سی ایس ایس کے نتائج جناب وزیر اعظم اب دیر کیوں؟

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

حالیہ سی ایس ایس کے نتائج انتہائی شرم ناک ہیں۔ صرف دو فی صد ہے۔ یہ سب کچھ انگریزی زبان کا شاخسانہ ہے ۔ اشرافیہ کب تک عوام اُن کی زبان سے محروم رہیں گے۔زبان انسان کا امتیازی وصف ہے۔اس وصف کے ذریعے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور پھر خیال،احساس اور جذبے کی تشکیل اور مؤثر ترسیل کے قرینے اس کی دسترس میں آجاتے ہیں۔ یوں فرد کی محدود دُنیا اجتماعیت کے بڑے دائرے میں شامل ہو جاتی ہے۔سماج کی تشکیل اور تعمیر زبان کی منت گزار ہے۔ کوئی بھی سماج یا سماجی ادارہ زبان کے فیضان کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ تہذیب اور تمدن کے قالب میں بھی روح کی حیثیت زبان کو ہی حاصل ہے؛کیوں کہ زبان وسیلہ اظہار بھی ہے اور خیال وفکر کی کارگہ بھی۔انسانوں کے مختلف النوع اور ہمہ رنگ تجربات،احساسات اور خیالات زبان کے وسیلے سے عام ہو کر سماج، تہذیب اور تمدن کی ثروت میں اضافہ کرتے ہیں۔ زبان کی حیثیت ایک دریائے سبک خرام کی سی ہے۔ جس طرح مختلف ندی نالوں کا پانی دریا میں شامل ہو کر اس کی روانی کو برقرار رکھتا ہے اسی طرح زبان اظہار وبیان کے قرینوں میں مختلف زمانوں اور ذہنوں کا رنگ رس شامل ہو کر اس کے دائرہ ابلاغ کو وسعت آشنا کرتا ہے۔زبان عہد بہ عہد کے تغیرات سے دوچار ہوتی ہےْ اس کے پرانے،ازکار رفتہ اور فرسودہ عناصرمتروک قرار پاتے ہیں اور نئے،تازہ اور توانا عناصر اس کے وجود کا حصّہ بن کر اس کی اظہاری لیاقت کو دو چند کر دیتے ہیں۔زندہ زبانیں ایک دوسرے سے اخذ واستفادہ کر کے ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہیں۔ زبانوں کے اس اشتراکِ عمل سے لفظ ومعنی کے نئے تناظر،تفہیم وتجزیہ کے تازہ پیکر اور اظہار وبیان کے جدید اسالیب ہاتھ آتے ہیں۔ جامد اور محدود زبانیں زیادہ دیر سماج کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتیں۔ وہ لوگوں کے درمیان رسمی مکالمے کا فریضہ تو کسی حد تک پورا کرتی رہتی ہیں مگر انسانوں کے جذبوں، خیالوں، خوابوں اور تمناؤں کو شعر وادب کے لباس میں ڈھالنے اور انھیں نقشِ بقا بنانے سے قاصر وعاجز رہتی ہیں۔ جمود اور محدودیت کا دیمک انھیں اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کرتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ سماج کے منظر نامے سے دُور ہٹتی جاتی ہیں۔اُردو اپنے صوتیاتی ڈھانچے اور ذخیر? لفظیات کے اعتبار سے بین الاقوامی مزاج کی حامل ہے۔ اس کی تعمیر وتشکیل میں مختلف زبانوں اور بولیوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت،ہندی اور دوسری بولیوں اور پراکرتوں کے اشتراکِ عمل نے اسے بہت جلد ایک توانا اور مستحکم زبان کی حیثیت عطا کر دی،بعد کے سفر میں انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں سے اخذ و استفادے نے اس کے لسانی اور ادبی سرمائے کو مزید کشادگی بخشی ہے۔اُردو اگرچہ دوسری زبانوں کے اختلاط اور اشتراک سے متشکل ہوئی ہے تاہم اس کے باوصف وہ کسی ایک زبان کی مقلد یا تابعِ مہمل نہیں۔ دوسری زبانوں کے عمل دخل کے باوجود اس کا اپنا ایک منفرد لب و لہجہ اور مزاج ہے۔دوسری زبانوں سے اس نے بے پناہ فائدے حاصل کیے ہیں؛بہ قول ڈاکٹر فرمان فتح پوری:’’دیگر زبانوں کے اس اختلاط اور دخیل الفاظ کے اس طریقِ کار سے اُردو گھاٹے میں نہیں رہی بلکہ اس میں ایک ایسی وسعت، قوت اور روانی پیدا ہو گئی ہے کہ ادیب وشاعر کو ہر قسم کے خیالات کو نئے نئے ڈھنگ سے ادا کرنے اور صحیح وموزوں لفظ کے انتخاب میں جو سہولت ہے وہ شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہ ہو۔ مخلوط ہونے سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ نئے الفاظ بنانے اور ترکیب دینے کے لیے ایک وسیع میدان ہاتھ آجاتا ہے۔ایک ایسی زبان کے لیے جو علمی وادبی ہونے کی آرزو رکھتی ہے، یہ بہت بڑی چیز ہے.جسٹس ایس جواد خواجہ نے اردو زبان کے حوالے مندرجہ ذیل فیصلہ دیا ہے۔"یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل251 میں درج آئینی تقاضا پورا کرنے کی خاطر اردو میں تحریر کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے‘‘بھی ہم آرٹیکل251 کے مندرجات کی اہمیت کی طرف توجہ دلا چکے ہیں اور سرکاری امور میں قومی زبان اور صوبائی)میں 1880 SCMRزبانوں کی ترویج کی اہمیت کو اُجاگر کر چکے ہیں۔ مقدمہ بعنوان حامد میر بنام وفاقِ پاکستان ((2013 پہلے بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ‘‘عدالتی کارروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنتِاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے۔ اور اکثرفاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی انتہائی پیچیدہ اور ناقابلِ فہم معلوم ہوتے ہیں۔ یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آرٹیکل 251 کے عدم نفاذکا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پرلاگوہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گیے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب اُن سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں، بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزتِ نفس کا مطالبہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا بھی تقاضا ہے۔ ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا، جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ یہاں برصغیر پاک و ہند میں آریائی عہد میں حکمران طبقے نے قانون کو سنسکرت کے حصار میں محدود کر دیا تا کہ برہمنوں، شاستریوں اور پنڈتوں کے سوا کسی کے پلے کچھ نہ پڑے۔ بعد میں درباری اور عدالتی زبان ایک عرصہ تک فارسی رہی جو بادشاہوں، قاضیوں اور رئیسوں کی تو زبان تھی لیکن عوام کی زبان نہ تھی۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیرِ سایہ ہماری مقامی اور قومی زبانوں کی تحقیر کا ایک نیا باب شروع ہوا جو بدقسمتی سے آج تک جاری ہے۔ اور جس کے نتیجہ میں ایک طبقاتی تفریق نے جنم لیا ہے جس نے ایک قلیل لیکن قوی اور غالب اقلیت (جو انگریزی جانتی ہے اور عنانِ حکومت سنبھالے ہوئے ہے) اور عوام الناس (جو انگریزی سے آشنا نہیں) کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جو کسی بھی طور قومییک جہتی کے لیے سازگار نہیں۔ آئین پاکستان البتہ ہمارے عوام کے سیاسی اور تہذیبی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنھوں نے آرٹیکل 251 اور آرٹیکل 28 میں محکومانہ سوچ کو خیر باد کہ دیا ہے، اور حکمرانوں کو بھی تحکّمُانہ رسم و رواج ترک کرنے اور سُنتِ خادمانہ اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ آئین کی تشریح سے متعلق فیصلے اُردو میں سُنانا یا کم از کم ان کے تراجم اردو میں کرانا اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اسی کڑی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک شعبہ تراجم بھی قائم کیا ہے جو عدالتی فیصلوں کو عام فہم زبان میں منتقل کرتا ہے’’۔