بیوی ہی زندگی ہے

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

مغربی معاشرہ کی تباہی کی ایک بڑی وجہیہ ہے کہ لوگ لفظِ بیوی یاوائف سے نفرتکرنے لگے ہیں ،خواتین بھی پروپیگنڈے کی زَدمیں آکر فرینڈ کہلوانا چاہتی ہیں،حالانکہ یہاُن کے خلاف بہت بڑی سازش ہے،جاھلیت کےزمانے میں جتنی غلط قسمیں جنسی تعلقاتکی تھیں وہ جاھلیتِ جدیدہ میں پھر سےآزمائی جارہی ہیں،جس کے بھیانک نتائجفیملی سسٹم پر سایہ فگن ہورہے ہیں،بیویکسی زمانے میں بیٹی ہوتی ہے، کبھی بہن،کبھی خالہ ،کبھی پھوپھو،کبھی ماں ، کبھیدادی اور نانی،کیا کوئی بیٹی، بھانجی،بھتیجی،بہن، خالہ، ماں ، پھوپھو، دادی اورنانی سے نفرت کا سچ سکتاہے!ذرہ راحیلوارثی صاب سے کوئی پوچھے، ماں کے جانےسے اُن کے منہ کی میٹھاس کیوں اور کہاںگئی ؟ہر شے کڑوی کڑوی سی کیوں لگتی ہے؟یہی ماں اُن کے والدِ مکرم کی بیگم تھی۔

ہمارے ایک نہایت باوقار دوست کی بیگمھسپتال میں چل بسی،وہ بیوی کی لاش چھوڑکر گھر کی طرف دوڑکر جانے لگا، موقع پرموجود بھائیوں نے پکڑکر سنبھالا،وہ باربارکہے جارہاتھا،ارے بھائی مجھے گھر جانےدو، بیوی کوتو بتادوں،دماغ ماؤوف ہوگیاتھا،اول فُول بکنے پے اُتر آگیا تھا،بہت سےلوگ اس صدمے سے پاگل بھی ہوجاتے ہیں۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں اوراپنی ازواج مطھرات سے بے پناہ محبتتھی،ایک صحابی نے اپنی ماں کے جانےاورکچھ عرصہ قبل والد کی رحلت کا غمناک اورنمناک تذکرہ کیا،آپ صلی الله علیہ وسلم نےاپنی ولادت باسعادت سے قبل والد کے انتقالاور بچپن ہی میں والدہ کے وصال کا اُن کوتفصیل سے ارشاد فرمایا اور بہت دیر تکروتے رہے۔

شیطانی قوتیں جب کسی قوم یا صنف کواپنے منحوس مقاصد کے لئے ہدفِ تنقید بناتیہیں، تو سب سے پہلے اُن کے خلاف پروپیگنڈہکرتی ہیں ،آج کل جسے دیکھیں محفل میں یاسوشل میڈیا میں بیویوں سے خلاصی اورشوہر کے لئے عذاب اور مصیبت کے طور پربیویوں پر لطائف وطرائف کا بازار گرم کئےہوئے ہیں۔

بیویاں شرفاء کی ہوتی ہیں، مادر پدر آزادمعاشروں میں یہ تصور بھی اور آزادی ئےنسواں کا تصور دونوں زہرِ قاتل ہیں،بیوی نہہوئی تو ماں کا تقدس ، بیٹی کا تقدس اوردیگر بہت سےمقدس رشتے خود بخود لا یعنی ہوجائیں گے، یہ ایک گہری سازش ہے اس سےاجتناب برتا جائے۔

یہ معاملہ صرف بیویوں کی تنقیص تک نہیںرہے گا، آگے چل کر میاں بیوی دونوں ٹارگٹہوں گے اور میاں بیوی کے یہ مقدس ناطے اگربے اعتمادی کے شکار ہوئے، تو خاندانی نظامکی عمارت دھڑام سے زمین بوسہوجائیگی،امام احمد بن حنبل نے ایک حسینپیرائے میں بیویوں کےساتھ نباہ کے کچھگُربتائے ہیں ، آئیے ملاحظہ فرمائیے ،پوسٹربناکر دیوار پر آویزاں کیجئیے،اور خانہ شادوآباد رکھیئے:
*میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیںکرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملےمیں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ*
لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہکرو
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہچاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سےواضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو۔
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کااحساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکوبتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اورمحبوب ہے۔
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھجائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورتہمیشہ رہتی ہے)۔
یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسیسے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخدراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہےگی اور محبت کو ختم کردے گی۔
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سےزیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے۔
لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہاٹھانا بھی جانتی ہیں ،دونوں صفات میںاعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائمرہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔
۴- عورتیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 490551 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
12 May, 2017 Views: 1354

