پلٹ کر ماتی اُسے ، کوئی چیز اُٹھا کر مارتی ۔ یاد ہی رکھتا کمینہ۔نائلہ نے غسل خانے کے دروازے پر دستک دی۔
نائلہ : خوشی سو گئی ہے کیا؟باہر نکل۔
خوشی نے اچھے سے اپنا منہ دھویا ۔انکھیں صاف کیں اور باہر آ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہناز : شفق یہ رشتہ چلا گیا تو کہاںشادی کروں گئی تمہاری۔آج کل لڑکیوں کے رشتے کتنی مشکل سے ملتے ہیں، تم نہیں سمجھ سکتی شفق ،کیسے کہہ رہی ہو مجھے شادی ہی نہیں کرنی؟ ایسے کیسے۔
شفق: امی مجھے بی ۔اے کرنے دیں پھر جو آپ کہیں گئی کر لوں گی۔
مہناز : پھر میں کچھ کہنے کے قابل کہاں رہوں گی۔تمہیں پتہ ہے فیصل نے اپنے والدین سے کہاہے کہ اگر پھو پھو نہیں مان رہیں ۔میرے لیےکوئی اور لڑکی دیکھ لیں ۔
شفق : ہاں تو دیکھ لیں نا۔ اتنے نخرے کس بات پر دیکھا رہے ہیں۔بی اے فیل ہیں موصوف ،شفق نے منہ بنا کر کہا۔
مہناز: دُبئی میں اچھا خاصا کماتا ہے ۔ سب کچھ پڑھائی نہیں ہوتی۔
مہناز:تو میں تیاری شروع کر دوں نا۔ ہم تمہاری شادی کر کے ہی جائیں گئے یہاں سے۔
شفق : امی آپ پوچھ رہی ہیں کہ بتا رہی ہیں۔
مہناز : تم کچھ بھی سمجھو ،بیٹا۔ مجھے اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ میرے نزدیک فیصل سے اچھا لڑکا تمہیں مل ہی نہیں سکتا۔دیکھا بھالا ہے ،آج کے دور میں رشتہ ڈھونڈنا ،وہ بھی جہیز کے بغیر جو آپ کی بیٹی کو قبول بھی کر لے ،بہت مشکل ہے۔ مجھ جیسی بیوہ کے لیے تو راستہ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ، میری بیٹی ، اپنی ماں کا ساتھ دو ۔ میری مشکل آسان ہو جائے گی۔
شفق خاموش رہی ۔ وہ کیا بول سکتی تھی۔ ہمارے معاشرے کا یہ ہی دستور ہے۔ اچھی لڑکیاں خاموش ہی رہتی ہیں ،خواہ یہ خاموشی انہیں اندر سے کتنا ہی کاٹ رہی ہو۔ شفق دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ،کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہو جائے ،ویسے بھی دانی نے اس دن جو باتیں کی ہیں ،لگتا نہیں کہ وہ مجھ سے شادی کے لیے سنجیدہ ہے۔ ایسے میں امی کی خوشی کو ہی پورا ہونے دیتی ہوں ، مگر نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ،یہ محبت بھی عجیب ہوتی ہے ۔انسان اِسے چھوڑ بھی دے ،یہ انسان کو نہیں چھوڑتی ۔ اس کے جراثیم ،بیماری ختم ہو جانے کے بعد بھی جسم میں زندہ ہی رہتے ہیں ، جو وجود کو اندر سے کاٹتے رہتے ہیں ۔شفق نے اپنے پہتے ہوئے آنسو صاف کیے ،مگر آنکھوں کو ابھی اور گنگا بہانی تھی ،فرحان ماموں اور سحریش ممانی کمرے میں آگئی ،وہ ان کے اس طرح غیر متوقع طور پر اندرآجانے پر اپنی آنکھوں کے بہتے آنسووں کو نہ چھپا سکی۔
فرحان: بیٹا تمہاری امی نے ہمیں خوشخبری سنائی ہے، تم روتی کیوں ہو ۔میری بیٹی ہو تم ،بیٹی( فرحان ماموں نے اپنا ہاتھ شفق کے سر پر رکھا،مہناز بھی کمرے میں داخل ہوئی)
مہناز: ابھی ابھی گھر میں ایک فوتگی ہوئی ہے ،تو ہم شور شرابا نہیں کر سکتے۔
فرحان : فیصل دین کے معاملے میں تھوڑا سخت ہے ،وہ شور شرابا کرنے بھی نہیں دے گا۔ فوتگی نہ بھی ہوتی تو وہ بڑی براتوں کے حق میں ہی نہیں ہے۔داڑھی نہیں دیکھی آپ نے اس کی ۔
مہناز :کوئی بات نہیں، میری شفق بھی نماز کی پابند ہے۔
فرحان : پھر شادی کے لیے کون سی تاریخ رکھیں۔
مہناز: جو آپ مناسب سمجھیں ، آپ تو جانتے ہی ہیں ،میں لمبا چوڑا جہیز تو دے نہیں سکتی ۔
فرحان:ارے آپا ،آپ سے جہیز کا کہہ کون رہا ہے۔عمرآن بھائی بھی یہاں ہیں ،ابھی کچھ دن۔ اچھا ہے شادی میں وہ بھی شامل ہو جائیں گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائلہ : خوشی ،خوشی تجھے پتہ ہے کیا ہوا۔
(جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی نائلہ بُری طرح ہانپ رہی تھی۔ سانس بحال کر کے مشکل سے بولی تھی)
خوشی : کیا ہوا؟
نائلہ : سدرہ مر گئی۔
خوشی: کیا کہہ رہی ہے۔میری کلاس میں پڑھنے والی سدرہ؟
(خوشی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا)
نائلہ : ہاں اور کون سی سدرہ کی بات کر رہی ہوں میں۔ بے چاری۔
( اس نے منہ بناتے ہوئے افسردگی سے کہا)
خوشی: کیسے وہ تو اچھی بھلی تھی مجھے تو چار دن پہلے ہی ملی تھی۔اسے کیا ہو گیا۔
نائلہ: اس کے دوماہ چڑھ گئے تھے۔
خوشی: کہاں چڑھ گئے تھے ۔ تو کیا کہہ رہی ہے میری سمجھ سے باہر ہے۔ صاف صاف بول نا۔ کیا ہوا اُسے؟
نائلہ: ماں بننے والی تھی ۔
خوشی : کیا،ماں ؟
نائلہ : ہاں ،فاخرہ آنٹی امی کو بتا رہی تھی۔ اس کی ماں نے دائی سے لا کر کوئی گرم دوا دی ،سینے سے لگ گئی بے چاری کے۔ مر گئی۔
خوشی : اپنی ماں نے ،کیوں؟
نائلہ : تو بھی نا۔ کیا کرتی ماں بے چاری۔ نو ماہ گزر جاتے تو عزت کا جنازہ نکل جاتا نا ان کا۔ بچہ ہو جاتا حرام کا تو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہتے ،اچھا ہی ہوا ۔سدرہ کے لیے تو۔
خوشی : اچھا ہوا ،کیسی بات کر رہی ہے ۔ وہ مر گئی اور توکہہ رہی ہے۔اچھا ہوا۔
نائلہ: تو عزت کی موت ،ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔سارے جھمیلوں سے جان چھوٹ گئی ،سوچوں اگر بچہ ہو جاتا حرام کا تو ۔کیا کرتی؟
خوشی: حرام کا ؟
نائلہ : ہاں جس کے باپ کا نہ پتہ ہو ،حرام کا ہی ہوا نا۔کون نام دیتا اُسے۔مجھے تو اس کمینہ پر غصہ آ رہا ہے ، کتا کہیں کا۔امی ٹھیک کہتی ہیں ، آدمی سانپ کی طرح ہوتا ہے ، ڈس لیتا ہے ،تکلیف دے کر چلتا بنتا ہے۔ اس کا کچھ نہیں بگڑتا ،جیسے ڈستا ہے،درد اور تکلیف اسی کی ہوتی ہے۔ غلطی دو لوگ کرتے ہیں۔ سزا صرف لڑکی کو ہی ملتی ہے۔
خوشی: صرف لڑکی کو کیوں ملتی ہے؟
