مقبوضہ کشمیرمیں ہندوستان کی تعلیم دشمنی

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ہندوستانی قابض فوج نے تعلیمی ادروں کو نشانہ بناتے ہوئے سیکڑوں طلبہ و طالبات کو زخمی اور ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا اور اس ہی پر بس نہیں ان کے تعلیمی اداروں کو بھی سیل کیا جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ اور طالبات کا سال ضائع ہو ا، جس نے ہندوستان کی تعلیم دشمنی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا، جبکہ انتہائی افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ مظاہرین کے رد عمل سے بچنے کے لئے ہندوستانی قابض فوج کشمیری نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں کے آگے باندھ کر ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے پرانہ اور نہ ختم ہونے والا مسئلہ ہے،ستر سال کا عرصہ ہوگیا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں تین جنگیں خاص کر اس ہی مسئلہ پر لڑی گئی ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر پاک و ہند نے کئی معاہدے کئے لیکن سب بیکار گئے، موجودہ دور میں ہندوستان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات ختم کئے بیٹھا ہے ۱ور ساتھ ہی ساتھ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ گرا رہا ہے جنوبی ایشا کا امن اس ہی مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے۔
گزشتہ کئی روز سے کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کشمیری اپنے حق کے لئے روڈوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ جس کے جواب میں ہندوستان کی قابض افواج ان پر لاٹھی چارج، آنسوں گیس اور ساتھ ہی ساتھ اسٹریٹ فائرنگ بھی کرتی ہے۔ جس سے پچھلے کئی دنوں میں لاتعداد کشمیری شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ ہندوستانی قابض فوج نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کردی پہلے وہ عام کشمیریوں کو نشانہ بنا تے تھے مگر اب تعلیمی اداروں کو بھی اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہندوستانی قابض فوج نے تعلیمی ادروں کو نشانہ بناتے ہوئے سیکڑوں طلبہ و طالبات کو زخمی اور ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا اور اس ہی پر بس نہیں ان کے تعلیمی اداروں کو بھی سیل کیا جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ اور طالبات کا سال ضائع ہو ا، جس نے ہندوستان کی تعلیم دشمنی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا، جبکہ انتہائی افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ مظاہرین کے رد عمل سے بچنے کے لئے ہندوستانی قابض فوج کشمیری نوجوانوں کو اپنی گاڑیوں کے آگے باندھ کر ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں جو اپنے حق کے لیئے آواز بلند کرتا ہے تو ہندوستانی قابض فوج اس کو نشان عبرت بنا دیتی ہے، یہی وہ وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے سیکڑوں بے گناہ اور معصوم کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں۔

ہندوستانی قابض افواج کی تمام ہتھکنڈوں اور مظالم کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا آزادی کا جذبہ قابل دید ہے۔جس کی کئی وجوہات ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ بڑھتے ہوئے ہندوستانی مظالم کے رد عمل میں کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ بلا کسی خوف و خطر اپنے حق کے لئے احتجاج کر نے سڑکوں پر نکل آئے۔

جبکہ کئی مقامات پر خوفناک تصادم بھی ہوا، مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بھی یہ کہنے بر مجبور کیا انہو نے ہندوستانی حکومت کو خبر دار کیا اور کہا کہ تم کشمیر کو کھو رہے ہو، بہتر یہ ہے کہ تم جاگ جاوٴ اور مسئلہ کشمیر کے عسکری حل کے بجائے سیاسی حل سوچو۔طلبہ کے ساتھ ساتھ کشمیری طالبات بھی ان دنوں ہندوستانی قابض افواج کی سفاکیت کا شکار ہیں، آسیہ اندرابی جو کچھ دنوں سے علیل ہے اس کو بھی قابض فوج نے گرفتار کرلیا ہے۔

آسیہ اندرابی کی گرفتاری کے بعد کشمیری طالبات بھی مردوں کی طرح سڑکوں پر نکل کر قابض ہندوستانی فوج کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہیں۔اس وقت ہندوستانی حکومت اور قابض فوج نے کشمیر میں ظلم و بربریت کی ایک داستان قائم کر رکھی ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی تو دوسری طرف پاکستانی حکومت اور اس کے کرتا دھرتا ہندوستانی بزنس مینوں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہی ہے۔

ایک طرف ہندوستان کشمیر میں ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنارہا ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمران ہندوستان سے دوستی کے راگ الاپ رہے ہیں۔

قابل تشویش عمل یہ ہے کہ گزشتہ سترسالوں سے کشمیر ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی برادری اس کے حل کے لئے مخلص نہیں ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے اور پاکستان اس کو اپنی شہ رگ اس کے بعد بھی نہ تو ہندوستانی سرکار اس مسئلہ کا حل چاہتی ہے اور نہ ہی پاکستانی سیاسی حکومت، پاکستان کی سیاسی حکومت کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ ہندوستان سے اچھے تعلق رکھے مگر ہندوستانی سرکار مخلص نہیں، اگر ہندوستان کے کسی بھی کونے میں کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو الزام پاکستان پر لگایاجاتاہے مگر افسوس صد افسوس پاکستان کے سیاسی حکمران کشمیر میں ہندوستانی مظالم پر ایسے خاموش ہیں جیسے کہ کلبھوشن کی گرفتاری کے وقت خاموش تھے۔
ان کی یہ خاموشی ان کے کردار پر سوال اْٹھا رہی ہے۔ اگر عمران خان وزیر اعظم کے خلاف کچھ بھی کہیں تو حکمران جماعت کے تمام وزرا دفاع کے لئے میڈیا ٹاک شو میں امنڈ آتے ہیں اور وزیر اعظم کو پوری امت محمدی کا لیڈر قرار دیتے ہیں۔ خیر بات چل رہی تھی کشمیر ایک عالمی مسئلہ ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں کئی قراردادیں پاس ہوئی ہیں مگر ان پر عمل آج تک نہیں ہوا ہندوستان تو اس پر عمل چاہتا ہی نہیں ہندوستان نے تو گزشتہ دن ترکی جیسے بڑے ملک کی مسئلہ کشمیر میں ثالثیت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور کشمیر کے مسئلے میں کسی کی بات کو نہ سننے کا عندیا دیدیا۔

مسئلہ کشمیر تب تک حل نہیں ہوسکتاجب تک پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی قیادت بھی اس مسئلے کو دل سے حل کرنے کوشش نہیں کریگی ان دنوں کشمیر میں اسکول کالج بند پڑے ہیں ،ہزاروں طلبہ اور طالبات کا سال ضائع ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکڑوں طلبہ و طالبات قابض فوج کی قید میں ہیں۔ آج کشمیر کی طالبات ہندوستانی سفاک فورسس کے مظالم سہنے کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں سوال یہ کہ کیا ملا لہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لئے بیتاب ہونے والوں کو کشمیر کی طالبات نظر نہیں آتیں۔

مقبوضہ وادی میں تعلیمی ادروں کی جبری بندش پر پاکستانی حکمران اور عالمی برادری بیچین کیوں نہیں ہوتی، اگر پاکستانی سیاسی حکمرانوں اور عالمی برادری نے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں تیز نہ کیں اور ہندوستان کو مزید مظالم سے نہ روکا تو اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر پڑ سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84219 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 436

Comments

آپ کی رائے