سورۃ الحدید۔۔۔آسان تفسیر

(Mehboob Hassan, Faisalabad)
سورۃ الحدید ۲۹ آیات پر مشتمل مدنی سورۃ ہے۔اگر ترقی روزگار کیلئے اس سورت کو ستر بار پڑھا جائے تمام کاروبارِ دنیاوی بخوبی سر انجام پائیں گے اور ہر کام میں رونق و برکت ہو گی۔اگر بیمار پر یہ سورت پڑھی جائے تو وہ اللہ کے فضل سے صحتیاب ہو گااور جو لکھ کر اپنے پاس رکھے ،درد اور بخار کیلئے یہ نقش نہایت مفید ہے۔
*رسولﷺ کی ایک حدیث میں منقول ہے کہ جو سورۃ حدید پڑھے گاوہ ان لوگوں کے زمرہ میں شمار ہو گاجو اللہ اور اسکے رسول(ﷺ)پر ایمان رکھتے ہیں۔
*ایک اور حدیث میں آپﷺ ہی سے منقول ہے کہ آپﷺ سونے سے پہلے مسّبحات(سورۃ حدید،حشر،صف،جمعہ اور تغابن) کی تلاوت فرماتے تھے،آپﷺ فرمایا کرتے تھے ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے۔

ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرتی ہے اور وہی سب پر غالب بڑا دانا ہے۔(۱)اسی کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے،وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔(۲)وہی اول ہے اور وہی آخر ،وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔(۳)وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا فرمایا پھر کائنات کی مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز ہوا( یعنی پوری کائنات کو اپنے امر کے ساتھ منظم فرمایا)،وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے(یعنی پانی اور بیج وغیرہ)اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے(نباتات اور معدنیات وغیرہ)اور جو کچھ آسمانی کرّ وں سے اترتا(یا نکلتا)ہے(یعنی بارش کا پانی اور ملائکہ وغیرہ) یا جو کچھ ان میں چڑھتا(یا داخل ہوتا)ہے(یعنی زمین سے دعائیں اور بخارات وغیرہ اوپر جاتے ہیں)،وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو،اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ(اسے)خوب دیکھنے والا ہے۔(۴)آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کیلئے ہے،اور سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔(۵)وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے،اور وہ سینوں کی(پوشیدہ)باتیں خوب جاننے والا ہے۔(۶)اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤ اوراس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے،پس تم میں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا ان کیلئے بڑا اجر ہے۔(۷)اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے،حالانکہ رسول(ﷺ)تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اوربیشک(اللہ)تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے ،اگر تم یقین کرنے والے ہو۔(۸)وہی ہے جو اپنے(محبوب)بندے پر واضح آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لیجائے اور بیشک اللہ تم پر مہربان ورحیم ہے۔(۹)اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم(اپنے مال)اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کیلئے ہے (تم تو فقط اس مالک کے نائب ہو)تم میں سے جنہوں نے فتح(مکہ)سے پہلے (اللہ کی راہ میں اپنا)مال خرچ کیا اور قتال کیاوہ(اور تم)برابر نہیں ہو سکتے،وہ(جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور قتال کیا)ان لوگوں سے درجہ میں بہت بلند ہیں جنہوں نے(فتح مکہ کے)بعد میں مال خرچ کیا اور قتال کیا،مگر اللہ نے حسنِ آخرت(یعنی جنت)کا وعدہ سب سے فرما دیا ہے اور اللہ اس سے جو کام تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے۔(۱۰)کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے اس (قرض)کو کئی گنا بڑھاتا رہے،اور اس کیلئے (اسکے علاوہ بھی)عظیم الشان اجر ہے۔(قرض حسن سے مراد وہ قرض ہے جو ایک مالدار شخص کسی ضرورت مند کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے دیتا ہے اور اس پر سود نہیں لیتا ۔)(۱۱)(اے حبیبﷺ!)جس دن آپ(اپنی امت کے)مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب تیزی سے چل رہا ہوگا(تو ان سے کہا جائے گا کہ)تمہیں بشارت ہو آج(تمہارے لئے)جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور تم ہمیشہ ان میں رہو گے،یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔(۱۲)(اور یہ وہ دن ہو گا)جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف شفقت کی نظر سے دیکھو تاکہ ہم بھی تمہارے نور(ایمان)کی روشنی حاصل کرلیں کہا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ(وہ لوٹیں گے)پس ان کے اور اہلِ ایمان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں(جنت کا)ایک دروازہ ہے، اس کے اندر کی طرف(اللہ کی)رحمت ہے اور اس دیوار کے باہر کی طرف عذاب ہے۔(۱۳)وہ(منافق)ان(مومنوں)کو پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟وہ کہیں گے کہ کیوں نہیں!لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے)فتنہ میں ڈال دیا تھا،اور تم(ہماری تباہی کا)انتظار کرتے رہے اور(دین اسلام میں)شک کرتے رہے اور جھوٹی امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا(یعنی موت)اور تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں دغاباز(شیطان)دھوکہ دیتا رہا۔