نائلہ : اس لیے کہ کون سا آدمی باپ بن رہا ہے کیا پتہ چلے؟ لڑکی کے پیٹ میں اس کا گناہ بیج کی طرح اُگنے لگتا ہے ۔
خوشی : آدمی کا گناہ کہاں جاتا ہے؟
نائلہ: پتہ نہیں ۔شاہد وہ اپنے حصے کا گناہ بھی عورت کو دے دیتا ہے۔یا پھر وہ گناہ سے بری ہے۔ اللہ جانے جس نے تخلیق کی ،سارے عذاب عورت کے حصے میں ڈال دئیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہناز : رفیق تم آ جاو۔ ہم شفق کی شادی ہفتہ کو کر رہے ہیں ۔
رفیق : امی تیاری ہو گئی۔
مہناز : ہاں ساری تیاری ہو گئی ۔تم بس آجاو۔
رفیق : شفق مان گئی۔
مہناز : ہاں ،جو تھوڑی بہت تیاری کی ہے ۔اُسے ساتھ لے کر کی ہے نا۔
رفیق: جی امی ٹھیک ہے۔
ڈاکٹر شیزادگاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکے تھے۔انہوں نے رفیق کو باتیں کرتے ہوئے سنا۔
ڈاکٹر شیزاد : کس سے بات ہو رہی تھی ۔
رفیق : امی سے وہ ابھی اسلام آباد میں ہی ہیں ،وہ میری بہن کی شادی کا بول رہی ہیں ،میرے بڑے ماموں بھی آئے ہوئے ہیں نا ۔وہ شادی کر کے ہی واپس آنا چاہ رہی ہیں۔مجھے بلایا ہے انہوں نے ۔آ پ کا کیمپ آج ختم ہو جائے گا نا؟
ڈاکٹر شیزاد۔ہاں یہ سامان بھی آج رات واپس بھیجنا ہے ۔ بچی ہوئی ووائیں بھی ۔آج رات تو سمجھو ادھر ہی گزرے گی،تم کب جاو گئے اسلام آباد۔
رفیق : سر پورے دن کا سفر ہے۔ کل صبح جاوں گا ،آج ٹکٹ لے لو ں ،آپ مجھے بس ۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد : بہن کی شادی روز نہیں ہوتی ،تم جاو ٹکٹ لے لو۔ میری طرف سے ایک ہفتہ کی چھٹی ہے تمہارے لیے۔ابھی مجھے گھر جانا ہے ، کچھ دیر آرام کرو گا۔ تم ٹکٹ لے آو پھر مجھے واپس کیمپ لے آنا ۔ تم اپنا ذیادہ وقت دیتے ہو ۔ جتنا طے ہوا تھا ۔اس سے کہیں ذیادہ۔
رفیق : سر میں نےایک بک میں پڑھا ہے کہ انسان کو دیتے وقت کچھ ذیادہ ہی دینا چاہیے ،وہ کام ہو یا پھر پیسہ ۔آپ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ نے بھی وہ بک پڑھی ہے۔
ڈاکٹر شیزاد:اہم یہ نہیں ہوتا کہ ہم نے کیا پڑھا اور کیا سیکھا ہے ،اہم یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں اس پڑھے ہوئے سبق کو یا سیکھے ہوئے سبق کو استعمال کیسے کرتا ہے۔کچھ لوگ صرف پڑھنے کے لیے پڑھتے ہیں۔
رفیق : یہ بات تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
گاڑی گلیوں سے گزرتی ہوئی کچرا کنڈی کے پاس پہنچی تو وہاں کسی نے خالی ڑیڑی کو غلط طریقے سے کھڑا کیا ہوا تھا۔ رفیق نے گاڑی روکی اور گاڑی سے اُتر گیا۔ریڑی کو ہٹانے لگا۔
ڈاکٹر شیزاد: تم پڑھائی کے بعد کیا بننا چاہتے ہو۔
رفیق : کچھ سمجھ میں نہیں آتا سر ،کبھی جی میں آتا ہے کہ پروفیسربنوں گا۔ کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔ بس ایک کامیاب انسان بننا چاہتا ہوں ،آپ کی طرح۔
ڈاکٹر شیزاد : اپنے آپ سے پوچھو، تم کیا کام کرنا چاہتے ہو ،اپنے آپ کو سوچنے کا وقت بھی دو۔
رفیق : جی ۔
ڈاکٹر شیزاد : ہمارے ہاں کا المیہ ہے کہ چودہ سال کی ایجوکیشن کے بعد بھی ہمارے ادارے بچوں کو سیلف ڈیویلپمنٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سکھاتے ، بچوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی منزل کیا ہے۔ وہ بس راستوں پر چلتے جا رہے ہوتے ہیں ۔ بعد میں انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کا راستہ ہی غلط تھا ،ان کی منزل مشرق تھی وہ چودہ سال مغرب کی سمت جاتے رہے ہیں۔
رفیق: یہ تو آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ ہمارا نصاب فرسودہ اور تعلیم غیر معیاری ہے۔
ڈاکٹر شیزاد: آج تعلم ایک بزنس بن چکی ہے ،جہاں انسان کی گرومنگ فقط ظاہری طور پر کی جاتی ہے وہاں باطن کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔بہترین اداروں سے تعلیم یافتہ لوگ دولت کے انبار لگا لیتے ہیں لیکن ذہنی سکون سے نا آشنا ہوتے ہیں ۔تعلیم کو انسان کی مکمل گرومنگ کرنی چاہیے۔ زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد علم نہیں بلکہ عمل ہے۔بس یہ ہی نہیں سکھایا جاتا۔
رفیق: آپ کو تو پروفیسر ہونا چاہیے تھا۔
ڈاکٹر شیزاد ہنسنےلگے ۔
رفیق نے گاڑی ان کے بنگلے کے سامنے پارک کیا۔ڈاکٹر شیزاد سے اجاذت لی ،پھر ٹکٹ لینے چلا گیا۔
ٖڈاکٹر شیزاد: آ ج ہماری غزل کی سالگرہ ہے نا۔
عنابیہ: آپ کو یاد تھی۔
ڈاکٹر شیزاد : جس نے مجھے باپ بننے کا پہلا احساس دیا ،میں اُسے کیسے بھول سکتا ہوں۔
ڈاکٹر شیزاد اپنی ننھی منی بچی کی تصاویر ،دراز سے نکال کر دیکھ رہے تھے ۔ گوری سی نیلی نیلی انکھوں والی گول مٹول بچی۔ڈاکٹر شیزاد نے تصویر میں غزل کے چہرے پر انگلی لگائی ،جیسے اپنی بیٹی کو چھو رہے ہوں۔یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتی ،ان پر وقت کی جو دھول جمتی ہے ، جذبہ لمحوں میں چھاڑ دیتے ہیں ،ماضی آئینہ کی طرح صاف وشفاف نظر آنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر شیزاد اس کی ننھی ننھی انگلیوں کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کرتے ہیں ۔
عنابیہ چائے لے کر آتی ہے ،ڈاکٹر شیزاد صوفہ پر اپنی انکھیں بند کیے غزل کی تصویروں والی البم کو گود میں رکھے ،صوفے کی بیک پر سر ٹیکا ئے ہوئے ہیں۔
عنابیہ : آپ فریش ہو جاتے میں چائے لائی ہوں۔
ڈاکٹر شیزاد : آج اگر غزل ہوتی تو ۔۔۔۔
عنابیہ : اللہ کو جو منظور ہو۔انسان تو بے بس ہے نا۔
ڈاکٹر شیزاد: ہاں ،ایک آہ بھرتے ہوئے۔
(تصاویر کو دراز میں رکھ کر فریش ہونے چلے جاتے ہیں۔)