یہاں اس امر کا اعادہ نہایت ضروری ہے کہ یہ ہماری پسند نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اردو کو بطور سرکاری زبان اور برائے دیگر امور یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔ ’’ قائداعظم نے اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان کیوں قرار دیا؟ اس دانش کے پیچھے کیا حکمت کارفرما تھی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ان کا سابقہ گجراتی سے پڑا تو پھر اس کے بعد آخری عمر تک انگریزی سے۔ قائد نے یہ فیصلہ دل کے بجائے دماغ سے کیا تھا۔ اگر اردو ان کی مادری زبان ہوتی اور ان کا واسطہ رہتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انھوں نے اپنی زبان کو اہمیت دی۔ چند سطحی ذہن کے لوگ سرزمین بنگال پر قائد کے اس فیصلے کو نامناسب قرار دیتے ہیں جب کہ عقل و منطق کے لحاظ سے ان کی دلیل ماند پڑ جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ قائد کا فیصلہ کتنا صحیح تھا۔ اردو رابطے کی زبان ہے اور پاکستان کو یکجا رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ایک سندھی اور پنجابی ساتھ بیٹھے ہوں تو وہ کس زبان میں بات کریں گے؟ اردو میں۔ اگر بنگالی اور پٹھان ہم سفر ہوں تو ان کی گفتگو کا ذریعہ کیا ہوگا؟ اگر ایک کشمیری اور بلوچ ایک دفتر میں کام کر رہے ہیں تو کیا وہ اشاروں کی مدد سے بات کریں گے؟ اس رابطے کی زبان کو قائد نے قومی زبان قرار دیا جسے بنگالیوں کی اکثریت نہ سمجھ سکی۔ چونکہ قائد نے اردو کے حوالے سے سب سے پہلی بات سرزمین بنگال پر کہی اسی لیے ہم تجزیہ کرتے ہیں کہ کون کس حد تک درست ہے۔بنگالی جانتے تھے کہ علیحدہ وطن کے لیے ان کی جدوجہد پنجابیوں، پٹھانوں، سندھیوں، بلوچوں اور کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اگر بنگالیوں کو اپنی ثقافت و تہذیب و زبان سے اتنا ہی لگاؤ تھا تو انھیں مغربی بنگال سے الگ ہونے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے صوبے کو دو حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ ان کی اپنی رضامندی سے ہوا تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب بنگالیوں کے پاس دو راستے تھے۔ ہندوستان کے ویسٹ پاکستان کے مہمان یا ویسٹ بنگال کے بنگالی۔ مغربی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے، حج کرتے اور عمرے پر جاتے۔ وہ چاہتے تو پنجابیوں اور سندھیوں سے زکوٰۃ لیتے اور دیتے۔ اگر خواہش ہوتی تو پختون و بلوچوں کو رشتہ دیتے اور لیتے۔ یہ سارے کام وہ اپنے ہندو بنگالیوں کے ساتھ نہیں کرسکتے تھے۔ بنگالیوں کے پاس دوسرا راستہ کیا تھا؟وہ چاہتے تو اپنے بنگال کو متحد رکھتے اور ہندوستان کے ایک صوبے کے طور پر ان کے ساتھ زندگی گزارتے۔ اس طرح بنگال کی ثقافت، تہذیب و زبان دو حصوں میں نہ بٹتی۔ بنگالی مسلمان اس طرح اپنے ہندو بنگالی بھائیوں کے ساتھ مل کر مچھلی چاول کھاتے اور سونار بنگلہ کا نعرہ لگاتے۔ اسی طرح وہ ان کے ساتھ کشتی میں سفر کرتے اور ساڑھی و دھوتی کے کلچر کو پروان چڑھاتے۔ یہ وہ دوسرا راستہ تھا جس پر چل کر بنگالی مسلمان اپنے ہندو بنگالیوں کے ساتھ مل کر رابندر ناتھ ٹیگور اور نذرالاسلام کو پڑھتے۔ ان دو راستوں میں سے بنگالیوں نے پہلا راستہ چنا۔ انھوں نے مذہب کے نام پر اپنے صوبے کا بٹوارا کرکے ہندو مذہب کو ماننے والے بنگالیوں سے اپنے آپ کو الگ کرلیا۔ انھوں نے مغربی پاکستان کے پنجابی مسلمانوں، کلمہ گو سندھیوں، حج پر جانے والے بلوچوں، عمرہ کرنے والے کشمیریوں اور روزہ رکھنے والے پٹھانوں کے ساتھ اپنا رشتہ اور راستہ جوڑا۔ کیا بنگالی منزل پانے کے بعد الجھن کا شکار ہوگئے تھے؟