ریچھ اور کتوں کی لڑائی

(Rafi Abbasi, )
ریچھ اور کتوں کی لڑائی کا ظالمانہ کھیل جو قدیم دور سے چلا آرہا ہے،

ریچھ اور کتوں کی لڑائی ایک خونی کھیل ہے جس میں ریچھ کو اذیت ناک صورت حال کاسامنا کرنا پڑتا ہے، تفریح طبع کی خاطر ریچھ کی خوں خوار کتوں سے جنگ کرائی جاتی ہے۔ قدیم رومی شہنشاہوں نے اپنی وحشیانہ جبلت کی تسکین کے لیے سانڈ اور انسان کی لڑائی کا خونی کھیل شروع کیا تھا، جسے ’’بل فائٹنگ ‘‘ کا نام دیا گیا، تہذیب و تمدن کے گہوارے، برطانیہ میں ’’ریچھ اور کتوں‘‘ کی لڑائی کا آغاز کیا گیا، جوبعد میں ریچھ اور بنو آدم کے درمیان جسمانی مقابلوں میں تبدیل ہوگئی۔سولہویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والا یہ کھیل برطانیہ میں تین صدی تک خاصامقبول رہاجب کہ ملکہ برطانیہ اور انگریز شہنشاہ کے لیے خصوصی طور سے اس لڑائی کا انعقاد کیا جاتا تھا۔اس مقصد کے لیے دوردراز ممالک کے جنگلات سے ریچھ لائے جاتے تھے جنہیں کتوں سے لڑنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس لڑائی کیلئے جو میدان یا اَکھاڑے ہوتے تھے انہیں ’’ریچھوں کے باغ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا، جن میں ایک فصیل کے اندر بڑا گڑھا ہوتا تھا جس کے چاروں طرف اونچائی پر تماشائی بیٹھتے تھے۔ اَکھاڑے میں ایک کھمبے کے ساتھ ریچھ کھڑا ہوتا تھا، جس کی گردن یا ٹانگوں میں زنجیر پڑی ہوتی تھی، فصیل کی دیوار کے ساتھ درجنوں لڑاکا کتے اپنے رکھوالوں کےساتھ بیٹھے ہوتے تھے، جن میں زیادہ ترخوف ناک شکل کے بلڈاگ ہوتے تھے۔ لڑائی کے دوران جب کوئی کتا تھک جاتا، زخمی یا ہلاک ہو جاتا تو دوسرا تازہ دم کتا اس کی جگہ لے لیتا۔ طویل عرصے تک لندن میں ریچھ کا مرکزی باغ پیرس گارڈن میں تھا جو ’’سائوتھ وارک‘‘ کے جنوب میں دریا کے کنارے واقع تھا۔
انگریزشہنشاہ ہنری ہشتم اس لڑائی کا رسیا تھا جس نے اس مقصد کیلئے وائٹ ہال میں گڑھا کھدوا کر اَکھاڑہ بنوایا تھا۔ ملکہ الزبتھ اوّل بھی ریچھ اور کتوں کی لڑائی کی دلدادہ تھی اور کاؤنٹیزکے دوروں کے دوران باقاعدگی سےاس کی تفریح طبع کے لیے ان مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پارلیمنٹ نے اتوارکو مقدس دن قرار دے کر، اس روز ریچھوں کی لڑائی پر پابندی کابل پیش کیا تو ملکہ نے اُسے مسترد کر دیا۔ 1575ء میں لیسسٹر شائر کے ایک اعلی عہدیدار رابرٹ ڈیوڈلی نے ملکہ کی آمد کے موقع پر کیسل ورتھ کے قلعے میں ایسی ہی ایک لڑائی کا اہتمام کیا جس کے لئے ایرینا کے باہر لاتعداد اعلیٰ نسل کے لڑاکا کتے لاکر باندھے گئے جب کہ اس کے اندر 13ریچھوں کو زنجیروں سے جکڑ کر رکھا گیا تھا۔ ملکہ کی آمد کے بعد ریچھ اور کتوں کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھایا گیا تاکہ وہ روبرو بیٹھ کر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کر سکیں اور حملے کے مقامات کا تعین کرسکیں۔ بعدازاں ان ریچھوں کو اَکھاڑے میں لے جایا گیا اور تیرہ ریچھوں سے لڑنے کیلئے 39کتوں کو چھوڑا گیا۔ ایک ریچھ کے مقابلے میں تین کتے تھے جن میں سے ایک ریچھ کی ٹانگ پر کاٹتا، دوسرا اس کے تھوتھنی پر حملہ آور ہوتا جب کہ تیسرا اس کی کمر پر چڑھ کر سر پر کاٹنے کی کوشش کرتا، ریچھ بھی ان کا بہادری سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ مقابلہ خاصا سنسنی خیز اور دل چسپ رہا جس میں تمام ریچھ سخت زخمی ہوگئے ۔کسی کی تھوتھنی پھٹ کر لٹک گئی، کسی کی ٹانگ زخمی ہوئی، کسی کے سر اور کمر کی کھال اُدھڑ گئی۔ وہ اس لڑائی کے بعد کئی ماہ تک زخموں کی وجہ سے سخت اذیت کا شکار رہے جب کہ ان کے حریف تین کتے مارے گئےاورمتعدد زخمی ہوئے۔ ریچھ اور کتوں کی یہ جنگ اگرچہ خاصی ہول ناک تھی لیکن ملکہ معظمہ اور معزز مہمان اس سے بہت محظوظ ہوئے، ایک کتا ریچھ کی دم دانتوں اور جبڑوں میں جکڑ کر لٹک جاتاجب کہ دوسرااس کی گردن اورایک اس کی پشت پر سوار ہوکر دانت گاڑ دیتا، ریچھ اچھل کود کرتے اور ہوا میں اپنے بازو لہراتے اور قلابازی کھاتے ہوئے انہیں اپنے بدن سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرتے تو تماشائی فلک شگاف قہقہے لگاتے، ان قہقہوں کی گونج میں ملکہ عالیہ کی نقرئی ہنسی بھی شامل تھی۔ 1583ء میں تفریح کی غرض سے منعقد کیا جانے والا یہ تماشا اس وقت سوگ میں تبدیل ہو گیا جب پیرس گارڈن میں کتوں اور ریچھوں کی لڑائی کے نقطہ عروج پر پہنچنے کے بعد تماشائیوں کے جوش و خروش کے باعث اسٹینڈ ٹوٹ گیاجس سے درجنوں تماش بین گڑھے میں جاگرے۔ زیادہ ترافراد بلندی سے گرنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے جب کہ کچھ تماشائی ریچھ اور کتوں کی حیوانیت کا شکار ہو گئے جو مقابلے کے دوران اس ناگہانی اُفتاد سے غضب ناک ہو کر تماشائیوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ مذہبی رہنمائوں نے اسے خدا کا قہر قرار دیا کیوں کہ اس مقابلے کا انعقاد اتوار کے روز کیا گیا تھا اور مذکورہ دن عیسائیوں کےاس نوع کی تمام تفریحات کے لیے ممنوع ہوتا ہے۔ 19ویں صدی کے وسط تک خوںخوار درندوں کے درمیان خونی لڑائیوں کا اہتمام کیا جاتا رہا اور اس کا سلسلہ 1835ء میں اس وقت ختم ہوا جب پارلیمنٹ نے جانوروں سے متعلق انسداد بے رحمی حیوانات کابل منظور کر کے ان مقابلوں پر پابندی عائد کر دی اور کچھ عرصے بعد برطانیہ کے شہنشاہ نے اس پابندی کی توثیق کیلئے شاہی فرمان جاری کر دیا۔

بھارت میں بھی اس کا شمار قدیم کھیلوں میں ہوتا ہے۔ 19ویں صدی میں بروڈا کے گائیکواڈ نے ایک وحشی شیر اور بنگال سے لائے جانے والے چیتے کی لڑائی کا اہتمام کیا۔ مذکورہ لڑائی کے نتیجے میں شیر فتح یاب ہوا، جس کے بعد فاتح درندے کا مقابلہ 681کلو گرام وزنی ریچھ سے کرایا گیا۔ جس میں ریچھ نے زخمی ہونے کے باوجود شیر کو اس حد تک گھائل کر دیا کہ اسے بہ مشکل اَکھاڑے سے باہر لے جایا گیا۔ہندوستان کےچند شہروں میںبرٹش آرمی کےسپاہیوں نے ریچھ اور کتے کےکی لڑائی کے مقابلے بھی منعقد کرائے جسے بھارتی رعایا نے انتہائی دل چسپی سے دیکھا اورپسند کیا، بعد میں یہ پورےبرصغیر میں پھیلتا گیا۔