تھکاوٹ کی وجہ سے وہ بستر پر بار بار کروٹ بدل رہے تھے ،نیند نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہیں ، آسمان سے پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ مگر کوئی پھول اُن تک نہیں آتا ، اچانک ایک پھول ان کے سر پر لٹکی ہوئی درخت کی شاخ میں آ کر پھنس جاتا ہے ، شاخ ہچکولے لے رہی ہے ۔ ان کی نظر پھو ل پر ہے ،وہ چاہتے ہیں کہ پھول ان کی گود میں آ کر گِر جائے،مگر پھول شاخ میں اٹکا ہوا ہی رہتا ہے ،وہ کھڑے ہو کر شاخ سے پھول کو اُتار کر ہاتھ میں لے لیتے ہیں ،ان کی انکھ کھل جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی بہت اداس ہے ،سدرہ کی موت کے بعد اس کے ابو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سکول نہیں جائے گی۔ بہت احتجاج کے بعد بھی اس کی کسی نے نہیں سنی ،اس کی ماں بھی اب خاموش ہو چکی ہے۔ گھر میں دادی بھی آئیں ہوئیں ہیں ،انہوں نے آگ میں مذید گھی ڈالا ، وہ ہرکہانی جو اب تک لڑکیوں کے لڑکو ں کے ساتھ گمراہ ہونے کی تھیں، صابر کے گوش گزار کر دیں ۔ خوشی چار دن سے سکول نہیں گئی تھی۔ اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اُسے کس گنا ہ کی سزا دی جا رہی ہے۔ وہ پرائیویٹ امتحان تو دے سکتی تھی لیکن وہ فزکس ،کیمسٹری او ر بائیو کے پریکٹیکل کیسے کرے گی ،اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔گھر میں کوئی بھی اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا ۔ صبا بھی صابر کے سامنے سر تسلیم خم کرچکی تھی۔ اب کیا ہو گا۔ خوشی اپنے ابو کو کوس رہی تھی۔ اب اسے سدرہ پر بھی غصہ آ رہا تھا ، کاش وہ اس علاقے میں نہ مری ہوتی ۔ اس کے ماں باپ کو اس کے مرنے کی خبر نہ پہنچی ہوتی ۔ مگر یہ سب کچھ سوچنا اس کے لیے بے کا ر تھا۔ وہ کتابیں لے کر چھت پر چلی گئی ۔ اپنی بے چینی کو اس نے ایک کاغذ پر سمیٹنا شروع کیا۔
ہر مرد ہی کمینہ ہوتا ہے، مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ میرا باپ میرابہنوئی ، یہاں رتک کہ میرا بھائی ۔ یہ سب کے سب ایک جیسے ہوتے ہیں ،مطلبی ،خود غرض۔ان کے نزدیک عورت محض حقیر مخلوق ہے ۔گھر میں رکھی ہوئی کوئی مرغی ،کبھی تو اسے ضرورت کے تحت دانے کھلاتےہیں ۔تا کہ ان کا گھر چوزوں کی چو چو سے آباد رہے تو کبھی ،ضرورت کے تحت ذبح کر دیتے ہیں ۔ جیسے سدرہ کو کر دیا ۔ عجیب ہے کہ عورت بھی عورت کا ساتھ نہیں دیتی ، شاہد دے ہی نہیں سکتی۔ میری ماں کی کتنی خواہش تھی مجھے پڑھانے کی لیکن ابو کے سامنے وہ اور ان کی خواہش ،کچھ بھی نہیں۔ایک عورت کیا کرئے گی کیا نہیں ، یہ ایک آدمی کیوں طے کرتا ہے۔ میرا بس چلے تو
خوشی لکھنے میں ایسی کھوئی ہوئی تھی،کہ مراد کب اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو گیا ،اسے پتہ بھی نہ چلا۔ اس نے اس کا لکھا ہوا ورق اس سے چھین لیا جو وہ کاپی کے اوپر رکھ کر لکھ رہی تھی۔
مراد: کیا لکھ رہی ہے ،خوشی ۔
خوشی : اچھل کر کھڑی ہو گی۔
مراد: دے دوں گا ،پڑھ تو لوں،کہیں لو لیٹر تو نہیں ہے۔
خوشی: بک مت ،مجھے ورق دے۔
مراد بھاگ کر چھٹ کی دوسری طرف چلا جا تا ہے۔ خوشی پریشانی سے اس کے پیچھےبھاگتی ہے۔مراد چھت کے کونےمیں پہنچ جاتا ہے۔
خوشی: اگر تو نے مجھے ورق نہ دیا تو میں تجھے یہاں سے دھکا دے دوں گی ،سنا تو نے۔
مراد: دے تو ۔ تجھے جان سے مار ڈالیں گئے ابو ،مجھ میں جان بستی ہے ان کی۔
خوشی: تو اپنی فکر کر !میری نہیں ۔مجھے ورق دے۔
مراد ورق خوشی کی طرف لہراتے ہوئے ،اُسے چڑھاتا ہے۔پکڑ ،پکڑ ،نا ،خوشی پکڑنے کے لیے آگے ہوتی ہے۔ مراد ایک قدم پیچھے ،اس کا پاوں پھسل جاتا ہے ،خوشی اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کری ہے لیکن کاغذ خوشی کے ہاتھ میں آ جاتا ہے ،وہ حصہ جو مراد نے پکڑا تھا اس کی مٹھی میں رہ جاتا ہے باقی کاورق خوشی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ،وہ نیچے جھک کر یکھتی ہے ، گلی میں مراد بے سدھ پڑا ہے اس کے آس پاس خون ہی خون ہے۔ اس کی چیح فضا میں بلند ہوتی ہے۔ خوشی کو اپنا پورا وجود لرزتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق: رفیق کب آ رہا ہے امی۔
مہناز : فون آیا تھا اس کا ٹکٹ لے لیاہے اس نے،بتا رہا تھا ،اپنے سر کے ساتھ ہے۔ فری میڈیکل کیمپ آج ختم ہو رہا ہے نا،اس کا۔تمہیں پتا ہے ،عمرآن بھائی ،میشا کے لیے رفیق کو مانگ رہے ہیں ، کہہ رہے تھے وہ پڑھائی کے لیے یو ۔کے لے کر جائیں گئے ،اسے۔
شفق: میشا ،وہ تو رفیق کے ساتھ بالکل اچھی نہیں لگے گی امی۔ ویسے کہنا تو نہیں چاہیے ،مگر اس کی شکل و صورت ۔۔۔۔وہ خاموش ہو گئی۔
مہناز: ہر چیز نہیں ملتی ،کچھ چیزوں کو مصلیحتاً قبول کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ تیرے عمرآن ماموں ،رفیق سے بھی خوش شکل تھے ،جوانی میں ۔حبیبہ کے ساتھ ساری عمر گزار دی ہے نا ، میشا تو پڑھی لکھی بھی ہے ،میک کپ میں رہے گئی تو ٹھیک ہی لگےگئی۔
شفق: امی میک کپ اُتر بھی تو جاتا ہے۔ یہ تو خود کو بیچنا ہو گیا ،مجھے نہیں لگتا کہ رفیق مان جائے گا۔
مہناز : کیوں نہیں مانے گا ۔ میں منا لوں گی اُسے ۔ یہاں آئے تو سہی۔عمرآن بھا ئی نے تو کوشش بھی شروع کر دی ہے ۔ رفیق کا رذلٹ آنے کی دیر ہے ، کچھ دن کی بات ہے ۔ جاتے ہی رفیق کو بلا لیں گئے ،عمرآن بھائی ،مجھ سے کہہ رہے تھے ،تم کسی چیز کی فکر نہ کرو۔
شفق :امی ،یہ اچانک سے مہربانی آپ کے لیے نہیں ہو رہی۔ آپ سمجھ کر بھی نا سمجھ بن رہی ہیں۔