Comments

آپ کی رائے
مظفریات
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
*بیوی ہی زندگی ہے*
مغربی معاشرہ کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ لفظِ بیوی یاوائف سے نفرت کرنے لگے ہیں ،خواتین بھی پروپیگنڈے کی زَد میں آکر فرینڈ کہلوانا چاہتی ہیں،حالانکہ یہ اُن کے خلاف بہت بڑی سازش ہے،جاھلیت کے زمانے میں جتنی غلط قسمیں جنسی تعلقات کی تھیں وہ جاھلیتِ جدیدہ میں پھر سے آزمائی جارہی ہیں،جس کے بھیانک نتائج فیملی سسٹم پر سایہ فگن ہورہے ہیں،بیوی کسی زمانے میں بیٹی ہوتی ہے، کبھی بہن، کبھی خالہ ،کبھی پھوپھو،کبھی ماں ، کبھی دادی اور نانی،کیا کوئی بیٹی، بھانجی، بھتیجی،بہن، خالہ، ماں ، پھوپھو، دادی اور نانی سے نفرت کا سچ سکتاہے!ذرہ راحیل وارثی صاب سے کوئی پوچھے، ماں کے جانے سے اُن کے منہ کی میٹھاس کیوں اور کہاں گئی ؟ہر شے کڑوی کڑوی سی کیوں لگتی ہے؟یہی ماں اُن کے والدِ مکرم کی بیگم تھی۔
ہمارے ایک نہایت باوقار دوست کی بیگم ھسپتال میں چل بسی،وہ بیوی کی لاش چھوڑ کر گھر کی طرف دوڑکر جانے لگا، موقع پر موجود بھائیوں نے پکڑکر سنبھالا،وہ باربار کہے جارہاتھا،ارے بھائی مجھے گھر جانے دو، بیوی کوتو بتادوں،دماغ ماؤوف ہوگیا تھا،اول فُول بکنے پے اُتر آگیا تھا،بہت سے لوگ اس صدمے سے پاگل بھی ہوجاتے ہیں۔
آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں اور اپنی ازواج مطھرات سے بے پناہ محبت تھی،ایک صحابی نے اپنی ماں کے جانےاور کچھ عرصہ قبل والد کی رحلت کا غمناک اور نمناک تذکرہ کیا،آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی ولادت باسعادت سے قبل والد کے انتقال اور بچپن ہی میں والدہ کے وصال کا اُن کو تفصیل سے ارشاد فرمایا اور بہت دیر تک روتے رہے۔
شیطانی قوتیں جب کسی قوم یا صنف کو اپنے منحوس مقاصد کے لئے ہدفِ تنقید بناتی ہیں، تو سب سے پہلے اُن کے خلاف پروپیگنڈہ کرتی ہیں ،آج کل جسے دیکھیں محفل میں یا سوشل میڈیا میں بیویوں سے خلاصی اور شوہر کے لئے عذاب اور مصیبت کے طور پر بیویوں پر لطائف وطرائف کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔
بیویاں شرفاء کی ہوتی ہیں، مادر پدر آزاد معاشروں میں یہ تصور بھی اور آزادی ئے نسواں کا تصور دونوں زہرِ قاتل ہیں،بیوی نہ ہوئی تو ماں کا تقدس ، بیٹی کا تقدس اور دیگر بہت سےمقدس رشتے خود بخود لا یعنی ہوجائیں گے، یہ ایک گہری سازش ہے اس سے اجتناب برتا جائے۔
یہ معاملہ صرف بیویوں کی تنقیص تک نہیں رہے گا، آگے چل کر میاں بیوی دونوں ٹارگٹ ہوں گے اور میاں بیوی کے یہ مقدس ناطے اگر بے اعتمادی کے شکار ہوئے، تو خاندانی نظام کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہوجائیگی،امام احمد بن حنبل نے ایک حسین پیرائے میں بیویوں کےساتھ نباہ کے کچھ گُربتائے ہیں ، آئیے ملاحظہ فرمائیے ،پوسٹر بناکر دیوار پر آویزاں کیجئیے،اور خانہ شاد وآباد رکھیئے:
*میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ*
لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو۔
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے۔
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)۔
یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے۔
لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں ،دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔
۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔
یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم۔لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا
۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔۔اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔۔۔۔۔۔جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا۔
۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع رکھناجائز ہے۔
لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی۔
۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے۔
یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔۔۔۔۔لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو۔۔۔۔۔۔اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغروراور متکبر ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے۔۔۔۔۔۔۔لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔
۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے۔۔۔
اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر،لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں۔۔۔بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا۔
۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے۔
بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے۔۔۔۔۔جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔
۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا۔
بس الله کے واسطے ہوش سے کام لیا کریں۔
By: المظفر, karachi on May, 20 2017
Reply Reply
2 Like