قائداعظم جیسے عظیم مفکر و دانشور تو کیا ایک عام آدمی بھی بنگالیوں کے اس فیصلے کو دیکھ کر سمجھ سکتا تھا کہ بنگالی ایک وطن کی خاطر وقتی طور پر اپنی زبان و تہذیب کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ بنگالی یہ نہ کرسکے۔ آبادی، آبادی 54 فیصد آبادی کا ڈھول اتنی زور سے پیٹا گیا کہ اس شور میں سب آوازیں دب کر رہ گئیں۔ آج ان کی آبادی ہم سے کم ہے۔ اب اسے کیا نام دیں؟ قسمت کے کس خانے میں ڈالیں۔کیا اردو مغربی پاکستان کی زبان تھی؟ یہ سب کی زبان تھی اور کسی کی زبان نہ تھی۔اس دور میں بہت زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی۔ کراچی، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، حیدر آباد، پشاور اور کوئٹہ کی آبادی ملاکر بھی تیس لاکھ نہ تھی۔ تین کروڑ کی آبادی میں اس کا تناسب بہت ہی کم تھا۔ نوے فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی۔ دیہاتوں کی زبان کون سی ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ پنجاب میں پنجابی، سندھ میں سندھی، کشمیر میں کشمیری اور بلوچستان میں بلوچی بولی جاتی ہوگی۔ اردو تو رابطے کی زبان تھی۔ یوں اردو کو مغربی پاکستان کی زبان کہہ کر زیادہ آبادی پر کم آبادی والوں کی زبان تھوپنے کا الزام عائد کیا گیا۔ صوبائی خودمختاری کا نقطہ بنگالی نہ سمجھ سکے۔ یہ طے تھا کہ مشرقی پاکستان کی صوبائی زبان بنگالی ہوگی۔ ان کے صوبے میں اس زبان کو لاگو کرنے سے انھیں کس نے روکا تھا۔ سائن بورڈ سے لے کر درود و استغفار تک بنگالی میں ہوتے۔ انھیں اپنی صوبائی اسمبلی میں بنگالی میں تقریر کرنے سے کس نے منع کیا تھا۔ہندوستان کی قومی زبان ہندی قرار پائی۔ اس کے خلاف تو کلکتے کے بنگالیوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ویسٹ بنگال کی اسمبلی نے مطالبہ نہیں کیا کہ بنگالی کو بھی ہندی کی طرح قومی زبان بنایا جائے۔ جس طرح بھارت میں ہندی رابطے کی زبان ہے اسی طرح پاکستان میں اردو زبان رابطے کی زبان ہے۔ اس کا خواہ مخواہ دوسری علاقائی زبانوں سے ٹکراؤ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ہماری وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو ہم پچھلی ایک صدی سے دیکھتے آرہے ہیں۔ ہندی کو اردو سے متصادم قرار دیا گیا۔ غیر منقسم ہندوستان میں کھجور کے درخت اور اونٹ کو اسلام اور گائے اور پیپل کے درخت کو ہندوازم سے وابستہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں بنگالی اور اردو کو خوامخواہ ایک دوسرے سے مقابل سمجھا گیا۔ اب پچھلی نصف صدی سے اردو کے فروغ کی بات کی جائے تو اسے انگریزی سے دوری اختیار کرنے کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ محمد علی جناح کی پیدائش ایک گجراتی خاندان میں ہوئی تھی۔ پارسی، گھانچی، بوہری، ترک، میمن کے علاوہ احمد آباد کے رہنے والے ہندو زبان بولتے ہیں جیسے گاندھی جی۔ اردو سے قائداعظم کی واقفیت اسکول کے زمانے تک تو نظر نہیں آتی۔ سندھ مدرس الاسلام میں انگریزی اور سندھی پڑھی۔ انگلینڈ گئے تو صرف اور صرف انگلش۔ وکیل بنے تو اس زبان سے واقف ہوئے جو قانون کی زبان کہلاتی ہے۔ جب سیاست میں آئے تو اس راہ کے مسافر اس دور میں وہ ہوتے جو انگریزی سے واقف ہوتے۔ قائد کی تقریر سنتے ہوئے جب دیہاتی سے پوچھا گیا کہ تم کیوں تالیاں بجا رہے ہو؟ اس کا جواب تھا کہ ’’میں اس آدمی کی زبان تو نہیں سمجھ رہا لیکن یہ جانتا ہوں کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سچ ہے۔‘‘ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل قائد نے اپنی تقریر میں اردو میں چند جملے ادا کیے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے حلف برداری کی تقریب کے بعد کی تقاریر بھی انگریزی میں تھیں۔ فاطمہ جناح کے ساتھ گھر میں عموماً گجراتی اور انگریزی میں گفتگو ہوتی۔قائداعظم نے اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان کیوں قرار دیا؟ اس دانش کے پیچھے کیا حکمت کارفرما تھی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن میں ان کا سابقہ گجراتی سے پڑا تو پھر اس کے بعد آخری عمر تک انگریزی سے۔ قائد نے یہ فیصلہ دل کے بجائے دماغ سے کیا تھا۔ اگر اردو ان کی مادری زبان ہوتی اور ان کا واسطہ رہتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انھوں نے اپنی زبان کو اہمیت دی۔ چند سطحی ذہن کے لوگ سرزمین بنگال پر قائد کے اس فیصلے کو نامناسب قرار دیتے ہیں جب کہ عقل و منطق کے لحاظ سے ان کی دلیل ماند پڑ جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ قائد کا فیصلہ کتنا صحیح تھا۔

اردو رابطے کی زبان ہے اور پاکستان کو یکجا رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ایک سندھی اور پنجابی ساتھ بیٹھے ہوں تو وہ کس زبان میں بات کریں گے؟ اردو میں۔ اگر بنگالی اور پٹھان ہم سفر ہوں تو ان کی گفتگو کا ذریعہ کیا ہوگا؟ اگر ایک کشمیری اور بلوچ ایک دفتر میں کام کر رہے ہیں تو کیا وہ اشاروں کی مدد سے بات کریں گے؟ اس رابطے کی زبان کو قائد نے قومی زبان قرار دیا جسے بنگالیوں کی اکثریت نہ سمجھ سکی۔ چونکہ قائد نے اردو کے حوالے سے سب سے پہلی بات سرزمین بنگال پر کہی اسی لیے ہم تجزیہ کرتے ہیں کہ کون کس حد تک درست ہے۔بنگالی جانتے تھے کہ علیحدہ وطن کے لیے ان کی جدوجہد پنجابیوں، پٹھانوں، سندھیوں، بلوچوں اور کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اگر بنگالیوں کو اپنی ثقافت و تہذیب و زبان سے اتنا ہی لگاؤ تھا تو انھیں مغربی بنگال سے الگ ہونے کی ضرورت نہ تھی۔ اپنے صوبے کو دو حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ ان کی اپنی رضامندی سے ہوا تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب بنگالیوں کے پاس دو راستے تھے۔ ہندوستان کے ویسٹ پاکستان کے مہمان یا ویسٹ بنگال کے بنگالی۔ مغربی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے، حج کرتے اور عمرے پر جاتے۔ وہ چاہتے تو پنجابیوں اور سندھیوں سے زکوٰۃ لیتے اور دیتے۔ اگر خواہش ہوتی تو پختون و بلوچوں کو رشتہ دیتے اور لیتے۔ یہ سارے کام وہ اپنے ہندو بنگالیوں کے ساتھ نہیں کرسکتے تھے۔ بنگالیوں کے پاس دوسرا راستہ کیا تھا؟وہ چاہتے تو اپنے بنگال کو متحد رکھتے اور ہندوستان کے ایک صوبے کے طور پر ان کے ساتھ زندگی گزارتے۔ اس طرح بنگال کی ثقافت، تہذیب و زبان دو حصوں میں نہ بٹتی۔ بنگالی مسلمان اس طرح اپنے ہندو بنگالی بھائیوں کے ساتھ مل کر مچھلی چاول کھاتے اور سونار بنگلہ کا نعرہ لگاتے۔ اسی طرح وہ ان کے ساتھ کشتی میں سفر کرتے اور ساڑھی و دھوتی کے کلچر کو پروان چڑھاتے۔ یہ وہ دوسرا راستہ تھا جس پر چل کر بنگالی مسلمان اپنے ہندو بنگالیوں کے ساتھ مل کر رابندر ناتھ ٹیگور اور نذرالاسلام کو پڑھتے۔ ان دو راستوں میں سے بنگالیوں نے پہلا راستہ چنا۔ انھوں نے مذہب کے نام پر اپنے صوبے کا بٹوارا کرکے ہندو مذہب کو ماننے والے بنگالیوں سے اپنے آپ کو الگ کرلیا۔ انھوں نے مغربی پاکستان کے پنجابی مسلمانوں، کلمہ گو سندھیوں، حج پر جانے والے بلوچوں، عمرہ کرنے والے کشمیریوں اور روزہ رکھنے والے پٹھانوں کے ساتھ اپنا رشتہ اور راستہ جوڑا۔ کیا بنگالی منزل پانے کے بعد الجھن کا شکار ہوگئے تھے؟