مہناز : بیٹا یہ ہی دنیا داری ہے۔تم بھی سیکھنا شروع کرو۔ اپنی اور اپنے بچوں کی بھلائی کے لیے کچھ چیزوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کو دانے دانے کا محتاج نہیں دیکھ سکتی۔ رب نے اس کے لیے وسیلہ بنانا ہے تو ہم کیوں نہ فائدہ اُٹھائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد: سب کچھ ہو گیا۔ بس رفیق اب نکلیں گئے۔
رفیق: جی سر چلیں ۔
ڈاکٹر شیزاد :ہماری تو صبح یہاں ہی ہو گئی رات کے تین بج رہے ہیں ۔ ساما ن سنبھالتے پتہ بھی نہیں چلا۔
رفیق: باقی ڈاکٹروں نے تو پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ہر کوئی آپ جیسا نہیں ہوتاسر۔
ڈاکٹر شیزاد : کوئی کسی جیسا نہیں ہوتا۔ ہرا نسان الگ ہے،وہ لوگ آئے میرا ساتھ دیا ،کسی نے رقم لگائی۔ یہ بھی بہت ہے ۔امید ہے کہ بہت سے لوگوں کا بھلا ہوا ہو گا۔
رفیق: نے گاڑی سٹارٹ کی۔
رفیق کو ڈاکٹر شیزاد کی یہ بات بھی بہت پسند آئی ،وہ لوگوں پر تنقید ی نگا ہ نہیں ڈالتے بلکہ ہر ممکن طریقے سے اچھا ہی سوچتے ہیں ،رفیق کو ڈاکٹر شیزاد کی شخصیت اس قدر متاثر کرتی تھی کہ اس کا جی چاہتا تھا ۔وہ ہر وقت ان کے ساتھ رہے ۔وہ اس کے لیے بہترین انسان کی جیتی جاگتی مثال تھے۔اچھائی کسی دور میں نہیں مرتی ،اسے قائم رکھنے والے گنتی میں کم سہی لیکن ارادوں میں برے انسانوں سے کہیں ذیادہ مستحکم ہوتے ہیں ۔
رفیق نے گاڑی کو بریک لگائی۔
ڈاکٹر شیزاد: کیا ہوا ؟
رفیق : سر مجھے کچرا کنڈی کے پاس ایک لڑکی پڑی نظر آ ئی ہے۔ ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر شیزاد نے اپنی گردن کو سیدھا کیا اور آنکھیں کھول لیں، انہوں نے اپنی گردن کو کچرا کنڈی کی طرف گھمایا۔ انہیں بھی وہاں پر ایک لڑکی نظر آئی ۔
رفیق :پتہ نہیں کیا ہوا؟
رفیق اور ڈاکٹر شیزادگاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکل گئے۔ اس لڑکی کے پاس پہنچے ۔وہ بلکل بے ہوش تھی۔ رفیق ،نے لڑکی کی طرف دیکھا جو گاڑی کی لائیٹ میں بے بسی کی تصویر نظر آ رہی تھی۔ اس کا دوپٹہ اس کے منہ پر بندھا ہوا تھا ۔اس کی سُرخ سُرخ کلائیاں لگ رہا تھا کسی نے ذور سے پکڑ کر رکھی ہوں گی۔ وہ بے سدھ پڑھی تھی ،اس کے آس پاس گند پڑھا تھا ،جو کچرا کنڈی سے شاہد گرا ہو گا۔ اس کے ایک سائیڈ پر ریڑی کھڑی تھی اس پر موم پڑا تھا ،پوری ڑیڑی بڑے کالے موم سے ڈھکی ہو ئی اور محفوظ تھی ۔جبکہ یہ لڑکی غیر محفوط نظر آ رہی تھی ڈاکٹر شیزاد نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے اوپر پھینک دیا ۔
ڈاکٹر شیزاد: اسے گاڑی میں لے جاو ۔ہوسپٹل لے کر چلتے ہیں ،میرے ہوسپٹل ۔
رفیق نے اس لڑکی کے منہ سے دوپٹہ الگ کیا ،وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ اس سے نظر ہٹانا مشکل تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں اس سے خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی۔اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے کچڑ سے کنول نکال لیا ہو ،اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو اپنی گود میں اُٹھایا ہوا تھا۔ جو اسے موم کی گڑیا لگ رہی تھی ۔ اس نے لڑکی کو گاڑی میں لیٹا دیا۔
ڈاکٹر شیزاد : میرے اللہ ، ہر کسی کو بچا ایسے انسانوں سے جو درندوں سے بھی بد تر ہیں ۔مجھے لگتا ہے کسی نے ذیادتی کی ہے اس بچی کے ساتھ۔
رفیق خاموش رہا ۔ ڈاکٹر شیزاد نہ بھی کہتے تو ہر وہ انسان جو صاحب بصیرت ہو ،اس لڑکی کی حالت سے جان سکتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں تھی ۔ ایک خاموشی کی فضا قائم تھی۔ اچانک سے ڈاکٹر شیزاد کے لبوں نے خاموشی کا یہ حصار توڑ دیا۔
ڈاکٹر شیزاد:تمہارا ٹکٹ ہو گیا۔
رفیق: جی کل دس بجے کا ہوا ہے۔
ڈاکٹر شیزاد :جاتے ہوئے مجھ سے مل کر جانا۔
رفیق: جی۔
ہوسپٹل آگیا ۔ڈاکٹر شیزادنے لڑکی کا علاج شروع کیا ۔ ڈاکٹر شیزاد نے پولیس کو اطلاع دینے کی سوچی مگر پھر لڑکی کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگے ۔ پتہ نہیں کون لڑکی ہے۔ یہ نہ ہو کہ کسی اخبار والے یا پھر نیوز چینل والے کو پتہ چل جائے ۔ اس کی رہی سہی عزت کا بھی جنازہ نکال دیں ۔اس سے بہتر ہے کہ اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کیا جائے۔ وہ اس معصوم سی لڑکی کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ جو دنیا سے بے خبر تھی،وہ سوچ رہے تھے کہ جب اِسے ہوش آئے گا تو اس کی تکلیف بھی جاگ اُٹھے گی ۔ڈرپ ختم ہونے والی تھی ،انہوں نے گھر فون کیا ۔
عنابیہ :اسلام علیکم ،آپ کب آئیں گئے۔
ڈاکٹر شیزاد: سو رہی تھی۔
عنابیہ: ہاں، ابھی تو چھ ہی ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر شیزاد : اچھا سو جاو ،پھر بات کریں گئے۔
عنابیہ: کیا ہوا؟ کوئی پریشانی ہے۔
ڈاکٹر شیزاد: نہیں ،تم سو جاو ۔
عنابیہ : آپ ٹھیک تو ہیں نا۔ اب سونے نہیں ہو گا۔ بولیں نا کیا ہوا۔ ڈاکٹر شیزاد نے رات کو پیش آنے والی روداد سنا دی ۔
عنابیہ : میرے اللہ ۔ بے چاری لڑکی۔آپ پریشان نہ ہوں ۔اللہ انسان کو اس کی برداشت سے ذیا دہ تکلیف نہیں دیتا ۔ وہ راستے نکلانے والا ہے۔ اس لڑکی کو بھی صبر دے گا۔
ڈاکٹر شیزاد : پتہ نہیں ابھی تو اسے ہوش نہیں آیا۔
عنابیہ۔ آپ گھر کب آئیں گئے؟
ڈاکٹر شیزاد : اس بچی کو ہوش آجائے پھر آتا ہوں۔ امید ہے کہ کچھ دیر تک آ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حبیبہ : ہم اور کتنے دن یہاں رہیں گئے۔بچے بار بار مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں۔
عمرآن فاروق : شفق کی شادی ہو جائے پھر چلتے ہیں واپس۔تمہیں رفیق کیسا لگا۔
حبیبہ: کیسا لگا مطلب ،وہ تو یہاں روکا ہی نہیں ،فوراً کراچی بھاگ گیا۔