19ویں صدی میں یہ کھیل امریکا میں کھیلا جانے لگا، لیکن اس کی ابتدا وہاں ریچھ اور سانڈ کے درمیان ’’بل فائٹنگ‘‘کے انعقاد سے کی گئی۔۔1837ء میں میکسیکو میں ایک جنگلی سانڈ اور وحشی ریچھ کو پکڑ کر لایا گیا۔ چند روز تک ان کی خوب کھلائی پلائی کی گئی بعدازاں انہیں ایک ساتھ اَکھاڑے میں اُتارا گیا، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی حملہ کر دیا۔ سانڈ ریچھ کو اپنے نوکیلے سینگوں، وزنی سموں اور جسمانی طاقت سے زیر کرنے کی کوشش کرتا رہا جب کہ ریچھ نے اپنے نوکیلے ناخنوں والے پنجے، لمبے دانتوں سے اُدھیڑ کر رکھ دیا۔ ریچھ نے اپنی جسمانی قوت کا بھی بھرپور استعمال کیا اور حریف کے سینگوں سے بچائو کرتے ہوئے کئی مرتبہ اسے زمین پر گرایا۔ آخری مرتبہ اسے گرا کراس پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اس کے نرخرے کو اپنے خنجر نما ناخنوں اور دانتوں سے پھاڑدیا اور اس وقت تک اس پر دبائو ڈالے بیٹھا رہا جب تک کہ اس کا دم نہیں نکل گیا۔ بڑا دل چسپ اور ہول ناک مقابلہ تھا، جسے ریچھ اور سانڈ کی بل فائٹنگ کا نام دیا گیا۔ لیکن اس فائٹ میں فاتح قرار دیئے جانے والے ریچھ کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اس لئے مقابلے کے اختتام پراسے بھی ہلاک کر دیا گیا۔ کیلی فورینا میں بھی ریچھ اور سانڈ کی لڑائی کو فروغ ہوا اور اس میں بھورے ریچھوں کی بڑی تعداد کو جنگل سے پکڑ کر لایا گیا جنہیں ’’بل فائٹنگ‘‘ کی تربیت دی گئی تھی۔ سانڈ سے لڑائی کے دوران ریچھوں کو مکمل آزادی حاصل ہوتی تھی کہ وہ اپنے مدمقابل کی زبان کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کاٹ لیں۔ اس کی ناک اور بدن کے دیگر نازک حصوں کو چبا ڈالیں، اس کی گردن مروڑ دیں۔ یہاں بھی ہونے والی زیادہ تر لڑائیوں میں ریچھ کی ہی جیت ہوئی لیکن فاتح ریچھوں کوہلاک کرنے کی بجائے آہنی پنجروں میں قیدکردیا جاتا تھا اور صرف مقابلے کے لئے انہیں میدان میں نکالا جاتا تھا۔رواں صدی میںریچھ کی لڑائیوں کیلئے معروف امریکا کی 28میں سے 18ریاستوں میں اس ظالمانہ کھیل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کیوں کہ 2002ء تک ان لڑائیوں کے نتیجے میں ہزاروں بھورے ریچھ ہلاک ہو چکے تھے اور ان کی نسل معدوم ہوتی جا رہی تھی۔

19ویں کے وسط میں برطانیہ میں ریچھ اور بنو آدم کی کشتی کا کھیل بھی متعارف کرایا گیا۔ لیکن ریچھ کو مقابلے کیلئے بھیجنے سے قبل اس کے ناخن کاٹ لئے جاتے تھے، اس کے دانت اکھاڑ لیے جاتے تھےیعنی انسان سے لڑنے سے قبل اس کے تمام مہلک ہتھیار ختم کرکے اسےغیر مسلح حالت میں بھیجا جاتا تھا، اور وہ صرف اپنی جسمانی قوت کو بروئے کار لاکر اپنے حریف سے مقابلہ کرتا تھا ۔ ریچھوں کو کشتی کے ماہرین سے باقاعدہ ریسلنگ کی تربیت دلوائی جاتی تھی اور پہلوانوں کی حیثیت سے ان کے باقاعدہ نام رکھے جاتے تھے۔ 1877ء میں ریچھوں کی کشتی کا کھیل امریکا میں بھی مقبول ہو گیا اور نومبر 1877ء میں پہلی کشتی نیو یارک میں’’ گل مور گارڈن ‘‘میں منعقد ہوئی۔ جس میں پیٹے نامی ریچھ کا مقابلہ اس کے ٹرینر، ایڈریان سے ہوا جس میں ریچھ نے اپنے حریف کو شکست سے دوچار کیا۔ اس کشتی کی دھوم امریکا کے دیگر شہروں تک جب پہنچی تو وہاں بھی ریچھوں کو اس مقصد کیلئے تربیت دی جانے لگی۔ نیو یارک میں انسان اور حیوان کی کشتی کی باقاعدہ سیریز کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سرکس سے ریچھ کا جوڑا لایا گیا جن کا نام ’’لینا‘‘ اور مارٹن رکھا گیا۔ سیریز کے ایک مقابلے کے دوران مارٹن کے مقابلے میں اس کے حریف کواپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے ہاتھ دھونا پڑا جب کہ میکسیکو میں کلارک نامی پہلوان نے اپنے حریف ریچھ ’’مارٹن‘‘ کو ہرا دیا۔ ریچھنی لینا نےاس ہار کا انتقام کشتی کے دوسرے مقابلے میں لیا اور اپنے حریف جین فرانسس کو ہلاک کر دیا۔ریچھ کی حیوانیت کا شکار ہونے والےپہلوان کی ہلاکت کے بعد بھی اس کھیل کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا ا ور تمام ملک کے سرکسوں سے ریچھوں کو انسانوں کے مقابلے میں کشتی کے کھیل کیلئے تربیت دی گئی جن میں ٹیڈی، بسٹر بروٹن، بگ بوائے، جگنر، جارجزگس اور ٹریبل ٹیڈ کے علاوہ دیگردرجنوں ریچھ کئی صدیوں تک انسانوں سے کشتی کے اکھاڑے میںمقابلہ کرتے رہے۔ ان میں سے ایک ریچھ برونو کو ملکہ وکٹوریہ نے رنگ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر’’نائٹ‘‘ کا خطاب دیا۔

کیلی فورینا میں انسان اور حیوان کے درمیان باکسنگ کا کھیل شروع کیا گیا ، بعد میںکئی امریکی ریاستوں میں باکسنگ کے ان مقابلوں نے خاصی مقبویت حاصل کی۔1885ء میں پورٹا کوسٹا کے مقام پر تھامس ہک اسٹیپ اور اسکیمن نامی ریچھ کے درمیان باکسنگ کاپہلا مقابلہ ہوا۔ ریچھ کے پیروں کے پنجوں میں جوتوں کی طرح ربڑ کے تسمے چڑھائے گئے تھے جب کہ اس کے ہاتھوں میں باکسنگ گلووز پہنائے گئے تھے۔ ہک اسٹیپ نے ریچھ کی ناک پر گھونسا مارا جس سے ریچھ غضب ناک ہو گیا اور اس نے اپنے حریف پر دائیں اور بائیں جانب سے حملے کئے۔ اس نے اسٹیپ پر تابڑ توڑمکے برسائےجن سے بچنے کیلئے اس نے خود کو رنگ سے باہر گرا لیا۔ ریفری باب لی نے مقابلے کا اختتام کر دیا اور اسکیمن کو فاتح قرار دیا گیا۔ دوسرے مقابلے میں برون نامی ریچھ نے اپنے حریف کو ناک آئوٹ کر دیا 1937ء میں انسان اور ریچھ کی باکسنگ کا ایک مقابلہ نیو یارک سٹی میں فلمایا گیا۔ 1949ء میں باکسرکس والڈورف اور ریچھ کے باکسنگ مقابلے کا انعقادآہنی پنجرے کے اندر کیا گیا۔ اگرچہ حیوان کے مقابلے میںانسان یہ فائٹ ہار گیا لیکن اپنی خوب صورت باکسنگ تیکنیک کی وجہ سے والڈروف کافی مقبول ہوا۔

