مچھر ہمارے بھائی

(Rafi Abbasi, Karachi)
مختصر الوجود اور بے حجم مچھر کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مچھر لمبے چوڑے آدمی کی بھی مردانگی ختم کرکے اسے مثل خواجہ سرا بنا دیتا ہے جبکہ کئی ٹن وزنی اور عظیم الجثہ ہاتھی کی سونڈ کے راستے دماغ میں گھس کر اس کے دیو ہیکل وجود کو عدم وجود کی طرف گامزن کردیتا ہے

وہ کسی انسان کے رخسار، ہونٹ یا گردن پر بوسہ محبت ثبت کرنے کیلئے بیٹھتا ہے یا بلڈ ٹرانسفیوژن کا اپنا قدرتی فریضہ انجام دیتا ہے تو مذکورہ جراثیم اس کی ٹانگوں سے نکل کر منتقلی خون کے دوران انسانی اجسام میں منتقل ہوجاتے ہیں اور اس کی بیماری یا ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔

مچھروں کے بارے میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ یہ غریب پرور ہوتے ہیں خاص کر ڈینگی مچھر کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے وائرس سے وہ طبقہ محفوظ رہے جو ڈینگی بخار کی صورت میں کثیر رقوم کے اصراف کا بار برداشت نہیں کرسکتا جبکہ وہ متمول افراد کو اس بیماری سے ’’محظوظ‘‘ ہونے کے پورے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لئے یہ پوش علاقوں اور صاحب ثروت افراد کی ہم نشینی کو ترجیح دیتا ہے۔ پہلے ہمارا خیال تھا کہ ڈینگی مچھر عیش و عشرت کا دلدادہ اور نفاست پسند ہے جبھی وہ شاہانہ رہن سہن کو ترجیح دیتا ہے لیکن ڈینگی بخار کے رونما ہونے والے کیسز نے ہماری نظر میں اس کی قدرو قیمت میں اضافہ کردیا ہے اور ہم اسے غریب دوست پرندہ سمجھنے لگے ہیں۔

مچھر ہماری تنہائی کا بہترین رفیق بھی ثابت ہوا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران گمبھیر اندھیرے میںجب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، برقی پنکھے بند ہونے کی وجہ سے گرمی سے بری حالت ہوتی ہے، مچھر اپنی محبت سے مجبور ہوکر اندھیرے میں بھی انسان کو تلاش کرلیتا ہے اور اپنے ننھے ننھے پروں سے اس پر ہوا جھلتا ہے۔ اس کے بدن کے بوسے لینے سے پہلے اسے میٹھے سروں میں نغمے سناتا ہے، اٹلی میں پکارے جانے والے اپنے نام یعنی ’’رازو‘‘ کی مناسبت سے انسانوں سے راز و نیاز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسانوں کے ساتھ شب تاریک کے زیادہ سے زیادہ لمحات گزارنے کی کوشش کرتا ہے اسی لیے اگر انسان سو بھی جاتا ہے تو وہ اسے انتہائی محبت سے اپنے بدن کے لمس سے جگانے کی کوشش کرتا ہے یہ اور بات ہے کہ انسان اس میں بھی خجالت محسوس کرتا ہے۔

مچھروں کے خلاف زیادہ تر مہمات یورپ سے شروع ہوئی ہیں اور اس مہم جوئی میں ہم اسی طرح ان کے حلیف بن گئے جس طرح مسلمان ملک ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف یورپ اور امریکا کی شروع کی ہوئی غیر اعلانیہ اور یکطرفہ صلیبی جنگ میں غیر ناٹو حلیف کی حیثیت سے شریک جنگ ہیں۔ یورپی اور امریکی حکومتوں کی نظر میں مسلم معاشرے میں بسنے والا ہر وہ فرد واجب القتل ہے جو خالق کائنات کے احکامات کی تعمیل کرنے کی جرأت کرتا ہے۔ اس ادنیٰ سی مخلوق مچھر کا جرم بھی یہی ہے کہ اس نے ہزاروں سال قبل زمین پر خدائی ٰ اور حاکمیت کا دعویٰ کرنے والے نمرود کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیفرکردارتک پہنچا کر مستقبل کے نمرودوں اور فرعونوں کے لئے بھی عبرت کا سامان پیدا کردیا تھا۔ آج بھی اس وسیع و عریض دنیا کو گلوبل ویلیج میں سکیڑ کر خدائی کا خواب دیکھنے والے موجودہ دورکے نمرودوں کے لیے یہی حقیر سا پرندہ احکام الٰہی بجا لانے کے لیے موت کا پیغام بر ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 13 Articles with 9791 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 473

Comments

آپ کی رائے