عمرآن فاروق : ذمہ دار اور خوش شکل لڑکا ہے ،میشا کے لیے کیسا رہے گا۔ ارسل ابھی چھوٹا ہے ۔ رفیق میرا ہاتھ بٹائے گا ۔ آسانی ہو جائے گی ۔ تمہارا کیا خیال ہے۔
حبیبہ: میشا مان جائے گی۔
عمرآن فاروق : تم ابھی اس سے بات ہی نہ کرنا ، میں رفیق کو سپانسر کروں گا اعلی تعلیم کے لیے ۔وہ انگلینڈ میں آ کر جب ہمارے ساتھ رہے گا تو میشا کو ضرو رپسند آئے گا۔
حبیبہ: اگر نہ پسند آیا تو۔
عمرآن فاروق:میشا کے لیے آسمان سے کوئی شیزادہ تو نہیں اُتر سکتا نا ۔ میں نے فیصل کے لیے بات کی تھی ۔بی اے فیل لڑکا ہے۔ فرحان کا۔فرحان نے فیصل سے پوچھا تو فیصل نے انکار کر دیا ۔
حبیبہ: کیا ،آپ نے بات کیوں کی ۔
عمرآن : کچھ سال اور گزر گئے تو میشا کے لیے رشتہ ڈھونڈنا بہت مشکل ہو جائے گا ہمارے لیے۔ تم اس کے دل میں انگلینڈ جاتے ہی رفیق کا خیال ڈالنا ،اس سے اچھا لڑکا اسے مل ہی نہیں سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی کو ہوش آ چکا تھا۔ نرس نے باہر آ کر ڈاکٹر شیزاد کو خبر دی۔ خوشی کو نرس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ خوشی نے کمرے کو دیکھا ،جو کافی بڑا تھا ۔ میں کہاں ہوں اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اس نے اپنی کلائیوں کو دیکھا جو ابھی تک سُرخ تھیں۔ اسے کچھ یاد نہیں تھا کہ وہ اس کمرے تک کیسے پہنچی ،اسے تو اِتنا یاد تھا کہ درد اور تکلیف سے اس کی سانس بند ہو رہی تھی ،کچرا کنڈی کی بدبو اسے یاد تھی ،اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ڈاکٹر شیزاد:بیٹا آپ کا نام کیا ہے ؟ اپنے گھر کا پتہ یا د ہے آ پ کو؟
خوشی نے ڈاکٹر شیزاد کو ایک نظر دیکھا اور پھر اپنی گردن دوسری طرف گما دی۔
ڈاکٹر شیزاد: بیٹا آپ کے والدین پریشان ہوں گئے ۔
خوشی نے مذید ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کے لیے پانی منگوایا۔انہوں نے مذید سوال نہیں کیے ۔ اس کی حالت قابل رحم لگ رہی تھی ۔ ڈاکٹر شیزاد کمرے سے باہرآ گئے۔ انہوں نےنرس کواس کے پاس ہی رہنے کی ہدایت کی ، تھکن سے ان کی حالت بری ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق نے آنکھیں ملتے ہوئے گھڑی دیکھی جو صبح کے آٹھ بجا رہی تھی ۔اسے دس بجے کی گاڑی سے تھا۔اسے ڈاکٹر شیزاد کی بات یاد آئی ،جاتے ہوئے ملتے جانا۔ وہ فوراً بستر سے اُٹھا۔ تیاری کرنے لگا ،اس کے ذہین میں رات کا واقعہ گھوم گیا ۔کیسی خوبصورت لڑکی تھی۔ پتہ نہیں کون ،کہاں سے تعلق رکھنے والی ،کچھ چہرے کیسے پرکشش ہوتے ہیں، خوبصورتی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے ،خواہ وہ کسی شے کی ہو یا کسی انسان کی ۔اس کی بند آنکھیں اس کے دل و دماغ میں گھوم رہی تھیں ۔ اس نے سرجھٹکا ، اس خوبصورت چہرے کےسحر سے نکلنے کے لیے موبائل دیکھنا شروع کر دیا۔مگر اسے تمام حربے بے سود لگ رہے تھے ۔ اچانک ڈاکٹر شیزاد کی کال آ گئی۔
ڈاکٹر شیزاد : تم مجھے گھر کے لیے پک کر سکتے ہو۔شیزاد مموریل ہوسپٹل سے؟
رفیق: جی سر۔
رفیق کا جی چاہ کہ وہ اس لڑکی کے بارے میں پوچھے لیکن وہ سوچ ہی رہا تھا کہ دوسری طرف سے فون بند ہو گیا۔ اس نے سوچا کاش میں اس لڑکی کے لیے کچھ کر سکتا ۔ کبھی کبھی ہم چاہتےکچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ۔ رفیق نے انکھیں بند کی اور اللہ تعالی ٰ سے دُعا کی ۔ اے اللہ تو ہی ہے جو انسان کو اس کے باطن کو مکمل جانتا ہے۔ مالک اس لڑکی کی مدد کرنا ۔ کاش کہ میں کچھ کر سکتا لیکن میں بے بس ہوں ۔ رفیق نے جلدی سے اپنا بیگ تیار کیا اس نے سوچا کہ وہاں سے ہی سفر کے لیے نکل جاوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیق : اسلام علیکم سر۔
ڈاکٹر شیزاد نے رفیق کو دیکھا تو گھر جانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
رفیق نے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔ ڈاکٹر شیزاد۔ نے اُسے ایک لفافہ دیا۔
رفیق: یہ کیا ہے سر؟
ڈاکٹر شیزاد: تمہاری بہن کے لیے ہے ،کچھ لے لینا۔
رفیق: سر آپ نے پہلے ہی میرے لیے بہت کچھ کیا ہے ۔
ڈاکٹر شیزاد: تم ڈیزرو کرتے ہو۔تمہارے ساتھ رہ کر لگتا نہیں کہ میں کسی ڈرائیور کے ساتھ ہو ،تم میں میں اپنی جوانی دیکھتا ہوں۔
رفیق: آپ اب بھی جوان ہی ہیں سر۔
ڈاکٹر شیزاد: اچھا ، ڈاکٹر شیزاد نے اپنی انکھیں بندکر کے سر سیٹ پر ٹیکا لیا۔
رفیق نے ایک نظر ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔ احسان کرنے والوں کے چہروں پر ہمیشہ رونق رہتی ہے۔رفیق نے دل ہی دل میں سوچا ،کاش میں بھی زندگی میں کبھی اس شخص کے کام آ سکوں ۔پھر وہ سڑک کی گزرتی گاڑیوں کے درمیان سے گزر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد: میں تھوڑی دیر سو جاوں بہت تھک گیا ہوں ۔ بچے سکول چلے گے؟
عنابیہ :ہاں ،وہ لڑکی کیسی ہے۔
ڈکٹر شیزاد:اب بہتر ہے ،کچھ بول نہیں رہی۔
عنابیہ :ممکن ہے کسی لڑکے کے ساتھ خود ہی گھر سے بھاگی ہو ۔
ڈاکٹر شیزاد : مجھے نہیں لگتا ۔ کم عمر کی لڑکی ہے۔
عنابیہ: غریب لوگوں کی لڑکیاں بہت جلد جوان ہو جاتی ہیں ۔ آپ سو جائیں پھر بات کریں گئے۔
ڈاکٹر شیزاد نے جمائی لی ۔
ڈاکٹر شیزاد: تم کیسے کہہ سکتی ہو ،وہ کسی غریب کی بیٹی ہے۔
عنابیہ : کچرا کنڈی کے پاس کسی امیر کی بیٹی تو نہیں ہو سکتی نا۔
ڈاکٹر شیزاد : ممکن ہے کسی نے اغوا کیا ہو اُسے۔
عنابیہ: آپ کچھ ناشتہ وغیرہ