پاکستان میں بھی ریچھ اور کتوں کے درمیان خونی کھیل کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں شکاری کتوں کا استعمال ہوتا ہے۔پاکستان میں اس کھیل میں ریچھ کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک کیا جاتا ہے،اس کے مقابلے میں کتوں کو اس پر حملہ کرنے کی پوری آزادی حاصل ہوتی ہے جب کہ ریچھوں کو ان کے فطری دفاعی آلات سے نہتا کرکےاکھاڑے میں ایک موٹے کھمبے کے ساتھ زنجیر یا موٹے رسے سے باندھ کر کھڑا کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنا بچاؤ بھی صحیح طور سے نہیں کرسکتا۔ خانہ بدوشوں کے بعض قبائل آج بھی پنجاب اور سندھ کےشہری اور دیہی علاقوں میں ریچھ اور کتوں کی لڑائی کرا کے رزق حاصل کرتے ہیں جب کہ اس مقابلے میں ریچھ اس حد تک گھائل ہوجاتا ہے کہ اسے فوری طور سے علاج معالجے کی فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کے مالکان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ ان کی مرہم پٹی بھی کراسکیں ۔ان ریچھوں کو خانہ بدوش بچپن سے پالتے ہیں اور بڑا ہونے پر اپنے قابو میں رکھنے کے لیے نہ صرف ان کے ناخن کاٹ دیے جاتے ہیں بلکہ ان کے دانت بھی نکال دیتےہیں، جس کی وجہ سے یہ اپنے دفاع کی فطری صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ لڑائی کے دوران ریچھ کو باندھ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر دو وحشی کتے چھوڑے جاتے ہیں جو اپنے نوکیلے دانتوں سے اس کی تھوتھنی پر حملے کرتے ہیں۔ اس جنگ کے پہلے راؤنڈ کادورانیہ تین منٹ پر محیط ہوتا ہے جس کے دوران اس کے حریف درندوں کو اسے بھنبھوڑنے اورکاٹنے کی پوری آزادی ہوتی ہے۔ ریچھ کے زخموں سے خون بہہ کر اکھاڑے میں گرتا رہتا ہے۔ اس راؤنڈ کے بعداسے چند منٹ سستانےکے لیے دیے جاتے ہیں اوراس کے بعد پھر دو تازہ دم کتے اس پرحملے کے لیے چھوڑ ے جاتے ہیں، یہ کتے ریچھ کی ناک اور منہ پر حملہ کرتے ہیں جس سے وہ شدید زخمی ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس لڑائی میں کتے بھی ہلاک ہوتے ہیں ۔ریچھوں کے ساتھ اس بے رحمانہ سلوک کے خلاف کئی ملکی و غیرملکی این جی اوز نے آواز بلند کی ہے۔ انسداد بے رحمی حیوانات کی ایک مقامی تنظیم ڈبلیو ایس پی اے ، جس کا صدر دفتر برطانیہ میںہے اس کے ایک عہدیدار پیٹر ہینڈرسن کے مطابق انہوں نے خان بیلہ پنجاب میںریچھ اور کتوں کے ایک خوں ریز مقابلے کی فلم بندی کی تھی جس کا انعقاد ایک جاگیردار کے ڈیرے پر کیا گیا تھا۔ اس میں14 ریچھوں پر ایک ساتھ30 کتے چھوڑے گئے تھے۔ پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں اکثر وڈیرے اور جاگیرداراس لڑائی کے شوقین ہیں، اس کے لیے انہوں نے خوں خوار قسم کے شکاری کتے پالے ہوئے ہیں۔ ریچھ والے کو یہ اپنے کارندوں کے ذریعے بلوا لیتے ہیں اور اس سے معاملات طے کرکے اس لڑائی کا انعقاد کراتے ہیں۔ یہ افراد بے پناہ سیاسی اثرورسوخ کے مالک ہیںجس کی وجہ سے علاقائی انتظامیہ اس قسم کے بے رحمانہ مقابلے رکوانے میں ناکام رہی لیکن ان تنظیموں کی جدوجہدکے نتیجے میں ان مقابلوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