قائداعظم جیسے عظیم مفکر و دانشور تو کیا ایک عام آدمی بھی بنگالیوں کے اس فیصلے کو دیکھ کر سمجھ سکتا تھا کہ بنگالی ایک وطن کی خاطر وقتی طور پر اپنی زبان و تہذیب کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ بنگالی یہ نہ کرسکے۔ آبادی، آبادی 54 فیصد آبادی کا ڈھول اتنی زور سے پیٹا گیا کہ اس شور میں سب آوازیں دب کر رہ گئیں۔ آج ان کی آبادی ہم سے کم ہے۔ اب اسے کیا نام دیں؟ قسمت کے کس خانے میں ڈالیں۔کیا اردو مغربی پاکستان کی زبان تھی؟ یہ سب کی زبان تھی اور کسی کی زبان نہ تھی۔اس دور میں بہت زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی۔ کراچی، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، حیدر آباد، پشاور اور کوئٹہ کی آبادی ملاکر بھی تیس لاکھ نہ تھی۔ تین کروڑ کی آبادی میں اس کا تناسب بہت ہی کم تھا۔ نوے فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی تھی۔ دیہاتوں کی زبان کون سی ہوتی ہے؟ ظاہر ہے کہ پنجاب میں پنجابی، سندھ میں سندھی، کشمیر میں کشمیری اور بلوچستان میں بلوچی بولی جاتی ہوگی۔ اردو تو رابطے کی زبان تھی۔ یوں اردو کو مغربی پاکستان کی زبان کہہ کر زیادہ آبادی پر کم آبادی والوں کی زبان تھوپنے کا الزام عائد کیا گیا۔ صوبائی خودمختاری کا نقطہ بنگالی نہ سمجھ سکے۔ یہ طے تھا کہ مشرقی پاکستان کی صوبائی زبان بنگالی ہوگی۔ ان کے صوبے میں اس زبان کو لاگو کرنے سے انھیں کس نے روکا تھا۔ سائن بورڈ سے لے کر درود و استغفار تک بنگالی میں ہوتے۔ انھیں اپنی صوبائی اسمبلی میں بنگالی میں تقریر کرنے سے کس نے منع کیا تھا۔ہندوستان کی قومی زبان ہندی قرار پائی۔ اس کے خلاف تو کلکتے کے بنگالیوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ویسٹ بنگال کی اسمبلی نے مطالبہ نہیں کیا کہ بنگالی کو بھی ہندی کی طرح قومی زبان بنایا جائے۔ جس طرح بھارت میں ہندی رابطے کی زبان ہے اسی طرح پاکستان میں اردو زبان رابطے کی زبان ہے۔ اس کا خواہ مخواہ دوسری علاقائی زبانوں سے ٹکراؤ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ہماری وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو ہم پچھلی ایک صدی سے دیکھتے آرہے ہیں۔ ہندی کو اردو سے متصادم قرار دیا گیا۔ غیر منقسم ہندوستان میں کھجور کے درخت اور اونٹ کو اسلام اور گائے اور پیپل کے درخت کو ہندوازم سے وابستہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں بنگالی اور اردو کو خوامخواہ ایک دوسرے سے مقابل سمجھا گیا۔ اب پچھلی نصف صدی سے اردو کے فروغ کی بات کی جائے تو اسے انگریزی سے دوری اختیار کرنے کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔اگر ہمیں ایک وطن میں متحد رہنا ہے تو ہمیں اتحاد والی باتوں کو فروغ دینا ہوگا۔ جس طرح قومی پارٹیاں، ریڈیو پاکستان، ریلوے، کرکٹ، ہاکی اور پی ٹی وی ہمارے اتحاد کی علامتیں ہیں اسی طرح اردو بھی اتحاد کی علامت ہے۔ آج ہم بڑی آسانی سے ایک ارب ہندوؤں سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ جسے ہم اردو کہتے ہیں اسے وہ ہندی کہتے ہیں۔ ہمارے پاس پندرہ کروڑ بنگلہ دیشی مسلمانوں سے رابطے کی کوئی زبان نہیں کہ اردو سے وہ دور ہوگئے۔ ان کی بنگالی کہیں نہیں بھاگی جا رہی تھی۔ آج بنگلہ دیشی اردو سے ناواقفیت کی بنا پر پاک و ہند کے ڈیڑھ ارب انسانوں سے رابطے میں نہیں ہیں۔ ٹی وی پر جس آسانی سے بھارتی و پاکستانی بات کرسکتے ہیں وہ بے تکلفی سابقہ مغربی پاکستانیوں سے نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225602 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
16 May, 2017 Views: 554

Comments

آپ کی رائے