ڈاکٹر شیزاد : نہیں یار ،نیند سے بُرا حال ہے ،تھوڑا سو لو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین دن گزر چکے تھے۔ خوشی نے مکمل طورپر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ،وہ کچھ بھی بولنے کو تیار نہ تھی۔ اس کے پیٹ کا درد اب ٹھیک ہو چکا تھا ۔اس کے کلائیوں کے نشان بھی اب مٹ چکے تھے ۔مگر ایک نہ ختم ہو نے والی بے چینی اس کے اندر گھرکر گئی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ خود کشی کر لے مگر کیسے ؟ اس کو اپنے سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ کاش سدرہ کی ماں کی طرح کوئی اسے بھی ایسی دوا دے دے ۔جو اس کے سینے سے لگ جائے۔ وہ بھی مر جائے۔ اس کے دل و دماغ میں نائلہ کی بات بار بار گونج رہی تھی۔ عزت کی موت ، ذلت کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔ مگر یہ عزت کی موت ملے کیسے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔وہ غسل خانے میں کھڑی ،وہاں لگے شیشے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے اپنی قمیض کو اوپر اٹھایا اور اپنے پیٹ کو دیکھنے لگی۔وہ اور ذور ذور سے ہچکیاں لے کر رونے لگی ۔ جس نرس کی ڈیوٹی لگا کر ڈاکٹر شیزاد گئے تھے وہ غسل خانے کے باہر ہی کھڑی تھی ،رونے کی آوازسن کر اس نے دروازہ بجانا شروع کر دیا ۔
خوشی نے تھوڑی دیر بعد اپنے پیٹ پر سے ہاتھ ہٹایا ۔ دوسرے ہاتھ سے قمیض کا دامن چھوڑ دیا ۔ پھر دروازہ کھول کر باہر آ گئی ۔اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔
نرس بڑی عمر کی تھی ۔اس نے خوشی کو تسلی دی۔
نرس: بیٹا جو ہونا تھا ہو گیا ۔ اب رونے کا کیافائدہ ۔جو تقدیر میں لکھا ہو ،ہو کر رہتا ہے۔ اسی لیے مائیں بیٹی نہیں بیٹا مانگتی ہے۔ آہ ۔ ہا میری بیٹی نہ رو۔خوشی نے آنسو صاف کیے اور واپس بستر پر آگئی ۔ اسے اپنے جسم پر ہزاروں کیڑے رینگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔ کیا وہ نو ماہ بعد ماں بن جائے گی ۔ حرام کا بچہ ،پیدا کرے گی۔کیا ہو گا اس کا ۔ وہ لوگوں کو کیا بتائے گئی، یہ بچہ کس کا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں ایسےسوال چل رہے تھے ۔ جن کا کوئی جواب نہ تھا۔اس کے دل میں مراد کو لے کر بھی بُرے بُرے خیال آرہے تھے ۔ شاہد وہ مر گیا ہو ۔ کاش اُسے کچھ نہ ہوا ہو ۔ وہ مرادکو ناپسند ضرور کرتی تھی لیکن اس نے کبھی اس کا بُرا نہیں چاہ تھا۔
اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی ۔ وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ وہ اب اس گھر میں کبھی واپس نہیں جا سکتی ۔ وہ واپس جائے گئی تو سب کا سامنا کیسے کرئے گی؟
نرس: بیٹا یہ کھانا کھا لو۔
خوشی نے کچھ بولے بغیر گردن نہیں کا اشارہ کرتے ہوئے ہلا دی۔
نرس کھانے کی کی ٹرے واپس لے گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفق کی شادی ہو گئی تھی ۔ عمرآن فاروق کی جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ انہوں نے مہناز سے کہا تھا کہ جیسے ہی رفیق کا رذلٹ آئے ،انہیں اطلاع کی جائے۔ مہناز بھی کراچی واپس آنے کی تیاریوں میں مصروف تھیں ۔ شفق اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی بال بنا رہی تھی۔
ربیعہ: نانی کے مرنے سے تمہارے تو مزے ہو گئے۔
شفق: کیا بکواس کر رہی ہو ،کسی نے سنا تو کیا سوچے گا۔
ربیعہ : یہاں بڑا سارے غم سے نڈھال بیٹھے ہیں نا ، جو میری بات بُری لگے کی کسی کو ۔ہر ایک اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کیا۔
شفق : کاش امی کچھ دن اور ٹھہر جاتی۔
ربیعہ : وہاں نوکری ہے ان کی۔ بہت دن ہو گئے ہیں ۔ ہمیں یہاں ۔مجھے بھی پڑھنا ہے ۔ اب سب کے سب تو جہیز کے سامان کی طرح یہاں نہیں بیٹھ سکتے نا۔ ہاں تھوڑا کم ہی دیا ہے ،مگر ۔
شفق: بہت بڑی بڑی باتیں نہیں کرنے لگی ،میری چھوٹی سی بہن۔
فیصل : کمر ے میں آیا۔
شفق نے دوپٹہ سر پر لیا۔
فیصل : میں اگر کمرے میں نہ بھی ہوں تو دوپٹہ سر پر لینے کی عادت ڈالو۔ جو عورتیں سر پر دوپٹہ نہیں لیتی ،شیطان ان کے سر میں پیشاب کرتا ہے ،قیامت کے دن وہ کہے گا ۔ یہ عورت میری بیوی ہے۔
ربیعہ نے بھی سر پر دوپٹہ لیااور افسردگی سے فیصل کی طرف دیکھنے لگی۔ جو گاڑی کی چابی لے کر باہر چلا گیا۔
ربیعہ: آپی ، خیر منا لو ،ویسے ابھی تک کتنی کہانیاں سنائی ہیں، فیصل بھائی نے۔ قیامت کا منظر ،مرنے کے بعد کیا ہو گا۔وغیرہ وغیرہ
شفق: چپ کرو ،یہ نہ ہو ، پھر آ جائیں اور سن لیں ،تمہارے فیصل بھائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد: سمجھ نہیں آ رہا اس لڑکی کا کیا کروں ۔بولتی ہی نہیں کچھ ۔ایسے میں اس کے والدین کا کیسے پتہ چلے گا۔
عنابیہ : آپ اسے دارا لیمان میں میں کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔
ڈاکٹر شیزاد : اچھا ایڈیا ہے ۔ اب اور اسے ہوسپٹل میں نہیں رکھنا چاہیے ،وہ بلکل ٹھیک ہے۔بس بات جیت نہیں کرتی ۔
شایان:ڈیڈی بہت دن ہو گئے۔ آپ نے کہا تھا کہ سی ویو جائیں گئے ، ہر دفعہ آ پ کاکوئی کام نکل آتا ہے ، آپ چلتے ہی نہیں۔
آفان بھی شایان کے پیچھے پیچھے لاونچ میں داخل ہوا ،شایان کی بات اس نے بھی دوبارہ کہی ۔
ڈاکٹر شیزاد نے کہا ٹھیک ہے ، آج شام سی ویو کے نام۔جاو تیاری کرو۔ بچے خوشی خوشی کمرے سے چلے گئے۔
ڈاکٹر شیزاد : تمہاری جان پہچان ہے ،تم بات کر لو ۔دارالیمان میں ، میں اسے چھوڑ کر آ جاوں۔
عنابیہ : ہاں میں فون کر دیتی ہوں ،وقار صاحب کو۔
ڈاکٹر شیزادجانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔پھر پیچھے مڑ کر انہوں نے کہا۔پتہ بھی مجھے ایس ایم ایس کر دینا ۔