2000ء میں ریچھ اور کتوں کی لڑائی کے آٹھ سو واقعات رپورٹ ہوئے تھے جوچند سالوں میں کم ہوکر اب سالانہ تیس اور پینتیس پر آگئے ہیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق تقریباً تین سو کالے ایشیائی ریچھ پاکستان کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں جن میں سے جوان ریچھوں کوگولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے جب کہ چھوٹے ریچھوں کو خانہ بدوشوں کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے جو بعد میں ان ریچھوں کو میلوں یا دیہات میں زمینداروں کی خواہش پر خوں خوارکتوں کے ساتھ لڑواتے ہیں۔مذکورہ تنظیم کے عہدیدارکا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے گزشتہ سالوں کے دوران لڑائی میں استعمال ہونے والے35 ریچھوں کو ہلاکت سے بچایاہے ۔پاکستان میں اب بھی تقریباً ڈھائی سو کے قریب ایسے ریچھ ہیں جنہیں خانہ بدوش افراد کتوںکے ساتھ لڑوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان میں ہمالیائی بھورے ریچھوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اگرچہ اس خونی تماشے میں ریچھ ہلاک تو نہیں ہوتے لیکن کتوں کی خوں خواری کے باعث ریچھ کی تھوتھنی اور کان بری طرح زخمی ہو جاتےہیں۔ پاکستان کا بااثر طبقہ ملک کے کئی علاقوں میں تفریح کی غرض سے حیوانوں کے درمیان لڑائی کا انعقاد کراتا ہے۔نومبرسے اپریل کے دوران اس قسم کے تقریباً پچاس خوںریز مقابلے منعقدہوتے ہیں۔چند سال قبل مذکورہ ادارے نے حکومت کی درخواست پر ایسے ریچھوں کےتحفظ کے لیے صوبہ سرحد میں واقع’’ قند پارک‘‘ میںڈیڑھ لاکھ ر ڈالرخرچ کرکےان کے لیے پناہ گاہ تعمیر کی ہے۔ اس پناہ گاہ میں چالیس سے پچاس ریچھ رکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ریچھوں کے خانہ بدوش مالکان کو ان کی حوالگی کے عوض متبادل روزگار کی فراہمی کا پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کے تحت وہ ان سے ریچھ لے کر اس کے بدلے میں نقد رقوم دینے کے بجائے چھوٹا موٹا کاروبار کھلوا کر دیتے ہیں ۔اسی پارک میں بھوری نسل کی ایک ریچھنی ’’لیلیـ‘‘ کو بھی رکھا گیا ہے جس کا مالک اپنی روزی روٹی کے لیے اسے خوں خوار کتوںسے لڑنے کے لیے چھوڑ دیتا تھااور لیلیٰ ہر لڑائی کے اختتام پر زخموں سے چور ہوتی تھی۔ جب اسے ریچھوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اس پارک میں لایا گیا تو اس کی تھوتھنی کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے مکمل طور سے پھٹ کر لٹک رہی تھی اور آنکھیں ضائع ہونے کے بعد وہ نابینا ہوچکی تھی۔اس کی جان بچانے کے لیے اسے اس کے مالک سے لے کر اس کے بدلے اسے چوڑیوں کی دکان کھلوا کر دی گئی۔ دنیابھر میں اس وحشیانہ کھیل پر پابندی عائد کردی گئ ہے لیکن برصغیر میں اس کا رواج اب بھی ہے، جس سے ریچھوں کی نایاب نسلوں کی بقاء کو خطرات لاحق ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وحشیانہ کھیل کی بندش کے لیے قانون سازی کی جائے اور کھیل کے نام پر جانوروں کے ساتھ اس ظالمانہ سلوک پر کڑی سزائیں دی جائیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 13 Articles with 10014 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 2058

Comments

آپ کی رائے