(۱۴)پس آج تم(منافقوں)سے اور کفار سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور تم سب کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے اور یہی ٹھکانا تمہارا سرپرست ہے اور وہ نہایت بری جگہ ہے۔(۱۵) کیا ایمان لانے والوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیاکہ ان کے دل ذکر الہٰی سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق(یعنی قرآن)کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی(یعنی یہود ونصاریٰ)،پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی(اور توبہ نہ کی )تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر نافرمان بنے ہوئے ہیں۔(۱۶)جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے،ہم نے اپنی آیات تمہارے لئے واضح طور پر بیان کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔(۱۷)بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ دیا ان کیلئے اس میں(کئی گنا)اضافہ کر دیا جائے گا اور ان کیلئے بہترین اجر ہے۔( ۱۸)اور جو لوگ اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کیلئے ان کا اجراور ان کا ثواب ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ جہنمی ہیں۔(۱۹)جان رکھو کہ دنیوی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت و آرائش اور تمہارے آپس میں فخر اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب ہے اس کی مثال بارش کی سی ہے جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہوپھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور آخرت میں کافروں کیلئے عذاب شدید اور مومنوں کیلئے اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سازوسامان کے سوا کچھ نہیں ہے۔(۲۰) تم سب اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت زمین وآسمان کے برابر ہے جو ان لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائیں اور یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے۔(۲۱)کوئی مصیبت زمین میں اور تمہارے وجود میں نمودار نہیں ہوتی مگر یہ کہ زمین کی تخلیق سے پہلے سے لوحِ محفوظ میں ثبت ہے بیشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔(۲۲)یہ تقدیراسلئے ہے کہ جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس کا افسوس نہ کرو اور جو مل جائے اس پر غرور نہ کرو کہ اللہ اکڑنے والے مغرور افراد کو پسند نہیں کرتا۔(۲۳)جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو بھی اللہ(کے احکام )سے روگردانی کرے گا(منہ پھیرے گا)اسے معلوم رہے کہ اللہ سب سے بے نیاز اور قابلِ حمد وستائش ہے۔(۲۴)بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کیلئے فائدے بھی ہیں(یہ اسلئے کیا)تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اس کی اور اسکے رسولوں کی بن دیکھے مدد کرتا ہے؟بیشک اللہ بڑی قوت والا سب پر غالب ہے۔(۲۵)اور بیشک ہم نے نوح(علیہ السلام)اور ابراہیم(علیہ السلام)کو رسول بنا کر بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی،تو ان میں سے بعض تو ہدایت یافتہ ہوئے اور ان (لوگوں)میں سے اکثر نافرمان رہے۔(۲۶)پھر ہم نے ان رسولوں کے نقوشِ قدم پر(دوسرے)رسولوں کو بھیجا اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام)کو بھیجا اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جو ان (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)کی صیح پیروی کر رہے تھے شفقت اور رحمت پیدا کر دی اور رہبانیت(یعنی عبادت الہٰی کیلئے ترک دنیا اور لذتوں سے کنارہ کشی)کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی،اسے ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا،مگر(انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت)محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے شروع کی تھی پھر اسکی عملی نگہداشت کو جو حق تھا وہ اسکی ویسے نگہداشت نہ کر سکے(یعنی اسے اسی جذبہ اور پابندی سے جاری نہ رکھ سکی)،سو ہم نے ان لوگوں کوجو ان میں سے ایمان لائے(اور بدعتِ رہبانیت کو رضائے الہٰی کیلئے جاری رکھے ہوئے)تھے،ان کا اجروثواب عطا کر دیا اور ان میں سے اکثر لوگ(جو اسکے تارک ہو گئے اور بدل گئے)بہت نافرمان ہیں۔(۲۷)اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول(ﷺ)پر ایمان لے آؤوہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے نور پیدا فرما دے گا جس میں تم(دنیا اور آخرت میں)چلا کرو گے اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔(۲۸)(یہ بیان اسلئے ہے)کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا)فضل اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے۔(۲۹)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 28883 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2017 Views: 627

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