عنابیہ : اچھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانش : امی آپ کو پتہ ہے ، آنٹی مہناز کب واپس آ رہی ہیں؟
کلثوم: مجھے کیا پتہ۔یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔ مجنوں لگ رہے ہو۔ آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے کیا۔
دانش : کیوں ، کیا ہوا ہے ؟
کلثوم:تمہارا رذلٹ آ جائے پھر تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈنا شروع کر دوں گی میں۔
دانش: امی آپ نے شفق کو دیکھا ہے۔
کلثوم: مہناز کی بیٹی۔
دانش :جی
کلثوم: ہاں ، تمہیں وہ پسند ہے۔ہمارے گھر میں کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں وہ لوگ ۔ہمارے خاندان کے بھی نہیں ۔ کوئی آتا جاتا نہیں ہے ان کے ہاں ۔
دانش: تو کیا ہوا؟
کلثوم: اچھا ، میں تیرے باباسے بات کروں گی ۔ تمہاری خوشی میں میری خوشی ہے ۔ بس اپنا خیال رکھا کرو۔ صاف کرو یہ دھا ڑی ، مجھے میرا ہیرو بیٹا ہی پسند ہے۔
دانش : اچھا ۔ مسکراتے ہوئے۔
دانش چھت پر چلا جاتا ہے ، شفق کے خالی چھت کو دیکھتا ہے۔ دل ہی دل میں کہتا ہے ۔تم ہمیشہ کہتی تھی نا ،میں امی سے بات کروں تو میں نے کر لی ،پر تم کہاں غائب ہو۔ واپس آ جاو ،مجھے معاف کر دو۔مجھے پتہ ہے میں نے تمہیں دُکھ دیا ہے مگر میں تمہیں اتنی خوشیاں دوں گا کہ تم وہ پل بھر کا دُکھ بھول جاو گی۔ وہ اپنی جینز کے اندر سے چوڑیوں کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے نکال کر دیکھنے لگتا ہے ، کافی دیر تک انہیں دیکھنے کے بعد ایک نظر شفق کے گھر کی چھت پر ڈالتا ہے ،پھراپنے چھت سے نیچے اُتر جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر شیزاد ہر ممکن کوشش کر چکے تھے کہ خوشی اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ بتا دے ۔وہ کچھ بولنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ڈاکٹر شیزاد نےاس کی تصویر لینے کی کوشش کی ،اُسے بتایا کہ اس کی تصویر ٹی وی پر دیکھ کر شاہد اس کے ماں باپ اس تک رسائی حاصل کر لیں ۔ اس بات پر اس نے شدید غصہ کا اظہار کیاتھا ۔ ڈاکٹر شیزاد سمجھ گئے تھے کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جانا چاہتی ۔ وجہ کچھ بھی ہو ۔ اسے اپنے گھرکا نام سن کر ہی بے چینی ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے دارالیمان میں بھیجنے کا ارادہ کر لیا ۔
ڈاکٹر شیزاد: اسلام علیکم ،کیسی ہیں آپ بیٹا۔
خوشی اپنی خاموشی برقرار رکھتے ہوئے ،ایک نظر ڈاکٹر شیزاد پر ڈالتی ہے۔
ڈاکٹر شیزاد : بیٹا آپ اپنے گھر جانا نہیں چاہ رہی ،میں آپ کو ہوسپٹل میں رکھ نہیں سکتا ۔ آپ مریض نہیں ہیں اب۔ اس لیے آپ کو ایک جگہ چھوڑ آتا ہوں ۔ وہاں آپ کو دوست مل جائیں گئیں۔ ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر شیزاد نے جس نرس کو اس کے لیے نئے کپڑے اور جوتے لانے کے لیے رقم دی تھی، اس کو بلایا۔
ڈاکٹر شیزاد : آپ لے آئی ہیں،اس بچی کے ناپ کے کپڑے اور جوتے؟
نرس : جی ڈاکٹر صاحب ۔اس نے دراز کھول کر شاپر ڈاکٹر شیزاد کے حوالے کر دیا۔
خوشی نے ڈاکٹر شیزاد کے دیئے ہوئے نئےکپڑے لے لیے اور پہننے کے لیے چلی گئی۔
ڈاکٹر شیزاد نے اپنے فون پر دارالیمان کا پتہ دیکھا۔کچھ دیر بعدگاڑی کی فرنٹ سیٹ پر خوشی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔خوشی پہلی دفعہ کسی کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ، اس نے ڈاکٹر شیزاد کو سیٹ پر بیلٹ باندھتے دیکھا۔ پھر آگے دیکھنے لگی۔
ڈاکٹر شیزاد : میں آپ کو دارالیمان چھوڑنے جا رہا ہوں ،جہاں بہت سی بے سہارا عورتیں ،بچیاں رہتی ہیں ۔ وہ آپ کا بہت خیال رکھیں گئے۔
خوشی نے پھر ایک نظر ان کی طرف ڈال کر گردن دوسری طرف موڑ دی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ،اب جو بھی ہو دیکھا جائے گا ۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔اللہ نے اس کے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہونے دیا۔کیا اللہ ہے بھی یا نہیں ؟اگر ہے تو پھر سنتا کیوں نہیں ؟اگر سنتا ہے تو بچاتا کیوں نہیں ۔ایسے لگتا ہے سب جھوٹ ہی ہے ۔جب کوئی لڑکی نہ چاہتی ہو تو وہ ماں کیوں بنے ۔ اللہ نے حق کیوں نہیں دیا ۔حق دینا چاہیے نا۔ جب ہم نے گناہ ہی نہ کیا ہو تو سزا ملنا کہاں کا انصاف ہے ۔ میں نے تو ہر نماز کے بعد بھلائی مانگی تھی ،دنیا کی اور آخرت کی ۔ یہ بھلائی ملی ہے مجھے ۔ اس نے ایک آہ بھر کر اپنی انکھیں بند کی ہی تھی کہ گاڑی ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ رُک گئی ۔ ریڈ سگنل تھا۔ایک بھکارن گاڑی کے قریب آ کر چمٹ کر کھڑی ہو گئی۔ کتنی سوہنی ہے ،اللہ بہت دے ، پیچھے سے موٹر سائیکل والے نےآکر اس کی ٹانگوں کے پاس بریک لگائی تو وہ ڈاکٹر شیزادکی سائیڈ پر آ گئی۔
بھکارن: صاحب اپنی بیٹی کا صدقہ ہی دے دو ،کیسی پیاری ہے ۔اللہ بُری نظر سے بچائے ۔اس کی نیلی آنکھوں کا صدقہ ہی دے دو۔اللہ بچی کے نصیب اچھے کرئے گا ۔ رانی بن کر رہے ، کوئی دُکھ ، تکلیف چھو کر نہ گزرے ۔تیرا سایہ قائم رکھے تیری سوہنی پر ۔ اللہ باپ بیٹی میں محبت بنائے رکھے۔
ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کی طرف دیکھا ،جو بھکارن کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ خوشی کی نظروں میں افسردگی چھائی تھی ۔ ڈاکٹر شیزاد نے کچھ پیسے بھکارن کودے کر گاڑی آگے بڑھا دی ، خوشی کی انکھوں میں آنسو آ گئے۔ بھکارن مسلسل دوا خوشی کے لیے ہی دے رہی تھی۔ خوشی نے دل ہی دل میں سوچا ،کاش کہ اس کی غلط فہمی سچ ہو تی ۔وہ اپنے آنسوبہنے سے نہ روک سکی۔ ڈاکٹر شیزاد نے گاڑی روکی تو وہ ہچکیاں لے رہی تھی۔گاڑی رُک چکی تھی۔
ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کی آنکھوں کی طرف دیکھا ،جن سے آنسو بہہ رہے تھے ۔اس نے اپنے دوپٹہ سے آنسو صاف کیے۔
کچھ دیر گاڑی دارالیمان کے باہر کھڑی رہی ،خوشی نے سامنے عمارت پر لکھا ہوا دارالیمان دیکھا۔وہ انتظار کر رہی تھی۔مگر ڈاکٹر شیزاد نے اسے اُترنے کا نہیں بولا۔ڈاکٹر شیزاد نے گاڑی چلا دی۔ وہ حیران تھی۔ نہ جانے اب وہ کہاں جا رہے تھے۔ اس نے دیکھا۔ایک گھر آ چکا تھا ۔ ایک آدمی نے دروازہ کھولا گاڑی اندر داخل ہو گئی۔ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کو اُترنے کا کہا ،وہ گاڑی سے اُتر گئی۔
ڈاکٹر شیزادکے پیچھے پیچھے وہ پنگلہ کے اندر آ گئی ۔ اس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اِتنا بڑا اور خوبصورت گھر دیکھا تھا ۔ وہ غور غور سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی کہ شایان بھاگتا ہوا آیا۔
شایان؛ ڈیڈی وی آر ریڈی ۔چلیں ۔
ڈاکٹر شیزاد: او کے بچوں ، تم بھی تیار ہو؟
ڈاکٹر شیزاد نے عنابیہ کی طرف نگاہ ڈالی۔ جو صوفہ پر بیٹھی تھی ۔ڈاکٹر شیزاد نے خوشی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بھی صوفہ پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔
عنابیہ : ہاں مگر، آپ اسے چھوڑ کر نہیں آئے، کیوں ؟ اس کا کیا کریں گئے؟
ڈاکٹر شیزاد : یہ بھی ہمارے ساتھ چلے گی۔
شایان نے صوفہ پر بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔ اس نے اپنے ڈیڈی کی طرف دیکھا۔
شا یان: ڈیڈی یہ کون ہے؟
ڈاکٹر شیزاد:یہ غزل ہے بیٹا ،اپنی بڑی بہن ہی سمجھو اِسے ،اب یہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔
خوشی نے ڈاکٹر شیزاد کی طرف حیرت سے دیکھا ، عنابیہ نے سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا ،مگر بچوں کی موجودگی میں وہ کوئی بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔کچھ دیر میں سب سیر کے لیے نکل گئے۔
خوشی جب سی ویو پر پہنچی تو پہلی دفعہ سمندر کو دیکھ کر اس پر عجیب سی کیفیت چھا رہی تھی ، وہ اُٹھی ہوئی لہروں میں گم سم تھی ،جبکہ شایان اور آفان اپنے فٹ بال سے کھیل میں مگن تھے ۔ شایان نے ڈیڈی سے آئس کریم کی خواہش کی۔ ڈاکٹرشیزاد سب کے لیے آئس کریم لے کر آئے۔سب کو دینے کے بعد انہوں نے آئس کریم خوشی کی طرف بڑھائی ۔ جو گم سم کھڑی تھی۔ انہوں نےخوشی کو بلایا۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل ، یہ تمہاری آئس کریم ۔
خوشی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔
ڈاکٹر شیزاد : غزل۔
انہوں نے اس کے کندھے پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا ۔خوشی کے منہ سے بے اختیار(جی ) کا لفظ نکل گیا۔اس نے ڈاکٹر شیزاد کی طرف دیکھا۔ انہوں نے آئس کریم اس کی طرف بڑھا دی۔خوشی نے آئس کریم ان کے ہاتھ سے لے لی۔
ڈاکٹر شیزاد : بیٹا تم آئس کریم جلد کھا لو ورنہ پگھل جائے گئی۔
ان کے لہجے میں اس قدر نرمی تھی کہ اس کی توجہ سمندر سے ہٹ گئی۔ عنابیہ نے دھیرے سے کہا ، آپ نے اسے غزل کا نام کیوں دیا۔یہ ہماری بیٹی جیسی نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر شیزاد نے عنابیہ کی طرف چبھتی ہو ئی نگا ہ ڈالی ۔ اس بچی کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہوگئی ،ہم رات کو بات کرتے ہیں۔ اب یہ ہماری بیٹی کی حیثیت سے ہمارے ساتھ ہی رہے گئی ،جب تک میں زندہ ہو ں ،خوشی نے ڈاکٹر شیزاد اور عنابیہ کی باتوں کو غور سے سنا تھا۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔کیا اس بھکارن کی دعا قبول ہو گئی ۔ کیا واقعی مجھے اس آدمی نے بیٹی بنا لیا ہے ،خواہش کیا پوری بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن جب میرا بچہ ہو جائے گا تو کیا ہو گا ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ سمندر کا سارا سحر اس کے وجودسے دور ہو گیا ۔ مایوسی نے پھر اس کے دل میں گھر کر لیا۔دل کی اداسی کو پورے جہاں کی خوبصورتی بھی دور نہیں کر سکتی ۔سوائے اس کے کہ سوچ تبدیل ہو جائے۔خوشی کچھ اچھا سوچنے کو تیار نہ تھی۔خوشی سوچ رہی تھی ،کاش میرا حافظہ کھو جائے ۔ اس نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ وہ کس قدر ڈر پوک ہے ۔ وہ چاہ تو سکتی ہے کہ موت کو گلے لگا لے لیکن موت کو گلے لگا لنے کی ہمت اس میں نہیں ہے ۔ وہ تیزی سے اُٹھتی لہروں میں ڈوب جانے کی خواہش کر رہی تھی مگر جب انہوں نے اس کے پیروں کو چھوا تو اس نے اپنے پیر پیچھے کر لیے۔
ڈاکٹر شیزاد: غزل بیٹا ،جاو آپ بھی فٹ بال کھیلو۔
خوشی نے شا یا ن اور آفان کی طرف دیکھا ،جو فٹ بال کھیل رہے تھے ۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ لڑکوں کے ساتھ ۔مگر جب اس نے اس جگہ کا مکمل جائزہ لیا تو یہاں پر اسے لڑکی اور لڑکے کا کوئی تضاد نظر نہ آیا ۔ کیا سارے تضاد ان کے گھر ،محلے ، یا پھر غریب طبقے کی جاگیر ہوتے ہیں ۔ وہ سوچنے لگی۔شام گہری سے گہری ہو رہی تھی۔
ڈاکٹر شیزاد : شایان ، آفان چلو بچوں ،کچھ شاپنگ بھی کرنی ہے ہم نے۔
شا یان: ڈیڈی مجھے نئی گیم چاہیے۔
آفان : مجھے بھی۔ مجھے جوگرز بھی نئے چاہیں ۔ڈیڈی
ڈاکٹر شیزاد : شاپنگ صرف غزل کے لیے ہو گی ۔آپ لوگوں کے لیے نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182840 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
10 May, 2017 Views: 1419

Comments

آپ کی رائے